0
Monday 21 Dec 2015 00:10

نیا سعودی اتحاد

نیا سعودی اتحاد
تحریر: جعفر بلوری

گذشتہ ہفتے منگل 15 دسمبر کے دن سعودی حکام نے ایک نئے فوجی اتحاد کا اعلان کیا، جس کا مقصد "تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف جنگ" بیان کیا گیا۔ سعودی حکومت کے مطابق اب تک اس اتحاد میں 34 ممالک شامل ہوچکے ہیں جن میں سے اکثریت کا تعلق افریقہ کے خطے سے ہے۔ یہ ایک ایسی اچانک خبر تھی، جو اپنے مقصد کی مانند غیر متوقع ہونے کے ساتھ ساتھ تمسخر آمیز بھی تھی۔ آل سعود رژیم کی جانب سے گذشتہ 9 ماہ کے اندر "دہشت گردی سے مقابلے" کے عنوان سے بننے والا یہ دوسرا فوجی اتحاد ہے۔ پہلا فوجی اتحاد یمن میں سرگرم ایسے انقلابی گروہوں کے خلاف تشکیل پایا، جنہیں سعودی حکام "باغی" اور "دہشت گرد" قرار دیتے ہیں۔ اس بات کے پیش نظر کہ آل سعود رژیم بعض رجعت پسند عرب ممالک، افریقی ممالک، اقوام متحدہ، مغرب، اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم اور بلیک واٹر کی جانب سے مکمل حمایت اور مدد کے باوجود محاصرے کا شکار چند یمنی قبیلوں کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی ہے، یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک نیا 34 رکنی فوجی اتحاد تشکیل دینے سے اس رژیم کا "حقیقی مقصد" کیا ہے، جس کا مقصد تمام دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ بیان کیا گیا ہے؟ اور کیا وجہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار اور تکفیریوں کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے ممالک جیسے ایران، شام، عراق اور روس اس اتحاد میں شامل نہیں۔؟

کئی وجوہات کی بنا پر یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ نہ تو اس اتحاد کا مقصد دہشت گردی کا مقابلہ ہے اور نہ ہی سعودی عرب اس اتحاد کا بانی ہے۔ تمام ممالک حتٰی خود سعودی حکومت اس حقیقت کو قبول کرتے ہیں کہ آل سعود رژیم ہی وہابی تکفیریوں کی بانی اور موجد ہے۔ لہذا اس خبر پر کہ ایک قرون وسطائی سوچ کی حامل تکفیری رژیم نے 9 ماہ کے اندر تکفیری دہشت گردوں کے خلاف جنگ کیلئے دو فوجی اتحاد تشکیل دیئے ہیں، صرف ہنسا جاسکتا ہے۔ دوسرے دعوے کے بارے میں یہ کہ کیسے ممکن ہے کہ سعودی رژیم جو مغربی دنیا کی نامحدود مالی، انٹیلی جنس، فوجی اور سیاسی حمایت کے باوجود یمن میں موجود محاصرے کا شکار صحرا نشین لیکن باغیرت قوم کا مقابلہ نہیں کر پائی اور مصدقہ اطلاعات کے مطابق بعض ممالک کو خفیہ طور پر یمن کی جنگ ختم کرنے کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کا پیغام دے چکی ہے، ایک نیا محاذ بنا کر اور نیا دشمن تراش کر اپنی مشکلات میں اضافے کا باعث بنے؟ لہذا انتہائی قوی احتمال ہے کہ اس جدید 34 رکنی اتحاد کا بانی خود سعودی عرب نہیں کیونکہ سعودی حکومت میں نہ تو ایسا نیا اتحاد بنانے کی طاقت ہے اور نہ ہی اس میں ایسا اقدام کرنے کا محرک اور صلاحیت پائی جاتی ہے۔ ان دو سوالوں یعنی "نئے اتحاد کا حقیقی بانی کون ہے؟" اور "اس کے حقیقی اہداف کیا ہیں؟" کے جواب پانے کیلئے گذشتہ چند ماہ کے دوران خطے میں اور عالمی سطح پر رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کا جائزہ ضروری ہے، تاکہ ٹھوس شواہد کی روشنی میں صحیح جواب تک پہنچا جاسکے۔ جرات کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ شمالی عراق میں ترکی کی فوجی مداخلت سے لے کر نائیجیریا میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف آرمی کے کریک ڈاون تک خطے میں رونما ہونے والے اکثر واقعات ایک "نکتے" یا بہتر الفاظ میں ایک "ملک" کی طرف پلٹتے ہیں اور وہ ملک ایران ہے۔

"تکفیری دہشت گردی" جیسے منحوس عمل کا حقیقی مقصد اسلام فوبیا، جغرافیائی حدود میں تبدیلی اور آخرکار "اسلامی مزاحمت کو کمزور اور نابود کرنا" تھا اور ہے اور یہ سب اسلامی جمہوریہ ایران کو کمزور کرنے کا پیش خیمہ ہیں، جبکہ اس کا مقصد بھی اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی قومی سلامتی کا تحفظ ہے، لیکن بعض وجوہات جیسے عراق اور شام میں عوامی رضاکار فورسز کی تشکیل، صحیح وقت پر ایران، حزب اللہ لبنان اور روس کی مداخلت وغیرہ کی بنا پر یہ منصوبہ فی الحال ناکامی کا شکار ہوچکا ہے، لیکن اب بھی اس منصوبے کے بانی مغرب کی اسلحہ سازی کی صنعت کو پررونق کرنے، اسلامی مزاحمت کو مصروف رکھنے اور سب سے بڑھ کر اسرائیل کی نابودی کو متاخر کرنے کی غرض سے اپنا منصوبہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لہذا "تکفیری دہشت گردی" کا منصوبہ نہ صرف اپنے بانیوں کے مطلوبہ مقاصد کے حصول میں ناکام رہا ہے بلکہ اس کی آگ کئی مغربی بانیوں کے دامن کو بھی جلانے لگی ہے۔ ایسے حالات میں ہم دیکھتے ہیں کہ اچانک سعودی عرب کی جانب سے تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف ایک نیا فوجی اتحاد ابھر کر سامنے آتا ہے۔ ترکی روس کے جنگی طیارے کو مار گراتا ہے اور ابھی اس پر روس کا شدید دباو کم نہیں ہونے پایا کہ شمالی عراق میں فوجی مداخلت شروع کر دیتا ہے اور اس طرح اپنے سامنے ایک اور محاذ کھول لیتا ہے۔ پیرس میں دہشت گردانہ واقعات رونما ہوتے ہیں، تاکہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی بھی شام کی جنگ میں شمولیت کا اعلان کرسکیں۔ نائیجیریا میں شیعہ مسلمانوں کا قتل عام کیا جاتا ہے، تاکہ سعودی عرب کی سربراہی میں ایک اسلامی فوجی اتحاد تشکیل پاسکے۔ اس طرح نئے کھلاڑی میدان میں اترتے ہیں، تاکہ مذکورہ منصوبے کو مرنے سے بچایا جاسکے۔

ایسے واقعات رونما ہونے کے بعد، جن میں سے بعض کا ذکر ہم نے کیا ہے، بہت سے فقیر افریقی ممالک اور امیر یورپی ممالک نے خطے میں مداخلت کرنا شروع کر دی اور اتفاق سے یہ تمام ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دعویدار ہیں۔ مثال کے طور پر کورٹ ڈیفوار، بینن، چاڈ، ٹوگو، جبوتی، سینیگال، سوڈان، سیرالیون، گیبون، گنی، کوموروس، لیبیا، مالدیپ، مالی، مراکش، موریطانیہ، نائیجر، یوگنڈا وغیرہ جیسے ممالک جن میں سے اکثر حتٰی اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے قابل بھی نہیں، اس اتحاد میں شامل ہوئے ہیں، تاکہ دوسرے ممالک کے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرسکیں!! ان میں سے 99 فیصد ممالک ایسے ہیں، جو شدید غربت اور افلاس کا شکار ہیں اور اس نام نہاد فوجی اتحاد میں ان کی شمولیت کا مقصد صرف اور صرف چند سعودی ڈالرز کا حصول ہے۔ حتی مصر جو ان ممالک میں نسبتاً بہتر صورتحال کا مالک ہے، سعودی عرب اور امریکہ کی مالی امداد کے بغیر ملکی امور چلانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی – صہیونی عناصر جنہوں نے "فکری غربت" سے سوء استفادہ کرتے ہوئے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کو خلق کیا، اب "مالی غربت" سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے غریب اور مفلس افریقی اور عرب ممالک کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کا ارادہ کرچکے ہیں، تاکہ اس طرح تکفیری دہشت گردوں کو جو شام، ایران، روس، عراق اور حزب اللہ کے درمیان طاقتور اتحاد کے مقابلے میں بے بس ہوچکے ہیں، اس تکلیف دہ صورتحال سے باہر نکال سکیں۔ ان شیطانی عناصر نے سعودی عرب اور قطر جیسے مالدار لیکن سیاسی بصیرت سے محروم مسلمان ممالک کو خرید کر اور ترکی جیسے ممالک کو جھوٹے وعدے دے کر دوسروں کے خرچے پر تکفیری دہشت گرد عناصر کو فروغ دینے کا کام شروع کر رکھا ہے۔

اسی تناظر میں سعودی حکومت کی سربراہی میں بننے والے نئے فوجی اتحاد کے حقیقی اہداف کو بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ اس فوجی اتحاد کے اہداف و مقاصد تکفیری دہشت گرد عناصر کے معین کردہ اہداف و مقاصد سے کوئی اختلاف نہیں رکھتے۔ سعودی عرب نے اس 34 رکنی فوجی اتحاد کی تشکیل سے چند ماہ قبل حزب اللہ لبنان کو دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں قرار دے دیا۔ اسی طرح سعودی حکومت نے اس اتحاد کی تشکیل کا مقصد تمام دہشت گرد گروہوں سے مقابلہ بیان کیا ہے۔ لہذا حزب اللہ لبنان بھی اس اتحاد کا ایک ٹارگٹ ہے۔ حزب اللہ لبنان سے مقابلے کا مطلب ایران سے مقابلہ ہے اور ایران سے مقابلے کا مطلب بھی اسلامی مزاحمت سے مقابلہ ہے جبکہ اسلامی مزاحمت سے مقابلے کا واضح مطلب اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی مدد کرنا ہے۔ لیکن آل سعود رژیم اس نئے اتحاد کے ساتھ بھی انہیں وجوہات کی بنا پر جن کے باعث اسے شام اور یمن میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے، شکست کا شکار ہوگی۔ سعودی رژیم یمن کے خلاف جارحیت میں تنہا نہیں اور اس کے سامنے ہر قسم کے ممنوع ہتھیار استعمال کرنے میں بھی کوئی رکاوٹ موجود نہیں۔

امریکہ، یورپ، اقوام متحدہ، رجعت پسند عرب حکومتیں اور بڑی تعداد میں افریقی ممالک پوری شدت سے یمن میں انصاراللہ کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ اسی طرح مغربی ممالک اور اسرائیل کے انٹیلی جنس ادارے بھی پوری طرح سعودی عرب کی مدد کر رہے ہیں، لیکن دوستوں اور دشمنوں کے بقول آل سعود رژیم یمن میں شدید نقصانات برداشت کرنے کے باوجود مطلوبہ اہداف کا چھوٹا سے حصہ بھی حاصل کرنے میں پوری طرح ناکامی کا شکار ہوئی ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب آل سعود رژیم ٹوگو، نائیجر اور بورکینافاسو سے کرائے کے قاتلوں کی مدد سے یمن کے بہادر اور باایمان انقلابی مجاہدوں کے مقابلے میں شکست کا شکار ہوچکی ہے تو وہ کیسے ایران، روس اور حزب اللہ لبنان پر مشتمل مضبوط اتحاد کا مقابلہ کرسکتی ہے؟ اگرچہ امت مسلمہ کا دل نائیجیریا، پاکستان اور جمہوری آذربائیجان میں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام سے شدید غمگین ہوچکا ہے، لیکن یہ قتل و غارت آل سعود رژیم کی حتمی نابودی اور زوال کو نہیں روک سکتا۔ 
خبر کا کوڈ : 506625
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب