0
Sunday 17 Jan 2016 01:44

پاک چین اقتصادی راہداری اور گلگت بلتستان

پاک چین اقتصادی راہداری اور گلگت بلتستان
تحریر: افضل شگری
سابق انسپکٹر جنرل پولیس پاکستان


پاک چین اقتصادی راہدای جو کہ شاہراہ ریشم کا ہی نیا روپ ہے، کئی ماہرین کے نزدیک خطے میں بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہے۔ اس معاہدے کے تحت چین پاکستان میں 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ تعجب اس بات پر ہے کہ جہاں وفاق کی طرف سے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام صوبے اس راہداری سے فائدہ حاصل کریں گے، وہاں گلگت بلتستان کو تمام مشاورتی عمل اور منصوبہ بندی سے دور رکھا جا رہا ہے۔ یہ بات انتہائی قابل غور ہے کہ دراصل اقتصادی راہداری کا آغاز جب ہی ہوچکا تھا جب شاہراہ قراقرم کی تعمیر میں چین نے حصہ لیا۔ 60 اور 70 کی دہائی میں شاہراہ قراقرم پر کام شروع ہوا، جس میں ہزاروں چینی اہلکاروں نے حصہ بھی لیا، مشکل ترین حالات اور مشینری کی کمی کے باوجود چینی ماہرین نے سخت ترین پہاڑوں کو چیر کر راستہ نکالا۔ اپنی طرز کی اس انوکھی شاہراہ کی تعمیر میں سینکڑوں افراد نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، جو کہ قابل تحسین ہے۔ اس شاہراہ کی تعمیر کے دوران مقامی لوگوں میں کئی طرح کے شکوک و شبہات نے جنم لیا، مگر حکومت پاکستان کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی کہ یہ شاہراہ علاقائی اور ملکی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی، تو محب وطن عوام نے کھلے دل سے اس پراجیکٹ کو قبول کیا۔ جہاں شاہراہ قراقرم نے جی بی کی معیشت کو سہارا دیا، وہیں اس نے فرقہ واریت کو پنپنے کا موقع بھی دیا۔ بڑی تعداد میں غیر مقامی لوگوں نے علاقے کا رخ کیا، جو اپنے ساتھ متنازعہ نظریات بھی لے کر آئے، جس سے مقامی حالات پر گہرا اثر پڑا۔ یہی نہیں بلکہ بھاری بھر کم ٹرکوں کے گزرنے سے ماحولیاتی آلودگی، منشیات اور کلاشنکوف کلچر کی جی بی آمد ہوئی۔

جی بی کی عوام نے دو سال کی مسلح جدوجہد کے بعد آزادی حاصل کرکے پاکستان میں شمولیت کا اعلان کیا۔ مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے جی کے غیور عوام کو قبول کرنے کی بجائے علاقہ کا صرف انتظامی کنٹرول حاصل کرنے پر اکتفا کیا اور جی بی کو متنازعہ علاقہ قرار دیا۔ ایسا کرنے کی وجہ یہ تھی کہ کسی ریفرنڈم کی صورت میں جی بی کے تمام ووٹ پاکستان کے حق میں ہونگے۔ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود ریفرنڈم نہ ہوسکا، مگر آج بھی جی بی کے عوام آئینی حیثیت سے محروم ہے، چونکہ جی بی آئینی طور پر پاکستان کا حصہ نہیں، اس لئے نہ تو انتظامی امور میں کوئی جگہ دی جاتی ہے اور نہ ہی وفاقی فیصلوں میں اپنے حقوق کے تحفظ کا موقع۔ نتیجتاََ چائینہ پاک اقتصادی راہداری کی پلاننگ میں بھی جی بی کو نظر انداز کیا گیا۔ سی پیک پراجیکٹ کے تحت ہر صوبے کے لئے مخصوص پراجیکٹ رکھے گئے ہیں۔ جی بی کے حصے میں سوائے متاثرہ شاہراہ قراقرم کی مرمت کے کوئی پراجیکٹ نہیں ہے۔ حیران کن طور پر توانائی کا کوئی پروجیکٹ بھی جی بی کے حصے میں نہیں آیا۔ جی بی میں کئی ایسے مقامات ہیں، جہاں پانی سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے، مگر اس کے باوجود وفاقی پلاننرز کی ترجیحات سندھ اور پنجاب کے کوئلے اور ایل این جی کے منصوبے ہیں۔ جہاں دنیا ماحولیاتی آلودگی سے پاک توانائی کی طرف قدم بڑھا رہی ہے، وہاں ہماری حکومت کوئلے اور تیل سے بجلی پیدا کرنے پر مصر ہے۔

چونکہ جی بی سی پیک معاہدے میں حصہ نہیں لے سکا، اسی بنا پر اس کے حقوق کی حفاظت کا کوئی چارا نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جی بی کی آئینی حیثیت کا فوری تعین کیا جائے اور علاقے کو اس کے حقوق دیئے جائیں۔ حکومت کو احساس ہونا چاہیئے کہ جی بی میں تعلیم کی شرح سو فیصد ہے اور یہاں عوام اپنے فیصلے خود کرنا جانتے ہیں۔ جی بی کی آئینی حیثیت سے متعلق جو خلا ہے، اس سے سی پیک معاہدے کی حیثیت پر بھی کئی سوال اٹھ سکتے ہیں۔ معاہدے میں برابری کا حصہ نہ ملنے پر جی بی کے عوام میں مزید انتشار پیدا ہوسکتا ہے۔ جہاں تک مقبوضہ کشمیر کا سوال ہے، دفتر خارجہ کو اس پالیسی کے بارے میں خود سوچ بچار کرنی چاہیئے کیونکہ یہ جی بی کے عوام کا مسئلہ نہیں، جنہوں نے اپنی مرضی سے پاکستان میں شمولیت حاصل کی ہے۔ وفاقی حکومت کو جلد از جلد جی بی کے عوام کو مکمل حقوق دینے چاہیں، تاکہ پچھلے ستر سالوں کی غلطیوں کا ازالہ کیا جاسکے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو جی بی کے عوام کی ناراضگی اور انتشار پورے منصوبے پر سوالیہ نشان کھڑا کر دے گا۔
خبر کا کوڈ : 512924
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب