0
Friday 23 Oct 2015 14:15

امام حسینؑ کو غیر مسلم شعراء کا خراجِ عقیدت

امام حسینؑ کو غیر مسلم شعراء کا خراجِ عقیدت
تحریر: طاہر یاسین طاہر

امام حسین ؑ صرف مسلمانوں کے لئے ہی قابلِ تعظیم نہیں بلکہ دنیا کا ہر عدل پسند انسان امامِ عالی مقام کی قربانی اور ہدف کو تعظیم و تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ بے شک مسلم مشاہیر، مفکرین، علماء اور شعراء واقعہ کرب و بلا کو اپنے اپنے انداز میں خراجِ تحسین پیش کرتے چلے آرہے ہیں۔ اگرچہ ہمیں اس امر میں بھی کلام نہیں کہ کچھ کم کمال اور نا فہم افراد نے امام حسین ؑ کو صرف شیعوں کا امام بنانے کی ناکام سعی کی ہے۔ آج جب بھی کوئی یاعلی مدد کہتا ہے یا محرم الحرام میں مجلسِ عزا میں خاتم النبین کو پرسہ دینے جاتا ہے تو اسے بدعتی، کافر اور پتہ نہیں کیا کیا کہہ دیا جاتا ہے۔ میرا جی چاہتا تھا کہ غیر مسلم مفکرین، دانشوروں، فلاسفروں، محققین اور شعراء کے خیالات و کلام کو قارئین کی خدمت میں پیش کروں، مگر ایک مختصر کالم ایک پورے تحقیقی طرز کے مقالے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے صرف اردو زبان کے ہندو اور سکھ شعراء کا کچھ کلام قارئین کو ہدیہ کر رہا ہوں۔

مگر اس سوال کے ساتھ کہ حسین ؑ صرف شیعوں کے ہوتے تو پروفیسر ڈاکٹر ستنام سنگھ خمار کو کیا پڑی تھی کہ آپ کی شان میں قصیدے اور مرثیہ لکھتے۔؟ دلو رام کوثری کو مرثیہ اور نعت کہنے کی ضرورت کیوں پڑی؟ ہندو شاعرہ روپ کماری امامؑ عالی مقام سے کیوں اظہارِ عقیدت کر رہی ہیں؟ پورن سنگھ ہنر کیوں واقعہ کربلا پر اشک بار ہیں؟ پرتپال سنگھ بیتاب کیوں واقعہ کربلا پہ بے تاب ہوجاتے ہیں؟ ان کے علاوہ بھی کئی اور غیر مسلم شعراء و مفکرین واقعہ کرب و بلا سے حریت و زندگی کا درس لیتے ہیں۔ حسین ؑ کی قربانی انسانی وقار اور عظمت کے لئے تھی۔ اسلام کی بقاء کا راز کربلا ہے۔ جس طرح نبی کی نبوت کسی ایک قوم یا قبیلے کے لئے نہیں ہوتی، بالکل اسی طرح امام ؑ کی امامت بھی تمام عالمِ بشریت و جن و انس کے لئے ہوتی ہے۔ میرے پاس ہندو اور سکھ شاعروں کا نعتیہ کلام بھی موجود ہے اور ان کا رثائی کلام بھی۔ میرا مقصود مگر تمہید نہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ حسین ؑ تو مسلمانوں کے نبی (ص) کے لاڈلے نواسے تھے۔۔ پھر ڈاکٹر ستنام سنگھ خمار کو حسینؑ سے اتنا عشق کیوں؟ نکتہ یہی ہے جو ہندو شاعرہ روپ کماری نے کہا تھا۔ جوش ملیح آبادی کا مصرع بھی لمحہ بہ لمحہ اس حقیقت کا گواہ بنتا چلا جا رہا ہے کہ ‘‘ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ‘‘۔۔۔

پروفیسر ستنام سنگھ خمار کے اشعار ملاحظہ ہوں۔
لکھا ہے آسماں پہ فسانہ حسین ؑ کا
سب کا حسینؑ، سارا زمانہ حسینؑ کا
کوئی امام کوئی پیمبر کوئی ولی
کتنا ہے سربلند گھرانہ حسینؑ کا
ہوگی کوئی تو بات کہ صدیوں کے بعد بھی
جس دل کو دیکھئے، ہے دیوانہ حسین ؑ کا
میں حر ہوں چاہیے مجھے تھوڑی سے نقشِ پا
کوئی مجھے بتا دے ٹھکانہ حسینؑ کا
آزادی خیال کی تحریک ہی تو ہے
عاشور کو چراغ بجھانا حسین ؑ کا
مظلومیت کے وار سے ظالم نہ بچ سکا
آخر ہدف پہ بیٹھا نشانہ حسین ؑ کا
اب بھی زبانیں خشک ہیں پہرے فرات پر
دہرا رہا ہے خود کو زمانہ حسین ؑ کا
کب سے چکا رہا ہوں قصیدوں میں اے خمار
مجھ پر ہے کوئی قرض پرانا حسین ؑ کا


ایک اور غیر مسلم شاعر پرتپال سنگھ بیتاب کے اشعار دیکھیئے، وہ کس طرح امام حسین ؑ سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔
اور غم زمانے کے دور دور رہتے ہیں
اک حسین ؑ کا غم ہے جب سے مہرباں اپنا
بے تاب کا ایک اور شعر ملاحظہ ہو
جو شہیدوں نے لہو سینچا نہ ہوتا بے تاب
یہ جو اسلام کا گلشن ہے بیاباں ہوتا

پرتپال سنگھ بیتاب نے عمدہ مرثیے کہے ہیں۔
اسی طرح امر سنگھ جوش بھی اپنے انداز میں سیدالشہداؑ کو نذرانہ عقیدت مسدس کے اشعار میں یوں پیش کرتے ہیں۔
ظالموں کے اتنے جھانسوں میں بھی تو آیا نہیں
دیکھ کر طاقت کو تیرا دل بھی گھبرایا نہیں
دولتِ دنیا کے آگے صبر جھک پایا نہیں
زندگی ٹھکرائی تو نے عزم ٹھکرایا نہیں
دوسروں میں ایسی جرات کی فراوانی کہاں؟
سارے عالم میں بھلا تیری سی قربانی کہاں؟


چرن سنگھ چرن امام حسینؑ کے آسرے کو منزلِ مراد سمجھتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ
لیا خیال کا جب تیرے آسرا میں نے
ہوا یقیں کہ منزل کو پا لیا میں نے
خدا کرے کہ مجھے خواب میں حسینؑ ملیں
تمام رات اندھیروں میں کی دعا میں نے
سردار جسونت سنگھ راز چونتروی لکھتے ہیں۔
وہ یاد آتے ہی ہو جاتی ہیں آنکھیں اشکبار اب بھی
زمیں ہے مضمحل اب بھی، فضا ہے لالہ زار اب بھی

ڈاکٹر امر جیت ساگر امام ؑ عالی مقام کے حضور یوں ہدیہ سلام پیش کرتے ہیں۔
متاعِ زیست کو اس پر نثار کرتے ہیں
نہ ہم سے پوچھیئے کس غم سے پیار کرتے ہیں
رواں ہے شام و سحر چشمِ درد سے ساگر
غمِ حسینؑ سے ہم بھی تو پیار کرتے ہیں


سردار ترلوک سنگھ سیتل اپنے قلم کو یوں وضو کراتے ہیں۔
جنگ کے میداں کو جب سرور چلے
ہر طرف بھالے، گڑے، خنجر چلے
دھوپ کے صحرا کا منظر الاماں
اوڑھ کر تطہیر کی چادر چلے
اف رے آلِ مصطفٰی پر یہ ستم
بیڑیوں میں پھول سا عابدؑ چلے
سن کے سیتل کربلا کا سانحہ
سینکڑوں خنجر میرے دل پر چلے

ہر چرن سنگھ مہر کے اشعار ملاحظہ ہوں۔
حسینؑ تو نے راہِ حق میں جان دے دی
یہ وہ عمل ہے جو عالی وقار کرتے ہیں
کبھی نصیب ہو ہم کو بھی کربلا کی خاک
یہ وہ دعا ہے جسے بار بار کرتے ہیں

سورج سنگھ سورج کا ایک قطعہ بحضور امام عالی مقام
یہ معجزہ بھی پیاس جہاں کو دکھا گئی
آنکھوں میں آنسوؤں کی سبیلیں لگا گئی
کرب و بلا میں دیکھیئے شبیر ؑ کی ’’نہیں"
ہر دور کے یزید کو جڑ سے مٹا گئی


ہندو شاعرہ روپ کماری کہنہ مشق شاعرہ تھیں۔ قصیدہ، نعت اور مرثیے کے عمدہ اشعار کہے۔ ان کی نظمیں بھی ان کی فکری بلندی کی آئینہ دار ہیں۔ روپ کماری امام ؑ عالی مقام کے حضور یوں ہدیہ عقیدت پیش کرتی ہیں۔
بے دین ہوں، بے پیر ہوں
ہندو ہوں، قاتل شبیر نہیں
حسینؑ اگر بھارت میں اتارا جاتا
یوں چاند محمد کا، نہ دھوکے میں مارا جاتا
نہ بازو قلم ہوتے، نہ پانی بند ہوتا
گنگا کے کنارے غازی کا علم ہوتا
ہم پوجا کرتے اس کی صبح و شام
ہندو بھاشا میں وہ بھگوان پکارا جاتا

ہندو شاعر منشی دیشو پرشاد ماتھر لکھنوی کو اہل بیت اطہار بالخصوص حضرت سیدالشہداء امام حسینؑ کی مدح سرائی کی وجہ سے بڑی شہرت حاصل ہے، وہ کہتے ہیں:
انسانیت حسینؑ تیرے دم کے ساتھ ہے
ماتھر بھی اے حسینؑ تیرے غم کے ساتھ ہے

معروف ہندو شاعر رام پرکاش ساحر کہتے ہیں:
ہے حق و صداقت مرا مسلک ساحر
ہندو بھی ہوں، شبیرؑ کا شیدائی بھی

اسی طرح رائے بہادر بابو اتاردین کے خیالات ملاحظہ کیجیئے:
وہ دل ہو خاک، نہ ہو جس میں اہل بیت کا غم
وہ پھوٹے آنکھ جو روئی نہ ہو محرم میں

1918ء میں معروف ہندو شاعر دلو رام کوثری نے ایک مرثیہ بعنوان ’’قرآن اور حسینؑ ‘‘ کہا تھا، اس کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
قرآن اور حسینؑ برابر ہیں شان میں
دونوں کا رتبہ ایک ہے دونوں جہان میں
کیا وصف ان کا ہو کہ ہے لکنت زبان میں
پیہم صدا یہ غیب سے آتی ہے کان میں
قرآں کلام پاک ہے، شبیر ؑ نور ہے
دونوں جہاں میں دونوں کا یکساں ظہور ہے
پنڈت ایسری پرشاد پنڈت دہلوی کہتے ہیں:
نکلیں جو غمِ شہ میں وہ آنسو اچھے
برہم ہوں، جو اس غم میں، وہ آنسو اچھے
رکھتے ہیں جو حسینؑ سے کاوش پنڈت
ایسے تو مسلمانوں سے ہندو اچھے

کئی ایک اردو کے غیر مسلم شعراء کا کلام کالم کا حصہ بنایا جاسکتا ہے، مگر وہی بات کہ کالم اور تحقیقی مقالے کی اپنی اپنی ضروریات اور حد بندیاں ہوتی ہیں۔ ہندو شاعر منشی لچھمن داس مرثیہ گوئی میں منفرد مقام رکھتے ہیں، ان کا ایک قطعہ ملاحظہ ہو، بالخصوص ان کے آخری دو مصرعوں نے عالمگیر شہرت حاصل کی:
کم جس کی خیالیں ہوں، وہ تنویر نہیں ہوں
بدعت سے جو مٹ جائے وہ تصویر نہیں ہوں
پابند شریعت نہ سہی گو لچھمن
ہندو ہوں مگر دشمن شبیر ؑ نہیں ہوں
خبر کا کوڈ : 493142
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب