0
Friday 5 Feb 2016 17:59

سائیکس پیکو کے تکرار کی ناکام کوششیں

سائیکس پیکو کے تکرار کی ناکام کوششیں
تحریر: جعفر بلوری

ایسا کہنا مبالغہ آمیز نہیں ہوگا کہ مغربی ایشیا خطے کی موجودہ صورتحال 1918ء سے 1921ء کے دوران والی صورتحال جیسی ہوچکی ہے۔ پہلی جنگ عظیم اور خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد اس وقت کی فرانسوی اور برطانوی حکومتوں نے جو جنگ میں کامیابی کے نتیجے میں انتہائی طاقتور ہوچکی تھیں، نے آپس میں ایک خفیہ معاہدہ انجام دیا۔ یہ خفیہ معاہدہ برطانوی سفارتکار "مارک سائیکس" اور فرانسوی سفارتکار "جارج پیکو" کے درمیان انجام پانے کے باعث "سائیکس پیکو معاہدے" کے نام سے معروف ہوگیا۔ اس معاہدے کی رو سے برطانیہ اور فرانس نے ایک بندر بانٹ کے ذریعے مغربی ایشیائی خطے میں واقع ممالک کو آپس میں تقسیم کر لیا۔ نئے ممالک کی جغرافیائی سرحدوں کو طے شدہ منصوبے کے تحت کھینچا گیا۔ اس نپی تلی تقسیم کے نتیجے میں ایسے چھوٹے چھوٹے اور منحصر ممالک معرض وجود میں آئے، جن کی بنیاد مذہب اور قومیت پر رکھی گئی تھی۔ یہ نئے اسلامی ممالک ایک تو انتہائی کمزور تھے اور دوسرا ایسی صورتحال پیدا کر دی گئی تھی کہ ان کے دوبارہ آپس میں متحد ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہوچکا تھا۔

برطانوی حکام اور سیاست دان جنہیں اختلاف ڈالنے اور انتشار پھیلانے میں خاص مہارت حاصل تھی، اس "ملک سازی" سے قبل "دین سازی" کے ذریعے وہابیت اور عیسائی صیہونیت کی بنیاد رکھ کر اپنے مطلوبہ مشرق وسطٰی کی تشکیل کے مقدمات فراہم کر چکے تھے۔ اب جبکہ اس وقت سے 95 برس بیت چکے ہیں، مغربی ایشیائی خطے کے ممالک کی جغرافیائی سرحدیں تقریباً وہی ہیں، جن کی بنیاد سائیکس پیکو معاہدے کے تحت ڈالی گئی تھیں۔ لیکن خطے کے سیاسی حالات ویسے نہیں رہے اور کافی حد تک تبدیل ہوچکے ہیں۔ آج اس خطے میں ایران جیسا خود مختار اور طاقتور ملک ظاہر ہوچکا ہے اور ایک ایسی اسلامی مزاحمتی تحریک جنم لے چکی ہے، جس کا بنیادی مقصد اسرائیل کی جعلی صیہونی رژیم کی نابودی ہے۔ دوسری طرف اس خطے میں حزب اللہ لبنان، حماس، اسلامک جہاد اور انصاراللہ یمن جیسی مضبوط تنظیمیں بھی معرض وجود میں آچکی ہیں جنہوں نے آل سعود اور صیہونی رژیم کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ صہیونی رژیم اور آل سعود سمیت سائیکس پیکو معاہدے کی کوکھ سے جنم لینے والی چھوٹی چھوٹی رژیمیں موجودہ حالات میں اپنا وجود خطرے میں پڑتا دیکھ کر خود کو شدید خطرناک صورتحال کا شکار محسوس کر رہی ہیں۔ مختصر یہ کہ سائیکس پیکو معاہدہ اپنے خاتمے کے قریب ہوچکا ہے، جس کے باعث خطے میں مغربی مفادات سنگین بحران کا شکار ہوچکے ہیں۔

اس بارے میں درج ذیل دو خبروں پر توجہ کریں:
1۔ امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے 2009ء میں لیون پنیٹا کو سی آئی اے کا انیسواں سربراہ مقرر کئے جانے کے تین ہفتے بعد اس نے امریکی صدر کو ایک انتہائی خفیہ رپورٹ پیش کی، جس پر لکھا تھا "صرف صدر اس کو دیکھیں۔" اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل تیزی سے اپنی نابودی کی جانب گامزن ہے اور 2022ء تک اس کا وجود ختم ہوجائے گا۔ [اخبار فارن پالیسی، 10 اکتوبر 2011ء]
2۔ آل سعود زوال کی جانب گامزن ہے۔ یہ رژیم جس قدر بھی بری ہو، اس کا زوال ہمارے حق میں نہیں۔ اوباما کو چاہئے کہ وہ سعودی حکومت کو زوال سے بچا لے۔ [برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ، 4 جنوری 2016]۔
ان اخبار اور ان سے ملتی جلتی کثیر تعداد میں دوسری خبروں سے بخوبی جانا جاسکتا ہے کہ خطے کی صورتحال ہرگز مغربی مفادات کے حق میں نہیں۔ اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم اور آل سعود مغربی طاقتوں کی نظر میں دو عظیم سرمائے ہیں۔ آل سعود رژیم ان کی نامحدود خام تیل کی رسائی کیلئے اور غاصب صیہونی رژیم مغربی دنیا میں ان کے بے تحاشا اثرورسوخ کی خاطر۔

اتفاق کی بات ہے کہ یہ دونوں منحوس رژیمیں بوڑھے اور لومڑی صفت برطانوی استعمار کی پیداوار ہیں۔ لیکن اس وقت یہ دونوں رژیمیں شدید خطرے سے دوچار ہوچکی ہیں، جو انہیں بنیادی طور پر اسلامی مزاحمتی بلاک سے درپیش ہے۔ لہذا مغربی استعماری طاقتیں شدید بوکھلاہٹ اور پریشانی کا شکار ہیں۔ فرانس، برطانیہ اور دوسرے مغربی ممالک اس بار امریکہ کی سربراہی میں میدان میں اتر چکے ہیں، تاکہ ایک بار پھر سائیکس پیکو کے فارمولے پر عمل پیرا ہو کر خطے کی سیاسی اور جغرافیائی صورتحال میں ایسی بنیادی تبدیلیاں ایجاد کریں، جو ان کے مفادات کی تکمیل کی ضمانت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ خطے کو سیاسی لحاظ سے ماضی کی طرف پلٹا دیں۔ ان کی نظر میں اس مقصد کا حصول ایران کو کنٹرول کئے بغیر ممکن نہیں۔ وہ ایران کو کنٹرول کرنے کیلئے ابتدا میں ان ممالک کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں، جو ایران سے قریب تصور کئے جاتے ہیں۔ اس مرحلے کے آغاز میں بھی ایسے ممالک کا انتخاب کیا گیا ہے، جو زیادہ چھوٹے اور کمزور ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ایران کے حمایت یافتہ ممالک کو قومیت اور مذہب کی بنیاد پر توڑنا شامل ہے، تاکہ مذہبی اور قومی اختلافات کو شدت دے کر اسلامی دنیا میں جنگ کی آگ کو ٹھنڈا نہ ہونے دیا جائے۔ خطے کی رجعت پسند عرب رژیمیں نہ چاہتے ہوئے بھی اس کھیل کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔

2001ء میں نائن الیون واقعے کے بہانے اس منحوس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا آغاز کر دیا گیا، لیکن اس میں خاطرخواہ کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ جرج بش کا Greater Middle East یا عظیم مشرق وسطٰی کا منصوبہ اگرچہ بے نتیجہ ثابت ہوا، لیکن اسے ہرگز ترک نہیں کیا گیا۔ آج تکفیری دہشت گرد گروہ "داعش" اس منصوبے کو آگے بڑھانے میں مشغول ہے۔ آج داعش وہی کردار ادا کر رہا ہے، جو ماضی میں نائن الیون نے ادا کیا تھا۔ گذشتہ چار برس سے داعش کو فرانس اور برطانیہ کی 95 سالہ پرانے منصوبے کو دوبارہ زندہ کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مغربی طاقتیں واضح طور پر اعلان کرچکی ہیں کہ وہ تکفیری دہشت گرد عناصر سے مقابلے کیلئے سنی، کرد اور ترکمن فوجیں تشکیل دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مغربی حکام اس قدر بے حیا ہوچکے ہیں کہ خطے کے ممالک کو توڑ کر نئی چھوٹی خود مختار ریاستوں میں تبدیل کرنے کو خطے کی نجات کیلئے ایک سائنسی راہ حل کے طور پر پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ انہیں عراق میں اس علمی سازش کو آغاز کئے عرصہ بیت چکا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ مغربی طاقتیں اسرائیلی منصوبے کے تحت سعودی عرب کے مالی تعاون سے عراق کے علاقے کردستان کے اردگرد انتہائی پراسرار اور گہری خندق کھودنے میں مصروف ہیں۔ سیاسی ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ میڈیا کی آنکھ سے دور گذشتہ ایک سال سے فوجی اور تعمیراتی امور میں ماہر فرانس، برطانیہ اور جرمنی (ممالک کے مجموعے پر توجہ دیں) کے تقریباً 120 انجینئرز کی مدد سے انجام پا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت یہ عظیم خندق صوبہ واسط کے علاقے "بدرہ"، صوبہ دیالا کے شہروں "بلدروز" اور "خانقین"، صوبہ صلاح الدین کے شمال مشرق میں واقع علاقوں "کفری" اور "طوزخورماتو"، کرکوک کے جنوب میں واقع قصبہ "حویجہ" اور صوبہ نینوا کے شہر "سنجار" تک کھودی جانی ہے۔ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خندق درحقیقت خود مختار علاقے کی جغرافیائی حدود ہیں، جو اسے عراق سے جدا کرتی ہیں۔ چند دن پہلے کردستان عراق کے صدر مسعود بارزانی نے ایک بیان دیتے ہوئے کہا: "عراق سے کردستان کی جدائی کا وقت آن پہنچا ہے، لہذا بہت جلد اس بارے میں ایک ریفرنڈم منعقد کروائیں گے۔" ان کا یہ بیان اس احتمال کی مزید تقویت کرتا ہے کہ اس خندق کی کھدائی کا مقصد عراق کو تقسیم کرنا ہے۔ کردوں کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ یہ خندق داعش کے مقابلے میں اپنی حفاظت کیلئے کھود رہے ہیں اور یہ 65 فیصد مکمل ہوچکی ہے۔ یہاں سے داعش کا ایک اور کردار سامنے آتا ہے۔

یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ سائیکس پیکو 2016ء بھی نائن الیون کی طرح ناکامی کا شکار ہوگا۔ اگرچہ فرانس اور برطانیہ 1921ء میں خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد سائیس پیکو معاہدے کو عملی شکل دینے میں کامیاب ہوگئے تھے، لیکن جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ آج کی صورتحال بہت مختلف ہے۔ اس زمانے میں اسلامی مزاحمتی تحریک نہیں تھی، جو استعماری طاقتوں کا مقابلہ کرسکتی۔ دوسری طرف آج کا برطانیہ بھی اس زمانے کے برطانیہ سے بہت مختلف ہے اور فرانس بھی شدید مالی بحران اور سول نافرمانی کا شکار ہے۔ امریکہ بھی جنگوں میں ناکامی کے بعد تھک ہار کر پیچھے ہٹ چکا ہے اور داعش بھی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ اس وقت اسلامی مزاحمتی بلاک کے مجاہد شام اور عراق میں تکفیری دہشت گرد عناصر کا قلع و قمع کرنے میں مصروف ہیں۔ حال ہی میں تکفیری دہشت گرد عناصر کے محاصرے سے آزاد ہونے والے دو شہر نبل اور الزھراء ہیں، جہاں 70 ہزار شیعہ آباد ہیں۔ ان مکینوں نے گذشتہ چار برس کے دوران شدید ترین حالات میں تکفیری دہشت گرد عناصر کا مقابلہ کیا ہے اور انہیں شہر میں داخل تک نہیں ہونے دیا۔ ان چار سالوں میں نبل اور الزھراء کے مکین شدید غذائی قلت اور اسلحہ کی کمی کا شکار رہے لیکن انہوں نے اپنے ایمان کے جذبے کے بل بوتے پر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔ عراق میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے اور تکفیری دہشت گرد روز بروز اپنے خاتمے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ جب تک خطے میں مزاحمت پائی جاتی ہے، سائیکس پیکو جیسی مغربی سازشیں ہرگز کامیاب نہیں ہوں گی۔ ایسے شیطانی منصوبے اس وقت کامیاب ہوتے ہیں، جب کسی خطے یا ملک کے عوام مزاحمت کا راستہ چھوڑ کر سازباز کی راہ اپنا لیتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 518340
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب