0
Thursday 22 Oct 2015 21:10

جلوسِ عاشورہ ۔۔۔ نہ پُوچھ میرا حسینؑ کیا ہے

جلوسِ عاشورہ ۔۔۔ نہ پُوچھ میرا حسینؑ کیا ہے
تحریر: سجاد احمد مستوئی
sajjadahmadmastoi@gmail.com


گرمیوں کا موسم ہے، گندم کے کھیت مکمل طور پر زرد ہوچکے ہیں، دور دور تک پھیلے یہ کھیت ایک سنہری سمندر کا منظر پیش کر رہے ہیں، جب ہوا چلتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سونے کے سمندر میں ایک لہر سی اٹھ رہی ہو، انہیں سنہری کھیتوں سے ایک پگڈنڈی گزرتی ہوئی سڑک پر جا چڑھتی ہے، اس پگڈنڈی کے دونوں کناروں پر سبز گھاس کا ڈیرہ ہے اور دور تک ایک کچی سڑک بچھی ہوئی ہے۔ میں ہمیشہ اسی سڑک سے گزر کر سکول جاتا ہوں، آج سکول میں تو چھٹی تھی، لیکن کسی اور کام سے ماں جی نے مجھے شہر میں بھیجنا ضروری سمجھا۔ جب میں سڑک پر چڑھا تو دیکھا کہ سڑک پر لوگوں کا ہجوم ہے اور اس ہجوم میں خواتین کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے اور تو اور بچے بھی ہیں، میں نے سوالیہ انداز میں اپنے ہم سِن بچوں سے پوچھا کہ آج خیر تو ہے، یہ سب لوگ کہاں جا رہے ہیں۔ یہ بات قریب کھڑے ایک شخص نے سُن لی اور پیار سے مجھے چمکارتے ہوئے بولا کہ تمہیں پتہ نہیں ہے، آج دس محرم ہے، آج عاشورہ کا دن ہے اور یہ سب لوگ عاشور کے جلوس میں شریک ہونے کیلئے جا رہے ہیں۔

اسی اثناء میں ایک جوان نے اپنے دائیں کندھے پر رکھے ہوئے کالے کپڑے کو اٹھا کر بائیں کندھے پر رکھتے ہوئے کہا کہ نواسہ رسولﷺ امام حسینؑ کو آج کے دن شہید کیا گیا تھا، میں تعجب، حیرانگی اور دوسروں کی دیکھا دیکھی کے عالم میں اس جلوس کے ساتھ ہولیا، چلتے چلتے جب شہر کے دروازے پر پہنچے تو  دیکھا کہ لوگوں کی تلاشی لی جا رہی ہے، میں بھی تلاشی دینے کے لئے قطار میں لگ گیا۔ تلاشی کے بعد میں بھی شہر کے اندر داخل ہوگیا، جونہی شہر کے اندر داخل ہوا تو میری نظر سُرخ اور سیاہ رنگ کے فلک شگاف پرچموں پر پڑی، میں نے جلوس میں ایک چھوٹا سا جھولا بھی دیکھا کہ جس میں تقریباً چھ ماہ کے بچے کا کرتہ رکھا ہوا تھا اور کچھ خواتین اپنے ننھے بچوں کو بڑی عقیدت کے ساتھ اس جھولے کے پاس لے کر آتی تھیں۔ اسی جھولے کے ساتھ ہی ایک سیج سی بنی ہوئی تھی، جس کو مختلف رنگوں کے کپڑوں اور مصنوعی پھولوں سے سجایا گیا تھا، ساتھ ہی کچھ بندوں نے اپنے کندھوں پر کسی ولی اللہ کے روضے کی شبیہ اٹھائی ہوئی تھی، لوگ دیوانہ وار اس شبیہ کو چوم رہے تھے۔

میں ان کی عقیدت کا یہ منظر دیکھ رہا تھا کہ میری نظر ایک گھوڑے پر پڑی، جو اس شبیہ کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا اور اس کے جسم پہ ایک سفید رنگ کی چادر تھی، جس پر سرخ رنگ کے خون کی طرح کے دھبے تھے، اسی چادر پر خالی زین رکھی ہوئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ جلوس میں کچھ جوان کالے کپڑے پہنے سر پر پٹیاں باندھے صف آرا ہیں اور بڑے زور سے سینہ کوبی کر رہے ہیں، انہیں صفوں کے سامنے پانچ چھ جوانوں کا حلقہ تھا، جو ایک ترنّم کے ساتھ کچھ پڑھ رہے تھے۔ پڑھنے والوں کی آواز اتنی پرسوز تھی کہ درودیوار غم میں ڈوب گئے تھے۔ اسی اثناء میں سارا ہجوم آہستہ آہستہ ایک چوک تک پہنچا، ایک دم اذان کی آواز آنے لگی، صفیں بننے لگیں، سارے کا سارا ہجوم صفوں میں سما گیا، خاص قسم کا لباس پہنے ایک مولانا صاحب آگے ہوئے، نماز شروع ہوئی، کچھ لوگ نماز کے بجائے اردگرد بیٹھے رہے، جونہی نماز ختم ہوئی، چوک کے کونے پر لگے ہوئے مائیک سے کسی نے سب سے بیٹھ جانے کی اپیل کی، دیکھتے دیکھتے سارے لوگ چوک میں ہی بیٹھ گے، مائیک کے سامنے ایک میز تھی، میں اسی میز کو دیکھ ہی رہا تھا کہ ایک بندہ مائیک کے سامنے کھڑا ہوا، اس نے کچھ دیر عربی میں کچھ پڑھا اور پھر کہنے لگا کہ آج  حق و باطل کی پہچان کا دن ہے، آپ لوگوں کا گھروں سے نکل کر اس ہجوم میں شریک ہونا، اس بات کی دلیل ہے کہ آپ لوگ آج اس سخت ترین دور میں بھی حسینؑ کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہیں۔۔۔ وغیرہ وغیرہ

کچھ دیر بعد اس پڑھنے والے نے کچھ ایسا پڑھا کہ لوگ زاروقطار رونے لگے، رونے کے بعد پھر ماتم  شروع ہوا، اب مجھے زور کی بھوک محسوس ہوئی، لیکن مین اب اس جلوس کے سحر مین گرفتار ہوچکا تھا۔ دل کسی طور بھی جلوس سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھا، جونہی یہ ماتمی جلوس چوک سے تھوڑا آگے بڑھا تو میں نے دیکھا کہ ہجوم کے ایک کنارے پر پانی اور دوسری طرف سے کھانا تقسیم ہو رہا ہے۔ میں نے بھی دوسرے لوگوں کے ہمراہ کچھ کھایا پیا اور پھر اسی جلوس کے ہمراہ  مختلف گلیوں سے ہوتا ہوا شام کے وقت ایک بہت ہی بڑے ہال میں داخل ہوگیا۔ لوگ اس ہال میں بیٹھ گئے۔ ہال کے دروازے کے سامنے کی طرف ایک میز رکھی ہوئی تھی، جس پر کالے رنگ کا کپڑا پڑا تھا، ابھی میں یہ منظر دیکھ رہا تھا کہ ایک بندہ کرسی کو ہٹا کر مائیک کے سامنے آیا، اس کے میز پر آتے ہی لوگ رونے لگے، اس نے درد بھری آواز میں کچھ پڑھا، گریے میں اور اضافہ ہوا، ایسا لگا کہ ان لوگوں کا سب کچھ لٹ چکا ہے، جیسے انہی کے جوان مارے گئے ہوں اور انہی کے گھروں کو آگ لگائی گئی ہو اور انہی کی خواتین کو قیدی بنایا گیا ہو۔ مجلس کے ختم ہوتے ہی لوگ اس انداز میں اپنے گھروں کو واپس روانہ ہوئے کہ گویا اپنا سب کچھ لٹا کے جا رہے ہوں۔ البتہ اس روز صبح سے لے کر مغرب تک میں نے جو کچھ دیکھا اور سنا تھا، اس سے مجھے یہ لگا کہ یہ لوگ لٹا کر نہیں بلکہ بہت کچھ پاکر جا رہے ہیں اور ان پانے والوں میں ایک خوش قسمت میں بھی تھا۔ آج میں نے حسینؑ ابن علی کو پالیا تھا اور ہر سال نجانے کتنے ہی لوگ ہیں، جو اس عاشور کے جلوس کی برکت سے حسینؑ ابن علیؑ کو پاتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 493032
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب