0
Thursday 3 Mar 2016 17:46

شام کیلئے امریکا کا "بی" پلان

شام کیلئے امریکا کا "بی" پلان
تحریر: سید علی موسوی خلخالی

تقریباً دو ماہ قبل امریکی فورسز فوجی مشیروں کے روپ میں شام میں داخل ہوچکی ہیں، جن کا مقصد حکومت مخالف مسلح گروہوں کو ٹریننگ دینا ہے۔ خبری ذرائع کا کہنا ہے کہ ان امریکی فورسز کے پاس صرف ہلکا اسلحہ موجود ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اعلان کیا ہے کہ اگر شام میں جاری حالیہ جنگ بندی کامیابی سے ہمکنار نہ ہوئی تو امریکا کے پاس "بی" پلان کے اجراء کے علاوہ کوئی چارہ باقی نہیں بچے گا۔ دوسری طرف روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ امریکہ نے اپنے "بی" پلان کے بارے میں ہمیں کچھ نہیں بتایا۔ اقوام متحدہ میں روس کے نمائندے ویٹالی چورکین نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام کے بارے میں اپنے "بی" پلان کی وضاحت کرے، جس کا ذکر جان کیری نے کیا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن نے روس کے اس مطالبے پر اب تک خاموشی اختیار کر رکھی ہے، لیکن سب کے ذہن میں یہ سوال جنم لے چکا ہے کہ آخر امریکہ کے مدنظر شام کے بارے میں "بی" پلان کیا ہے؟ امریکا کیا کرنا چاہتا ہے اور جان کیری نے جس امر کی طرف اشارہ کیا ہے اس کی حقیقت کیا ہے۔؟

شام کی تقسیم:

مشرق وسطٰی کے امور سے آگاہ سیاسی ماہرین اور تجزیہ نگاران اچھی طرح جانتے ہیں کہ شام کے بارے میں امریکا کا "بی" پلان کیا ہے۔ مشرق وسطٰی کے اکثر ماہرین، خاص طور پر ان ماہرین کی نظر میں جو امریکی اور مغربی سکیورٹی اداروں پر شام کو تقسیم کرنے کے الزامات عائد کرتے آئے ہیں، کے بقول امریکی "بی" پلان شام کی تقسیم ہے۔ یہ منصوبہ شام میں بحران کے آغاز سے ہی بنایا گیا تھا۔ امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ہنری کیسنجر نے ہالینڈ کے ایک روزنامے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ تمام عرب ممالک میں یہ منصوبہ اجراء ہونا چاہئے اور اگر اس کے اجراء کیلئے اسلحہ کی طاقت کا سہارا لینا اور وسیع قتل عام بھی ضروری ہو تو ایسا کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ امریکا کے اندر اس منصوبے کے بہت زیادہ حامی موجود ہیں۔ امریکہ کے اہم تھنک ٹینکس کے اکثر ماہرین یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مشرق وسطٰی خطے میں موجود ممالک کی موجودہ تقسیم بندی زیادہ عرصہ تک برقرار نہیں رہ سکتی اور تمام عرب ممالک کو تقسیم ہونا چاہئے۔ اکثر مغربی ذرائع ابلاغ سے یہ بات سننے میں آتی ہے کہ سائیکس – پیکو منصوبے کے تحت انجام پانے والی عرب ممالک کی تقسیم بندی کی مدت پوری ہوچکی ہے اور اب اسے تبدیل ہونا ہے۔

اکثر ماہرین کا نظریہ ہے کہ "عرب اسپرنگ" درحقیقت ایک مغربی سازش تھی، جس کا مقصد پورے خطے میں بدامنی اور انارکی پھیلانا تھا، تاکہ اس کی مدد سے جغرافیائی حدود میں مناسب تبدیلی پیدا کی جاسکے۔ اس نظریئے کے حامی ماہرین کا کہنا ہے کہ عراق اور لیبیا اسی سازش کی بنیاد پر تقسیم کر دیئے جائیں گے اور اس کے بعد شام، مصر، اردن، سعودی عرب اور حتی لبنان بھی باری باری تقسیم ہو جائیں گے۔ معروف عرب تجزیہ نگار عبدالباری عطوان اس بارے میں یوں کہتے ہیں: "اس منصوبے کا بنیادی ترین مقصد اسرائیل کی قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے، کیونکہ اسرائیل کے اردگرد تمام عرب ممالک تقسیم کر دیئے جائیں گے، جس کے نتیجے میں آئندہ لمبے عرصے تک ان میں اسرائیل کیلئے خطرہ بن کر سامنے آنے کی صلاحیت نہیں رہے گی۔" وہ مزید کہتے ہیں: "امریکہ خطے کو ترک کرکے اسے علاقائی طاقتوں کے حوالے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ لہذا امریکہ کی خواہش ہے کہ وہ اسرائیل کی قومی سلامتی کو یقینی بنائے، تاکہ جب امریکہ فار ایشیا اور چین کا رخ کرے تو اس کے دل میں اسرائیل کے بارے میں کسی قسم کی پریشانی موجود نہ ہو۔"

بہرحال، اگر امریکا شام میں اپنا "بی" پلان اجرا کرنا چاہے تو اسے شام کے شمال اور جنوب یعنی ترکی اور اردن کے راستے شام میں فورسز داخل کرنی پڑیں گی، تاکہ اس طرح اپنے زیر کنٹرول نئے علاقے معرض وجود میں لاسکے۔ دوسری طرف عراق اور افغانستان میں حاصل شدہ تجربات کی روشنی میں امریکہ نہیں چاہتا کہ شام کے خلاف کارروائی کے دوران بھی اس پر "قابض" قوت کا لیبل لگ جائے، لہذا امریکہ کا منصوبہ یہ ہے کہ اپنی مسلح افواج کی بجائے عرب ممالک کی مسلح افواج کو استعمال کرے۔ ان عرب ممالک میں سعودی عرب، اردن، ترکی، قطر اور متحدہ عرب امارات سرفہرست ہیں۔ ابتدا میں داعش سے مقابلے کے بہانے ایک وسیع عرب اتحاد تشکیل دیا جائے گا اور فوجی کارروائی کا مقصد بھی داعش کا خاتمہ بیان کیا جائے گا۔ اس اتحاد میں فرانس اور برطانیہ جیسے مغربی ممالک بھی بھرپور کردار ادا کریں گے۔ اس طرح امریکہ چاہتا ہے کہ نہ تو اس پر ایک عرب ملک پر قبضے کا الزام عائد ہو، کیونکہ اس کے ہمراہ عرب ممالک کی افواج بھی ہوں گی، اور نہ ہی اس پر ایک اسلامی سرزمین پر قبضے کا الزام لگایا جاسکے، کیونکہ اس کے ہمراہ اسلامی ممالک کی افواج ہوں گی۔ دوسری طرف اس پر عراق کی مانند مذہبی جنگ مسلط کرنے کا الزام بھی عائد نہیں ہوگا کیونکہ سنی ممالک کی مسلح افواج اس کے ہمراہ ہوں گی۔

تقریباً دو ماہ قبل امریکی آرمی مشیر کے طور پر شام میں داخل ہوچکی ہے۔ انہوں نے اپنا مقصد حکومت مخالف مسلح گروہوں کو ٹریننگ دینا بیان کیا ہے۔ خبری ذرائع کے بقول وہ ہلکے جنگی ہتھیاروں سے لیس ہیں اور بعض ذرائع ان کی تعداد 1 ہزار سے 1300 تک بیان کر رہے ہیں۔ ابتدا میں کہا گیا کہ یہ امریکی فوجی حلب کے شمال میں حلب ڈیم کے نزدیک تعینات کئے گئے ہیں اور اس علاقے کا کنٹرول سنبھال چکے ہیں۔ لیکن جب شام آرمی اور حکومت کی حامی رضاکار فورسز کی پیش قدمی کی خبریں موصول ہوئیں تو بعض خبری ذرائع جن میں عراق کی خبر رساں ایجنسی سومریہ نیوز بھی شامل تھی، نے اعلان کیا کہ امریکی فورسز کردستان کے علاقے میں داخل ہوگئی ہیں اور وہاں ڈیرے ڈال لئے ہیں۔ جب امریکی صدر براک اوباما کا نمائندہ شام کے علاقے کردستان آیا تو وہاں موجود امریکی فوجیوں کے اڈے پر بھی گیا اور کردوں کے ساتھ خفیہ مذاکرات انجام دیئے۔

میڈیا میں ان مذاکرات کے بارے میں کچھ نہیں آیا۔ "بی" پلان اجرا ہونے کی صورت میں امریکہ شام میں نو فلائی زون قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسی طرح امریکہ شام میں "گرین زون" بھی بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے، تاکہ مغربی اور عربی فورسز اور شامی مسلح گروہوں کو وہاں تعینات کیا جاسکے۔ قوی امکان یہ ہے کہ امریکہ نے شام کے مشرقی حصوں کو اس کام کیلئے چن رکھا ہے، کیونکہ یہ حصہ سنی اکثریت والا علاقہ ہے اور اس وقت حکومتی کنٹرول میں نہیں بلکہ دہشت گرد عناصر کے قبضے میں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکی حکام حلب سے درعا تک ایک سرحدی لائن قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس لائن سے مرکز کی طرف علاقے کو شام آرمی کا علاقہ تصور کرتے ہوئے وہاں داخل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ خاص طور پر اس لئے کہ اس تمام علاقے میں شام، روس اور ایران کی مسلح افواج موجود ہیں اور امریکی حکومت ان سے ٹکر نہیں لینا چاہتی۔ لہذا یہ کہنا درست ہوگا کہ امریکیوں نے شام میں اپنی موجودگی کی حدود بھی معین کر رکھی ہیں۔ ڈیلی القدس العربی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی فورسز نے فضائی نگرانی کیلئے اس علاقے پر بڑی تعداد میں ڈرونز فضا میں چھوڑ رکھے ہیں۔

سعودی عرب کی مہم جوئی:
اس سازش میں شامل ممالک میں سب سے زیادہ سعودی عرب پرجوش نظر آتا ہے اور وہ شام کے خلاف مہم جوئی میں آگے آگے ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب کے اتحادی ملک ترکی نے شام حکومت کے خلاف محتاطانہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ سعودی عرب کو شام میں فوجی مداخلت کی بہت جلدی ہے اور وہ حتٰی اپنی جلدی کو چھپا بھی نہیں رہا۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے چند دن پہلے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے بیان کو دہراتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب امریکہ کے ساتھ شام کے بارے میں "بی" پلان پر مذاکرات کر رہا ہے۔ عادل الجبیر نے پیشین گوئی کی کہ بہت جلد شام میں جاری جنگ بندی ناکام ہوجائے گی اور شام کے خلاف فوجی مداخلت کا آغاز کر دیا جائے گا۔ سعودی وزیر خارجہ کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب شام میں جنگ بندی کی ناکامی کے بہانے تلاش کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب اس وقت خطے کے تمام ایشوز میں اپنی شکست کا احساس کر رہا ہے۔ وہ خود کو لبنان، یمن، عراق، لیبیا اور شام میں ناکامی کا شکار دیکھ کر یہ آرزو کر رہا ہے کہ شام کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں، تاکہ اس طرح اپنی ناکامیوں سے حاصل ہونے والے زخموں پر تھوڑی مرہم لگا سکے۔ اسی لئے سعودی عرب کو شام میں فوجی مداخلت کی بہت جلدی ہے اور حتی اس نے اپنے فوجی اور جنگی جہاز بھی ترکی میں واقع انجرلک ہوائی اڈے پر پہنچا دیئے ہیں۔

ترکی ہر حال میں شکست خوردہ ملک:
ترکی دیکھ رہا ہے کہ وہ دونوں صورتوں میں شکست کا شکار ہوگا، چاہے شام میں جاری جنگ بندی کامیابی سے ہمکنار ہو جائے اور صدر بشار الاسد اقتدار میں باقی رہیں یا جنگ بندی میں ناکامی کی صورت میں امریکہ "بی" پلان پر عمل کرتے ہوئے شام میں فوجی مداخلت کا آغاز کر دے۔ اسی لئے ترکی نے رسمی طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ شام کے خلاف فوجی مداخلت میں شرکت نہیں کرے گا۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے بیانیہ صادر کیا ہے جس میں انہوں نے رسمی طور پر اعلان کیا ہے کہ انقرہ کسی صورت میں شام میں فوجی مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ترکی کو اچھی طرح معلوم ہے کہ امریکہ کی سربراہی میں تشکیل پانے والے اتحاد کی جانب سے شام میں فوجی مداخلت اور "بی" پلان کا اجرا کردوں کی حمایت اور تعاون کے بغیر ممکن نہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ شام کے کرد یا تو خود مختاری حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور یا پھر عراق کے کردوں کی طرح علاقائی خود مختاری حاصل کر لیں گے۔ امریکہ نے کردوں کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات استوار کر رکھے ہیں اور یہ امر ترکی کیلئے بالکل قابل قبول نہیں۔ اسی وجہ سے رجب طیب اردوگان ہمیشہ غصے کی حالت میں امریکیوں کو مخاطب قرار دے کر کہتے ہیں کہ انہیں ترکی اور کردوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ترکی اس بات سے خوفزدہ ہے کہ امریکہ کا "بی" پلان کردوں کو قانونی جواز فراہم کر دے اور اس کے نتیجے میں کردوں کی تحریک آزادی ترکی تک آ پہنچے۔ لہذا ترکی ہر صورت میں خود کو شام میں شکست خوردہ دیکھ رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 525294
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب