0
Wednesday 28 Oct 2015 14:49

جامعہ اردو کراچی میں داعش و طالبان کی مذمت کرنیوالے طلبا پر نام نہاد مذہبی انتہاپسند عناصر کا حملہ

جامعہ اردو کراچی میں داعش و طالبان کی مذمت کرنیوالے طلبا پر نام نہاد مذہبی انتہاپسند عناصر کا حملہ
رپورٹ: ایس جعفری

شہر قائد میں قائم وفاقی جامعہ اردو عبدالحق کیمپس میں اسٹڈی سرکل کے دوران دہشگرد تنظیموں داعش، القاعدہ اور طالبان کی مذمت کرنے پر اسلامی جمعیت طلبہ کے انتہاپسند و شدت پسند عناصر کا حملہ، اساتذہ اور طلباء کو جان سے مارنے اور خونی تصادم کی دھمکیاں دیتے ہوئے کفر کے فتوؤں سمیت سنگین الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی (عبدالحق کیمپس) میں گذشتہ دو سال سے پروگریسو یوتھ الائنس کا اسٹڈی سرکل چل رہا ہے، جس میں نوجوان معیشت، سیاست، عالمی تناظر سمیت دیگر موضوعات پر بحث کرتے ہیں، گذشتہ چند ماہ سے اسلامی جمعیت طلبہ کے کچھ کارکنان بھی اس سٹڈی سرکل میں شرکت کر رہے تھے، ان کارکنان نے بالآخر جمعیت کو رجعتی اور سرمایہ داری کی آلہ کار تنظیم سمجھتے ہوئے چھوڑنے کا فیصلہ کیا، جس پر انہیں جمعیت کی مقامی قیادت نے دھمکیاں دینے کا سلسلہ شروع کر دیا، ساتھ ہی پروگریسو یوتھ الائنس کے کارکنان پر بھی اسٹڈی سرکل ختم کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جانے لگا، جبکہ جمعیت چھوڑنے والے کارکنان کو دوبارہ جمعیت میں شمولیت اختیار نہ کرنے کی صورت میں دھمکی آمیز ایس ایم ایس اور فون کالز کی جاتی رہیں، اسی دوران سابقہ کارکنان کا جامعہ میں جمعیت کے افراد سے آمنا سامنا ہونے پر کشیدہ صورتحال پیدا ہوئی، جس پر یونیورسٹی انتظامیہ نے رینجرز کے ذریعے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی، اور سابقہ کارکنان نے یونیورسٹی انتظامیہ اور رینجرز کو جمعیت کے کارکنان کی دھمکیوں سے تحریری طور پر بھی آگاہ کیا۔

اسٹڈی سرکل کی تین نشستوں کے بعد جمعیت کے 18 کارکنان نے پروگریسو یوتھ الائنس میں شمولیت کا اعلان کر دیا اور اس سلسلے میں باقاعدہ تقریب بھی منعقد کی گئی، جو شاید جمعیت کیلئے ناقابل قبول تھا۔ اسی دوران گذشتہ ہفتے جامعہ کی لائبریری کے باہر 20 اکتوبر منگل کے روز دن بارہ بجے بھی معمول کے مطابق ”عراق کی موجودہ صورتحال اور داعش و القاعدہ کی دہشتگردی“ سمیت مختلف موضوعات پر اسٹڈی سرکل جاری تھا، جس میں علمی بحث و مباحثے کے دوران دہشتگرد تنظیم داعش، القاعدہ اور طالبان کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی بھرپور مذمت کی گئی۔ اس دوران جمعیت جامعہ اردو عبدالحق کیپس کے ناظم بھی اپنے ساتھیوں سمیت اسٹڈی سرکل میں آکر بیٹھ گئے اور سوالات شروع کر دیئے، پھر اسٹڈی سرکل کے منتظمین کیجانب سے دیئے گئے دلائل کے بعد لاجواب ہو کر ان سے تلخ کلامی کرتے ہوئے الجھ پڑے۔ مزید صورتحال اس وقت خراب ہوئی، جب ناظم جمعیت کی سربراہی میں انتہاپسند اور شدت پسند عناصر مادر علمی کا تقدس پائمال کرتے ہوئے جامعہ کے اندر اسٹڈی سرکل میں شریک طلباء اور منتظمین پر حملہ آور ہوگئے، جس کے باعث کئی طلبا زخمی ہوئے۔

انتہاپسند و شدت پسند عناصر نے اسٹڈی سرکل میں شریک طلباء کو کافر قرار دیتے ہوئے، انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں، جبکہ انتہاپسند عناصر نے وفاقی جامعہ اردو کے اساتذہ کرام کو بھی ہدف تنقید کا نشانہ بنایا، اور جامعہ کے بعض شعبوں میں دی جانے والی تعلیم کو مذہب کے خلاف قرار دیا، اس سلسلے میں جامعہ اردو کے بعض اساتذہ کو براہ راست دھمکی آمیز لہجے میں مخاطب کرتے ہوئے جمعیت کے انتہاپسند عناصر نے ان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ مذہب کے منافی نظریات کی ترویج اور طلباء کی اسلام مخالف ذہن سازی اور اسٹڈی سرکل کی سرپرستی کر رہے ہیں، انتہاپسند جتھے نے جامعہ کے اساتذہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں، جبکہ اسٹڈی سرکل کے منتظمین کو دھمکیاں دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی صورت اسٹڈی سرکل کو منعقد نہیں ہونے دینگے۔

رابطہ کرنے پر ”اسلام ٹائمز“ سے گفتگو کرتے ہوئے اسٹڈی سرکل میں شریک جامعہ اردو کے ایک طالب علم نے کہا کہ جامعہ کے طلبا اسٹڈی سرکل کے دوران علمی ماحول میں عراق کی موجودہ صورتحال اور وہاں عالمی دہشتگرد تنظیموں داعش اور القاعدہ کی انسانیت سوز دہشتگردانہ کارروائیوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کر رہے تھے، جبکہ پاکستان میں اسلام کی بدنامی کا باعث بننے والی طالبان و دیگر انتہاپسند نام نہاد مذہبی دہشتگرد تنظیموں کی بھی مذمت کر رہے تھے، اس دوران جمعیت کے ناظم نے سوالات شروع کرنے پر جب طلباء نے مذہب کے نام پر انتہاپسندی و شدت پسندی پھیلانے والی دہشتگرد تنظیموں کیخلاف دلائل سے جوابات دیئے، تو ناظم جمعیت اور انکے ساتھیوں نے دلائل سے مباحثہ کرنے کے بجائے لڑائی جھگڑا شروع کر دیا، جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ ایک اور طالب علم نے ”اسلام ٹائمز“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علمی مراکز میں انتہاپسندوں اور شدت پسندوں کو اب طالبان، القاعدہ اور داعش جیسی دہشتگرد تنظیموں کی حمایت ترک کرکے طلباء کے حقیقی مسائل کی جدوجہد کرنی چاہیئے، کیونکہ ان دہشتگرد تنظیموں کا تعلق کسی صورت اسلام سے نہیں ہے، یہ صرف اور صرف دہشتگرد ہیں۔

ایک اور طالب علم نے بتایا کہ یونیورسٹی میں جاری اسٹڈی سرکل میں سوشلزم کے علاوہ دیگر نظریات کو بھی زیربحث لایا جاتا ہے، تاکہ طلباء کو باشعور کیا جاسکے، اور وہ آزادی کے ساتھ اپنی رائے پیش کرسکیں، جبکہ انتہاپسند اور شدت پسند عناصر اپنے مخصوص فرقہ پرور نظریات کے علاوہ ہر چیز اور نظریئے کو کفر قرار دیتے ہیں۔ دوسری جانب واقعے پر یونیورسٹی اساتذہ نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انتہاپسندوں اور شدت پسندوں کی جانب سے پہلے بھی اساتذہ کو دھونس دھمکیوں کا سامنا رہا ہے اور اب بھی انہیں حراساں کرنے کیلئے یہ اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے طلباء مفادات کے خلاف اور علم دشمن عناصر کی حمایت کے مترادف ہیں، لہٰذا قومی سلامتی کے ادارے تعلیمی اداروں میں دہشتگرد تنظیموں کے حامیوں کے خلاف فی الفور ایکشن لیں اور وفاقی جامعہ اردو کو انتہاپسندوں اور شدت پسندوں سے خالی کرایا جائے۔ واضح رہے کہ ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود بھی جامعہ اردو میں میں اسٹڈی سرکل کو بند کرانے کیلئے منتظمین، شریک طلبا اور جامعہ کے اساتذہ کرام کو انتہاپسند و شدت پسند عناصر کی جانب سے خونی تصادم ہونے اور دھمکیاں دینے کا سلسلہ جاری ہے، اسی باعث جامعہ کے اساتذہ کرام و طلبا میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 494226
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب