0
Friday 23 Oct 2015 11:16

سلام یاحسین(ع)

سلام یاحسین(ع)
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com


جیسے جیسے دنیا کے علم و شعور میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، اہدافِ کربلا کی تبلیغ اور پیغامِ کربلا کو عملی کرنے کی ذمہ داری بھی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اکیسویں صدی کی ایک دردناک حقیقت یہ ہے کہ اس صدی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور میڈیا کے مختلف وسائل موجود ہونے کے باوجود اہدافِ کربلا اور پیغامِ کربلا کی اس طرح سے ترویج و اشاعت نہیں کی گئی، جس طرح سے کی جانی چاہیے تھی۔ عالم اسلام کی اس سستی اور غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یزیدیت کی کوکھ سے جنم لینے والی ناصبیّت نے دین اسلام کے خلاف سرد جنگ کا آغاز کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ناصبی اپنے اوپر اسلام کا لیبل لگا کر مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہوگئے۔ یزید کو رضی اللہ اور امام حسین کو نعوذباللہ باغی اور سرکش کہا جانے لگا۔ ایک سروے کے مطابق اس صدی میں ناصبیوں کی فکری تحریک سے سینکڑوں سادہ لوح مسلمان متاثر ہوئے اور جو لوگ ناصبیّت کے جال میں براہ راست نہیں آئے، ناصبیّت نے ان کے سامنے کربلا کو اس طرح مسخ کرکے پیش کیا کہ وہ لوگ دہشت گردوں کو امام حسین (ع) کا حقیقی وارث سمجھنے لگے اور اس موضوع پر مقالے اور کالم چھاپنے لگے۔

گویا جو زہر رشدی کے قلم نے رسولِ اکرم ۖ کے خلاف اگلا تھا، وہی نواسہ رسول ۖ کے خلاف اگلا جانے لگا۔ پوری دنیا میں خصوصاً عراق، افغانستان، سعودی عرب، ہندوستان اور پاکستان میں ایسے تجزیہ نگار، مبصرین اور صحافی حضرات جنہوں نے کبھی کربلا کے بارے میں تحقیق ہی نہیں کی تھی، انہیں ناصبیّت نے غیر مصدقہ تحریری مواد اور فرضی معلومات فراہم کرکے اپنے حق میں استعمال کیا۔ ٹی وی چینلز سے کبھی دبے الفاظ میں اور کبھی کھلم کھلا یزید کی تعریف اور امام حسین (ع) پر تنقید کی جانے لگی۔ اس صورتحال پر مسلمان خواہ شیعہ ہوں یا سنّی وہ مجموعی طور پر اس بات سے غافل تھے کہ انہیں ناصبی نیا اسلام سکھا رہے ہیں۔ آج کے دور میں اگر کوئی مبصّر امام حسین (ع) پر تنقید کرتا ہے، کوئی چینل یزید کی تعریف کرتا ہے، کوئی صحافی دہشت گردوں کو امام حسین (ع) کا وارث قرار دیتا ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ لوگوں تک نامِ حسین (ع) تو پہنچا ہے، پیغامِ حسین (ع) نہیں پہنچا۔ اب یہ ذمہ داری ہے ان تمام مسلمانوں کی، وہ خواہ شیعہ ہوں یا سنّی کہ وہ ناصبیّت کو بے نقاب کرنے کے لئے پیغام کربلا کو عام کریں۔ تحریک ِکربلا پر لکھیں، کربلا کے بارے میں کتابیں پڑھیں، تنہائی کے لمحات میں کربلا سوچیں، اپنی محافل میں کربلا کو موضوع بنائیں اور اپنی عملی زندگی کو مقاصد کربلا سے ہم آہنگ کریں۔۔۔

آج اسلامی دنیا میں اہدافِ کربلا کے گم ہوجانے کا اہم سبب وہ دانشمند، خطباء اور ادباء ہیں، جنہیں حسین ابن علی (ع) کی چوکھٹ سے علم کا رزق، افکار کا نور، قلم کی بلاغت، زبان کی فصاحت اور بیان کی طاقت تو مل جاتی ہے، لیکن وہ پیغامِ کربلا کو عوام تک نہیں پہنچاتے۔ اسی طرح وہ لوگ بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں، جو پورا سال حصولِ علم کے لئے مدینة العلم اور باب العلم کا دامن تو تھامے رکھتے ہیں، لیکن اپنے علم کو تبلیغ کے ذریعے منتقل نہیں کرتے۔ اگر تحریک کربلا کو اس کی آب و تاب، جمال و جلال، عشق و عرفان اور خون و پیغام کے ساتھ بیان کیا جاتا تو دنیا کا کوئی بھی مسلمان ناصبیوں کے پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوتا اور دنیا کا ہر منصف مزاج انسان جب دہشت گردوں اور کربلا کا موازنہ سنتا تو بے ساختہ اس کی زبان پر یہ کلمات جاری ہوجاتے کہ دہشت گردوں کا کربلا کے ساتھ کوئی ربط اور کوئی تعلق نہیں۔۔۔ اس لئے کہ کربلا تو وہ ہے۔۔۔ جس کے سجدہ گزاروں پر عرش والے بھی ناز کرتے ہیں، جس نے دین ِ اسلام کو لازوال کر دیا، جس نے اسلام کو حیاتِ نو بخش دی، جس نے شریعت کو لازوال کر دیا، جس نے سنّت کو زندہ کر دیا۔

جس کے ذکر نے میر انیس کو بادشاہوں سے بے نیاز کر دیا، جس کے تخیّل نے مرزا دبیر کو معیار فصاحت بنا دیا، جس کی تجلّی نے اقبال کو شاعرِ مشرق بنا دیا، جس کی معرفت نے قم کو مرکزِ انقلاب بنا دیا، جس کے فیض نے محمد حسین آزاد کو نام بھی اور احترام بھی عطا کیا، جس کے حسن و جمال نے شعراء کو جذب کر لیا، جس کی روانی نے خطباء کو مسحور کر دیا، جس کی پیاس نے دو عالم کو دنگ کر دیا، جس کے علم کا پھریرا آفاقِ عالم پر چھایا ہوا ہے اور جس کے کرم کی سلسبیل سے قیامت تک کی رہتی دنیا سیراب ہوتی رہے گی۔۔۔ کربلا تو وہ ہے۔۔۔ جس کا امیر اگر اپنے نانا کی آغوش میں ہو تو شہکارِ رسالت ہے، اگر اپنے باپ کے کندھوں پر ہو تو فخرِ ولایت ہے، اگر آغوشِ مادر میں ہو تو نگینِ طہارت ہے۔ کربلا تو وہ ہے ۔۔۔ جس کے امیر نے نوکِ نیزہ پر قرآن کی تلاوت کرکے آلِ محمد کی فضیلت و عظمت کا سکّہ جما دیا، جس کے علمدار نے یزیدیت اور ناصبیّت کو رسوا کر دیا، جس کے نونہالوں کی تشنگی نے عالمین کو رلا دیا۔ بھلا کیا ربط ہے کربلا کا دہشت گردوں کے ساتھ۔۔۔

یہ ہمارے واعظین، خطباء، ادباء اور صاحبانِ قلم و فکر کی ذمہ داری ہے کہ وہ مصلحتوں کے مورچوں سے نکل کر اور حالات کے زِندان کو توڑ کر کربلا پر تحقیق کریں، کربلا لکھیں، کربلا پڑھیں، کربلا خود بھی سمجھیں اور دوسروں کو بھی سمجھائیں۔۔۔ اس لئے کہ وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے دنیا کے علم و شعور میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، اہدافِ کربلا کی تبلیغ اور پیغامِ کربلا کو عملی کرنے کی ذمہ داری بھی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اگر ہم یہ ذمہ داری ادا نہ کرسکیں تو پھر ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ اس سلبِ توفیق کے پیچھے ضرور کوئی بات ہے:
ہراسِ شب میں اب کوئی جگنو بھی سانس تک نہیں لیتا
رات کے سنّاٹے میں فاختہ کی کوک بار بار ڈوب جاتی ہے
جو اِک آنکھ دنیا پر اور اِک آنکھ دین پر رکھتے ہیں
شہادت کی گھڑی ان کی زباں سوکھ جاتی ہے
جھوٹ کے چشمے سے سچ کا پیاسا سیراب نہیں ہوسکتا
مرمر کا پتھر پھونکوں سے آب نہیں ہوسکتا
راوی کی موجوں پہ مورّخ چین ہی چین نہیں لکھ سکتا
جو مصلحتوں کی زنجیروں میں جکڑ جائے
وہ ہاتھ سلام یاحسین (ع) نہیں لکھ سکتا۔
خبر کا کوڈ : 493129
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب