0
Sunday 21 Feb 2016 00:18

شام کیخلاف سعودی فوجی کارروائی، تصور سے حقیقت تک

شام کیخلاف سعودی فوجی کارروائی، تصور سے حقیقت تک
تحریر: سید محمد امین آبادی

حالیہ چند دنوں کے دوران سعودی حکام کی جانب سے شام میں زمینی فوجی کارروائی کے ارادے پر مبنی بیانات نے بہت سوں کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے 1.5 لاکھ فوجیوں کو شام بھیجے جانے کی تیاری اور ترکی کے اینجرلیک ہوائی اڈے پر سعودی جنگی طیاروں کی تعیناتی پر مبنی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی حکام کے ذہن پر ایک نیا بھوت سوار ہوچکا ہے۔ اس بارے میں بہت سے سوال پیدا ہوچکے ہیں، جیسے کیا سعودی عرب حقیقت میں ایسا ارادہ رکھتا ہے؟ اس ممکنہ فوجی کارروائی کے اہداف و مقاصد کیا ہیں؟ کیا سعودی عرب اس بارے میں ایک اتحاد تشکیل دینے کی پوزیشن میں ہے؟ کیا شام میں زمینی فوج بھیجنے پر مبنی پالیسی عملی طور پر بھی ممکن ہے؟ کیا شام میں زمینی فوج بھیجنے سے سعودی عرب کو درپیش مشکلات حل ہو جائیں گی؟ کیا سعودی عرب کی سیاسی اور معاشی صورتحال اس امر کی اجازت دیتی ہے کہ وہ شام میں زمینی فوج بھیج سکے؟ شام کے خلاف سعودی عرب کی ممکنہ فوجی کارروائی کے مقابلے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کا ردعمل کیا ہوگا؟ کیا اس ممکنہ فوجی کارروائی کو بین الاقوامی جواز حاصل ہوگا؟ وغیرہ۔ تحریر حاضر میں انہی سوالوں کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

بین الاقوامی تعلقات (International relations) کی تاریخ مختلف حکومتوں کے ایسے غلط فیصلوں سے بھری پڑی ہے، جن میں سے بعض کا نتیجہ اس ملک کی نابودی کی صورت میں نکلا ہے۔ سعودی عرب پر حکمفرما نظام ایک معقول اور ہمہ جہت نگاہ سے عاری ہے اور گذشتہ ایک سال کے دوران ناپختہ کار اور توہم پرست سعودی حکام نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نامعقول فیصلے کرنے سے ہرگز نہیں ہچکچاتے۔ لہذا بعید نہیں کہ سعودی حکام واقعاً ایسا ارادہ کرچکے ہوں۔ بین الاقوامی تعلقات کے بارے میں کلاسیکی حقیقت پسندی سے تعلق رکھنے والے ایک معروف محقق اور تھیوریسٹ "مورگینتھاو" سفارتکاری کے چند اصول بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: "ممالک کو چاہئے کہ وہ ہرگز ایسا موقف نہ اپنائیں، جس سے پسپائی کا نتیجہ ان کے اعتبار اور حیثیت کے خاتمہ اور نابودی کی صورت میں نکلے۔" ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سعودی عرب نے بھی خود کو ایسی ہی صورتحال سے دوچار کر لیا ہے، جس کے بارے میں مورگینتھاو خبردار کرچکے ہیں۔ گذشتہ چار سال کے دوران سعودی حکومت نے بارہا اس موقف پر تاکید کی اور اسے دہرایا ہے کہ: "بشار اسد کو یا تو سیاسی راہ حل کے ذریعے اقتدار چھوڑنا پڑے گا اور یا پھر فوجی راہ حل کے ذریعے۔" لیکن وہ نہ صرف سیاسی طریقے سے اور جنیوا میں کئی دور مذاکرات منعقد کرنے کے بعد بھی اس مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہے بلکہ میدان جنگ میں بھی ایران، حزب اللہ، روس اور شام کے درمیان اتحاد کے قیام کے بعد گذشتہ چند ماہ کے دوران شام آرمی مسلسل کامیابیوں سے ہمکنار ہو رہی ہے اور شام کے کئی اسٹریٹجک علاقوں کو سعودی عرب، ترکی اور مغرب کے حمایت یافتہ دہشت گرد عناصر کے قبضے سے آزاد کروا چکی ہے، اب شام آرمی اور رضاکار فورسز حلب کو آزاد کروا کر ترکی سے دہشت گرد عناصر کو ملنے والی لاجسٹک سپورٹ کو مکمل طور پر منقطع کرنے کے قریب ہیں۔

اکثر سیاسی ماہرین سعودی عرب کی جانب سے شام میں زمینی کارروائی کے ارادے کو سیاسی اور فوجی میدان میں اس کی شکست کی علامت قرار دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں شام کے اسٹریٹجک علاقوں کو آزاد کروانے میں شام آرمی کی کامیابیاں خاص طور پر دو قصبے نبل اور الزھراء کو دہشت گردوں کے محاصرے سے آزاد کروانا اور حلب کی ممکنہ آزادی کے باعث سعودی عرب جنیوا اور میونیخ میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی مذاکرات کے موقع پر شام کے خلاف زمینی کارروائی کا شور مچا کر مذاکرات پر اثرانداز ہونا چاہتا ہے۔ سعودی حکومت کی کوشش ہے کہ وہ شام میں فوجی مداخلت پر مبنی ناقابل عمل حکمت عملی کے اعلان کے ذریعے مذاکرات میں شام حکومت کے خلاف دہشت گرد گروہوں کے حق میں امتیازات حاصل کرسکے۔ لیکن اس سے ہٹ کر بھی دیکھا جائے تو ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں، جن کی روشنی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر سعودی حکومت نے شام کے خلاف فوجی کارروائی جیسی کوئی اسٹریٹجک غلطی کی تو اسے شدید شکست سے روبرو ہونا پڑے گا۔ ایسی شکست جو آل سعود رژیم کے وجود کو خطرے میں ڈال دے گی اور وہ بہت جلد نابودی کا شکار ہو جائے گی۔ درج ذیل نکات پر توجہ کریں:

1
گذشتہ ایک سال سے سعودی حکومت نے خطے کے بعض ممالک کے تعاون اور مغربی ممالک کی بھرپور حمایت سے دنیا کے غریب ترین ملک یمن پر حملہ کر رکھا ہے۔ اس مدت میں جدید اسلحہ سے لیس سعودی عرب کی مسلح افواج اپنے اعلان کردہ اہداف و مقاصد میں سے کسی ایک ہدف کو بھی حاصل نہیں کر پائیں، جبکہ یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورسز جن کے پاس انتہائی محدود فوجی وسائل ہیں، کا مقابلہ کرنے میں بھی مکمل طور پر ناکامی کا شکار ہوئی ہیں۔ مزید برآں، یمن کی سرحد پر واقع سعودی صوبے جیسے جیزان اور عسیر کئی بار یمن آرمی کے میزائل حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بڑی تعداد میں اعلٰی سطحی فوجی افسر ہلاک ہوچکے ہیں۔ سعودی حکام سے انتہائی واضح سوال یہ ہے کہ جب آپ انتہائی محدود وسائل کے حامل یمن فوجیوں اور رضاکار فورسز کا مقابلہ نہیں کرسکے اور حتٰی محدود فوجی قوت کے باعث نجران، جیزان اور عسیر جیسے اپنے سرحدی علاقوں کو ان کے حملوں سے محفوظ نہیں بنا سکے تو کس امید کی بنا پر شام میں فوجی مداخلت کا ارادہ رکھتے ہیں؟

2)۔
شام میں فوجی کارروائی کیلئے سعودی عرب کو بین الاقوامی سطح پر ایک بڑا فوجی اتحاد بنانے کی ضرورت ہے، جو تقریباً ناممکن امر ہے۔ بین الاقوامی سطح پر کسی قسم کے اتحاد کی تشکیل کیلئے بعض چیزیں انتہائی ضروری ہیں، جیسے اندرونی استحکام اور جواز، صلاحیت، طاقت، عالمی سطح پر عزت اور بین الاقوامی اثر و رسوخ۔ حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب ان تمام شرائط سے بے بہرہ ہے۔ سعودی حکومت نے یمن کے خلاف فوجی کارروائی سے پہلے ایک وسیع فوجی اتحاد تشکیل دینے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، جس کا نتیجہ زبانی کلامی باتوں اور کاغذی اتحاد کے سوا کچھ نہ نکلا۔ البتہ بعض چھوٹے ممالک جیسے سوڈان، وہ بھی بھاری مقدار میں رشوت لے کر اپنے فوجیوں کو کرائے کے قاتلوں کے طور پر یمن بھیجنے پر راضی ہوگئے۔ دوسرا سوال جس کا جواب سعودی حکومت کو دینا ہے، وہ یہ ہے کہ ایسی حکومت جو یمن آرمی اور انصاراللہ سے لڑنے کیلئے فوجی اتحاد تشکیل دینے سے عاجز ہے، ایک ایسی جنگ کیلئے اتحاد کیسے تشکیل دے گی، جس کے مدمقابل ایران، روس اور خون کے آخری قطرے تک لڑنے والے مجاہدوں پر مشتمل حزب اللہ لبنان قرار پائی ہے؟ کیا کوئی ملک اتنا بڑا خطرہ مول لینے کیلئے حاضر ہوگا اور اپنے فوجیوں کو ایسی قتل گاہ میں بھیجنے کیلئے راضی ہوگا؟

3)۔
شام میں زمینی فوجی کارروائی کیلئے سعودی حکومت کے راستے میں ایک اور رکاوٹ امریکہ کا موقف اور ریاض، انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان موجود تضادات ہیں۔ اگرچہ حالیہ دنوں میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے شام سے متعلق سعودی منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور سعودی حکام نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ فوجی اتحاد تشکیل دینے کے بعد امریکہ کی سربراہی میں شام کے خلاف فوجی کارروائی کیلئے تیار ہیں، لیکن ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ امریکہ بھی اس اتحاد میں اپنے فوجی بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے اور شام میں براہ راست فوجی مداخلت میں شریک ہوگا۔ جان کیری سمیت دیگر امریکی حکام جنیوا مذاکرات کے دوران اور اس کے بعد ان چند دنوں میں بارہا تاکید کرچکے ہیں کہ وہ شام میں روس کا آمنا سامنا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے میونخ سکیورٹی کانفرنس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا: "فوجی مداخلت کیلئے بڑے پیمانے پر فوجی بھیجنا ہرگز ہماری حکمت عملی کا حصہ نہیں ہے۔"

دوسری طرف امریکہ میں صدارتی انتخابات کے سلسلے میں جاری شدید رقابت کی فضا میں ڈیموکریٹس کی جانب سے شام میں فوجی کارروائی جیسی خطرناک اور مبہم نتائج کی حامل کھیل میں کودنا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ سعودی عرب، امریکہ اور ترکی میں اس اتحاد کی تشکیل کے ہدف کے بارے میں بھی اتفاق رائے نہیں پایا جاتا۔ شام میں واشنگٹن کی پہلی ترجیح بظاہر "داعش" اور صدر بشار الاسد کو کمزور کرنا ہے، لیکن شام حکومت کو سرنگون کرنا نہیں، جبکہ سعودی عرب نے صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانا اپنا ہدف بنایا ہوا ہے۔ اگر سعودی حکام کا مقصد داعش کا خاتمہ ہوتا تو وہ شام سے پہلے یمن میں داعش سے مقابلے کیلئے کوئی اتحاد تشکیل دیتے اور یمن کے بعض علاقے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے حوالے نہ کر دیتے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ نہ صرف داعش کے نظریات سعودی عرب پر حکمفرما وہابیت سے مکمل مماثلت رکھتے ہیں بلکہ شام اور عراق میں سرگرم داعش سے وابستہ دہشت گردوں کی بڑی تعداد سعودی شہری بھی ہیں۔ دوسری طرف نہ صرف امریکہ اور سعودی عرب میں اس ممکنہ اتحاد کے اہداف کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں، بلکہ خود سعودی حکام بھی اس بارے میں شک و تردید کا شکار ہیں۔ ایک طرف سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر اعلان کرتے ہیں کہ شام میں سعودی فوجی بھیجے جانے کا مقصد حکومت مخالف گروہوں کی مدد کرنا ہے اور دوسری طرف یمن کے خلاف اتحاد کے ترجمان احمد العسیری یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ شام میں بھیجے جانے والے سعودی فوجیوں کا مقصد داعش سے مقابلہ کرنا ہے۔ ترکی بھی شام کے بارے میں مختلف رائے کا حامل ہے۔ ترکی شام میں کردوں کے مضبوط اور طاقتور ہو جانے سے شدید خوفزدہ ہے۔ اسی وجہ سے حالیہ چند دنوں میں ترکی نے شام کے کردوں کو گولہ باری کا نشانہ بنایا ہے جبکہ امریکہ اور یورپی ممالک نے بھی اس پر اعتراض کیا ہے۔ سعودی عرب اور امریکہ کردوں کو صدر بشار الاسد کے خلاف مفید طاقت تصور کرتے ہیں۔

4سعودی عرب کو شام میں فوجی کارروائی کے راستے میں امریکہ کی موافقت اور ناتوانی کے علاوہ ایک اور مشکل بھی درپیش ہے، جو اس اقدام کا بین الاقوامی جواز سے عاری ہونا ہے۔ اگر سعودی حکام نے یمن پر فوج کشی اور ہزاروں بیگناہ یمنی بچوں اور خواتین کے قتل عام کیلئے یمن کے سابق مستعفی صدر منصور ہادی کی حمایت کا بہانہ پیش کیا تو شام میں ممکنہ فوجی کارروائی کیلئے ان کے پاس یہ بہانہ بھی نہیں۔ شام کی قانونی حکومت جسے اقوام متحدہ کی نمائندگی بھی حاصل ہے، نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ شام میں سعودی عرب اور ترکی کی ممکنہ فوجی کارروائی کی شدید مخالف ہے اور ایسے اقدام کی صورت میں بیرونی قوتوں کا مقابلہ کیا جائے گا۔ بعض موصولہ رپورٹس کے مطابق دمشق نے ایران اور روس سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر سعودی عرب یا ترکی کی جانب سے شام کی جغرافیائی حدود کی خلاف ورزی کی گئی تو وہ ان کا مقابلہ کرنے کیلئے شام آرمی کی مدد کریں۔ دوسری طرف سعودی عرب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی یہ مسئلہ پیش نہیں کرسکتا، کیونکہ ایسی صورت میں یقیناً اسے روس کی جانب سے ویٹو اور چین کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا اور سلامتی کونسل کبھی بھی سعودی عرب یا ترکی کو شام میں فوجی کارروائی کا جواز فراہم نہیں کرے گی۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی ایسی ممکنہ کارروائی کی صورت میں شدید ردعمل کی دھمکی دی ہے۔ روسی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر سعودی عرب اور ترکی نے شام میں فوجی مداخلت کی تو تیسری عالمی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔

5ایک اور وجہ جس کی بنیاد پر سعودی عرب کو شام کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سے پہلے اچھی طرح اس کے نتائج کے بارے میں سوچ لینا چاہئے، اس کی فوجی صلاحیتوں کا مدمقابل کی فوجی صلاحیتوں سے موازنہ ہے۔ جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں، شام کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں سعودی عرب کو صرف اپنی مسلح افواج پر ہی تکیہ کرنا پڑے گا۔ سعودی میڈیا ایک عرصے سے فوجی ٹریننگ لازمی قرار دیئے جانے کیلئے رائے عامہ ہموار کرنے میں مصروف ہے۔ سعودی عرب کا ایک رسمی اخبار "ڈیلی الوطن" اپنے بقول ماہرین اور علماء کی زبانی لکھتا ہے کہ فوجی ٹریننگ ایک فوجی اور شرعی فریضہ ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا زبردستی جوانوں کو فوج میں بھرتی کرنے سے سعودی عرب اپنی مسلح افواج کی کمی کے مسئلے کو حل کرسکتا ہے؟ اگر بالفرض کوئی اتحاد تشکیل پا لیتا ہے اور سعودی عرب اپنی مسلح افواج کو شام بھیج دیتا ہے تو اس کے فوجی جنہیں شہری جنگ اور گوریلا کارروائیوں کا بالکل تجربہ نہیں، خطے کی باتجربہ اور مسلح قوت سے روبرو ہوں گے۔ روسی حکام حالیہ چند دنوں میں واضح طور پر اعلان کرچکے ہیں کہ وہ ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے اور شام میں کسی بیرونی قوت کی مداخلت کی صورت میں ایک وسیع اور حتی عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ ایران اور حزب اللہ لبنان نے بھی ہر مشکل وقت میں شام آرمی کی بھرپور مدد اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ سعودی فوج آج تک کسی جنگ میں کامیاب نہیں ہوئی اور ہر جنگ میں ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوئی ہے۔ اگر سعودی فوج میں لڑنے کی ہمت ہوتی تو کویت جنگ کے دوران ہرگز امریکہ کی سربراہی میں عالمی اتحاد کو اس کے دفاع کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔

6شدید فوجی کمزوری کے علاوہ سعودی عرب کی اندرونی اقتصادی مشکلات اور سیاسی عدم استحکام بھی اسے شام میں فوجی مداخلت جیسے خطرناک اقدام کی اجازت نہیں دیتے۔ گذشتہ برس انسانی حقوق کے لحاظ سے سعودی عرب کا بدترین سال سمجھا جاتا ہے، جس میں سعودی حکومت نے عوامی احتجاج کے خوف سے آیت اللہ باقر النمر اور بہت سی دوسری شخصیات کو شہید کر دیا۔ دوسری طرف سعودی عرب کے حکومتی ایوانوں میں بھی طاقت کی جنگ جاری ہے۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران محمد بن نائف اور محمد بن سلمان، ولی عہد اور نائب ولی عہد کے درمیان ٹکراو کی بہت سی رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔ بعض ذرائع تو بغاوت کا امکان بھی ظاہر کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، سعودی عرب کی خراب اقتصادی صورتحال کو بھی سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ یمن، شام اور عراق میں سعودی عرب کی فوجی جاہ طلبی اور مسلح دہشت گرد عناصر کی حمایت کے باعث سعودی حکومت شدید مالی بوجھ کا شکار ہے۔ گذشتہ پانچ برس کے دوران سعودی عرب نے فوجی ساز و سامان کی خرید میں 150 ارب ڈالر خرچ کر ڈالے ہیں۔ دوسری طرف عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت بھی انتہائی نچلی سطح تک گر چکی ہے اور سعودی عرب اپنا بجٹ پورا کرنے کیلئے بین الاقوامی مارکیٹ سے 87 ارب ڈالر کے قرضے لینے پر مجبور ہوگیا ہے۔ اس امر کی مثال پوری سعودی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ایسے شدید اقتصادی مسائل اور اندرونی سیاسی عدم استحکام کی حالت میں شام کے خلاف فوجی کارروائی کا نتیجہ سعودی رژیم کی نابودی کی صورت میں نکلے گا اور ایسا اقدام سیاسی خودکشی کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوسکتا۔

نتیجہ:
سعودی عرب کا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے شام میں ایسے اہداف و مقاصد کا تعین کر رکھا ہے، جن کے حصول کیلئے اس کے پاس مناسب وسائل موجود نہیں۔ گذشتہ پانچ برس کے دوران سعودی عرب شام میں حکومت مخالف مسلح دہشت گرد گروہوں کی مدد میں اربوں ڈالر خرچ کرچکا ہے اور انہیں جدید ترین اسلحہ فراہم کرچکا ہے، لیکن یہ گروہ صدر بشار الاسد کی حکومت گرانے میں ناکام رہے۔ سیاسی میدان میں بھی ریاض اپنی آراء منوانے کی طاقت اور صلاحیت نہیں رکھتا۔ سعودی عرب اکیلے شام میں کچھ نہیں کرسکتا جبکہ امریکہ زبانی کلامی حمایت سے آگے نہیں بڑھتا۔ دوسری طرف کسی ملک میں بھی فوجی مداخلت کیلئے اتحاد تشکیل دینے کیلئے ایک لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ سعودی عرب زیادہ سے زیادہ یہ کرسکتا ہے کہ کچھ تعداد میں فوجی افسر شام بھیجے جو وہاں سرگرم مسلح دہشت گرد عناصر کو ٹریننگ دیں اور اسی طرح دہشت گرد گروہوں کی مالی اور فوجی امداد میں اضافہ کر دے۔ تاریخ گواہ ہے کہ آمر حکمران بحرانی صورتحال میں عجیب حماقتیں انجام دیتے ہیں۔ اگر سعودی حکام ان تمام مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود شام میں زمینی فوجی کارروائی جیسا اقدام کرتے ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کا یہ اقدام انہیں احمقانہ حرکتوں میں شمار کیا جائے گا جو دوسری آمر رژیموں کیلئے عبرت کا باعث بن جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 522503
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب