0
Wednesday 21 Oct 2015 00:53

کربلا ۔۔۔۔۔۔۔۔ حریت و آزادی کا روشن راستہ

کربلا ۔۔۔۔۔۔۔۔ حریت و آزادی کا روشن راستہ
تحریر: ارشاد حسین ناصر

میدان کربلا میں امام عالی مقام حضرت امام حسین ؑ اور ان کے اصحاب باوفا و اہلیت عظام نے تاریخ کے وہ کردار نبھائے ہیں کہ رہتی دنیا تک ان سے استفادہ ہوتا رہیگا، ان کرداروں کی روشنی سے ہر زمانے کے حریت و آزادی پسند رہنمائی لیتے رہینگے اور ظالموں، مستکبروں، آمروں اور غاصبوں کے خلاف قیام کرتے رہینگے، کربلا کے عظیم واقعہ پر چودہ صدیوں سے بہت کچھ لکھا جا رہا ہے، اس فکر و فلسفہ اور کردار و عمل کو نمونہ سمجھنے والے اس راہ پرخار پر چلتے ہوئے اپنے حصہ کی شمعیں جلانے کی کوشش اور سعی جمیل کرتے نطر آتے ہیں، کربلا کے واقعہ کا سب سے خوبصورت پہلو اگر دیکھا جائے اور غور کیا جائے تو یہی بنتا ہے کہ اس ایک واقعہ میں کائنات کا ہر کردار ہمیں رہنمائی کرتا دکھائی دیگا، ہر کردار اور عمر کیلئے مکمل اسوہ موجود ہے، ایسے ایسے کردار جن کو اپنانا ناصرف باعث نجات ہو، بلکہ جن کرداروں کو ادا کرکے ہم اپنے زمانے کی مشکلات و مصائب کو قابو میں لاسکتے ہیں۔

ذرا غور کریں کہ اگر آپ شیر خوار ہیں تو آپ کیلئے شش ماہے علی اصغر کا کردار موجود ہے، اگر آپ کم سن ہیں تو آپ کے سامنے حضرت قاسم کا کردار آپ کیلئے ان الفاظ میں رہنمائی کرتا نظر آئیگا کہ موت میرے لئے عسل (شہد) سے بھی زیادہ شیریں ہے۔ اگر آپ نوجوان ہیں تو علی اکبر کا کردار یہ تاریخی کلمات ادا کرتا نظر آتا ہے کہ اگر ہم حق پر ہیں تو پروا نہیں کہ موت ہم پر آن پڑے یا ہم موت پر جا پڑیں، اگر آپ بھائی ہیں تو آپ کیلئے حضرت عباس علمدار کی وفا اور اطاعت کا نمونہ کردار میسر ہے، اگر کوئی بہن ہے تو اس کیلئے سیدہ زینب بنت علی و سیدہ کلثوم بنت علی جیسی بہنوں کا حوصلوں کو جلا بخشنے والا کردار روشن و تابندگی بخشتا نظر آئیگا، اگر کوئی دوست ہے تو اس کیلئے حبیب ابن مظاہر جیسے ضعیف دوست کا جرات مندانہ کردار مکمل رہنمائی کا ذریعہ دکھائی دیتا ہے، اگر کوئی غلام ہے تو اس کیلئے جون حبشی کا کردار اپنی رعنائیوں کی جھلک دکھلاتا نظر آئیگا، اگر کوئی رشتہ دار ہے تو بنو ہاشم کے اٹھارہ شہداء میدان کربلا میں اپنے خون بھرے اجساد مطاہرہ کے ساتھ چمکتے ستاروں کی مانند مقتل میں پڑے نظر آئیں گے، اگر کوئی خواہر و خاتون ہے تو اسکے لئے کربلا کی شیر دل خواتین کے عملی نمونے ششدر و حیران کرنے کیلئے موجود ہیں۔ الغرض میدان کربلا جو چند گھنٹوں کی جنگ ہے، آج چودہ صدیوں پر حاوی نظر آتی ہے، اس کے کردار و نمونے تاریخ کے ہر کردار و نمونے سے بڑھ کے نظر آتے ہیں۔

نیکی و برائی کی ابدی جنگ جس کا ذکر اکثر محققین و مصنفین کرتے ہیں، میدان کربلا میں دو نئے ناموں و عنوانوں کیساتھ ہمیشہ کیلئے مخصوص ہوگئے، نیکی کی قوت کا نام حسینیت کہلانے لگا اور برائی و بدی کا نام واقعہ کربلا کے بعد بلاشبہ یزیدیت پڑگیا ہے، حضرت علامہ اقبال نے بھی اس پر کھل کے اپنے نظریہ کا اظہار کیا ہے، علامہ فرماتے ہیں۔
موسیٰ و فرعون، شبیر و یزید
این دو قوت از حیات آید پدید

کربلا کے واقعہ سے پہلے یہ کردار نمائندہ خدا حضرت موسٰی اور ان کے مدمقابل فرعون شیطانی و بدی کے نمائندہ کے طور پر موجود تھا، کربلا میں یہی کردار ایک طرف نمائندہ رحمان و رحیم ابا عبداللہ الحسین ؑ اور دوسری طرف یزید پلید شیطانی نمائندہ کے طور پر ظاہر ہوا، امام حسین ؑ نے اپنے کردار و عمل اور اپنے جانثار ساتھیوں، اعوان و انصار و اصحاب کے تاریخی و روشن کردار کی بدولت حق و باطل کے معیار بدل دیئے بقول اقبال
تا قیامت قطع استبداد کرد
موجِ خون او چمن ایجاد کرد

وقت کا دھارا بدلتا ہے تو استبداد، استعمار اور شاہان وقت کے انداز بھی بدلتے ہیں، مگر یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ان کا مقابلہ صرف اور صرف کربلائی و عاشورائی انداز سے ہی ممکن ہے، صرف حسینی کردار سے ہی طاغوتوں، غاصبوں، آمروں اور جابروں کا کام تمام کیا جاسکتا ہے، جسے بھی حق کا علم بلند کرنا ہے، اسے کربلا کو پیش نظر رکھنا ہوگا، جسے بھی ظالمین سے جنگ کرنی ہے، اسے کربلا کی قربانیوں، ایثار اور جراٗت و استقامت کو یاد رکھنا ہوگا۔

حقیقتِ ابدی ہے مقامِ شبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی

اگر ہم آج کی مسلم دنیا اور اس کے بے پناہ مسائل کا جائزہ لیں تو افسوس کے ساتھ یہ نتیجہ اخذ کرتے دیر نہیں لگے گی کہ ہم نے چونکہ کربلا کو بھلا دیا ہے یا کربلا میں حسینی کرداروں کو اپنانے سے گریز کیا ہے، لہذا دنیا بھر میں مشکلات و مصائب کا شکار ہیں۔ اگر کربلا کا روشن راستہ اختیار کیا ہوتا تو امت مسلمہ اس قدر مشکلات سے ہرگز دوچار نہ ہوتی۔ ذرا غور کریں کہ اگر ہمارے حکمرانوں میں کربلائی جرات و کردار ہوتا تو کشمیر کے مسلمان اور ہمارے بہن بھائی انہی مشکلات کا شکار ہوتے جو آج نظر آ رہی ہیں۔ آج کشمیر کے مسلمان جس قدر مصائب کا شکار ہیں، کوئی انہی سے جا کے پوچھے، ان کی عزتیں محفوظ ہیں نہ جوانیاں، ان کے گھر محفوظ ہیں نہ کاروبار۔ اگر مسلم ممالک میں حکمرانی کرنے والے رہنماؤں نے کربلا سے درس حریت لیا ہوتا تو فلسطین کے مظلوم و ستم رسیدہ مسلمانوں کی قسمت میں آج در در کی ٹھوکریں نہ ہوتیں، دشمنان خدا یہودیوں سے آزادی کی بھیک نہ مانگنا پڑتی۔ گذشتہ ستر برسوں سے اہل فلسطین جن مظالم و سازشوں کا شکار چلے آ رہے ہیں، یہ کربلائی فکر سے دوری کا نتیجہ ہی تو ہے۔

اگر مسلم ممالک پر قابض حکمرانوں نے حریت کا درس کربلا سے لیا ہوتا تو مسلم ممالک سب سے زیادہ بدامنی، تخریب کاری، تشدد، قتل و غارت گری اور آفات و مصائب کا شکار نہ ہوتے۔ یہ کربلا سے دوری کا نتیجہ ہے کہ ہم اس دنیا میں بڑی آبادی، سب سے اہم وسائل رکھتے ہوئے بھی دشمنان دین و خدا سے بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔ کربلا ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کس طرح منظم ہونا ہے، کس طرح ظالموں، جابروں، آمروں کے خلاف قیام کرنا ہے، کربلا درس قربانی کا نام ہے، کربلا مقصد و ہدف کیلئے مر مٹنے کا نام ہے، کربلا ایثار کے نمونے پیش کرنے کا نام ہے، کربلا انقلاب آفرینی کا نام ہے، کربلا حریت و آزادی کے نغمے گنگنانے اور کانٹوں کی سیج پر نعرہ مستانہ لگانے کا نام ہے، جسے بھی باطل کو مٹانا ہے، جسے بھی ظالمین سے ٹکرانا ہے، اسے کربلا میں جانا ہوگا، کربلا سجائے بنا ظالمین کی نابودی ممکن نہیں اور جو کربلا کے لافانی کرداروں کو اپنا لیتے ہیں، وہ خود بھی لافانی ہو جاتے ہیں، انہیں لاکھ مٹانے کی کوششیں کی جائیں، وہ زندہ رہتے ہیں، پائندہ رہتے ہیں، وہ سرخرو رہتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 492546
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب