0
Monday 9 Nov 2015 18:24

نوجوان امیدِ اقبال

نوجوان امیدِ اقبال
تحریر: شاہد رضا

کسی بھی نہضت یا تحریک میں بنیادی کردار نوجوانوں کا ہوتا ہے، کیونکہ جو توانائیاں ایک جوان میں ہوتی ہیں اور کچھ کر گزرنے کی جو لگن جوانوں میں ہوتی ہے، وہ بزرگوں میں نہیں ہوتی۔ اگر ہم تاریخ کے صفحات میں غور کرکے دیکھیں تو کسی بھی مذہبی و سیاسی تحریک کی کامیابی کا راز نوجوان ہیں۔ صدر اسلام سے آج تک مختلف ممالک و اقوام میں اٹھنے والی تحریکوں کا بغور مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ نوجوان ہی وہ قوت و طاقت ہوتے ہیں، جو بڑے بڑے بتوں کو پاش پاش کر دیتے ہیں۔ اسی لئے ہمیشہ سے الہی مدیروں کی تحریک کا محور نوجوان نظر آتے ہیں۔ تحریک پاکستان کے مفکر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے یوم پیدائش کے موقع پر ان کی جوانوں سے امیدوں کا تذکرہ کرنا بہت ضروری ہے، تاکہ ہماری جوان نسل فکر اقبال سے مزین ہو کر پاکستان کے مستقبل کو روشن کرسکیں۔  علامہ اقبال کی ساری امیدیں جوانوں سے وابستہ نظر آتی ہیں۔ ان کا شاہین کا تصور بڑا واضح ہے۔ انھوں نے اپنے بیٹے جاوید کے نام جو نظمیں لکھی ہیں، درحقیقت ان میں جوان نسل کے لئے ایک اجتماعی پیغام ہے۔ وہ جوانوں کے لئے دعا کرتے ہیں۔
جوانوں کو مری آہ سحر دے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
خدایا! آرزو میری یہی ہے
مرا نور بصیرت عام کر دے

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو علامہ اقبال نوجوان نسل کو جمود کے دور سے نکل کر آگے بڑھنے کے لئے انگیخت کرتے ہیں۔ علامہ اقبال نے اپنے زمانے کے جمود کا غم کرتے ہوئے نوجوان نسل کو تبدیلی اور ارتقاء میں اپنا کردار ادا کرنے کی طرف راغب کیا ہے۔ علامہ اقبال کی شاعری میں ہمیں اس بات کا بڑا واضح پیغام ملتا ہے کہ انسان مادی علم کی حدوں سے نکل کر چیزوں کی معنویت اور روحانیت پر بھی غور کرے۔

علامہ اقبال نوجوان کو اس کے مقام سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

جو لوگ مادی مقاصد کے لئے علم حاصل کرتے ہیں، وہ کرگس بن کر رہ جاتے ہیں۔ ان کی ساری ہمتیں بازاری چیزوں کے حصول کے لئے ہوتی ہیں۔ وہ انہی پر جھپٹتے رہتے ہیں، جبکہ شاہین پست پرواز نہیں ہوتا، بلند پرواز ہوتا ہے، اس کی نگاہ میں بڑی تیزی ہوتی ہے۔ علامہ اقبال کے نزدیک یہ چیزیں ترقی اور ارتقاء کی علامت ہیں۔ اقبال ایک نوجوان کو شاہین کا درجہ اسی لئے دیتے تھے کیونکہ شاہین کسی اور کی ماری ہوئی خوراک نہیں کھاتا، اسکے اندر خودی اور غیرت ہوتی ہے، اپنے رزق کو خود حاصل کرنے کی ہمت و لگن ہوتی ہے، جب کہ کرگس میں ہمت نہیں ہوتی۔ علامہ اقبال نوجوان کو رزق کے حصول کے اصول واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
اے طائرِ لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

اقبال کا شاہیں ایسا رزق قبول نہیں کرتا، جس سے پرواز میں کوتاہی آتی ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایسی امیدیں مت لگائیں، ایسی امداد مت قبول کریں، جو آپ کی پرواز کو کوتاہ کر دے۔ اقبال نوجوان کو خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ غیراللہ کے ساتھ امید نہ لگائیں بلکہ خود اسباب خلق کریں۔ نوجوان کو خدا نے صلاحیتیں دی ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں ہوسکتا ہے۔ محتاج ہونا ایک نوجوان کی توہین ہے، کیونکہ اس سے جوان کا سفر تکامل رک جاتا ہے اور وہ اس کی پرواز میں کمی آتی ہے۔ اقبال کا تصور تعلیم ارتقاء پسندانہ اور جامع ہے۔ اقبال کا خودی کا فلسفہ انسان کی شناخت سے جڑا ہوا ہے۔

کائنات میں انسان کی حیثیت

میں کون ہوں؟ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیا نہیں کرنا چاہیے؟ انسان کو اپنے آپ سے یہ سوالات ضرور کرنا چاہئیں۔ قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ انسان تخلیق ہوا تو فرشتوں کو اس کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا، لیکن شیطان ابلیس نے انکار کر دیا۔ جنت کے لئے پیدا ہونے والا انسان جب شیطان ابلیس کی گمراہی کا شکار ہوا تو اپنے مقام سے گر گیا۔ اسے پھر اٹھنے کے لئے اللہ پاک نے توبہ کے مواقع دیئے۔ اس نے انسان سے کہا کہ گمراہ کرنے والے عناصر سے ہوشیار رہو، یہ عناصر تمھاری جنت میں داخل ہوسکتے ہیں، تمھیں ان سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ علامہ اقبال نے آدم کی کہانی کے پس منظر میں انسان کے مقام کی اہمیت کو بڑی خوبصورت سے نظم بند کیا ہے۔ اسی کو پہچاننا اور سمجھنا ادراکِ مقام خودی ہے۔ یعنی جب انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ میرا یہ مقام ہے کہ میں مسجود ملائک ہوں، اللہ تعالٰی نے زمین پر مجھے اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے تو وہ اپنے مقام کی حفاظت کرتا ہے۔ علامہ اقبال نے اس حوالے کہا ہے:
نہ تو زمیں کے لئے ہے نہ آسماں کے لئے
جہاں ہے تیرے لئے تو نہیں جہاں کے لئے

جب اللہ پاک نے زمین و آسمان، چاند، ستارے سب کچھ انسان کے لئے مسخر کر دیا اور قرآن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ سب چیزیں انسان کے لئے پیدا ہوئی ہیں تو پھر انسان کو ان پر فریفتہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ اپنی حیثیت اور اپنے مقام کا ادراک کرتے ہوئے عرفانِ خودی کی منزل حاصل کرنی چاہیئے۔

اقبال کی انفرادیت
دنیا میں کوئی شاعر ایسا نہیں ہے جس کی فکر نے ایک عظیم الشان ریاست تخلیق کر دی ہو۔ علامہ محمد اقبال کا کلام ہمارے کورس میں اگرچہ کسی حد تک موجود ہے، لیکن ایک ایسا مجموعی رنگ نہیں ہے جیسا ہونا چاہیئے تھا۔ ہم پر اقبال کا بہت حق ہے، ہمیں اس حق کو ادا کرنا ہے۔ یہ حق اقبال کی شناخت کے بغیر ممکن نہیں۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل تک اقبال کا پیغام پہنچانا ہوگا۔ اس کے لئے سنجیدگی کے مظاہرے کی ضرورت ہے، ہر سطح پر نصاب میں اقبال شناسی کا ایک حصہ شامل کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ اپنے مستقبل کو تابناک اور محفوظ بنایا جاسکے۔

اقبال سرحدوں سے ماورا
اقبال ایک عالمی سرمائے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم اگر ان سے محروم رہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا پیغام دنیا کی کسی دوسری قوم کے لئے تحرک بخش نہیں ہوسکتا۔ آج بھی اقبال کا پیغام حرکت و انقلاب کا باعث بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہمارے ہمسایہ ملک ایران کے انقلاب کو وہاں کی لیڈر شپ علامہ اقبال کی تعلیمات کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔ دنیا بھر میں آج بھی علامہ اقبال سے روشنی حاصل کرنے والے لوگ، ممالک اور دانشور موجود ہیں، لیکن پاکستان میں اس حوالے سے صورت حال افسوس ناک ہے۔
خبر کا کوڈ : 496681
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش