0
Sunday 24 Jan 2016 14:00

سعودی عرب، خطے میں بحران سازی کا مرکز

سعودی عرب، خطے میں بحران سازی کا مرکز
تحریر: حامد شہبازی

مغربی حکومتوں نے پیرس میں دہشت گردانہ اقدامات کے بعد جلدبازی اور جذبات پر مبنی بیانات دیتے ہوئے تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کو ان اقدامات کا ذمہ دار ٹھہرایا اور اس کی نابودی کیلئے متعدد راہ حل پیش کر دیئے۔ دوسری طرف مشرق وسطٰی کا خطہ مغربی حکام کے تجربات کا مرکز بن گیا اور ہر مغربی ملک نے اپنے جذبات کی مناسبت سے داعش پر ہوائی حملوں کی بوچھاڑ شروع کر دی۔ بعض مغربی ممالک نے شام اور عراق میں زمینی فوج بھیجنے کا عندیہ دیا اور داعش سے وابستہ دہشت گردوں کے خلاف ڈرون حملوں کی بھرپور حمایت کا بھی اعلان کر دیا۔ اس دوران جس اہم نکتے سے غفلت برتی گئی (البتہ اس غفلت کے عمدی ہونے کے شواہد بھی پائے جاتے ہیں) وہ یہ تھا کہ اس شدت پسندی اور متحجرانہ سوچ کے حقیقی منشا کا سراغ لگایا جائے، جس نے مشرق وسطٰی میں خانہ جنگی کے ماحول کو مناسب پا کر اس میں تیزی سے ترقی کی اور انتہائی کم مدت میں پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس وقت شاید ہی کوئی تجزیہ نگار ایسا ہو، جو اس حقیقت کی جانب اشارہ نہ کرے کہ آل سعود رژیم نے اپنی پالیسیوں، شدید تعصب آمیز آئیڈیالوجی اور شدت پسندانہ اقدامات کے ذریعے مشرق وسطٰی میں ایسی آگ کے شعلے بلند کئے، جس نے سب کچھ جلا کر راکھ بنا ڈالا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب تک سعودی حکومت انارکی، نسل کشی، انسانی حقوق سے چشم پوشی اور تفرقہ انگیز وہابی افکار پھیلانے کے منشا کے طور پر اپنی سرگرمیاں آزادانہ طور پر جاری رکھے گی، اس وقت تک دہشت گردی کا کارخانہ بھی اپنی بھرپور صلاحیت سے کام کرتا رہے گا۔ مغربی ممالک جنہیں اس صورتحال کا مکمل فائدہ پہنچ رہا ہے، نہ صرف سعودی حکومت کے اقدامات پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں بلکہ آل سعود رژیم کی بھرپور حمایت کرنے میں بھی مصروف ہیں۔

اسلامی دنیا کے معروف علماء اور شخصیات نے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی نظریاتی بنیادوں کے بارے میں بہت کچھ کہا اور لکھا ہے۔ اس بیچ جس حقیقت میں کسی قسم کے شک و شبہہ کی گنجائش نہیں، وہ یہ ہے کہ داعش کی بنیاد وہابی افکار پر استوار ہے اور عالم اسلام کا واحد اسلامی ملک جس نے وہابی مسلک کو اپنا رسمی دین قرار دے رکھا ہے وہ سعودی عرب ہے۔ وہابی طرز تفکر اپنے علاوہ باقی تمام اسلامی فرقوں خاص طور پر شیعہ فرقے سے منسلک مسلمانوں کو "رافضی" اور مرتد قرار دیتا ہے اور بدوی دور کے اسلامی معاشروں کی جانب بازگشت کو اپنا اصلی ہدف بیان کرتا ہے۔ آل سعود رژیم خاص طور پر جدید سعودی حکمرانوں کی متعصبانہ طرز فکر کا واضح نمونہ حال ہی میں معروف شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو شہید کرنا ہے، جس پر نہ صرف اسلامی ممالک بلکہ مغربی ممالک نے بھی شدید اعتراض کا اظہار کیا ہے۔ 1970ء کے عشرے سے آل سعود رژیم اور اس سے وابستہ مذہبی گروہ اور جماعتیں اپنی خودساختہ آئیڈیالوجی پر مبنی شدت پسندانہ افکار کو پوری دنیا میں پھیلانے کیلئے سرگرم ہوگئے اور اس مقصد کیلئے سعودی عرب کی خام تیل کی پیداوار سے حاصل دولت کو پانی کی طرح بہایا گیا۔ سعودی ڈالرز نے اب تک وہابیت کی تبلیغ میں انتہائی اہم اور بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ بعض سیاسی ماہرین اور تجزیہ نگاران کے مطابق سعودی عرب نے 1970ء سے 1980ء تک کے عشرے کے دوران افغانستان پر حکمفرما کمیونیسٹ حکومت کے خلاف سرگرم مذہبی شدت پسند عناصر کے تمام مالی اخراجات برداشت کئے۔ یہی عناصر بعد میں طالبان کی صورت میں ظاہر ہوئے اور افغانستان پر قابض ہو گئے۔

اگرچہ امریکہ بھی درپردہ ان عناصر کی حمایت میں مصروف تھا اور سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی مالی امداد پر خاموشی اختیار کئے ہوئے تھا، لیکن سابق سوویت یونین سے براہ راست ٹکراو کے خطرے کے پیش نظر کھلم کھلا حمایت سے گریز کرتا رہا۔ اسی مدت میں القاعدہ اور طالبان جیسے شدت پسند مذہبی گروہ تشکیل پائے، جنہوں نے بعد میں اپنے بانیوں یعنی امریکہ کے خلاف ہی کارروائیاں شروع کر دیں۔ یہ سعودی ڈالرز تھے، جن کے ذریعے پاکستان میں ایک خاص طرز فکر پر مبنی دینی مدارس معرض وجود میں آئے اور ان میں لاکھوں کی تعداد میں افغان شہری طالب علم کے طور پر بھرتی کئے گئے۔ یہ طالب علم ایک ایسے شدت پسندانہ ماحول میں پرورش پائے، جس کا اثر ان کی سوچ پر ہوا اور وہ بعد میں شدت پسند اسلام کے مبلغ اور سپاہی بن کر ظاہر ہوئے۔ ان طالب علموں نے اپنے علماء اور عمائدین سے حاصل ہونے والی تعلیم کے زیر اثر نفرت کا سبق پڑھا اور اسلحہ استعمال کرنا سیکھا، جبکہ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے دور رہے، جو انسان کو دوسرے انسانوں سے محبت اور مہربانی کا درس دیتی ہیں۔ 1990ء کے عشرے سے سعودی ڈالرز کی بنیاد پر پورے بلقان کے خطے میں بھی یہی پالیسی اختیار کی گئی اور بڑی تعداد میں وہابی مراکز اور مساجد کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہی مراکز اور مساجد بعد میں خطے میں عدم استحکام کا باعث بنے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ پیرس میں رونما ہونے والے دہشت گردانہ اقدامات اور سعودی حکومت میں تعلق اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے جو بیان کیا جاتا ہے۔ کیونکہ ان دہشت گردانہ اقدامات کے اکثر ماسٹر مائنڈز اور دہشت گرد بیلجیم کے دارالحکومت برسلز کے نواح میں واقع مقام مولن بیک (Molenbeek) سے آئے تھے۔ سعودی عرب اور بعض دیگر خلیجی ریاستوں نے 1970ء کے عشرے میں اس خطے میں بڑی تعداد میں وہابی دینی مدارس تعمیر کئے، جن کے باعث خطے میں موجود پہلے سے ترک اور مراکشی مہاجرین کی طرف سے قائم کردہ مساجد کی رونق ختم ہوتی گئی، جن میں اعتدال پسندانہ اسلامی تعلیمات کا پرچار کیا جاتا تھا۔ داعش کے شدت پسندانہ افکار کا اندازہ پیرس میں رونما ہونے والے دہشت گردانہ اقدامات کے بعد اس گروہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیانئے سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ البتہ اس سے قبل بھی داعش سے وابستہ دہشت گرد عناصر کے خواتین کے ساتھ رویے سے اس کے افکار واضح ہوچکے تھے۔ خواتین کے ساتھ داعش کا رویہ بہت حد تک وہابیت اور آل سعود رژیم کے رویے سے مشابہت رکھتا ہے۔ سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کا حق حاصل نہیں۔ اسی طرح خواتین الیکشن میں ووٹ دینے کے حق سے بھی محروم ہیں۔ تعجب تو اس بات کا ہے کہ مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ کس طرح ایک ایسی رژیم کی حمایت میں مصروف ہیں، جس کی آمریت اور شدت پسندانہ پالیسیوں اور اقدامات نے مشرق وسطٰی کے خطے کو میدان جنگ میں تبدیل کر دیا ہے جبکہ 13 نومبر 2015ء کو تمام دنیا والوں نے پیرس میں دیکھا کہ کس طرح وہابی طرز تفکر رکھنے والے دہشت گردوں نے بیگناہ افراد کی جان لے کر اپنی نفرت اور وحشیانہ پن کا اظہار کیا۔

اگر مغرب کے "اتحادی" اس قدر وحشیانہ اقدامات انجام دیں گے تو ان کے دشمنوں کا رویہ کیسا ہوگا؟ کیا مغرب کے لئے سستے تیل کی فراہمی اس قدر اہم ہے کہ اس کی خاطر مشرق وسطٰی اور دنیا کے دیگر حصوں میں بیگناہ انسانوں کا خون تک بہایا جاسکتا ہے۔؟ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے سستے تیل کی فراہمی کے باعث مغربی حکام نے ملک کے اندر اور خطے میں سعودی خاندان کے غیر انسانی اور مجرمانہ اقدامات پر آنکھیں موند رکھی ہیں۔ لہذا مغرب اور امریکہ یمن، بحرین، شام اور دنیا کے دیگر ممالک میں آل سعود کے مجرمانہ اور دہشت گردانہ اقدامات میں برابر کے شریک ہیں۔ آل سعود رژیم کا غرور اور تکبر اس بات کا باعث بنا ہے کہ ریاض اور اس کے ناپختہ شہزادے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جسارت آمیز اقدامات شروع کر دیں اور سعودی حکام نے ایران کے خلاف ایسے بیانات دیئے ہیں جو دنیا کے طاقتور ترین ممالک کے حکمران بھی زبان پر لانے سے کتراتے ہیں۔ اگر مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ مشرق وسطٰی میں جاری بحران کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ریاض کو دہشت گردی اور مذہبی فرقہ واریت پھیلانے سے روکنا ہوگا۔ اسی طرح انہیں سعودی عرب کو اسلحہ فراہمی بھی روکنا ہوگی، جس کا بڑا حصہ آج یمن کے مظلوم عوام کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ مغربی ممالک اور امریکہ کو چاہئے کہ وہ سعودی عرب پر دباو ڈالیں کہ وہ افغانستان، پاکستان، بلقان اور شام میں سرگرم دہشت گرد عناصر کی سرپرستی ختم کر دے۔ آل سعود رژیم کو مشرق وسطٰی میں فتنہ انگیزی کے عمل میں آزاد چھوڑ کر دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بڑی بڑی پالیسیوں کا اظہار کرنا بیہودہ اور بے معنی اقدام محسوس ہوتا ہے۔ 
خبر کا کوڈ : 514694
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے