0
Sunday 25 Oct 2015 08:30

معجزہ گر سپہ سالار

معجزہ گر سپہ سالار
تحریر: سید قمر رضوی

انسانی تاریخ جنگوں سے عبارت ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انسان نے ابھی آسمانوں میں وجود پایا ہی تھا کہ جنگ کا آغاز ہوگیا۔ لیکن جب آدم زاد نے زمین پر قدم جمائے تو مدِ مقابل کو آسمان کی جانب واپس بھیجنے کی اس روایت نے ایسا جنم لیا کہ پھر یہ سلسلہ رک نہ سکا۔ جنگ دو فریقین کے درمیان ہونے والے اس معرکے کو کہتے ہیں، جس میں دلیل و برہان اور مکالمے کی بجائے طاقت کے اظہار سے دوسرے فریق کو پسپا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چنانچہ طاقت کے استعمال کی جس فریق کی حکمتِ عملی کامیاب ٹھہرتی ہے، وہی فاتح کہلاتا ہے اور ننگ و عار اور پسپائی مفتوح کا مقدر بنتی ہے۔ اس تعریف کے تحت گھروں، گلی محلوں، بازاروں اور شاہراہوں پر ہونے والی جنگ نما جھڑپیں ہمارے پسماندہ معاشرے کا ایک جلی مظہر ہیں۔ ذرا اور اوپر ہو کر دیکھیں تو مسالک، قبائل، ذوات، قوموں اور برادریوں میں بھی مختلف عنوانات کے تحت ہمیشہ جنگیں جاری رہی ہیں۔ آجکل کے جدید دور میں ہمارے ذہن میں جو جنگ کا نقشہ بنتا ہے، اس میں دو ممالک آمنے سامنے نظر آتے ہیں۔ بعض اوقات دونوں ممالک کو اپنا مؤقف اور طاقت منوانے کے لئے دوسرے ممالک کو بھی اپنی جنگ میں شامل کرنا پڑ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں کئی ممالک ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوجاتے ہیں اور یوں پوری دنیا ہی آگ کے شعلوں کی نذر ہو جاتی ہے۔ کسی بھی جنگ کو لڑنے کے لئے دو عناصر بنیادی حیثیت کے حامل ہیں، اسلحہ اور فوج۔ فوج ان پیشہ ور جنگجوؤں پر مشتمل ہوتی ہے، جو اسلحے کا استعمال خوب جانتی ہو۔ ہر فوج کا ایک سپہ سالار ہوتا ہے، جو اپنے سپاہیوں اور اسلحے کا مناسب اور بجا استعمال کرتے ہوئے اپنا کم سے کم اور دشمن کا زیادہ سے زیادہ مادی نقصان کروا کر نتائج کو اپنے حق کی جانب لے جاتا ہے۔ مندرجہ بالا اصول کے تحت چشمِ فلک نے زمین پر آغازِ آفرینش سے لیکر اب تک کروڑوں  جنگوں کا تماشا دیکھا ہے۔

لیکن  روئے زمین پر محض ایک۔۔۔صرف ایک جنگ ایسی ہے، جس نے جنگ کے مندرجہ بالا تمام اصول و قواعد کو پسِ پشت ڈال دیا۔ اس واحد جنگ میں ایک فریق کے پاس تو جنگ لڑنے کے بنیادی عناصر یعنی پیشہ ور فوج اور جدید اسلحہ تو تھا لیکن مدِ مقابل کے پاس فوج بھی انوکھی تھی اور اسلحہ بھی عجیب! اس فوج کے پاس روایتی اسلحہ اور ماہر جنگجو تو تھے لیکن سپہ سالار کو انکے استعمال میں کوئی خاص دلچسپی نہ تھی۔ یہ نرالا سپہ سالار تھا جو چند ساعتوں کے لئے لڑی جانیوالی جنگ کے لئے بچوں اور عورتوں کی فوج لیکر چلا اور تھوڑی دیر کے اس معرکے کے نتائج کو قیامت تک ثبت کرتا چلا گیا اور یوں ہمیشہ سے رائج جنگ، شکست اور فتح کے تمام اصول و قواعد اور مطالب کو ایک نئی جہت، نیا رنگ اور آنیوالی افواج کے لئے ایک نیا ولولہ دے گیا۔ جی ہاں، یہ ہے 61 ھجری کے محرم میں کربلا کی زمین پر لڑی جانے والی جنگ اور اس سپہ سالار کا نام ہے حسین ابنِ علیؑ۔

کربلا کی جنگ میں یزیدی جانب روایتی فوج تھی، جسکے پاس وافر اسلحہ، ماہر سپاہی، اعلٰی ترین جاسوس، بہترین ذرائعِ آمد و رفت، دولت، طاقت، جاہ و حشم اور وہ سب کچھ تھا، جو ایک جنگ کو جیتنے کے لئے درکار ہوتا ہے، جبکہ حسینی فوج کے پاس چند ماہر سپاہی اور معمولی ہتھیاروں کے علاوہ  ایمان، تقویٰ، عقل، دلیل و برہان، منصوبہ بندی، حلم، برداشت، صبر و رضا، شجاعت، توکل اور انسانیت کے درد پر مشتمل وہ الٰہی اسلحہ تھا کہ جس کے بل بوتے پر لڑی گئی اس جنگ نے تاقیامت جنگ کے معنٰی بدل کے رکھ دیئے۔ یہ وہ واحد سپاہ ہے کہ جس کے سپاہیوں میں گود کے بچے سے لیکر صدی سے اوپر کے سن رسیدہ جنگجوؤں سمیت ہر سن و سال کا مجاہد موجود ہے۔  اس فوج کا سپہ سالار وہ عجیب معجز نما سپہ سالار ہے، جو ایک جانب تو اپنے آپ کو گرفتار کرنے والے مخالف فوج کے افسر کو اپنی فوج میں شامل ہونے پر مجبور کر دیتا ہے تو دوسری جانب اپنے ہمراہ لائے ہوئے سپاہیوں کو آزادی کی نوید سناتا ہے۔ اسکے سپاہی بھی عجیب ہیں کہ بے آب و گیاہ لق و دق صحرا میں موت کے مہیب سایوں میں ابدی و سرمدی حیات کا سراغ پا رہے ہیں۔ کوئی خوشی سے جھوم رہا ہے تو کوئی بے چینی سے صبح ہونے کا منتظر ہے۔ کوئی تیر و تلوار درست کر رہا ہے تو کوئی پنجوں کے بل کھڑا ہو کر اپنا قد دراز بتانے کی کوششوں میں مگن ہے کہ شہادت کے شہد کا گھونٹ پینے کے لئے صبر کرنا مشکل ہوا جا رہا ہے۔ کوئی جھولے میں ہمک رہا ہے تو کوئی خیام کے باہر بے تابی سے ٹہل رہا ہے۔

عجیب سپہ سالار ہے، جو جنگ کو ٹال رہا ہے۔۔۔۔ موت کے خوف سے نہیں، معبود سے راز و نیاز کے لئے۔ کئی مہینوں  کے لگاتار سفر کی تھکن اور کئی روز کی بھوک و پیاس ہے۔ لیکن چہرہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ روشن اور شاداب ہوا جا رہا ہے۔ کبھی اس خیمے، تو کبھی اس خیمے! کبھی اس سے بات چیت و کبھی اسکو وعظ و نصیحت۔۔۔۔ جنگ کا آغاز ہوا۔ ایک جانب طاقت و نخوت کا طوفان اور دوسری جانب خدا کے نمائندگان۔ عجب سپہ سالار ہے، جو اپنے ایک ایک سپاہی کے حوصلوں کو بلند کرتے ہوئے میدان میں روانہ کرتا ہے، حفاظت کے پیشِ نظر خود بھی پیچھے پیچھے روانہ ہوتا ہے۔ مبارزہ کے دوران مسلسل نگرانی کرتا ہے اور بعد از شہادت جسد ہائے خاکی کو خود اٹھا کر اپنے خیموں میں لاتا ہے۔ اپنی تمام فوج کو راہِ خدا میں قربان کرنے کے بعد مخدرات سے رخصت ہوتا ہے۔ چھوٹی بہن کو نصائح کی صورت میں سپہ سالاری کے وہ سارے گر سکھلا دیتا ہے کہ جن کی ضرورت جنگ کے اگلے مرحلے میں اس نئے سپہ سالار کو درکار ہوں گے اور سینے سے لگا کر گویا اسرارِ امامت منتقل کر دیتا ہے کہ اب زینبؑ کو بھی سوائے حسن و جمال کے اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ورنہ کس خاتون میں اتنی ہمت؟ کہ ستر قدم سے تیروں سے ڈھکے بھائی کا خشک گلا کٹتے دیکھے!

دن ڈھل گیا، شام آگئی اور جنگ اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہوئی۔ یہ مرحلہ عجیب تر ہے کہ جسے لُٹی ہوئی عورتوں اور پِٹے ہوئے بچوں نے طے کرنا ہے۔ کھلا آسمان، گھپ اندھیرا، ریت کا طوفان، شیطانی قہقہے، لہو کی خوشبو۔۔۔ نمازِ شب کا ہتھیار ہے تو کیسا غم؟ دن چڑھا، آگ اگلتا ہوا سورج، گرم ہوا، رسن و زنجیر بستہ ہاتھ پاؤں، ننگی پشتوں والے بے قابو جانور اور درندوں سے بدتر شیطان زادے۔۔۔ گلیاں، بازار، تماشائی، شور و غوغا، پتھراؤ اور گالم گلوچ۔۔۔۔ عجب میدانِ جنگ ہے۔   نماز، مناجات اور شکرِ خداوندی کے اسلحے کے بل پر جیسے یہ معرکہ زینبؑ نے سر کیا ہے، وہ زینبؑ ہی جانے! میدانِ جنگ ایک اور انوکھی صورت میں ڈھل جاتا ہے، جہاں مشکوک ولادت والے شرابی اپنی طاقت اور غرور کے نشے میں مبتلا اس فوج کا تمسخر اڑانے میں مصروف ہیں۔ یہاں اس  عقیلہ سپہ سالار نے عقل، دلیل و برہان، حلم و برداشت اور علم کے اسلحے سے بزورِ زبان وہ جنگ لڑی کہ مدِ مقابل بلبلا اٹھا۔ صدیوں کی نسل در نسل محنت، دولت، طاقت، بدمعاشی ایسی ڈھیر ہوئی کہ آج چودہ سو سال گزرنے کے باوجود اس فوج کے اوسان بحال نہ ہوسکے۔ ظاہر ہے۔۔ حسینؑ و زینبؑ خدائی فوج کے وہ معجزہ گر سپہ سالار ہیں جو نہ صرف جنگ، شکست اور فتح کے معنٰی بدلنا جانتے ہیں بلکہ جنگ کی ہئیت و ماہیت کو صبغت اللہ میں ڈھالتے ہوئے اسکے لطیف نتائج کو تاقیامت ثبت بھی کرسکتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 493404
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب