0
Thursday 19 Nov 2015 08:49

شام اور مشرق وسطٰی تاریخ کے اہم موڑ پر

شام اور مشرق وسطٰی تاریخ کے اہم موڑ پر
تحریر: ڈاکٹر منوچہر متکی
(سابق وزیر خارجہ اسلامی جمہوریہ ایران)

شام کا بحران خطے میں گذشتہ ڈیڑھ عشرے سے رونما ہونے والے حوادث کا فیصلہ کن موڑ ہے۔ وہ حوادث جو نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں دھماکوں سے شروع ہوئے اور افغانستان پر امریکہ کے فوجی قبضے کے بعد حساس مرحلے میں داخل ہوگئے۔ افغانستان پر امریکی قبضے کا تسلسل عراق پر بھی امریکی جارحیت کی صورت میں ظاہر ہوا، جسے حتٰی اقوام متحدہ کی قومی سلامتی کونسل کی تائید بھی حاصل نہ تھی۔ اسی طرح پانچ برس قبل خطے میں اسلامی بیداری کی تحریک کا آغاز بھی کئی ایسے حوادث کا باعث بنا، جو ایکدوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ شام میں جاری بحران کا جائزہ لینے کیلئے ان تمام واقعات کا بغور جائزہ لینا ضروری ہے۔

خطے میں امریکہ کے بنیادی اہداف:
دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانیہ کی جانب سے "بالفور اعلانیہ" کے ذریعے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کا سرطانی غدہ معرض وجود میں آیا۔ مغربی ایشیا میں امریکہ کے اہم اہداف خطے پر مکمل سیاسی، فوجی اور اقتصادی کنٹرول قائم کرنے اور عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کے اچھے تعلقات استوار کرنے پر مشتمل تھے۔ اسرائیل کی ہمہ جہت سیاسی، اقتصادی اور فوجی حمایت کو خطے میں امریکی حکام کی اسٹریٹجک گہرائی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اصل ہدف غاصب صہیونی رژیم کے مقابلے میں ہر قسم کی مزاحمتی قوت کو ختم کرکے اسے ایک ناقابل شکست افسانوی طاقت کے طور پر ظاہر کرنا ہے۔ امریکہ اس وقت اپنے اہداف کے حصول میں مزید پرامید ہوگیا جب 1970ء میں عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد بعض عرب حکام نے چوری چھپے اور بعض نے کھلم کھلا اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنا شروع کر دیئے۔ مصر کے حسنی مبارک، سعودی عرب کی آل سعود رژیم، اردن کے ملک حسین سے لے کر مراکش اور چھوٹی عرب ریاستیں مکمل طور پر امریکی پالیسیوں کے تابع ہوچکی تھیں۔ لیبیا اور اس کی حکومت کو کنٹرول کرنے کیلئے 1990ء کی دہائی میں اقدامات انجام پائے۔ اب صرف شام ہی ایسا ملک تھا جہاں اسرائیل مخالف حکومت برسراقتدار تھی اور اسے اسلامی مزاحمت اور فلسطین کا حامی ملک سمجھا جاتا تھا، لہذا امریکی منصوبہ بندی میں اس حکومت کا خاتمہ بھی شامل کر لیا گیا۔

افغانستان اور عراق میں امریکہ کی شکست:
امریکہ افغانستان اور عراق پر فوجی قبضے کے بعد ان ممالک میں ایسی حکومتیں برسراقتدار لانا چاہتا تھا، جو دو اہم خصوصیات کی حامل ہوں: ایک یہ کہ امریکہ کی اتحادی ہوں اور دوسرا وہ ایران مخالف ہوں۔ اگر ہم خطے میں امریکہ کی گذشتہ 14 برس کی سرگرمیوں اور اقدامات کا جائزہ لیں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ امریکہ کا سارا زور اسی ہدف کے حصول پر متمرکز رہا۔ عراق اور افغانستان میں انجام پانے والی امریکی منصوبہ بندیاں اور منعقد کرائے جانے والے انتخابات اسی مقصد کے حصول کیلئے تھے، جس میں البتہ امریکہ ناکامی کا شکار رہا ہے۔ اگر ہم دو امریکی رکن پارلیمنٹ لی ہیملٹن اور جیمز بیکر کی جانب سے عراق کی صورتحال پر پیش کی جانے والی رپورٹ کا مطالعہ کریں تو دیکھیں گے کہ اس میں عراق میں امریکہ کی ناکامیوں کی وجوہات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے بعد امریکی اور عراقی حکام نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی سنجیدہ کوششیں شروع کر دیں اور آخرکار اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر نے مشروط طور پر مذاکرات کی اجازت دے دی۔ امریکی صدر براک اوباما نے انہیں حالات کو دیکھتے ہوئے "تبدیلی" یا “change” کا نعرہ لگایا اور اسے اپنی انتخابی مہم کا عنوان قرار دیا۔ اوباما نے 2011ء میں عراق سے فوجی انخلاء کا وعدہ کیا اور اس پر عمل بھی کیا۔ اس کے بعد اوباما نے افغانستان سے فوجی انخلاء کا وعدہ بھی کیا، لیکن اس پر مکمل طور پر عمل نہیں کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ کی جانب سے عراق اور افغانستان پر فوجی جارحیت حالیہ برسوں میں اس کی اسٹریٹجک غلطیوں میں شمار ہوتی ہے، جس کے باعث امریکی دعووں کا کھوکھلا پن اور جھوٹا ہونا دنیا والوں کے سامنے عیاں ہوگیا۔

امریکہ کیجانب سے نئے منظرنامے کا سہارا:
خطے میں اسلامی بیداری کی تحریک جنم لینے کے بعد امریکہ کے زیر اثر ممالک میں سیاسی تبدیلیاں رونما ہونے لگیں اور امریکہ کے کٹھ پتلی حکمران مسلمان عوام کے ہاتھوں سرنگون ہونا شروع ہوگئے۔ تل ابیب یونیورسٹی اور امریکہ کے سکیورٹی و تحقیقاتی اداروں میں بیٹھے اسلام اور شیعہ مذہب پر نظر رکھنے والے محققین نے عالم اسلام میں رونما ہونے والی عظیم تبدیلیوں پر اپنی پریشانی کا اظہار کیا اور اسلامی بیداری کے نتیجے میں جنم لینے والی اس عظیم توانائی کو اپنے اصلی راستے سے منحرف کرنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہوگئے۔ وہ چاہتے تھے کہ اسلامی بیداری کی صورت میں پیدا ہونے والے جوش و جذبے کو ایسے انداز میں خالی کریں کہ وہ اسلام دشمن عناصر کے خلاف استعمال ہونے کی بجائے خود مسلمانوں کے خلاف ہی استعمال ہو۔ جمہوریت، آزادی اور انسانی حقوق کے سب سے بڑے دعویداروں نے شدت پسندانہ ترین طریقے استعمال کرتے ہوئے اور خطرناک ترین دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرتے ہوئے ایک ایسا منصوبہ بنایا کہ مسلمانوں میں موجود جہادی جذبہ خود مسلمانوں کے خلاف ہی استعمال ہو جائے۔ لہذا اس نئے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی ذمہ داری "داعش" اور "النصرہ فرنٹ" کو سونپ دی گئی۔ امریکی حکام چاہتے تھے کہ اس نئے منصوبے کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچا کر خطے میں اپنی گذشتہ ناکامیوں کا ازالہ کریں۔ اگرچہ اب تک اس امریکی، اسرائیلی، تکفیری اور دہشت گرد منصوبے کو پانچ برس گزر چکے ہیں اور خطے کے اسلامی ممالک بھی شدید جانی اور مالی نقصانات کا شکار ہوچکے ہیں، لیکن اس منصوبے کے بانیان خطے میں اپنی مرضی کی سیاسی اور جغرافیائی تبدیلیاں لانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

شام، جعلی اسلامی بیداری کی لپیٹ میں:
اسلام کا لبادہ اوڑھے تکفیری دہشت گرد عناصر پر مشتمل امریکی – اسرائیلی منصوبے کی بنیاد سب سے پہلی بار شام میں رکھی گئی، جو بعد میں "دولت اسلامی فی عراق و شام" یا داعش کے روپ میں ظاہر ہوئے اور انہیں اسلامی بیداری کا تسلسل قرار دیا گیا، جبکہ حقیقت میں وہ جعلی اسلامی بیداری کا نمونہ تھے۔ تھوڑا غور کرنے سے شام میں شروع ہونے والی جعلی اسلامی بیداری کی تحریک اور تیونس، مصر، یمن، بحرین اور حتی لیبیا میں بیرونی مداخلت کے ذریعے مسلح خانہ جنگی شروع ہونے سے قبل جاری پرامن عوامی جدوجہد کے روپ میں حقیقی اسلامی بیداری کی تحریک کے درمیان فرق بہت آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ مصر، یمن، تیونس اور بحرین میں برپا ہونے والے ملین مارچ میں ایک فرد بھی ایسا دکھائی نہیں دیتا تھا، جو کسی دوسرے ملک سے آیا ہو، جبکہ داعش کا نام نہاد خلیفہ اور اسی طرح داعش کا گلے کاٹنے کے کمانڈر، دونوں کو طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت امریکہ اور برطانیہ کی جیلوں سے آزاد کرکے خطے میں روانہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح تیونس، مصر اور دیگر اسلامی ممالک میں حقیقی اسلامی بیداری کی تحریک کے دوران امریکہ اور اسرائیل مخالف نعرے لگائے گئے، جبکہ شام میں جعلی اسلامی بیداری کی تحریک میں قومی اور مذہبی تعصب کا غلبہ دکھائی دیتا ہے۔
البتہ شام کے بحران کو پانچ برس گزر جانے کے بعد اب جو بیانات مغربی حکام کی جانب سے سامنے آرہے ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے اصلی مقصد یعنی شامی حکومت کی سرنگونی اور صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کے حصول میں مکمل طور پر مایوسی کا شکار ہوچکے ہیں۔ ترکی انتہائی پیچیدہ صورتحال سے دوچار ہے اور ایک لمبے عرصے تک عراق اور شام کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کرنے کی پوزیشن میں نہیں آسکتا۔ شام میں امریکہ کی شکست نے ایران کے اسٹریٹجک کردار اور سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی جانب سے اسلامی مزاحمت کی حمایت اور شام کے بحران کا منطقی راہ حل پیش کرنے سے متعلق درست موقف کو مزید واضح کر دیا ہے۔ امریکہ کے سابق وزیر خارجہ کالن پاول کا یہ بیان کہ ہمیں سعودی عرب کی جانب سے مختصر مدت میں یمن حکومت کو ختم کرنے کے دعوے پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے تھا، ظاہر کرتا ہے کہ وہ سپریم لیڈر اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے سیاست خارجہ کیلئے وضع کردہ اس منطقی اصول کے مقابلے میں بے بس ہوچکے ہیں کہ "ہر ملک کے عوام کو اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنا چاہئے۔" امریکہ اور سعودی عرب یقیناً شام اور یمن کی جنگوں میں فاتح قرار نہیں پاسکتے، البتہ ان کی شکست کی شدت کا اندازہ حالات کا جائزہ لینے سے لگایا جاسکتا ہے۔

روس اور خطے کی سیاسی صورتحال:
روس نے شام کے مسئلے میں 12 برس تاخیر کے ساتھ مداخلت کی ہے۔ جب 1980ء کی دہائی کے آغاز میں امریکیوں نے بغداد میں روسی سفارتخانے کی اہم دستاویزات کی حامل گاڑیوں کو تباہ کر دیا تھا تو روسی حکام کو یہ جان لینا چاہیئے تھا کہ امریکہ دنیا پر مونوپلی قائم کرنے کا ارادہ کرچکا ہے۔ اگر روس اپنی بچی کھچی طاقت کو محفوظ بنانا چاہتا تھا تو اسے اسی وقت ہی خطے کے مسائل میں عملی طور پر وارد ہو جانا چاہیئے تھا۔ جب ایران کی وزارت خارجہ کا قلمدان میرے پاس تھا تو میں نے کئی بار روسی حکام کو خبردار کیا کہ وہ ایک ایک کرکے عالمی ایشوز پر سنہری موقعے امریکہ کو دیتے جا رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ روس کو مکمل طور پر اپنے مقابلے میں کمزور اور مطیع کرنا چاہتا تھا۔ روس خود بھی اس بارے میں قصور وار ہے اور میری نظر میں عراق میں جاری بحران کے دوران روس صرف تماشائی بنا بیٹھا رہا۔ اسی طرح ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایشوز پر بھی اگرچہ روس اور چین نے کبھی ایران مخالف قرارداد پیش نہ کی، لیکن آخرکار امریکہ کی جانب سے پیش کردہ ایران مخالف قرارداد کے حق میں ووٹ دے دیا۔ ان کا یہ اقدام بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ امریکہ کے مقابلے میں فیصلے کی قوت سے محروم تھے۔ لیکن شام کے مسئلے میں روسی حکام نے احساس کیا کہ اگر اس بار بھی وہ کوئی موثر کردار ادا نہیں کریں گے تو ان کی طاقت ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے گی، لہذا عالمی سطح پر اپنی طاقت برقرار رکھنے کیلئے روس نے شام میں مداخلت کی۔

داعش کے ممکنہ خاتمے کے بعد عالم اسلام کی ذمہ داری:
میری نظر میں اسلامی دنیا کو حالیہ چند برس کے دوران پیش آنے والے بحرانوں کو ایک نئے منظر سے دیکھنا چاہیئے۔ ہم بڑی تعداد میں ان مسلمان جوانوں کو کھو دینے پر توجہ دیں، جو امریکی اسلام کے پروپیگنڈے کے نتیجے میں داعش اور النصرہ فرنٹ جیسے دہشت گرد گروہوں کے سپاہی میں تبدیل ہوگئے۔ یہ داعش اور النصرہ فرنٹ کی جانب سے عالم اسلام پر ڈھایا جانے والا سب سے بڑا ظلم اور نقصان ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں خودکش بم دھماکے کرنے والے نوجوان کافر یا مشرک ہیں، بلکہ وہ اپنے غلط اعتقادات کی بنا پر ایسے اقدامات انجام دے رہے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کئی بار اس نکتے پر زور دیا ہے کہ ہمارے حقیقی دشمن جیسے امریکہ اور فرعی دشمن جیسے داعش میں فرق ہے۔ تکفیری گروہ درحقیقت منحرف اعتقادات اور تفکرات کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ داعش اور النصرہ فرنٹ جیسے شدت پسند گروہوں کی تشکیل میں کارفرما نظریاتی اور فکری بنیادوں پر توجہ دیتے ہوئے ان کا تنقیدی جائزہ لینا ضروری ہے، یہ انتہائی اہم نکتہ ہے۔ ہمارے ملک میں منافقین نے 1981ء میں مسلح خانہ جنگی شروع کر دی اور اسلامی جمہوریہ ایران نے ایک سال کے اندر ہی انہیں فوجی طاقت کے ذریعے کچل دیا۔ لیکن آج تیس سال گزر جانے کے بعد بھی ان کی باقیات بعض ممالک اور حتٰی خود ایران میں پائی جاتی ہیں۔ اگرچہ النصرہ فرنٹ، داعش اور اس سے پہلے طالبان اور القاعدہ کو فوجی طریقے سے ختم کرنا ممکن ہے، لیکن ہوسکتا ہے عراق اور شام میں ختم ہونے کے بعد انحرافی نظریات کے موجود اور باقی رہنے کے باعث کسی دوسرے ملک میں ایسے ہی دہشت گرد عناصر ظاہر ہونا شروع ہوجائیں۔ تکفیری نظریات کا خاتمہ ضروری ہے۔ میرا عقیدہ ہے کہ فوجی طاقت کے ذریعے تکفیری دہشت گرد عناصر کے خاتمے کے بعد جو انشاءاللہ زیادہ دور نہیں، مسلمان علماء، محققین اور یونیورسٹی پروفیسرز کو میدان میں آنا چاہیئے اور تکفیریت پر مبنی نظریات اور تفکرات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 498804
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے