0
Thursday 22 Oct 2015 12:21

کربلا ۔۔۔۔ ایک مکتب ہے

کربلا ۔۔۔۔ ایک مکتب ہے
تحریر: ساجد علی گوندل
Sajidaligondal88@gmail.com


کربلا کوئی حادثہ یا واقعہ نہیں، کربلا ایک شعوری اور نظریاتی ٹکراو کا نام ہے۔ کربلا ایک مکتب ہے، ایک ایسی درسگاہ ہے کہ جہاں ذلت کی زندگی پر عزّت کی موت کی برتری کا درس دیا جاتا ہے۔ جو کربلا کو سمجھ لیتا ہے، وہ مر کر بھی زندہ اور جو اسے نہیں سمجھتا، وہ زندہ رہ کر بھی مردہ ہے۔ آج ہمارا موضوعِ بحث کربلا نہیں بلکہ سردارِ کربلا کا وہ پیغام ہے کہ جو آپؑ نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں امت تک پہنچایا۔ حسینؑ ابن علیؑ کا یہ پیغام کہ جس میں امامؑ نے امت سے ناصر و نصرت کا کا مطالبہ کرتے ہوئے فرمایا ھل من ناصر، آج بھی انہی الفاظ کے ساتھ فضاوں میں گونج رہا ہے، امامؑ کے اس پیغام کی وضاحت سے پہلے ہم مادہ نصْر کے چند قرآنی استعمالات کی طرف آتے ہیں۔ مادہ نصْر و نصْرت کا استعمال قرآنی آیات میں تقریباً 77 مرتبہ ہوا ہے، بطور نمونہ چند آیات اور وہاں بیان شدہ مفہومِ نصْر کو ملاحظہ فرمائیں۔ نصْر تمام انسانوں یہاں تک کہ خود رسول اکرمﷺ کے لئے بھی صبر، ایذاء، امتحانات و سخت ترین آزمائشیوں کے بعد کا مرحلہ۔[1] نصْر انسانیت کو خستہ حالت و ذلت و پستی سے نکالنے کا واحد راستہ اور ساتھ ساتھ ان قوموں و ملّتوں کے لئے بھی کہ جو قلت میں ہوں اور انہیں زمین میں کمزور کر دیا گیا ہو اور خوف و ہراس نے ان پر ڈیرے جما رکھے ہوں۔[2] نصْر و نصْرت خود اللہ کا ارادہ ہے۔[3] نصْر و نصْرت کرنا معیار ایمان و صداقت ہے۔[4] خداوند  لوگوں سے نصْر چاہتا ہے۔[5] کفار کے مقابلے میں ثابت قدمی بغیر نصْر کے ممکن نہیں۔[6] نصْر کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ فتح نصْر کے بعد حاصل ہوتی ہے، یعنی پہلے اللہ کی طرف سے نصْر ہوتی ہے، تب جا کے فتح کا مرحلہ آتا ہے۔[7]

گذشتہ تمام نمونوں میں نصْر و نصْرت کی اہمیت و ضروت کو بیان کیا گیا ہے، اب ہم مادہ نصْر کے لغوی معنی کی طرف آتے ہیں۔ نصْر مصدر ہے کہ جس سے اور بہت سارے کلمات مشتق ہوتے ہیں، لغت مین اسکا معنی مدد کرنا، کامل بارش و پہاڑ کی بلندی سے گرنے والے اس پانی کے ہیں کہ جو نیچے کھڑے ساکت و جامد پانی کو بھی اپنے ساتھ بہا لے جائے۔[8] یعنی ایسا متحرک پانی کہ جو اپنے اردگرد ساکت و جامد پانی کو حرکت دے، یعنی ناصر اس امام کو کہا جاتا ہے کہ جو معاشرے میں موجود ہر قسم کے  تحجّر [9] و جمود کو توڑ کر معاشرے میں حرکت و تازہ روح پھونکے۔ گذشتہ مثالوں میں قرآن نے بھی مادہ نصْر کا استعمال اسی معنی و مفہوم میں کیا ہے، یعنی جب قومیں و ملّتیں خوف و ہراس کے گہرے سمندوں، ذلت و پستی کی گمراہ کن وادیوں و فتنہ و فساد جیسے انسانی زوال کے جمود و تحجّر میں اسقدر گھر جائیں کہ انہیں اس سے نکلنے کی کوئی سبیل نظر نہ آئے، تب صرف الٰہی نصْر یعنی ناصرانِ دین الٰہی ہی وہ واحد راستہ و ذریعہ ہیں کہ جو قوموں کو ان حالات سے نکالیں اور اپنے ساتھ بہا کر ہدایت، سعادت و کرامت میں داخل کریں۔

حسینؑ ابن علیؑ نے بھی اپنی تمام زندگی میں یہاں تک کہ اپنے آخری پیغام میں بھی امت سے اسی نصرت دین الٰہی کا مطالبہ کیا ہے، مگر افسوس کہ امت نے امامؑ کے اس استغاثے پر نہ صرف یہ کہ لبیک نہیں کہی، بلکہ نصرت دین اسلام کے بجائے مختلف قسم کی خرافات میں مبتلا ہوتی چلی گی، جبکہ حسینؑ ابن علیؑ تحرک و بیداری کے علمبردار ہیں اور امامؑ نے سرزمین کربلا کے تپتے صحراء میں کسی  بہادر مبارزہ کرنے والے جوان، کسی کوٹھی، گاڑی یا بنگلہ رکھنے والے، کسی دولت و ثروت مند کو نداء نہیں دی بلکہ حسینؑ ابن علیؑ نے سرزمین کربلا میں ناصران کو پکارا ہے، ہے کوئی ناصر دین الٰہی کہ جو حسینؑ ابن علیؑ کی آواز پر لبیک کہے؟ ایسا ناصر کہ جو امت میں موجود جمود کو توڑے اور دنیا کے لئے دین خدا کے راستوں کو ہموار کرے۔ حسینؑ ابن علیؑ نے اسی مقصد کی خاطر مدینہ سے مکہ اور پھر مکہ سے کربلا کا رخ کیا، تاکہ وہ اس امت کو بیدار کرسکیں کہ جو شعوری طور پر اسقدر گر چکی ہے کہ آج یزید جیسے فاسق و فاجر شخص کو اپنا رہبرو پیشوا ماننے کو تیار ہے۔ چونکہ امامؑ جانتے تھے کہ جو قومیں بے حرکت و جامد ہو جائیں، وہ بے اثر لاش کی مانند ہوتی ہیں اور ان کی آغوش میں تہذیب و تمّدن کا سرمایا باقی نہیں رہتا جبکہ تحرک و حرکت زندگی کا دوسرا نام ہے۔ بقول اقبال ؒ اگر کائنات کے ہر ذرّے میں حرکت ہے تو باقی ہے اور یہ ظاہری سکون و ثبات ہماری نظر کا دھوکا ہے، وگرنہ کاروان وجود و موجود ہر وقت حرکت و تحرّک میں ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہر لمحہ وجود کی ایک نئی شان ہے۔

سیدالشہداءؑ کا المیہ یہ نہیں تھا کہ یزید حاکم ہوگیا ہے بلکہ امامؑ کا المیہ و ہم و غم یہ تھا کہ امت محمدﷺ تحجّر کا شکار ہوچکی ہے۔ سیدالشہداءؑ نصْر الٰہی ہیں کہ جنہوں نے امت کے سکوت کو توڑا اور فقط وقت کے یزید سے ہی نہیں بلکہ امت کو ہر زمانے کے یزید سے مقابلہ کرنا سکھایا۔ حسینؑ ابن علیؑ نے جب محسوس کیا کہ یزید و آل یزید اسلام کے اصلی چہرے کو مسخ کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے دین خدا کی طرف جانے والے ہر دروازے کو بند کر دیا ہے، جبکہ اس سب کے باوجود تمام امت مسلمہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ لہذا سیدالشہداءؑ نے ایک قلیل سے گروہ کے ساتھ کہ جس میں سب کے سب ناصرِ دین خدا تھے، قیام کیا اور خدا کی طرف جانے والے تمام دروازوں کو کھول دیا، کیونکہ قانون الٰہی یہی ہے کہ فتح ہمیشہ نصر کے بعد آئے گی، یعنی نصْر من اللہ و فتح قریب اور یاد رکھو کہ جب خدا کے دین کی طرف جانے والے تمام راستے کھول دیئے جائیں گے، تب تم دیکھو گے کہ لوگ گروہ در گروہ دین الٰہی میں داخل ہوں گے۔ لہذا سیدالشہداءؑ کا یہ پیعام کسی زمان و مکان کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ یہ پیعام ہمیں ہر اس دور کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ جس میں قانون الٰہی پامال ہو رہا ہو، الٰہی حدوں کو سرعام توڑا جارہا ہو و دین کے مقدس چہرے کو القاعدہ، لشکر جھنگوی، داعش و دیگر سعودی نواز طالبان کے ذریعے مسخ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہوں۔

آج پھر زمانے کا طاغوت دین اسلام کی طرف کھلنے والے راستوں کو بند کر رہا ہے۔ لہذا آج کا بھٹکا ہوا انسان اپنی فلاح و بہبود کے لئے کبھی سیکولرازم تو کبھی کیمونیزم کے دروازے پر، کبھی جمہوریت تو کبھی آمریت کے دروازے پر نظر آتا ہے کہ شائد ان میں سے کوئی نظام ہدایت و فلاح انسانیت کا بیڑا اٹھا لے۔ آج پھر ظاغوت و دوستان طاغوت مختلف حیلوں و بہانوں سے اسلام پر گہری ضربیں لگا رہے ہیں۔ نتیجتاً آج انسان دین کو اپنی انفرادی زندگی تک رکھنا چاہتا ہے۔ یہاں تک کہ آج ہماری ملت کا جوان بھی ظاغوتی بہکاوے میں آکر یہ کہہ رہا ہے کہ نظام اسلام میں انسانوں کی اجتماعی و معاشرتی زندگی کا بیڑا اٹھانے کی صلاحیت نہیں ہے۔ لہذا دین کو انسان کی انفرادی زندگی تک محدود رہنا چاہیئے۔ کیا کبھی ہم نے سوچا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔؟؟ ایسا اس لئے ہو رہا ہے چونکہ  آج دشمنانِ اسلام نے اسلام کے خلاف اتنا کام کیا ہے کہ اب لوگ اصلی اسلام کو دیکھ ہی نہیں پا رہے۔ لہذا آج پھر دین الٰہی کو نصْر و نصْرت کی ضرورت ہے۔ آج پھر دین الٰہی کو ایسے ناصروں کی احتیاج ہے کہ جو موجودہ دشمن کے پھیلائے ہوئے جمود و تحجر کو توڑیں، تاکہ قانون الٰہی کے مطابق نصْر کے بعد اسلام کو فتح حاصل ہو اور لوگوں کی رسائی اصلی اسلام ناب محمدیﷺ تک ہو۔

حوالہ جات:
[1] سورہ بقرہ آیت 214  ام حستم ان تدخلواالجنّۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والذین امنوا معہ متی نصْراللہ الا انّ نصْراللہ قریب
سورہ انعام آیت 34 ولقد کذّبتْ رسل من قبل فصبروا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حتی اَتٰھم نصْرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الی آخر
[2] سورہ آل عمران آیت 123 ولقد نصرکم اللہ ببدروّ انتم اَذِلۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورہ انفال آیت 26 وَ اذکروااذ انتم قلیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔و ایّدکم بنصْرِہِ۔۔۔۔۔۔۔۔
[3] سورہ فتح آیت 3 و ینصرک اللہ نصْراً عزیزاً   ، سورہ آلعمران آیت 126 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وما النصْر الّا من عنداللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[4] سورہ انفال آیت 74 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والذین اٰووا وّ نصروا اولئک ھم المومنون حقاً۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[5] سورہ محمد آیت 7  یایھا الذین امنوا انْ تنصوااللہ ینْصرْکم و یثبت اقدامکم   ، سورہ الحج آیت 40 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ و لَینْصرنّ اللہ مَن ینْصرہ ۔۔۔۔۔۔
[6] سورہ محمد آیت 7 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔    ، سورہ بقرہ آیت 250   ۔۔۔۔۔۔۔۔ قالوا ربّنا افرغ علینا صبرا و ثبت اقدامنا و انصرنا علی القوم الکافرین
[7] سورہ الصف آیت 13  ۔۔۔۔۔۔۔ نصْر من اللہ و فتح قریب   ، سورہ النصر آیت 1 اذا جاء نصْراللہ االفتح ۔۔۔۔۔۔۔۔
[8] المنجد   ۔۔۔۔ باب نصر ینصر نصْر اً
[9]  تحجّر حجر سے ہے یعنی پتھر پتھر ظاہراً حرکت نہیں پائی جاتی
خبر کا کوڈ : 492963
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے