0
Saturday 6 Feb 2016 20:56

دنیا کے بدلتے ہوئے حالات اور مزاحمت فلسطین پر اثرات (1)

دنیا کے بدلتے ہوئے حالات اور مزاحمت فلسطین پر اثرات (1)
تحریر: صابر کربلائی
(ترجمان فلسطین فائونڈیشن پاکستان)


یوں تو دنیا کے حالات دوسری جنگ عظیم سے قبل کچھ اس طرح بدلنا شروع ہوئے کہ بوڑھے استعمار برطانیہ نے ایک طرف خلافت عثمانیہ کے تخت کو تاراج کرنے میں اپنا کردار ادا کیا تو دوسری جانب مسلمانوں کے درمیان خلیج کو جنم دیا۔ اس کے نتیجے میں سرزمین حجاز پر ایک ایسے خاندان کی حکومت قائم کی گئی کہ جسے آج دنیا آل سعود کے نام سے جانتی ہے، پھر اسی طرح دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں میں جہاں برصغیر کی تقسیم کے نتیجے میں پاکستان اور ہندوستان کی انگریز سامراج سے آزادی حاصل کرنا اور ساتھ ساتھ عالمی سامراجی قوتوں کی جانب سے دونوں ممالک کے مابین ایک تنازعہ کو جنم دینا۔ جی ہاں مسئلہ کشمیر جسے آج تک حل نہیں کیا جا سکا بلکہ اس مسئلہ کے حل کے لئے دونوں ممالک میں متعدد جنگیں ہوئیں، لیکن مسئلہ جوں کا توں ہی رہا۔ اسی طرح ان عالمی سامراجی قوتوں کی سازشوں اور ملی بھگت کے نتیجے میں 1948ء کو مسلم امہ کے قلب پر ایک زہریلے خنجر کا وار کیا گیا، یعنی انبیاء علیہم السلام کی سرزمین فلسطین پر غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کا ناپاک وجود قائم ہوگیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایک اور جنگ کا آغاز ہوا، جسے عالمی جنگ تو نہیں کہا گیا لیکن اس جنگ اور جدال نے پوری مسلم دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ 1953ء، 1967ء، 1973ء یہ وہ چند ایسے سال گزرے کہ جس میں غاصب اسرائیل نے نہ صرف عربوں کے ساتھ بڑی جنگیں کیں بلکہ عرب ریاستوں بشمول مصر، شام، لبنان، اردن کے مزید علاقوں کو بھی اپنے تسلط میں لے لیا۔

اس سے قبل پہلے ہی غاصب اسرائیل نے فلسطین پر اپنا تسلط جمانے کے لئے 1948ء میں انسانیت سوز مظالم کی ایسی بدترین تاریخ رقم کی تھی، جس کی مثال دنیا میں نہ اس سے قبل دیکھی گئی اور نہ ہی بعد میں دیکھنے کو ملی۔ جی ہاں 15 مئی 1948ء کو ایک طرف سات لاکھ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے اور ان کی زمینوں سے بے دخل کیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ دسیوں ہزار مظلوم فلسطینیوں کا قتل عام کیا گیا، اس قتل عام کے بارے میں پہلے کئی مقالوں میں تذکرہ کیا جا چکا ہے۔ ایک طرف اسرائیلی چیرہ دستیاں جاری تھیں تو دوسری جانب امریکہ اپنے آپ کو واحد سپر پاور منوانے کے زعم میں دنیا کے کئی ممالک میں فوجی حملوں سمیت سیاسی و سفارتی مداخلت کر رہا تھا۔ اسی طرح کے کارناموں میں امریکہ نے ایک محاذ اس وقت کی بڑی سپر پاور یعنی یو ایس ایس آر (سوویت یونین) کے خلاف بھی کھول دیا اور سوویت یونین کو ختم کرنے کے لئے امریکہ نے ایک ایسی سرد جنگ کا آغاز کیا، جو آگے جا کر ایک ایسی جنگ میں تبدیل ہوگئی کہ جسے دہشت گردی کا مرکز و محور کہا جا نے لگا۔ جی ہاں امریکہ نے سوویت یونین کو ختم کرنے کے لئے جس راستے کا انتخاب کیا، اس میں مسلمانوں کو استعمال کیا گیا اور پاکستان کے حکمرانوں سمیت افغانستان اور دیگر مسلمانوں حکمرانوں کو اس خوف میں مبتلا کیا گیا کہ سوویت یونین ان کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے، تاہم اس کے خلاف جہاد کا اعلان کیا جائے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے جہادی دستے افغانستان میں امریکی اسلحہ اور ڈالروں کی بنیاد پر سوویت یونین کے خلاف برسر پیکار ہوگئے اور نتیجے میں سوویت یونین کا 1990ء میں مکمل شیرازہ بکھر گیا۔

ایک طرف امریکہ اور دوسری طرف اسرائیل تھا، جبکہ ان کے ساتھ ساتھ یورپی ممالک میں برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی سمیت دیگر ہمنوا بھی پیچھے نہ رہے اور مشرق وسطٰی کے کئی ایک ممالک کو اپنی کالونیاں بنانے میں مصروف عمل ہوگئے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل ایشیائی ریاستوں کو تہس نہس کرنے میں مصروف عمل تھے، اچانک نائن الیون کا واقعہ رونما ہوا کہ جس کے بارے میں بعد میں ہونے والی تحقیق نے ثابت کر دیا کہ اس حملے میں امریکہ اور اسرائیل خود ہی ملوث تھے، لیکن امریکہ نے اس حملے کو بہانہ قرار دیتے ہوئے افغانستان میں انہی گروہوں کے خلاف کارروائی کی ٹھان لی، جنہیں ماضی میں مالی اور مسلح معاونت یعنی ان کو وجود بخشا تھا۔ بہرحال یہ 2001ء تھا کہ جب امریکہ نے براہ راست افغانستان کو نشانہ بنایا اور القاعدہ سمیت طالبان کے دہشت گردوں کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے افغانستان پر فوجی چڑھائی کر ڈالی۔ ابھی چند برس ہی گزرے تھے کہ امریکہ عراق میں بھی اپنے ہی ایک پرانے دوست صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے لئے جا دھمکا، جی ہاں یہ وہی صدام تھا کہ جس نے ماضی میں امریکی ایماء پر ایران اور کویت پر حملے کئے تھے۔ یہ 2003ء کی بات ہے کہ جب امریکہ عراق میں بھی وارد ہوگیا اور یہاں بھی چند سالوں میں ایک لاکھ سے زائد معصوم انسانی جانوں کو موت کی نیند سلایا گیا اور بالآخر انجام یہ ہوا کہ کئی برس تک خون کی ہولی کھیلنے کے بعد امریکہ عراق سے ذلت کے ساتھ رسوا ہوا۔

دوسری طرف اسرائیل جو پہلے 1948ء میں فلسطین پر قابض ہوا تھا، اب 1967ء میں ہونے والی عرب اسرائیل جنگ کے نتیجے میں عرب ممالک کو شکست دینے کے بعد مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس پر بھی قابض ہوچکا تھا اور اسرائیلی قبضہ صرف یہاں تک نہیں رہا تھا بلکہ اسرائیل نے شام میں گولان کی پہاڑیوں پر بھی قبضہ کر لیا تھا، مصر میں وادی سینا بھی اسرائیلی تسلط میں جا چکی تھی، عراق میں بھی کچھ فضائی اڈوں پر اسرائیل کا قبضہ تھا، اردن کی وادی بھی غاصب اسرائیل کے تسلط میں آچکی تھی، وہاں ایک طرف امریکہ طاقت کے نشے میں چور تھا تو یہاں اسرائیل بھی اپنے عظیم تر اسرائیل کے ناپاک قیام کے لئے سرگرم عمل رہا اور اس کام میں امریکہ کی ہمیشہ اسرائیل کو مکمل حمایت اور مدد حاصل رہی۔ فلسطین کی سرحدوں پر موجود تمام عربی ممالک کے علاقوں پر قابض ہونے کے بعد اسرائیل نے اگلا پڑائو لبنان میں ڈالا اور 1973ء میں دوبارہ ہونے والی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیل براہ راست  1978ء میں لبنان کے جنوبی علاقوں میں داخل ہوا اور ظلم و بربریت کی ایک نہ رکنے والی داستان کا سلسلہ شروع کر دیا۔ لبنان میں پہلے ہی فلسطینی مہاجرین کہ جنہیں 1948ء میں فلسطین سے جلاوطن کیا گیا تھا، یہاں تارکین وطن کی حیثیت سے زندگی گزار رہے تھے اور ان پر ظلم کی انتہا یہ ہوئی کہ اسرائیل نے 1982ء میں لبنانی دارالحکومت بیروت پر اپنا مکمل قبضہ جماتے ہوئے فلسطینی مہاجرین کی بستیوں صابرا اور شاتیلا پر بمباری شروع کر دی، جو کہ تاریخ میں فلسطینیوں کا بہت بڑے قتل عام کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔

جہاں صیہونی اسرائیلی مظالم کا سلسلہ جاری تھا، وہاں فلسطین کے اندر اور فلسطین کی سرحدوں پر اسرائیل کے خلاف غیر منظم انداز میں مزاحمت کا عمل بھی جاری رہا۔ اس مزاحمتی عمل میں فلسطین اور لبنان کے نوجوان شریک تھے کہ جو فلسطین کے اندر اور لبنان سے فلسطین داخل ہو کر صیہونی غاصب افواج کے خلاف چھاپہ مار کارروائیاں انجام دیتے تھے اور اس راستے میں شہید ہو جاتے تھے اور کچھ گرفتار بھی ہوئے، جو آج تک شاید صیہونی زندانوں میں گمنام قیدی ہیں۔ تاہم اسی اسلامی مزاحمت کے نتیجے میں غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کو بھی شدید نقصان سے دوچار کیا جاتا رہا، پھر ایک وقت آیا کہ فلسطین اور لبنان میں جاری اس مزاحمت نے منظم رنگ اپنا لیا اور حزب اللہ کا قیام عمل میں آیا جبکہ فلسطین کے اندر حماس نامی تنظیم بھی وجود میں آگئی۔ حزب اللہ کی قیادت اس وقت امام موسٰی صدر اور شہید سید عباس موسوی جیسی بزرگ ہستیاں کر رہی تھیں جبکہ حماس کی قیادت تحریک آزادی فلسطین کے عظیم شہید اور رہنما شیخ احمد یاسین کر رہے تھے۔ اس کی سب سے بڑی اور سب سے اہم وجہ 1979ء میں ایران کی سرزمین پر امام خمینی (رہ) کی قیادت میں رونما ہونے والا اسلامی انقلاب ہے کہ جس نے نہ صرف ایران میں محکوم کر دیئے گئے مظلوموں کو طاقت بخشی بلکہ مظلوم ملت فلسطین اور لبنان کے مظلوموں کے لئے بھی امید سحر پیدا کی۔
جاری ہے۔۔۔
خبر کا کوڈ : 518659
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش