0
Saturday 17 Oct 2015 01:35

حسینؑ، حج عشق است

حسینؑ، حج عشق است
تحریر: توقیر ساجد تقی

آفتاب شہادت طوع ہوتے ہی دنیا میں موجود ہر حق شناس امام حسین (ع) کے غم میں سوگوار ہے، صدیوں پہلے رونماء ہونے والے معرکہ کربلا کی یاد نے ایک بار پھر انسانیت کو اشک بار کر دیا ہے۔ محرم الحرام کا چاند امام حسین (ع) کی عظیم قربانی کی یاد کو لیکر جونہی نمودار ہوتا ہے، دنیا بھر کے عاشقان امام حسین، غم حسین میں ایک آواز، ایک قوم اور ایک قبیلہ بن جاتے ہیں۔ کرہ ارض کا شاید ہی کوئی حصہ ہو کہ جہاں امام حسین (ع) کا غم نہ منایا جا رہا ہو۔ امام حسین (ع) کی محبت وہ واحد محبت ہے، جو موسم کی شدت، زبان کی قید و بند سے آزاد ہے، یعنی امام حسین (ع) سے عشق حج عشق ہے۔ امام عالی (ع) مقام سے عشق ہی حق شناسی و انسانیت شناسی کا واحد ذریعہ ہے۔

رسول خدا ۖ کا فرمان ذیشان ہے کہ امام حسین (ع) کے قتل، شہادت، خون سے ایسی حرارت وجود میں آئے گی کہ جو ہرگز سرد نہ ہوگی۔ جی ہاں یہ امام حسین (ع) سے عشق، مودت اور محبت ہی ہے کہ ان سے عشق صدیوں بعد بھی آج بھی پہلے سے زیادہ جوش و عرج پر ہے۔ امام حسین (ع) سے عقیدت رکھنے والے، ان کی یادآوری کو پہلے سے زیادہ اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق زندہ کئے ہوئے ہیں اور آج بھی قبیلہ حسینی کے افراد ان کے عشق میں قربانیوں کی عظیم مثال کو قائم کئے ہوئے ہیں۔ عاشقان امام حسین (ع) کو ہر دور کے یزید و شمر نے اپنے ظلم و جور سے آزمایا۔ کبھی زائرین کے ہاتھ اور پائوں کاٹے گئے تو کبھی زائرین پر پابندیاں لگائی گئی، تو کبھی عزاداری میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی۔

لیکن ہر دور کے یزید کو عشق حسینی سے شکست ہی نصیب ہوئی اور عشق حسینی نے معراج کی منزلیں طے کیں۔ عشق حسینی زبان، قوم، ثقافت، ملک تک محدود نہیں، اس کی وسعتیں ہر  زبان، ادب، علاقہ اور مکتب پر محیط ہے۔ ہر حق شناس امام حسین (ع) کا گرویدہ ہے، یہ امام حسین (ع) سے عشق ہی ہے کہ کروڑوں لوگ دنیا بھر سے ان کی قبر مطہر کی طرف سفر کرتے ہیں۔ عشق حسینی ہی ہے کہ کسی بلاوے کے بغیر ہی مجالس، جلوس اور ہر وہ مقام جہان پر ذکر امام حسین (ع) جاری ہو، انسانوں کا ہجوم نظر آتا ہے، عشق حسین (ع) کی حقانیت کے قیام کے مقصد کو روز روشن کی طرح واضع کرتا ہے۔

امام حسین (ع) سے عشق ہمیشہ تابندہ و زندہ رہنے والا ہے۔ دنیا کے ہر خطہ کے لوگ اپنی ثقافت میں عشق حسینی کی ثقافت کو ڈھال دیتے ہیں۔ اسی لئے ثقافت و عزاداری کا چولی دامن کا ساتھ ہے، چونکہ ثقافت کسی بھی علاقے یا قوم کی شعوری طرز عمل کا نام ہے۔ اس لئے ہر زبان، شہر، ملک کے لوگ اپنی ثقافت کے مطابق امام حسین (ع) سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ ثقافت کسی بھی خطے یا قوم کی تہذیب ہوتی ہے، عشق حسین (ع) کو اپنی تہذیب میں ڈھال کر تہذیب محرم، کربلاء اور تہذیب اسلامی و حسینی کو ہرگز پس پشت نہیں ڈالنا چاہیئے، ہمارا ہر فعل جو اسلام کی بدنامی کا باعث بنے اور امام حسین (ع) کے حقیقی پیغام و مقصد قیام کی پامالی و توہین کا باعث بنے، سے ضروری ہے کہ پرہیز کیا جائے، ایسا نہ ہو کہ ہم ثقافت کے شعوری طرز عمل میں غیر شعوری طور پر امام عالی مقام کے مقصد قیام کو فراموش کر بیٹھیں۔
خبر کا کوڈ : 491661
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب