0
Thursday 24 Sep 2015 14:00

پیغام حج بزبان امام خامنہ ای و مفتی اعظم کعبہ

پیغام حج بزبان امام خامنہ ای و مفتی اعظم کعبہ
تحریر: عرفان علی

اس تحریر کے لکھنے کا خیال اس وقت آیا جب حجاج کرام یوم عرفہ کے مخصوص اعمال انجام دے رہے تھے۔ پاکستان میں آج یوم عرفہ ہے۔ کل دنیا بھر میں حج کے دو بیانات یا پیغامات دنیا بھر کے سامنے آئے۔ لیکن اس سے پہلے ملت شریف پاکستان اور دنیا بھر کے اردو زبان قارئین کو یاد دلا دوں کہ ملت شریف پاکستان کے نظریہ ساز ڈاکٹر محمد اقبال نے بھی داستان حرم بیان کی تھی۔ ان کے الفاظ میں داستان حرم سادہ بھی ہے اور رنگین بھی۔ اس داستان کی ابتداء فرزند خلیل اللہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں اور انتہا انہی کی صالح و عادل اولاد امام حسین علیہ السلام ہیں۔ یہ علامہ اقبال کا نظریہ ہے۔ اس نظریئے کو یاد رکھتے ہوئے سال 2015ء کے دو پیغامات، ان کی حقیقت اور اس کے اثرات سمجھنے کی کوشش کی جائے گی۔

سال 2015ء کے حج کے دوران یوم عرفہ پر مفتی اعظم کعبہ شیخ عبد العزیز ال شیخ نے سالانہ خطبہ دیا جبکہ اسی دن میدان عرفات میں ایرانی حجاج کرام کے مراسم اعمال روز عرفہ کے دوران نائب امام زمان آیت اللہ العظمٰی امام سید علی حسینی خامنہ ای کا پیغام حج بھی پڑھ کر سنایا گیا۔ دونوں ہی دنیا بھر میں نشر کئے گئے۔ مفتی اعظم کعبہ کا کہنا تھا کہ داعش اور اس جیسے انتہا پسند گروہ امت اسلامی کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کے مقابلے میں مسلمانان عالم کو نہ صرف یہ کہ متحد ہونا چاہیے بلکہ ان کے خلاف قیام بھی کرنا چاہیے اور علمائے کرام دین کی تبلیغی روش کو بہتر بنائیں۔ امام خامنہ ای بہت پہلے ہی داعش سمیت سارے تکفیری گروہوں کے خلاف عالم اسلام کو یکجا کرچکے ہیں اور اس فتنے کو کچلنے کے لئے دیگر ممالک کی ملتوں اور حکومتوں کی رہنمائی اور ان کے ساتھ معاونت بھی کر رہے ہیں۔

موازنہ کیا جائے تو ان کا کردار بیان تک محدود نہیں جبکہ مفتی اعظم کعبہ بے چارے، کعبہ پر مسلط آل سعود کی سلطنت سے بھی کوئی ایسی بات منوا نہیں سکتے، جو داعش کے اصلی آقاؤں کے اصلی اہداف کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرے، کیونکہ آل سعود امریکا کی اعلانیہ اتحادی ہے۔ جب یہ لکھا جائے کہ داعش اور دیگر تکفیریوں کا اصلی آقا جعلی ریاست اسرائیل کا سرپرست اعلٰی امریکا ہے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ آل سعود کی سلطنت اس سے بری الذمہ ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ القاعدہ بھی محمد بن عبدالوہاب ال نجدی ہی کی پیروکار تھی اور داعش بھی اسی کی پیروکار ہے، مفتی اعظم کعبہ بھی اسی نجدی کے فکری جانشین ہیں اور سلطنت آل سعود کا سرکاری مذہب بھی وہابیت ہی ہے۔ لہٰذا مفتی اعظم کعبہ کا خطبہ زبانی جمع خرچ سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا۔ آج بھی یمن، شام، عراق، پاکستان و افغانستان سمیت دنیائے اسلام میں خاص طور پر اور دیگر ممالک میں عام طور پر جو تکفیری دہشت گرد سرگرم ہیں، ان سب کا سرا خود آل سعود سے جا ملتا ہے۔ امام خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ان سب پر عالمی استکبار کی انگلیوں کے نشانات دیکھے جاسکتے ہیں۔ شیطان بزرگ امریکا ہے لیکن اسٹیفن کنزر سمیت بہت سے امریکا نواز خواص لکھ چکے کہ دنیا بھر میں کوئی امریکا کا اس طرح ساتھ نہیں دیتا جیسے سعودی عرب اور اسرائیل دیتے ہیں، یعنی کسی نہ کسی درجے کے شیطان تو صہیونی و آل سعود بھی ہوئے!

اس کے ثبوت میں دونوں پیغامات کے ماحول اور زمینی حقائق کو پیش کیا جاسکتا ہے۔ میدان عرفات میں الموت لامریکا، الموت لاسرائیل یعنی مردہ باد امریکا، مردہ باد اسرائیل کے پلے کارڈ اور بینرز بھی ہوتے ہیں اور حجاج کرام وہاں یہ نعرے بھی لگاتے ہیں۔ لیکن مفتی اعظم کعبہ اور ان کا مجمع ان نعروں کا سرے سے قائل ہی نہیں اور جو درد مند مسلمان حجاج ایسا کرنا چاہیں تو انہیں آل سعود کے نمکخوار شرطوں کے ہاتھوں ایرانی حجاج کا قتل عام یاد ہے کہ جب امام خمینی ؒ کے حکم پر مرگ بر امریکا، مرگ بر اسرائیل کا نعرہ حرم شریف میں گونجا تھا تو وہاں 1987ء کی کربلا بسادی گئی تھی۔1987ء کا حج یہ سمجھانے کے لئے کافی ہے کہ اگر سن ساٹھ ھجری قمری کے حج کے دوران امام حسین ؑ مرگ بر یزید کا نعرہ لگاتے اور لوگوں کو قیام کی دعوت وہاں بھرے مجمع میں دیتے تو خانہ کعبہ ہی میں ان کی کربلا ہو جاتی۔ لیکن امام حسین ؑ نے حج پر کربلا کو ترجیح دی۔

شیعہ مسلمان بھی دیگر مسلمانوں کی مانند حج پر جاتے ہیں۔ انقلاب اسلامی ایران تو 1979ء میں کامیاب ہوا تھا، لیکن ڈاکٹر علی شریعتی بہت پہلے ہی جام شہادت نوش کرچکے تھے۔ انہوں نے بھی حجاج کرام میں آل سعود کے تکفیری نظریات منتقل کرنے پر مبنی لٹریچر کا تذکرہ کیا تھا۔ داعش ، القاعدہ تو آل سعود ہی کی فکر کے وارث ہیں اور آج آل سعود امریکا کے ساتھ مل کر اپنے اس قبیح نظریہ کو دنیا کے سامنے چھپانا چاہتے ہیں کیونکہ ماضی کی طرح یہ ڈرامہ بھی فلاپ ہوگیا ہے۔ پاکستان کے نظریہ ساز علامہ اقبال اور ڈاکٹر علی شریعتی بہت سے مسائل میں ہم فکر تھے۔ شریعتی کی گواہی یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ تکفیری نظریہ انقلاب اسلامی سے پہلے بھی آل سعود کی ریاستی سرپرستی میں ایکسپورٹ کیا جا رہا تھا اور شیعہ سنی، شیعہ سنی کا شور مچا کر یہ حقیقت چھپائی نہیں جاسکتی کہ آل سعود اور امریکا و اسرائیل مردہ باد کے نعرے کسی طور ایران کی پراکسی وار (یا نیابتی جنگ) نہیں۔

یمن میں بھی ال موت لے امریکا (الموت لامریکا) الموت لاسرائیل کا نعرہ لگا کرتا تھا، یمن کے حوثی زیدیوں نے یا ان کی حرکت انصار اللہ نے ماضی میں کبھی آل سعود کے خلاف بھی نعرہ نہیں لگایا اور نہ ہی ایران کے نماز جمعہ یا یوم القدس کے اجتماعات میں کبھی آل سعود کے خلاف نعرے لگائے گئے، لیکن آل سعود نے 1987ء میں ایرانی حجاج کو الموت لامریکا کے نعرے کا جواب ان کا قتل عام کرکے دیا اور مردہ باد امریکا کے نعرے کی وجہ سے یمن کی حوثی زیدی تحریک پر حملہ آور ہوا۔ تو اگر یمن، ایران، شام، عراق سمیت کہیں بھی اب مردہ باد آل سعود کا نعرہ لگے تو اسے ردعمل قرار دیا جانا چاہیے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے۔ امام خامنہ ای نے بھی اپنے پیغام میں آل سعود کا نام نہیں لیا، لیکن انہوں نے، یمن، بحرین، شام، عراق، مقبوضہ فلسطین (مغربی کنارے اور غزہ کا علاقہ) کے دل دہلا دینے والے واقعات و سانحات کی بات کی۔ سمجھدار کے لئے اشارہ کافی ہے کہ ان ممالک میں کس نے مسلمان ماؤں، بہنوں کے سہاگ اجاڑے، بچوں کو یتیم کیا۔ ٹینکوں سے حملہ آور ہوئے، کلسٹر بم برسا رہے ہیں۔ مسلمان بستیاں اجاڑ رہے ہیں۔ سبھی جانتے ہیں کہ کونسی حکومتیں اور کون سے گروہ یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔

مفتی اعظم آل سعود شیخ عبدالعزیز ال شیخ کا خطبہ حج ان سارے مسائل سے لاتعلق تھا، کیونکہ یمن میں داعش اور القاعدہ کو خود حملہ آور خائن عرب افواج کی سرپرستی میں قابض کروایا جا رہا ہے۔ شام اور عراق پہلے سے امریکا نواز خائن عرب حکومتوں کی سازشوں کی تجربہ گاہ بنے ہوئے ہیں۔ لہٰذا دنیائے اسلام کے دردمند و مخلص علماء، سیاستدان، ثقافتی خواص پر لازم ہے کہ وہ امام خامنہ ای کے پیغام حج پر توجہ فرمائیں اور اپنی ذمے داریوں کو انجام دیں۔ ملتیں حکومتوں کو باور کروائیں کہ ان کی سنگین ذمے داریاں کیا ہیں اور ان کو نبھایا جانا ناگزیر ہے۔ سکوت ٹوٹنا چاہیے۔ حجاج کرام سمیت دنیائے اسلام کی خدمت میں مودبانہ عرض کہ آج کی داستان حرم یہی ہے۔ یعنی حج سے عاشورا کا سفر۔ حسینی ؑ فکر ہی نجات ہے اور اس فکر کا وارث امام حسین ؑ کا حسینی فرزند نائب مہدی امام علی خامنہ ای ہی ہے۔
خبر کا کوڈ : 487278
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے