0
Friday 12 Feb 2016 12:18

شام میں اسرائیل کی جدید حکمت عملی

شام میں اسرائیل کی جدید حکمت عملی
تحریر: علی ہادی

اسرائیل نے شام میں نئی پالیسی اختیار کر رکھی ہے، جسے "جنگ کے اندر جنگ" نامی اسٹریٹجی کے ذریعے بیان کیا جا رہا ہے اور اسے اختصار سے "حبم" کا نام دیا گیا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت اسرائیل شام میں ایسی کارروائیاں انجام دے رہا ہے، جن کی وہ اعلانیہ طور پر ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔ اس بارے میں اسرائیلی روزنامہ معاریو لکھتا ہے: "50 برس سے زیادہ عرصہ ہونے کو ہے اور اسرائیل نہ ہی اپنے پاس ایٹمی ہتھیار ہونے کی تصدیق کرتا ہے اور نہ ہی انکار۔ اسرائیل نے اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ہمیشہ سے ابہام پر مشتمل یہ پالیسی اپنائی ہے۔ لیکن گذشتہ چند سالوں سے اسرائیل کی یہ ابہام والی پالیسی دیگر ایشوز تک بھی پھیل گئی ہے۔ اس کی ایک واضح مثال مشرق وسطٰی میں اسرائیلی ائیرفورس کی جانب سے انجام پانے والی کارروائیاں ہیں۔ ابہام پر مشتمل اس پالیسی کی ایک اور مثال دمشق کے نواح میں حزب اللہ لبنان کے مشہور کمانڈر سمیر قنطار کے قتل کی صورت میں قابل مشاہدہ ہے۔ سید حسن نصراللہ نے اس قتل کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا ہے، لیکن ابھی تک اسرائیلی حکام نے رسمی طور پر اس واقعہ کے بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ کچھ عرصہ قبل اسرائیل آرمی نے "جنگوں کے اندر جنگ" یا "حبم" کی اصطلاح متعارف کروائی۔ اس سے مراد وہی جنگ ہے جسے اسرائیل آرمی نے ایران، شام، حزب اللہ لبنان، اسلامک جہاد اور حماس کے خلاف شروع کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ اس منصوبے کے تحت اسرائیل آرمی کے مختلف شعبوں خاص طور پر ملٹری انٹیلی جنس اور موساد نے بنیادی کردار ادا کرنا ہے۔"

ڈیلی معاریو مزید تاکید کرتے ہوئے لکھتا ہے: "یہاں ہماری مراد موساد کی کارروائیاں نہیں کیونکہ موساد دسیوں سال سے اس قسم کی خفیہ کارروائیاں پہلے سے انجام دے رہا ہے، جیسے ایرانی سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ یا عماد مغنیہ کا قتل وغیرہ۔ بلکہ ہماری مراد "حبم" کا منصوبہ ہے، جس کے تحت اسرائیل ایسی کارروائیاں انجام دے گا، جن کی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا اور کوئی یہ سمجھ نہیں پائے گا کہ یہ اسرائیل کا کام ہے۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران اسرائیل نے خطے کے مختلف ممالک میں کئی ہوائی حملے انجام دیئے ہیں، جن میں سے اہم ترین حزب اللہ لبنان کی اسلحہ سپلائی پر حملہ یا غزہ پر حملہ تھا۔ "حبم" کے تحت انجام پانے والی کارروائیاں اکثر ہوائی حملوں کی صورت میں ہیں۔ جس طرح 2007ء میں شام کے جوہری ری ایکٹر پر ہوائی حملہ ہوا اور اسرائیلی حکومت نے ہرگز اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ لیکن 1981ء میں عراق کے ایٹمی ری ایکٹر پر اسرائیل کا ہوائی حملہ اس منصوبے کے تحت نہ تھا اور اسرائیلی حکومت نے رسمی طور پر اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ شاید یہ کہا جائے کہ شام اسرائیل کا پڑوسی ملک ہے، لہذا وہ اسرائیل کے انٹیلی جنس اور سکیورٹی اقدامات کی زد میں آسکتا ہے، لیکن توجہ رہے کہ اسرائیل نے 2009ء کے آغاز میں غزہ کے خلاف پہلی جنگ کے دوران سوڈان میں اسلحہ کی سپلائی کو بھی نشانہ بنایا تھا، جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ حماس کو فراہم کیا جا رہا تھا۔

اس کے بعد کئی بار ایسی ہی خبریں سننے کو ملیں۔ گذشتہ چند سالوں میں اسرائیل کی جانب سے سوڈان یا غزہ کیلئے آنے والے ایرانی اسلحہ کی سپلائی پر ہوائی حملوں کا مشاہدہ نہیں کیا گیا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ایران اور حماس کے درمیان تعلقات پہلے سے نہیں رہے اور ان تعلقات میں بہتری لانے کی کوششوں کے باوجود ابھی تک وہ اپنی پہلی صورتحال پر واپس نہیں آسکے۔ سوڈان کے حکمران عمر البشیر کا جھکاو بھی سعودی عرب کی طرف ہوگیا ہے اور اب وہاں ایران کے اڈے موجود نہیں۔ اسی طرح مصر میں بھی صدر عبدالفتاح السیسی اپنے ملک کے ذریعے حماس کو اسلحہ فراہمی کی اجازت نہیں دیتے اور اس کی روک تھام کیلئے شدید اقدامات انجام دیئے ہیں۔ لیکن اسرائیل نے شام میں حزب اللہ کے خلاف ہوائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جن کا مقصد شام سے لبنان اسلحہ سپلائی ہونے سے روکنا ہے۔ اسرائیل نے شام میں جاری خانہ جنگی کو غنیمت جانتے ہوئے حزب اللہ لبنان کے خلاف ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔ اسرائیل نے حزب اللہ لبنان کو زیادہ مضبوط ہونے سے روکنے کیلئے شام میں اس کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔"
خبر کا کوڈ : 520177
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش