?>?> اسلام ٹائمز - حلب کا فیصلہ کن معرکہ اور ترکی و سعودی عرب کی مداخلت کے اسباب و عوامل - پرنٹ کریں

QR CodeQR Code

حلب کا فیصلہ کن معرکہ اور ترکی و سعودی عرب کی مداخلت کے اسباب و عوامل

16 Feb 2016 15:55

اسلام ٹائمز: تازہ ترین صورتحال کے مطابق مصر نے اپنی فوج شام بھیجنے سے انکار کیا ہے اور یہ انکار حقیقت میں سعودی اتحاد کے لئے بہٹ بڑا سیاسی دھچکہ ہے تو دوسری طرف شام کے مسئلہ میں گذشتہ کئی دنوں سے سعودی موقف میں مسلسل اور واضح تبدیلی آرہی ہے۔ پہلے اعلان کیا کہ سعودی خود ایک لاکھ فوج شام میں اتارے گا، پھر کہا کہ ایک بریگیڈ کو اتارا جائے گا، اب امریکی کمانڈوز کی معاونت کی باتیں گردش کر رہی ہے۔ ان متضاد باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب شام کے خلاف نفسیاتی جنگ مسلط کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے اور جنگ کے حوالے سے دعوے جھوٹے ہیں۔ ہاں خدانخواستہ سعودی عرب اور ترکی امریکہ و اسرائیل کے ایجنڈے میں شام میں اپنی فوج بھیجنے کی حماقت کریں تو یہ تیسری عالمی جنگ کی بنیاد ہوگی اور مشرق وسطٰی سمیت پوری دنیا اس جنگ کی لپیٹ میں آئیگی اور انشاءاللہ یمن، عراق اور شام میں جس طرح سعودی اور انکے استکباری اتحادی ناکام ہوئے ہیں، شام میں مداخلت کی صورت میں اس بار بھی مقاومت بلاک کے مجاہدوں کے ہاتھوں انکی ذلت و رسوائی یقینی ہے۔ انشاءاللہ


تحریر: حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر شفقت شیرازی

حلب شام کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ڈویژن شمار ہوتا ہے (1)  جو کہ شام کے شمال کی جانب 375 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ پہلی جمگ عظیم کے بعد 1920ء كو ترکی کی اتاترک اور فرانسی حكومت كے مابين ہونے والے معاہدہ سيفر (2) کے نتیجے میں حلب کے بہت سے علاقے  عنتاب، مرعش، اضنة اور مرسين جو کہ تاریخی طور پر حلب میں شمار ہوتے تھے، ان پر ترکی نے قبضہ کر لیا۔ فرانسيسی استعمار نے لواء اسكندروں كا علاقہ جو کہ 1939ء تک حلب سوريہ كا حصہ تها اور جس سے حلب کی ميڈيٹيرين سمندر تک رسائی ہوتی تهی، اسے شام سے جدا كركے  ترکی كے  حوالے كر ديا۔(3) اب بهی حلب سوريہ كا صنعتی اور تجارتی مركز ہے اور 1986ء ميں اقوام متحدة کے ادراے يونسكو (4) نے اسے دنيا كے قديم ترين شهروں کی فهرست ميں شامل كيا اور يہاں كے آثار كو عالمی آثار قرار ديا۔ 2006ء ميں اسے عرب دنيا کی اسلامی ثقافت كا درالحكومت بهی قرار ديا گیا۔(5)

جب 2011ء ميں سوريہ ميں نام نہاد انقلاب "عرب بهار" كا آغاز ہوا، دنيا ديکھ رہی تهی کہ رفتہ رفتہ سوريہ کے کئی ايک شهروں ميں مظاہرے ہوئے، ليكن اہل حلب اس موج پر سوار نہيں ہوئے۔ استعماری و تكفيری ٹی وی چينلز پر اس نام نهاد انقلاب كے ليڈران اور تكفيری ملاؤں کی ندائيں اور تقريريں بهی دنیا نے سنی ہونگی کہ وہ چیخ چیخ کر اہل حلب کو اكسا رہے تھے اور انکے گھروں سے نہ نکلنے پر غم و غصہ کا اظہار کر رہے تھے، ليكن حلب کے غيور عوام نے محب وطن ہونے كا مظاہره كيا اور اس سازش کے جال ميں نہيں آئے۔ سعودی عرب، قطر اور ترکی کی خواہش تھی کہ اس شهر كو ليبيا كا طرابلس بنائيں اور ان کے خود ساختہ انقلاب كا مركز قرار دیں، ليكن اہل حلب نے سب كو مايوس كيا۔ اسی لئے ترکی نے اپنے بهيجے ہوئے دہشت گردوں كے ذريعے حلب كے صنعتی علاقہ شيخ نجار كو خوب لوٹا۔ تقريباً 150 سے زيادہ بڑے كارخانوں اور صنعتی يونٹس کی بلينز ڈالر کے آلات كو لوٹ كر ترکی منتقل كروايا۔ اسی لئے حلب کی چيمبرز آف انڈسٹريز كے صدر فارس شهابی نے رجب طيب اردوغان كو حلب كے چور كا لقب ديا۔(6) شام دشمن قوتوں نے اپنی پوری طاقت لگائی کہ يہ شهر سقوط كر جائے، ليكن كامياب نہ ہوسكے اور حلب كے عوام نے ان کا بھرپور مقابلہ كيا۔ اسی لئے مغربی حلب حكومت كے پاس اور مشرقی حلب دہشتگردوں کے  پاس ہے۔

حلب كے مغرب اور شمال ميں ترکی ہے، مشرق کی طرف الرقہ ڈويژن اور جنوب کی طرف حماه اور ادلب ڈویژنز ہیں۔ گذشتہ تين مہينوں ميں سوريہ ميں ایک بہت بڑی تبديلی رونما ہوئی ہے اور دہشتگردوں كے قدم اكهڑ چکے ہیں۔ روس کے فضائی حملوں اور سيرين آرمی اور انکی اتحادی مقاومت کی فورسز كے بهرپور حملوں كے نتيجے ميں ادلب كے علاوه مغربی سرحديں زبدانی، قلمون، قصير، تلكلخ سے لاذقيہ کے شمال غرب میں سلمی اور  الربيعہ تک كے علاقے مكمل آزاد ہوچكے ہيں۔ جنوبی محاذ پر سب سے بڑی كاميابی درعا ڈويژن کے دوسرے بڑے اسٹريٹجک شهر شيخ مسكين كي آزادی ہے، نبل و الزهراء كا حصار ٹوٹنے کے بعد حلب کے شمال غرب كے علاقے بهی تيزی سے آزاد ہو رہے ہیں اور فتوحات تيزی سے جاری ہيں۔ حلب کے جنوب سے متصل علاقہ خان طومار پہلے ہی آزاد ہوچکا ہے، اب پيشرفت مشرقی حلب کی طرف جاری ہے اور حلب شهر کے مشرق مين واقع شهر سفيره جس کی آبادی بهی لاكهوں ميں ہے، آزاد ہوجکا ہے، سيرين آرمی تحصيل ہيڈ كواٹر مدينة الباب تک پہنچ چکی ہے، عنقريب جب حلب مكمل طور پر آزاد ہوجائے گا تو داعش كا ہیڈ کواٹر الرقہ جو کہ حلب كے مشرق ميں واقع ہے، وہاں کی طرف تيزی سے پيش قدمی ہوگی اور دوسري طرف حماه كے شمال مشرقی علاقے آزاد كروانے كے بعد سيرين فوج الرقہ کے جنوب ميں  تقريباً 70 کلومیٹر كے فاصلے تک پہنچ چکی ہیں اور داعش کے بڑے بڑے قائدین کے قتل ہونے اور تيزی سے سوريہ کے جنوب، شمال، مغرب اور وسط ميں ہونے والی ناكاميوں كے پيش نظر اعلان كيا ہے کہ وه اس وقت تنها ہوچکے ہیں اور مزيد نقصان سے بچنے كيلئے جنگجؤوں كو ليبيا كے شهر سرت کی طرف ہجرت كرنے کا حکم مل چکا ہے۔ متعدد ذرائع کے مطابق سرخ لمبی ڈاھڑی والا داعش كا كمانڈر ابو عمر شيشانی(7) چند روز پہلے ہی سوریہ سے ليبيا منتقل ہوچکا ہے اور اس وقت ليبيا كے شهر سرت میں داعش کا امیر بن چکا ہے۔

ترکی اور سعودی عرب کی متوقع برّی مداخلت کے اهداف:
ایک طرف سيرین فوج اور ان کے اتحادیوں کی فتوحات کی وجہ سے الرقہ كا مغرب اور جنوب سے  گهيرا تنگ ہونے، دوسري طرف عراقی افواج اور حشد الشعبی کے موصل كے قريب پہنچنے پر  صہيونی تكفيری دہشتگردوں کے پشت پناه سعودی عرب و ترکی پاگل ہوچکے ہیں، امريکہ اور غرب جو انہيں تنها چهوڑ چكے ہيں اور يہ امريکہ اور غرب کی منت سماجت كر رہے ہيں کہ انہيں شام و عراق کی شكست والی لعنت سے بچائیں۔ دوسری طرف روس كے صدر کی بھی منت سماجت كر رہے ہیں اور ميڈیا پر دهمكيان دے رہے ہیں، چند دن پہلے بحرين كے بادشاہ كا پیوٹن كو فاتح تسليم كرتے ہوئے دمشقی تلوار كا گفٹ دينا اور سعوديہ كے بادشاه كيلئے ملاقات كا ٹائم مانگنا، اس بات کی واضح دلیل ہے۔
* اسرائيل چاہتا ہے کہ شام كا مسئلہ سياسی طور پر حل نہ ہو اور شام كو كئی ایک حصوں ميں تقسيم كر ديا جائے اور اب جن علاقوں پر صہيونی تكفيری دہشتگرد قابض ہوچکے ہیں، وہیں پر سوریہ  کی تقسيم کی لكير كهينچ دي جائے۔ امريکہ اور اس کے اتحادی ترکی، سعودی عرب اور قطر بھی شام ميں اپنی ناکامی اور شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔
* جب داعش كے قدم اكهڑ چکے ہیں تو فوراً ہمیں بڑا حملہ کرنا چاہئے، تاکہ پروپیگنڈے کے ذریعے مشرقی و مغربی عوام کو دھوکہ دے سکيں کہ ہم نے مل کر حملہ كيا اور داعش کو لیبیا کی طرف فرار ہونے پر مجبور کیا۔
* ليبيا كا شهر سرت گیس اور پٹرول کے قدرتی ذخائر سے مالامال ہے۔ جب داعش وہاں پہنچ کر اپنے غیر انسانی جرائم کا بازار گرم کرے گی تو پهر اس علاقہ كو داعش کے شر سے نجات دلانے کے لئے امريکہ اور اسكے اتحادی پہنچ جاینگے اور ان ذخائر كو اپنے ہاتھ ميں لے لینگے۔ شايد عرب بهار کی سيريز کی آخری قسط كا آغاز مصر ميں تباہی سے ہوگا، تاکہ وہاں کی آرمی كو مفلوج كر ديا جائے يا توڑ ديا جائے اور ملک كو تباه و بردباد كر ديا جائے۔

تازہ ترین صورتحال کے مطابق مصر نے اپنی فوج شام بھیجنے سے انکار کیا ہے اور یہ انکار حقیقت میں سعودی اتحاد کے لئے بہٹ بڑا سیاسی دھچکہ ہے تو دوسری طرف شام کے مسئلہ میں گذشتہ کئی دنوں سے سعودی موقف میں مسلسل اور واضح تبدیلی آرہی ہے۔ پہلے اعلان کیا کہ سعودی خود ایک لاکھ فوج شام میں اتارے گا، پھر کہا کہ ایک بریگیڈ کو اتارا جائے گا، اب امریکی کمانڈوز کی معاونت کی باتیں گردش کر رہی ہے۔ ان متضاد باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب شام کے خلاف نفسیاتی جنگ مسلط کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے اور جنگ کے حوالے سے دعوے جھوٹے ہیں۔ ہاں خدانخواستہ سعودی عرب اور ترکی امریکہ و اسرائیل کے ایجنڈے میں شام میں اپنی فوج بھیجنے کی حماقت کریں تو یہ تیسری عالمی جنگ کی بنیاد ہوگی اور مشرق وسطٰی سمیت پوری دنیا اس جنگ کی لپیٹ میں آئیگی اور انشاءاللہ یمن، عراق اور شام میں جس طرح سعودی اور انکے استکباری اتحادی ناکام ہوئے ہیں، شام میں مداخلت کی صورت میں اس بار بھی مقاومت بلاک کے مجاہدوں کے ہاتھوں انکی ذلت و رسوائی یقینی ہے۔ انشاءاللہ
راہ حق شمع الٰہی کو بجھا سکتا ہے کون
جس کا حامی ہو خدا اسکو مٹا سکتا ہے کون

حوالہ جات:
  1https://ar.wikipedia.org/wiki/حلب
  2 www.ssnpstudents.com/.../السناجق-السورية-تحت-الاح
 3 http://ar.cmess.ir/default.aspx?tabid=100&ArticleId=110 مركز الابحاث العلمية والدراسات الاستراتيجية للشرق الاوسط
  4 Syrian Arab Republic - UNESCO World Heritage Centre
5 www.cometosyria.com › www.landcivi.com/new_page_89.htm  7   6https://ar.wikipedia.org/wiki/حلب
( الأربعاء 2015/12/09 SyriaNow) 
7  /   https://arabic.rt.com/.../810879-الشيشاني-ذ www.almayadeen.net/.../تعيين-أبو-عمر-الشيشاني-ل


خبر کا کوڈ: 521399

خبر کا ایڈریس :
https://www.islamtimes.org/ur/article/521399/حلب-کا-فیصلہ-کن-معرکہ-اور-ترکی-سعودی-عرب-کی-مداخلت-کے-اسباب-عوامل

اسلام ٹائمز
  https://www.islamtimes.org