0
Friday 18 Dec 2015 19:37

اتحاد امت کا خواب اور اسکی اہمیت و ضرورت

بمناسبت ہفتہ وحدت بحکم امام خمینی رحمۃاللہ
اتحاد امت کا خواب اور اسکی اہمیت و ضرورت
تحریر: ارشاد حسین ناصر

رہبر کبیر، بت شکن زمان، بانی اتحاد امت و انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رہ) فرماتے ہیں کہ جو شیعہ و سنی میں تفرقہ ڈالے وہ شیعہ ہے نہ سنی بلکہ استعمار کا ایجنٹ ہے۔ اگر ہم امام رہ کے افکار کا مزید مطالعہ کریں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ امام خمینی (رہ) نے عالم اسلام میں تفرقہ و اختلاف کے دو اہم اسباب و عوامل کو قومی اور مذہبی تفرقہ کے عنوان سے یاد کیا ہے۔ آپ اس بارے میں فرماتے ہیں: ہمیں اس پہلو کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ ہم سب مسلمان ہیں، ہم سب اہل قرآن اور اہل توحید ہیں اور ہمیں قرآن و حدیث کے لئے زحمت اٹھانی چاہئے اور ان کی خدمت کرنی چاہئے۔ امام خمینی سپر طاقتوں کی نفی کے علاوہ ان کے داخلی اوزار و وسائل اور عناصر کی نفی کو ہی عالم اسلام کے اتحاد اور امت اسلامی کی یکجہتی کی حفاظت کے لئے ایک دوسرا بنیادی قدم جانتے ہیں؛ کیونکہ اس بات کے پیش نظر کہ امام خمینی نے عالم اسلام میں تفرقہ و اختلاف کے دو اہم اسباب و عوامل کو قومی اور مذہبی تفرقہ کے عنوان سے یاد کیا ہے، آپ اس بارے میں فرماتے ہیں:  ہمیں اس پہلو کو مدنظر رکہنا چاہئے کہ ہم سب مسلمان ہیں، ہم سب اہل قرآن اور اہل توحید ہیں اور ہمیں قرآن و حدیث کے لئے زحمت اٹہانی چاہئے اور ان کی خدمت کرنی چاہئے۔ (صحیفہ امام)  یہ مسئلہ کہ ایک طرف شیعہ اور دوسری طرف سنی، اس کی بنیاد جہالت و نادانی کی وجہ سے ہے اور غیروں کے پروپیگنڈہ کا نتیجہ ہے، آج وہ دن ہے کہ ہم سب کو متحد ہوجانا چاہئے اور سارے مسلمان ایک ہوں۔ (صحیفہ امام)

وحدت مسلمین ایسا مسئلہ ہے، جس کی تاکید بارہا قرآن و سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہوئی ہے، ہمارے پیارے نبی، ہادی برحق، پیغمبر آخر حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات باعث رحمت عالمین ہے، ان کا ذکر باعث رحمت ہے، ان کے میلاد کے موقع پر ان کی یاد کو قائم کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کو عام کرنا نہ صرف عقیدت و فرض شناسی ہی نہیں بلکہ آپ کا ہم پر یہ حق بھی ہے کہ آپ کے پیغام امن عالم و انسانیت اور پیغام وحدت و اخوت کو عام کریں، بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رہ) کے فرمان پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کے ایام میں پوری دنیا میں ہفتہ وحدت نہایت ہی شان شوکت کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ بانی انقلاب و ایران کو یہ اعزا و افتخار حاصل ہے کہ وہ رسول اسلام کے پیغام اخوت و اتحاد بین المسلمین کو عام کرتے ہوئے ہر سال میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موقع پر ہفتہ وحدت کا سرکاری سطح پر اہتمام کرتے ہیں۔ اس مناسبت سے دنیا بھر میں تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔

بانی انقلاب امام خمینی اگرچہ اول دن سے ہی اپنی بلند فکری میں اس مسئلہ کی جانب متوجہ تھی اور اپنی تقاریر و خطابات میں اس جانب متوجہ کرتے تھے، مگر انقلاب کی عظیم کامیابی کے بعد اس مسئلہ پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے اسے ہفتہ وحدت 12 تا 17 ربیع الاول منانے کا اعلان کیا گیا، عالمی سطح پر اس کا اہتمام کیا گیا اور دنیا بھر سے عالمی اسلامی تحریکوں و اسلامی ممالک کے علماء و خطباء کو ایک پلیٹ فارم مہیا کیا گیا، جس میں وحدت امت کیلئے ادارے بنائے گئے، جو آج بھی قائم ہیں اور دنیا بھر کے داعیان اتحاد امت کو جمع کرتے ہیں۔ اس ادارے کے تحت ہی عالمی اتحاد بین المسلمین کانفرنسز اور عالمی مجلس تقریب المذاہب اسلامیہ کی بنیاد رکھی گئی، جو امت کے اختلافات کو دور کرنے کیلئے مسلسل کوشاں ہے، پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کا اگر کسی کو بانی و داعی ہونے کا اعزاز دیا جا سکتا ہے تو قائد شہید علامہ عارف الحسینی کی شخصیت تھی، جن کی زندگی واقعی اتحاد امت کیلئے وقف تھی، جن کی دعوت اتحاد میں سچائی و صدق اور درد محسوس ہوتا تھا اور جسے عالم اسلام کے مختلف طبقات و مکاتیب فکرنے قبول بھی کیا تھا، وہ اگرچہ اب ہم میں نہیں رہے مگر ان کا راستہ موجود ہے، ان کا اسوہ و سیرت موجود ہے، ان کی آواز آج بھی ہمارے کانوں میں گونج رہی ہے، وہ تکفیریت کے خلاف آواز بلند کرتے اور اسلامیان پاکستان کو خبردار کرتے دکھائی دیں گے، شہید کا پیغام قرآن کا پیغام تھا، جو ہمیشہ مسلمانوں کو جذب کرنے کا باعث تھا، نفرتیں مٹانے کا باعث تھا، محبتیں پھیلانے کا باعث تھا، ان کے خلوص کی خوشبو اب بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔

آج اگر ہم امت اسلامی پر نگاہ دوڑائیں تو دیکھا جاسکتا ہے کہ اسلامی امہ میں جس چیز کی سب سے زیادہ کمی ہے، وہ اتحاد و وحدت ہے، دشمنان اسلام نے بھی وحدت کو نشانہ بنا رکھا ہے اور عالمی کفر کی تمام تر مشینریاں مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے میں سرگرم ہیں۔ پاکستان ہو یا افغانستان، عراق ہو یا شام، لبنان ہو یا یمن، بحرین ہو یا دیگر کوئی اور ملک۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سب سے زیادہ اتحاد و وحدت کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور عالمی سامراج نے بھی مسلمانوں پر ضرب لگانے کے لئے اس راستے کو منتخب کر رکھا ہے۔ لہذا اس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ اتحاد ہی ہے، اس راہ میں کامیابی کے لئے سب سے پہلے ایک مرکز پر جمع ہونا ضروری ہے، تاکہ وہاں سے کام کا آغاز کیا جائے۔

ولی امر مسلمین جہاں رہبر معظم سید علی خامنہ ای (مدظلہ العالی) فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی آج کی اسلامی دنیا کے تمام مسائل کا حل ہے۔ ایام ہفتہ وحدت بہترین موقع ہے کہ ہم ذات پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا مرکز بنائیں، تاکہ مسائل و مشکلات کے راہ حل میں آسانیاں پیدا ہوں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کس طرح کی جائے، جی ہاں اس کے لئے ہمیں احادیث پر نگاہ ڈالنی ہوگی اور قرآنی آیات پر تفکر کرنا ہوگا، کیونکہ فرمان نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حکم قرآن ہی کے ذریعے ہم راہ راست کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔ اس درمیان دشمن بھی اپنے سازشی منصوبوں کو مسلمانوں پر آزما رہا ہے اور اتحاد وحدت کے لئے کی جانے والی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے مختلف راستوں سے اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے، حتی ہم دیکھتے ہیں کہ بعض عناصر معمولی اور جزئی اختلافات کو اس طرح بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں کہ جیسے دین کی اساس و بنیاد ہی یہی ہو، جبکہ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ تو نہایت ہی معمولی و جزئی باتیں ہیں۔

دوسری جانب دشمن اس درمیان سب سے زیادہ جہالت سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اپنے وار وہاں آزماتا ہے، جہاں جہالت کا عنصر زیادہ ہو۔ بس یہاں اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ علم کے حصول کے مواقع فراہم کئے جائیں، علماء اپنا کردار ادا کریں اور اپنی ذمہ داریوں پر عمل کریں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ عوام کو گمراہ کرنے میں بھی سب سے زیادہ کردار نام نہاد و بے عمل، جاہل علماء کا ہی ہے کہ جو عوام میں گمراہ کن پروپیگنڈہ کرکے عام لوگوں کو تفرقہ اندازی کیلئے تیار کر لیتے ہیں، جس کا نتیجہ امت کی وحدت کے پارہ پارہ ہونے کیساتھ بے گناہوں کے قتل کی صورت نکلتا ہے، ہماری عبادت گاہیں و مساجد ہمارے ہی خون سے رنگین ہوتی ہیں اور استعماری طاقتیں خوش ہوتی ہیں۔  بڑی طاقتوں سے جنگ و مقابلہ اور ان سے برائت و بیزاری بھی وحدت اسلامیہ کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔

بانی انقلاب اسلامی امام خمینی (رہ) وحدت کے ہدف تک پہونچنے کے لئے سب سے اہم اسٹراٹجی (strategie) سپر طاقتوں اور سامراجی قوتوں سے ٹکر لینے اور ان طاقتوں کے اثر و رسوخ اور تسلط کو ختم کرنے کو جزو لاینفک سمجھتے ہیں۔ اس بارے امام خمینی (رہ )میں فرماتے ہیں:  دنیا کے مسلمانوں کو یہ جان لینا چاہئے کہ سپر طاقتیں ان کی دشمن ہیں اور ان کو فریب دے رہی ہیں، مگر یہ کہ اپنی آنکھوں سے اس کے برخلاف عمل کا مشاہدہ کریں اور اس کو محسوس کریں۔ (صحیفہ امام) دوسری جگہ فرماتے ہیں: جو شخص مذہب اسلام کا تابع ہے، اس کو سپر طاقتوں کی مخالفت کرنی چاہئے اور مظلوموں کو ان کے چنگل سے نجات اور رہائی دلانی چاہئے۔ (صحیفہ امام ) امام اس حوالے سے بطور خاص امریکہ سے مقابلہ کرنے پر زور دیتے ہیں اور اس کو عالم اسلام میں تفرقہ اندازی اور دادا گیری کا اہم مصداق اور بانی سمجھتے ہیں اور فرماتے ہیں:  اہم ترین تکلیف دہ مسئلہ جس کے زیر اثر ممالک کی غیر اسلامی اور اسلامی ملتوں اور قوموں کو سامنا ہے، وہ امریکہ ہے۔ امریکہ دنیا کے محروم اور مستضعف لوگوں کا دشمن ہے۔ امریکہ دنیا پر سیاسی و اقتصادی اور ثقافتی و عسکری حیثیت سے اپنا قبضہ جمانے کے لئے کسی بھی قسم کا جرم کرنے سے پرہیز نہیں کرتا۔ (صحیفہ امام)

اس وجہ سے امام خمینی امریکہ اور اس کے علاقائی مرکز یعنی اسرائیل سے تعلق کو نہ صرف یہ کہ ایک قدرتمند ملک سے ایک نامشروع روابط کی نگاہ سے دیکھتے ہیں بلکہ عالم اسلام کی وحدت کے حوالے سے تدبیری جنگ سمجھتے اور اسلامی ممالک میں امریکہ کے اثر و رسوخ اور اس کی اجارہ داری اور فرمانروائی کو تسلیم نہ کرنے کو عالم اسلام کی حیات نو اور ان ممالک میں تفرقہ دور کرنے کا موجب جانتے ہیں۔ فرماتے ہیں۔  سپر طاقتوں اور ان سے وابستہ ممالک کا اسلامی ممالک میں منصوبہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو کہ خداوند عالم نے ان کے درمیان اخوت ایجاد کی ہے اور مومنین کو اخوت کے نام سے یاد کیا ہے، ایک دوسرے سے جدا کر دیں اور ان کو ایک نہ ہونے دیں اور یہ بالکل اسلامی راہ اور روش کے برخلاف ہے اور قرآن کریم کے بھی منافی ہے۔ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور برابر ہیں اور ان میں کوئی بھی دوسرے سے جدا نہیں ہے اور ان سب کو پرچم توحید اور پرچم اسلام کے نیچے ہونا چاہئے اور یہ لوگ جو ملت و قومیت اور گروہ بندی کے نام پر تفرقہ پردازی کرتے ہیں، یہ شیطان کے چیلے اور سپر طاقتوں کے دست و بازو اور مخالفین قرآن کریم ہیں۔(صحیفہ امام)

امام، منافع قومی اور ملی کے بجائے اسلامی مصلحتوں پر زور دیتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ مختلف قوموں کے افراد اسلامی محور کے گرد جمع ہوکر ہی اپنے اسلامی منافع کو حاصل کرسکتے ہیں، اس بنا پر آپ یقین رکھتے ہیں کہ سپر طاقتوں اور داخلی تفرقہ کے عوامل و اسباب کی نفی کر کے اسلامی ملتوں کے درمیان وحدت کے موانع برطرف ہوسکتے ہیں اور مسلمانان عالم پھر سے ایک الٰہی حکومت کی عظمت و بزرگی اور شان و شوکت کا نظارہ کرسکتے ہیں۔  امت مسلمہ میں تفرقہ، جاہل لوگوں کی وجہ سے پیدا ہوا۔ آج ہم بھی اس تفرقہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ صحیفہ امام، ج6، ص83
رہبر معظم کی نظر میں اتحاد
اختلاف و تفرقے کا بیرونی عامل، خود غرض اسلام دشمن طاقتیں ہیں، جو مسلمانوں میں اختلاف ڈالنے کے درپے ہیں، اس سے غفلت نہ کیجیئے، صرف عصر حاضر کی بات نہیں ہے بلکہ دنیا کی تسلط پسند قوتوں کو جب سے یہ محسوس ہوا ہے کہ وہ قوموں پر اثرانداز ہوسکتی ہیں، تب سے اختلاف کو ہوا دینے کی سازشوں کا آغاز ہوا ہے؛ عصر حاضر میں ان سازشوں میں پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدت آئی ہے، عصر حاضر کے ماڈرن ارتباطی وسائل (ریڈیو، ٹیلیویژن، انٹرنیٹ وغیرہ) بھی اس سلسلے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ نفرت کی آگ بھڑکا رہے ہیں؛ یہ لوگ، اختلاف بھڑکانے کے لئے نئے نئے نعرے ایجاد کر رہے ہیں، ہمیں حالات کی نزاکت کو سمجھنا چاہیئے؛ ہمیں ہوشیار رہنا چاہئیے، افسوس کا مقام ہے کہ مسلم قوموں اور ممالک کے اندر کچھ افراد مسلمانوں کے حقیقی دشمنوں کے اغراض و مقاصد کو پورا کرنے کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمٰی امام خامنہ ای نے ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت کے موقع پر عوام کے مختلف طبقات، ملک کے اعلٰی سول اور فوجی حکام، نیز اسلامی وحدت کانفرنس میں شریک علماء، دانشوروں اور اسلامی ممالک کے سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: برطانوی "ایم آئی 6" سے وابستہ تشیع اور امریکی "سی آئی اے" سے منسلک تسنن، دونوں اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف ہیں۔ رہبر معظم نے اس ملاقات میں وحدت اور اتحاد کو پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عظیم درس اور امت اسلامیہ کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے فرمایا: آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعریف و تجلیل صرف گفتگو تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وحدت پر مبنی پیغامات کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلے میں تلاش و کوشش کرنی چاہیے اور مسلمانوں اور اسلامی ممالک کے حکام کو اسے اپنی ترجیحی پالیسیوں میں قرار دینا چاہیئے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس عظیم اور مبارک دن میں دو عظیم و گرانقدر اعیاد کی مناسبت سے مبارکباد پیش کی اور عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میلاد "علم و عقل و اخلاق و رحمت اور وحدت" قرار دیتے ہوئے فرمایا: ان سعادت بخش اور گہرے مفاہیم کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلے میں اسلامی ممالک کے علماء، دانشوروں اور سیاستدانوں کے دوش پر بہت ہی اہم اور سنگین ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ رہبر معظم امام خامنہ ای نے دشمنان اسلام کی تفرقہ انگیز پالیسیوں اور منصوبوں کے کامیاب ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: اگر مسلمان قومیں ان تمام وسائل اور بیمثال خصوصیات کے ساتھ جزئی موضوعات میں نہیں بلکہ کلی جہات میں ہمدل اور ہم زبان ہوجائیں، تو امت اسلامیہ کی عظمت و ترقی و پیشرفت یقینی بن جائے گی اور عالم اسلام کی وحدت اور ہمدلی و ہم زبانی کا عالمی سطح پر فروغ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت و عظمت اور آبرو کا باعث بن جائے گا۔

ان تمام اقوال و فرامین و احادیث مبارکہ کا نچوڑ و حاصل یہی ہے کہ عالم اسلام متحد و شیر شکر ہو، کسی کو کسی بھی دوسرے کی تکفیر و توہین کی اجازت نہ ہو اور ایسا کسی بھی جانب سے ہو رہا ہو تو اس کا سدباب کیا جائے، اس کا تدارک فوری طور پر سامنے آئے، ایسا کرنے والوں کو کمیونٹی سے نکال باہر کیا جائے، بلکہ ایسے ہی جیسے ایک گندی مچھلی کو تالاب بچانے کیلئے اس سے باہر پھینک دیا جاتا ہے، یہی امام خمینی کے ارمانوں کو پورا کرنا ہے، یہی شہید حسینی کا خواب ہے، یہی قرآنی حکم ہے، یہی سیرت رسول کا تقاضا ہے اور یہی اقبال رہ کا درد ہے۔ اس وحدت کے قیام سے ہی ہم دنیا بھر سے بالعموم اور پاکستان سے بالخصوص تکفیری قوتوں کو شکست دے سکتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 506125
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش