0
Wednesday 17 Feb 2016 22:18

ترکی اور شام بحران کا نیا معما

ترکی اور شام بحران کا نیا معما
تحریر: مسعود رضائی

ترکی سمیت خطے کے ایسے کھلاڑیوں کیلئے شام حکومت کی موجودہ خود اعتمادی ایک ڈراونا خواب بن چکا ہے، جنہوں نے 2011ء سے اب تک صدر بشار الاسد کی اقتدار سے کنارہ کشی کو شام میں امن و امان کے قیام کی بنیادی شرط کے طور پر پیش کر رکھا تھا۔ جب سے روس نے شام میں قدم رکھے ہیں، اس ملک کی سیاسی صورتحال اور میدان جنگ میں طاقت کا توازن بڑی حد تک تبدیل ہوگیا ہے۔ اس وقت شام آرمی اور رضاکار فورسز حلب شہر کو آزاد کروانے اور حلب – اعزاز اور حلب – عفرین کے رابطہ خطوط (Communication Lines) کاٹنے میں ایک قدم کے فاصلے پر ہیں۔ یہ دو ایسے رابطہ خطوط ہیں، جن کے ذریعے ترکی گذشتہ سالوں کے دوران شام میں سرگرم حکومت مخالف مسلح گروہوں کی مدد کیا کرتا تھا اور اسی طرح داعش کی جانب سے شام سے ترکی اسمگل کئے جانے والے خام تیل کی اصلی ٹرانزٹ لائن بھی یہی رابطہ خطوط تھے۔ اس وقت روس کے ہوائی حملوں اور شام آرمی کی تیزی سے جاری پیشقدمی کے باعث شام کے حکومت مخالف دہشت گرد گروہ گذشتہ پانچ برس کے دوران بدترین دنوں سے گزر رہے ہیں۔ آئندہ چند دنوں میں شام آرمی کی جانب سے ترکی کی سرحد پر واقع شہر اعزاز اور اس کے نواحی علاقوں کو جنوب اور شمال کی جانب سے اپنے گھیرے میں لے لئے جانے کا قوی احتمال پایا جاتا ہے۔

دوسری طرف واشنگٹن بھی ایران – روس – شام اتحاد کی روز بروز بڑھتی ہوئی کامیابیوں پر اپنی تشویش کا اظہار کرچکا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا: "اگر بشار الاسد جنگ بندی کے معاہدے پر عمل پیرا نہ ہوئے تو عالمی برادری احمقوں کی طرح خاموش تماشائی نہیں بنی رہے گی اور شام حکومت پر دباو بڑھانے کیلئے مزید اقدامات انجام دیئے جائیں گے۔" ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ترکی کے وزیر خارجہ کی جانب سے شام میں بھرپور مداخلت کے عزم پر مبنی اظہار خیال اور اسی طرح سعودی عرب کی جانب سے شام میں زمینی فوج بھیجے جانے پر آمادگی کا اظہار اسی دباو کے دو نمونے اور مصداق ہیں۔ اب تک ترکی کی کوشش تھی کہ وہ شام میں اپنے کٹھ پتلی دہشت گرد گروہوں کی مدد سے اس ملک میں طاقت کے توازن کو اپنے حق میں بھاری کرے، لیکن شام میں روس کی فوجی مداخلت کے بعد دو اہم واقعات رونما ہوئے: ایک انقرہ کے حامی دہشت گرد گروہ انتہائی کمزور ہوگئے اور دوسرا شام کے شمال میں کردوں کی طاقت میں اضافہ ہوگیا۔ اس صورتحال کے پیش نظر ترکی اس کوشش میں ہے کہ سعودی عرب کی مدد سے شام میں محدود فوجی کارروائی کا مقدمہ فراہم کرسکے۔

اگرچہ ترکی اور سعودی عرب نے بظاہر یہ اعلان کیا ہے کہ شام میں ان کی فوجی مداخلت کا مقصد تکفیری دہشت گرد گروہ "داعش" کو ختم کرنا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا مقصد صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانا اور شامی حکومت کے اتحادیوں کو کمزور کرنا ہے، جبکہ ترکی ان دو مقاصد کے علاوہ شام کے کردوں کو بھی نشانہ بنانے کا خواہاں ہے۔ درحقیقت ترکی کردوں کو مزید طاقتور ہوتا نہیں دیکھ سکتا، کیونکہ اسے یہ خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ کہیں کرد ایک خود مختار ریاست کا اعلان نہ کر دیں۔ ترکی کا دعویٰ ہے کہ YPJ اور PKK ایکدوسرے سے تعاون کر رہی ہیں اور ترکی میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دے رہی ہیں۔ لیکن ترکی اپنے اس دعوے کی کوئی دلیل پیش نہیں کرسکا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ شمالی شام کے کردوں نے اب تک ترکی کی سرزمین کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہو۔ وائے پی جے شمالی شام میں مقیم کردوں کا ایک طاقتور مسلح گروہ ہے، جس نے کرد شہر کوبانی کو داعش سے آزاد کروانے میں انتہائی موثر اور بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اب ترکی اس تلخ حقیقت سے روبرو ہے کہ مذکورہ بالا رابطہ خطوط پر اس کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ النصرہ فرنٹ اور جیش الفتح روس کے ہوائی حملوں اور شام آرمی اور کردوں کے مشترکہ آپریشن کے نتیجے میں شدید شکست سے دوچار ہوچکے ہیں اور تیزی سے پسپائی کا شکار ہوگئے ہیں۔ چونکہ کرد باشندے شام آرمی کے ساتھ ترکی کی سرحد بند کرنے میں بھرپور تعاون کر رہے ہیں، تاکہ شام میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کو ترکی سے اسلحہ کی سپلائی کو روکا جاسکے، لہذا ترکی نے کردوں سے انتقامی کارروائی کی ٹھان لی ہے۔

ترکی سعودی عرب کے تعاون سے شام میں حکومت مخالف مسلح دہشت گرد گروہوں اور سیاسی پارٹیوں کو مکمل شکست اور نابودی سے بچانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ وہ دہشت گرد گروہ جو اس وقت شام حکومت اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے شدید حملوں کا شکار ہو کر پسپائی اختیار کرچکے ہیں۔ شام میں جاری خانہ جنگی میں اس وقت شام آرمی کی پوزیشن بہت مضبوط ہوچکی ہے اور روس کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف ہوائی حملوں کے بعد شام آرمی کا مورال بہت بلند ہوگیا ہے اور وہ تیزی سے پیشقدمی کر رہی ہے۔ اس حقیقت نے نہ صرف شام حکومت کے خلاف سرگرم مسلح دہشت گرد گروہوں کو شدید مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے بلکہ خطے سے متعلق ترکی کی خارجہ پالیسی کو بھی شدید بحران کا شکار کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں رجب طیب اردگان کی جانب سے ہمسایہ ممالک کے خلاف بے سابقہ گستاخانہ بیانات اور شدید الفاظ کا استعمال اسی بحرانی صورتحال کا واضح ثبوت ہے۔ یہ بحران درحقیقت خود ترکی کا ہی پیدا کردہ ہے، جو اس نے سلطنت عثمانیہ کے احیاء کی خاطر وضع کی گئی پالیسیاں اپنا کر جنم دیا ہے۔ چونکہ شام میں جاری جنگ کے تجزیہ و تحلیل سے ایران – روس – شام اتحاد کے مقابلے میں حکومت مخالف مسلح دہشت گرد گروہوں کی شکست یقینی نظر آتی ہے، لہذا ترکی اور سعودی عرب کو یہ پریشانی لاحق ہے کہ اگر وہ شام میں براہ راست فوجی مداخلت نہیں کرتے تو بہت جلد شام حکومت کے خلاف سرگرم مسلح دہشت گرد گروہ مکمل طور پر نابود ہوجائیں گے۔ چنانچہ ان کی کوشش ہے کہ سفارتی میدان میں کسی بھی جنگ بندی پر مبنی معاہدے سے قبل ایسے اقدامات انجام دیں، جن کے باعث شام میں سرگرم حکومت مخالف مسلح دہشت گرد گروہوں کو حتمی شکست سے نجات دلائی جاسکے اور اس طرح مذاکرات کی میز پر ان کے پاس بھی کوئی ایسا کارڈ موجود ہو، جس کے ذریعے وہ اپنے جیوپولیٹیکل مفادات کا تحفظ کرسکیں۔

آج تک جو کچھ شام میں انجام پایا ہے، وہ پراکسی وار تھی، لیکن اگر ترکی اور سعودی عرب نے شام کی جنگ میں براہ راست مداخلت کرنے کی کوشش کی تو اس کے نتیجے میں ایک انتہائی وسیع اور بھیانک جنگ شروع ہوسکتی ہے، جس کی آگ خطے کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ ایسی جنگ جس کے ایک طرف ترکی، سعودی عرب اور قطر ہوں گے جبکہ دوسری طرف روس، ایران، شام اور حزب اللہ لبنان ہوں گے۔ ایرانی حکام کی جانب سے ترکی اور سعودی عرب کے حالیہ موقف اور پالیسیوں کے بارے میں وارننگ سے شام کی سیاسی صورتحال کی نزاکت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس وقت سعودی عرب کے ٹائیفون جنگی طیارے ترکی کے اینجرلیک ہوائی اڈے میں تعینات کر دیئے گئے ہیں۔ حال ہی میں ایران ایئر فورس کے خاتم الانبیاء ائیر ڈیفنس بیس کے کمانڈر بریگیڈیر جنرل فرزاد اسماعیلی نے اپنے بیان میں کہا ہے: "شام حکومت کی جانب سے رسمی درخواست کی صورت میں ایران کی مسلح افواج بھرپور انداز میں شام کی مدد کریں گی۔"

روس نے بھی انقرہ اور ریاض کے حالیہ اقدامات کے ردعمل میں ان ممالک کو شدید وارننگ دی ہے۔ بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شام میں جاری بدامنی یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ وسعت اختیار کرکے تیسری جنگ عظیم کی صورت اختیار کر جائے اور اس خطرے کو دور از احتمال قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی کے برعکس اس وقت امریکہ شام میں خاطر خواہ اثر و رسوخ کا حامل نہیں اور وہ شام کی جنگ میں کودنا نہیں چاہتا۔ لہذا اگر ترکی براہ راست طور پر شام میں فوجی مداخلت جیسا اقدام کرتا ہے تو یہ اس کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اگرچہ نیٹو کے ترجمان نے اس تنظیم کی جانب سے ترکی کی حمایت کا اعلان کیا ہے، لیکن انقرہ کی جانب سے کسی یکطرفہ فوجی کارروائی کی صورت میں نیٹو اس کی مدد کرنے سے عاجز ہوگی جبکہ امریکہ بھی ترکی کی حفاظت کیلئے کوئی موثر اقدام انجام نہیں دے پائے گا۔ کیونکہ نیٹو ہرگز شام کے ایشو پر جو اس کی پہلی ترجیح نہیں، روس سے آمنا سامنا نہیں کرنا چاہتی۔ مزید برآں، اگرچہ اکثر عرب حکمران صدر بشار الاسد سے بیزار نظر آتے ہیں، لیکن ترکی کی جانب سے شام جیسے عرب ملک پر فوجی جارحیت عرب دنیا کی جانب سے بھی شدید ردعمل کا باعث بنے گی۔ لہذا اگلے چند ہفتوں کے دوران ترکی کو کئی بڑے چیلنجز درپیش ہوں گے، جن سے متعلق اسے اہم فیصلے کرنے ہوں گے۔
خبر کا کوڈ : 521691
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب