0
Thursday 24 Dec 2015 19:59

عراق میں ترکی کی فوجی مداخلت، اہداف اور نتائج

عراق میں ترکی کی فوجی مداخلت، اہداف اور نتائج
تحریر: فرزان شہیدی

دو ہفتے قبل ترکی نے 15 ٹینکوں اور کئی بکتر بند گاڑیوں کے ہمراہ اپنے 1200 فوجی عراق کی حدود میں گھسا دیئے، جنہوں نے صوبہ موصل کے نواح میں واقع قصبے "بعشقیہ" میں ڈیرے ڈال دیئے۔ جس چھاونی میں ترک فوجیوں نے ڈیرے ڈالے ہیں وہ "الحشد وطنی" کی ہے، جس میں شامل جنگجووں کی اکثریت ایسے سنی عرب باشندوں پر مشتمل ہے جو ماضی میں عراق پولیس کا حصہ رہ چکے ہیں۔ اسی طرح اس فورس میں موصل کے رضاکار جنگجو بھی شامل ہیں۔ اس چھاونی کی بنیاد موصل کے سابق گورنر اثیل النجفی نے رکھی، جن کے ترکی سے انتہائی قریبی تعلقات ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان فوجیوں کی آمد سے قبل اس چھاونی میں ترک فوجیوں کی کم تعداد پہلے سے ہی موجود تھی۔ ترکی کے اس اقدام پر بغداد نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور عراقی حکام نے اسے اپنے ملک کی سرزمین پر کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔ دوسری طرف انقرہ کا دعویٰ ہے کہ شمالی عراق میں بھاری جنگی سامان کے ساتھ اس کے فوجیوں کی موجودگی ایک عام اور بے اہمیت امر ہے۔ ترکی کے وزیراعظم احمد داود اوگلو نے کہا ہے کہ ان کے فوجی اس چھاونی میں تعینات ہوئے ہیں، جسے ایک سال قبل صوبہ نینوا کے گورنر کی درخواست پر بنایا گیا تھا۔

عراق کے وزیر دفاع خالد العبیدی نے اپنے ترک ہم منصب پر واضح کر دیا ہے کہ ترکی کا حالیہ اقدام بغداد کی مرضی کے خلاف انجام پایا ہے اور زور دیا ہے کہ ترک فوجی فوراً عراقی سرزمین کو ترک کر دیں۔ اسی طرح عراق کے صدر فواد معصوم نے بھی شمالی عراق میں ترک فوج کی مداخلت کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور ترکی سے اپنی فوج کو فوری طور پر عراقی سرزمین سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ نکتہ قابل ذکر ہے کہ عراق نے ترک فوج کی مداخلت سے قبل ہی یہ اعلان کر رکھا تھا کہ اسے کسی بیرونی قوت کی مدد کی ضرورت نہیں اور کسی کو عراق کی حدود میں فوج بھیجنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ عراق نے کسی ملک سے فوج بھیجنے کی درخواست نہیں کی، لہذا وہ ایسے اقدام کو دشمنانہ کارروائی سمجھتے ہیں۔ سیاسی ماہرین کی نظر میں ترکی کی جانب سے عراقی حدود کے 120 کلومیٹر اندر تک فوجی گھسائے جانے کا عمل ایک طرح کا اعلان جنگ ہے، جس کا مقصد حیدر العبادی کی حکومت پر دباو ڈالنا ہے۔

ترکی کے اس اقدام کے ممکنہ اہداف اور محرکات کے بارے میں مختلف مفروضے پیش کئے گئے ہیں۔ ترکی ایک طرف شام میں اسلامی مزاحمتی بلاک کے مقابلے میں اپنی ناکامیوں کا ازالہ کرنا چاہتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شام خاص طور پر جنوبی حلب میں تکفیری دہشت گردوں کی مسلسل ناکامی نے ان دہشت گرد عناصر کی حامی قوتوں خاص طور پر ترکی کو شدید پریشان کر دیا ہے۔ دوسری طرف انقرہ کی کوشش ہے کہ خفیہ طور پر داعش کی حمایت اور مدد جاری رکھنے کے باوجود ظاہری طور پر ہی سہی خود کو تکفیری دہشت گرد عناصر سے جنگ کی حالت میں ظاہر کرنے کی کوشش کرے۔ ترکی کی کوشش ہے کہ عراق میں اپنے حمایت یافتہ گروہوں کی مدد سے ایسی صورتحال پیدا کرے کہ داعش کے مکمل خاتمے کے بعد بھی عراق کی مرکزی حکومت ملک کے تمام حصوں پر مکمل طور پر اپنی رٹ قائم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اس طرح اگر انقرہ عراق کی تقسیم جیسے اپنے منحوس منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب نہ بھی ہوسکے، تب بھی وہ ایک لمبی مدت تک عراق میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھ سکے گا اور اس ملک میں ایک طاقتور مرکزی حکومت کی تشکیل میں روڑے اٹکاتا رہے گا۔

بڑی سطح پر دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خطے کی انتہائی پیچیدہ اور حساس صورتحال کے پیش نظر ترکی نے نیٹو کی شہہ پر ایران اور روس کے خلاف خطرناک کھیل کا آغاز کر رکھا ہے۔ لہذا عراق میں فوجی مداخلت پر مبنی ترکی کے اقدام کو اس نئی گروہ بندی کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے جو خطے میں رونما ہو رہی ہے۔ اس گروہ بندی کے ایک طرف ایران اور روس جبکہ دوسری طرف نیٹو اور خطے میں اس کے اتحادی قرار پائے ہیں۔ عراق میں ترکی کی فوجی مداخلت نیٹو کی اس میٹنگ کے ایک دن بعد انجام پائی، جس میں نیٹو اراکین نے آبنائے باسفورس میں روس کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی کے خلاف ایک نئی اسٹریٹجی کا اعلان کیا۔ نیٹو کے جنرل سیکرٹری کے بقول اس نئی اسٹریٹجی کے تحت مختلف قسم کے اقدامات انجام دیئے جائیں گے، جن میں نیٹو فورسز کی جانب سے پورے بحیرہ روم میں نظارتی سرگرمیاں انجام دینا، مشرق وسطٰی کے مختلف حصوں میں مشیر کے طور پر نیٹو فوج کی تعیناتی اور خطے میں نیٹو کے فوجی مراکز کی تقویب شامل ہے۔ اس میٹنگ میں نیٹو کے فیصلوں اور بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فوجی تنظیم جنوب میں اپنے استحکام کیلئے ترکی کو فرنٹ لائن سمجھتی ہے۔ اسی طرح نیٹو ان اقدامات کے ذریعے روس کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ شام یا عراق اس کیلئے آسان ٹارگٹس ثابت نہیں ہوں گے اور اگر روس نے ایران سے مل کر اپنے اقدامات اور پالیسیوں کو جاری رکھنے کی کوشش کی تو ترکی نیٹو کی حمایت سے ایران اور روس کے مقابلے میں مزاحمت کرے گا۔

دوسری طرف نیٹو اور امریکہ نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ وہ عراق میں ترکی کی فوجی مداخلت سے قبل اس اقدام سے باخبر تھے۔ اسی طرح انہوں نے یہ تاکید بھی کی ہے کہ ترکی کا یہ اقدام داعش کے خلاف ان کے اتحاد کا حصہ ہونے کے ناطے انجام نہیں پایا۔ لہذا مغرب یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ ترکی کے اقدام سے اس کا کوئی تعلق نہیں، لیکن ترکی پر نیٹو کا اثر و رسوخ اور جنگ کے علاقوں میں نیٹو کی موجودگی کسی پر پوشیدہ نہیں۔ موجودہ حالات میں شام کی جنگ میں روس کی شرکت نے مغربی منصوبوں پر پانی پھیر دیا ہے اور اگر بالفرض ایران، روس، عراق، شام اور حزب اللہ لبنان پر مشتمل دہشت گرد مخالف اتحاد شام میں سرخرو ہو جاتا ہے اور دہشت گردی کے خاتمے میں اس کی بھرپور صلاحیتیں ابھر کر سامنے آجاتی ہیں تو دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی بار جنگ اور صلح کے بارے میں فیصلوں کا انحصار مغربی طاقتوں کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ یقیناً یہ امر نیٹو خاص طور پر امریکہ کیلئے ہرگز قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ مذکورہ بالا تفاصیل کی روشنی میں بخوبی جانا جاسکتا ہے کہ خطے میں ترکی کو ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد مغربی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانا ہے۔

بعض سیاسی ماہرین کی نظر میں شام کے شمالی حصے میں ترک ایئر فورس کی جانب سے روس کا سوخو 24 بمبار طیارہ مار گرایا جانا بھی مغربی اشارے پر انجام پایا ہے، تاکہ روس کو شام میں اپنی سرگرمیوں پر وارننگ دی جاسکے۔ عراق میں ترکی کی فوجی مداخلت بھی اسی تناظر سے دیکھی جانی چاہیئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یورپی ممالک نے ہرگز ترکی کو اپنا دوست ملک قرار نہیں دیا، جس کا واضح ثبوت ترکی کی جانب سے سالہای سال یورپی یونین میں شمولیت کی امید لگا کر اس کے بند دروازوں کے سامنے انتظار کرنا ہے۔ دوسری طرف یورپی ممالک ترک حکومت کو عثمانی سلطنت کی توسعہ پسندانہ پالیسیوں کا وارث سمجھتے ہیں اور عثمانی سلطنت کے خاتمے کے دسیوں سال گزر جانے کے باوجود ترکی کے بارے میں ان کی نگاہ بدبینی پر مشتمل ہے۔ مزید برآں، ترک حکمرانوں کو اپنے ماضی کے تجربات کی روشنی میں اب تک یہ جان لینا چاہئے تھا کہ عراق میں فوجی مداخلت جیسے اقدامات بے فائدہ ہیں۔ روس کے بمبار طیارے کی سرنگونی نہ صرف شام میں روس کی سرگرمیوں میں کمی کا باعث نہیں بنی بلکہ الٹا ان میں مزید شدت آگئی ہے۔ لہذا انقرہ نے اگلے قدم پر ایک نئی مہم جوئی کرتے ہوئے اس بار اس اتحاد کے کمزور ملک کو اپنا نشانہ بنایا جو ایران اور روس کی مرکزیت میں عراق، شام اور لبنان کی مشارکت سے خطے میں سرگرم دہشت گردی کے خلاف تشکیل پایا ہے۔ آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ترکی نے ایک ایسا انتہائی خطرناک کھیل شروع کیا ہے، جس کے نتائج بہت بھیانک اور نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں جبکہ ترکی کو اس سے کچھ حاصل ہونے والا بھی نہیں۔ انقرہ کو اپنے خود سرانہ اقدامات کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ ہمسایہ ممالک اور روس کے ساتھ اس کے تعلقات شدید تناو کا شکار ہوجائیں گے۔ یہ امر اس پالیسی کے بالکل برخلاف ہے جو حکمران جماعت نے "مسائل کو ختم کرنے" کے عنوان سے بیان کر رکھی ہے اور اس آرزو کے حصول کو ناممکن بنا ڈالے گا۔
خبر کا کوڈ : 507685
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے