1
Saturday 31 Oct 2015 23:25

ایران روس سکیورٹی معاہدہ اور مغرب کی پریشانی

ایران روس سکیورٹی معاہدہ اور مغرب کی پریشانی
تحریر: سعداللہ زارعی

دہشت گردی سے مقابلے میں ایران اور روس کے درمیان جاری اسٹریٹجک تعاون نے مغربی ممالک اور ان کی پٹھو حکومتوں کو شدید پریشان کر دیا ہے اور انہوں نے اس تعاون کے خلاف شدید موقف اختیار کیا ہے۔ لیکن جو بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ایران اور روس کے درمیان دہشت گردی کے خلاف باہمی تعاون میں کیا چیز ہے جو مغربی ممالک اور ان کے پٹھو حکمرانوں کی پریشانی اور غصے کا باعث بنی ہے؟ دہشت گردی کا خاتمہ تو ایسا امر ہے جس کے مغربی ممالک بھی بظاہر حامی نظر آتے ہیں اور ان کی اعلان کردہ پالیسیوں سے بھی کوئی تضاد نہیں رکھتا، لہذا کم از کم دہشت گردی کے خلاف جنگ سے تو انہیں سیخ پا نہیں ہونا چاہیئے، جیسا کہ اب تک عراق میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف ایران سرگرم عمل رہا ہے اور عراق کے چار صوبوں کو داعش کے قبضے سے آزاد کروانے میں بھی انتہائی اہم کردار ادا کرچکا ہے اور مغربی ممالک کو ان سرگرمیوں سے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوئی۔

مغربی ممالک نے ظاہری طور پر ہی سہی عراق میں داعش کے خلاف ایران کی سرگرمیوں کو سراہا ہے، جیسا کہ ایک اعلٰی سطحی امریکی عہدیدار نے اظہار نظر کرتے ہوئے کہا: "داعش کو کنٹرول کرنے میں ایران کی صلاحیت اور توانائی بہت زیادہ ہے اور خطے کا کوئی دوسرا ملک ایسا اقدام انجام نہیں دے سکتا۔" اسی طرح شام میں ایران اور روس کے باہمی تعاون پر امریکہ، یورپ اور خطے میں ان کی پٹھو حکومتوں کی پریشانی کی وجہ یہ بھی نہیں ہوسکتی کہ دونوں ممالک صدر بشار الاسد کو اقتدار پر باقی رکھنے کے خواہاں ہیں۔ اگرچہ مغرب اور ان کی پٹھو حکومتیں صدر بشار الاسد کو شام میں برسراقتدار دیکھنا پسند نہیں کرتیں اور اب تک وہ انہیں اقتدار سے ہٹانے کیلئے تمام قانونی اور غیر قانونی کوششیں انجام دے چکے ہیں، لیکن صدر بشار الاسد کو اقتدار پر برقرار رکھنے سے متعلق ایران اور روس کی کوششیں کوئی نئی نہیں، جو اب وہ اس بابت ایران اور روس کے باہمی تعاون پر پریشان اور برہم نظر آنے لگیں۔

خطے میں پائے جانے والے ایک بحران کو حل کرنے کیلئے ایران اور روس کے درمیان جاری تعاون پر مغربی محاذ کی پریشانی اور غصے کی اصل وجہ یہ ہے کہ تہران اور ماسکو نے درحقیقت ایک اسٹریٹجک تعاون کا آغاز کر رکھا ہے، جس کا نتیجہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ایک مضبوط اور مفید اتحاد معرض وجود میں آنے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ ایسا اتحاد جو بہت سے بین الاقوامی ایشوز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہوگا۔ مغرب بخوبی آگاہ ہے کہ ایران اور روس دونوں انتہائی اہم اسٹریٹجک جغرافیا سے برخوردار ہیں۔ روس اپنی خارجہ پالیسی کے ذریعے وسطی ایشیا، قفقاز اور ایسٹ ایشیا کے اکثر ممالک پر اثر و رسوخ رکھتا ہے، جبکہ ایران بھی بڑی تعداد میں مغرب مخالف حکومتوں، گروہوں اور اقوام کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات استوار کئے ہوئے ہے۔ اگر یہ دو طاقتیں (ایران اور روس) آپس میں اتحاد بنا لیں اور مشترکہ اصول وضع کر لیں تو بہت سے علاقائی اور بین الاقوامی ایشوز پر اثرانداز ہوسکتی ہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب ایسی رپورٹس موصول ہو رہی ہیں، جن کے مطابق چین بھی ایران اور روس سے ملحق ہونے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ لہذا مغربی ممالک کی جانب سے ایران اور روس کے درمیان جاری اسٹریٹجک تعاون پر پریشانی کی وجوہات کو سمجھنے کیلئے درج ذیل نکات پر توجہ ضروری ہے:

1)۔ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ طے پا جانے کے بعد مغربی ممالک اس غلط فہمی کا شکار ہونے لگے کہ ایران اور فائیو پلس ون گروپ کے درمیان طے پانے والا معاہدہ ایک اکسیر کے طور پر عمل کرے گا اور ایران کو مغرب مخالف ملک سے بدل کر مغرب کا حامی ملک بنا دے گا۔ اسی بنیاد پر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے تقریباً ایک ماہ قبل امریکی کانگریس کے اراکین سے ایران کے ساتھ معاہدے کے بارے میں بحث و گفتگو کے دوران کہا: "ایران کو دھمکانے والی پالیسی کا کوئی فائدہ نہیں ہوا اور ہم جوہری معاہدے کے ذریعے کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کو ایسے مطالبات ماننے پر مجبور کیا جائے جن کو ماننے سے وہ اب تک انکار کرتا آیا ہے۔" درحقیقت مغرب کی پالیسی یہ تھی کہ وہ ایران کی خارجہ پالیسی میں خاطر خواہ تبدیلی ایجاد کرے، لہذا اگرچہ ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کی بنیاد پر توقع یہ کی جا رہی تھی کہ اس معاہدے کے بعد ایران اور مغربی ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں رونق آجائے گی، لیکن ہم نے دیکھا کہ معاہدے کے فوراً بعد یورپی ممالک کے وفود کا تہران دوروں کا تانتا بندھ گیا۔

اسی طرح گذشتہ ہفتے جرمنی اور ایرانی وزارت خارجہ کے تعاون سے تہران میں منعقد ہونے والی میونیخ سکیورٹی کانفرنس میں شرکت کیلئے امریکی حکام نے اپنا ایک وفد بھیجنے کی بھی پوری کوشش کی، لیکن انہیں اس مقصد میں کامیابی نصیب نہ ہوسکی۔ شام کے بحران سے متعلق ایران اور روس کے درمیان طے پانے والا سکیورٹی معاہدہ انتہائی مختصر مدت میں بہت زیادہ مثبت نتائج کا حامل رہا ہے، جس پر مغربی حکام انگشت بدہاں رہ گئے ہیں۔ جب ایران اور روس کے درمیان سکیورٹی معاہدہ ہوا تو مغربی حکام یہ گمان کر رہے تھے کہ ایران نے مغربی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے کے ساتھ ساتھ روس کے ساتھ بھی حساس سکیورٹی مسائل کے بارے میں ایک معاہدہ انجام دیا ہے، جبکہ مغربی ممالک نے ویانا معاہدے کی توثیق کے بہانے سکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 جاری کروائی، جس کے تحت ایران کی فوجی صلاحیتوں کے خلاف شدید پابندیاں لگا دی گئیں۔ لیکن تہران ماسکو سکیورٹی معاہدے نے عملی طور پر اس لومڑی صفت مغربی سیاست پر بطلان کی مہر لگا دی، کیونکہ یہ معاہدہ جس سطح کا بھی ہو، آخرکار اسلامی مزاحمت کی پوزیشن اور طاقت میں اضافے کا باعث بنا ہے اور خاص طور پر اس کے نتیجے میں ایران کی پوزیشن بھی انتہائی مضبوط ہوگئی ہے۔

2)۔ مغرب کا گمان ہے کہ ایران اور روس کے درمیان انجام پانے والے معاہدے کے نتیجے میں روس نے ایران حامی اتحاد کی مدد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے کیونکہ ایران، روس، شام اور عراق پر مشتمل چار رکنی معاہدے میں شام اور عراق ایران کے اسٹریٹجک اتحادی تصور کئے جاتے ہیں۔ لہذا اس نئے معاہدے کی وجہ سے اسلامی مزاحمتی بلاک کی پوزیشن بہت مضبوط ہوگئی ہے۔ مغربی نقطہ نگاہ سے شام کے مسئلے میں روس کی براہ راست فوجی مداخلت کے باعث ایران شام میں براہ راست اور موثر فوجی مداخلت سے بے نیاز ہوگیا ہے۔ اگر ایران شام میں فوجی مداخلت کرتا تو اس کے نتیجے میں خطے کے بعض ممالک کی جانب سے اعتراض سے روبرو ہونے کا امکان تھا، جو ایران کیلئے بہت سے مسائل کھڑا کرسکتا تھا۔ مغربی ممالک بخوبی آگاہ ہیں اور اب تک کئی سکیورٹی ایشوز میں یہ تجربہ بھی کرچکے ہیں کہ سنگین سکیورٹی بحرانوں کو حل کرنے میں ایران اور ایرانی لیڈرشپ بہت زیادہ باصلاحیت ہے۔ ایران کی اس صلاحیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے کامیابی سے عراق جیسے ملک کو، جس پر فوجی قبضہ ہوچکا تھا، اپنے اسٹریٹجک اتحادی میں تبدیل کرکے اسے بیرونی قبضے سے آزادی دلوائی ہے۔ لہذا مغرب صحیح یا غلط طور پر یہ گمان کرتا ہے کہ ایران، روس، عراق اور شام پر مشتمل نئے اتحاد کی اصل باگ ڈور ایران کے ہاتھ میں ہے اور دوسرے ممالک ایران کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کے سائے تلے اپنا اپنا کردار ادا کرنے میں مصروف ہیں۔ چاروں ممالک کے درمیان انجام پانے والے معاہدے میں "دہشت گردی کا خاتمہ" بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور چاروں ممالک "مذہبی دہشت گردی" کو اپنے لئے ایک حقیقی خطرہ تصور کرتے ہیں اور اس خطرے کا مقابلے کرنے کیلئے آپس میں اتحاد کی تشکیل کو واحد راہ حل گردانتے ہیں۔

3)۔ مغرب نے دہشت گردی کے خاتمے کا جو ماڈل پیش کیا ہے، وہ میڈیا کے ذریعے شور شرابے اور پروپیگنڈے کی سطح تک محدود رہا ہے، جبکہ اس کے برعکس ایران، روس، عراق اور شام کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے اور سکیورٹی بحران کے حل کیلئے اپنائی گئی حکمت عملی انتہائی مختصر مدت میں بہت زیادہ مفید واقع ہوئی ہے اور اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ اس نئے اتحاد کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پیش کیا گیا ماڈل عالمی سطح پر مقبول واقع ہو جائے۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو جدید اتحاد کی سرگرمیاں صرف شام تک ہی محدود نہیں رہیں گی بلکہ دنیا کے جس حصے میں بھی دہشت گردی کا مسئلہ پایا جائے گا، وہاں اس اتحاد سے مدد کی درخواست کی جائے گی۔ اس صورت میں امریکہ اور مغربی طاقتوں کے ہاتھ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے مشرق وسطٰی اور مغربی ایشیا جیسے دنیا کے اہم اور اسٹریٹجک حصوں میں فوجی موجودگی کا بہانہ بھی لے لیا جائے گا اور افغانستان جیسے ملک میں اس کی فوجی موجودگی کا بھی کوئی عذر باقی نہیں رہے گا۔ اس پہلو سے ایران، روس، عراق اور شام کے درمیان طے پانے والا سکیورٹی معاہدہ یا تشکیل پانے والا اتحاد درحقیقت خطے میں اہم سیاسی تبدیلیاں لانے کیلئے ایک بنیادی حکمت عملی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس پہلو نے مغرب کو شدید پریشان کر دیا ہے، لہذا اس نے اس نئے اتحاد کے خلاف پروپیگنڈہ مہم شروع کر دی ہے اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اتحاد میں شامل ممالک کے درمیان حقیقی تعاون نہیں پایا جاتا۔

4)۔
مغرب کی نظر میں یہ نیا چار طرفہ اتحاد جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا ہے اور اچھے اور برے دہشت گردوں پر مبنی بیہودہ تقسیم سے بالاتر ہو کر ہر قسم کی دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم کئے ہوئے ہے، مستقبل میں ہر دہشت گردی کی نابودی کے خلاف جنگ کا آغاز کرسکتا ہے۔ یہ اتحاد غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے شروع کردہ ریاستی دہشت گردی پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔ جیسا کہ شام میں دہشت گردی کے خاتمے کا مطلب "اہم ترین اسرائیل مخالف عرب حکومت" کے اقتدار میں اضافہ ہے، جبکہ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ شام اس وقت حزب اللہ لبنان کی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے اور حزب اللہ لبنان کو گولان ہائٹس میں بھی اسرائیل مخالف محاذ شروع کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ یہ صورتحال اسرائیل کیلئے انتہائی خطرناک اور پریشان کن ہے۔ اسرائیلی حکام بخوبی آگاہ ہیں کہ حتی اگر روسی صدر پیوٹن بھی انہیں اس بات کی یقین دہانی کروا دیں کہ اسرائیل کی قومی سلامتی کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا، تب بھی زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ اسرائیل جانتا ہے کہ شام میں حزب اللہ لبنان کی حمایت میں روس کی جانب سے انجام پانے والے ہوائی حملوں نے حزب اللہ لبنان کی پوزیشن کو مضبوط کر دیا ہے اور اس کا دشمن پہلے سے زیادہ طاقتور ہوتا جا رہا ہے۔

5)۔
ایران، روس، عراق اور شام کے درمیان انجام پانے والا سکیورٹی معاہدہ ایک اور اہم نکتہ قوت کا بھی حامل ہے۔ یہ نکتہ قوت اس اتحاد کی خطے کے عوام میں بے حد مقبولیت اور اس کا عوامی ہونا ہے۔ درحقیقت شام اور عراق میں تکفیری دہشت گرد عناصر کے خلاف جو بھی جدوجہد ہو رہی ہے، اس میں علاقائی عوامی رضاکار فورس کا بہت بڑا کردار ہے، جس کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف بننے والا یہ اتحاد عوامی سطح پر بے حد مقبول ہوگیا ہے۔ 
خبر کا کوڈ : 494910
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب