0
Friday 18 Mar 2016 22:09

نہیں مسٹر اوباما، ہم ایسے نہیں، ترکی الفیصل

نہیں مسٹر اوباما، ہم ایسے نہیں، ترکی الفیصل
تحریر: ایس این حسینی

سعودی عرب کے خفیہ ادارے کے سابق چیف ترکی الفیصل نے امریکی صدر براک اوباما کے اس بیان پر تنقید کی ہے، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ سعودی عرب امریکہ کا اتحادی ہوتے ہوئے مشرق وسطٰی میں تنازعات کو ہوا دیتا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی صدر براک اوباما نے دی ایٹلانٹک جریدے کو دیئے گئے اپنے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ سعودی عرب امریکی خارجہ پالیسی سے مفت میں فائدے اٹھاتا رہا ہے۔ (مگر مفکرین کے مطابق امریکہ بہادر کو بہت عرصہ بعد پتہ چلا ہے کہ سعودی عرب اسکا اتحادی ہونے کے باوجود تنازعات اور شرپسندی کو ہوا دے رہا ہے۔)

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی اخبار میں شائع ہونے والے پرنس ترکی الفیصل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آپ ہم پر شام، یمن اور عراق میں فرقہ وارانہ فساد بھڑکانے کا الزام لگا رہے ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ اپنی دنیا بانٹنے کے لئے آپ نے ہم سے یہ کہہ کر ہمارے زخم دوبارہ تازہ کر دیئے ہیں۔ (ماہرین کے مطابق انہوں نے اوباما کو مخاطب کرتے ہوئے شرمیلے انداز میں یہ بھی کہا، مسٹر اوباما! ہمیں آپ سے بہت ہی شکوہ ہے کہ ایک عمر نمک حلالی کرکے بھی ہمین شرف قبولیت نہیں بخشی، جبکہ ایران جسے آپ خود ایک دہشت گرد ملک کہہ کر پکارتے ہیں، اسکے خلاف اب تم نے اپنی منہ ہی سی لی۔

پرنس ترکی الفیصل نے (ناامیدی کا اظہار کرکے یہ شکایت کرتے ہوئے) کہا کہ کیا امریکہ اپنی 80 سالہ دوستی کو چھوڑ کر ایسی ایرانی قیادت کی جانب بڑھ رہا ہے، جو ہمیشہ سے امریکہ کو اپنا سب سے بڑا دشمن کہتی آئی ہے اور مسلم دنیا میں ایسی ملیشیاؤں کی مالی مدد کے ساتھ ساتھ انھیں اسلحہ فراہم کرتی رہی ہے جو (نہ صرف) ہماری مفادات کے خلاف (بلکہ خود امریکہ اور اسکے بغل بچے اسرائیل کے خلاف بھی ہر وقت) برسر پیکار ہے۔ امریکی صدر کے مذکورہ الزام پر سابق انٹیلی جنس چیف پرنس ترکی الفیصل نے کہا ‘‘نہیں مسٹر اوباما ہم مفت میں فائدہ اٹھانے والے نہیں ہیں بلکہ ہم تو ہمیشہ امریکیوں کو اپنا (ایمانی بھائی اور) اتحادی سمجھیں گے کیونکہ ہم ایسے ہی (وفادار دوست) تو ہیں۔

براک اوباما کا مزید کہنا تھا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی سے شام، عراق اور یمن میں پراکسی وار کو بڑھاوا ملا ہے۔ ہمیں اپنے دوستوں کے ساتھ ساتھ ایرانیوں کو بھی یہ کہنے کی ضرورت ہے کہ قیام امن کے لئے کوئی موثر حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ (مسٹر آل سعود اینڈ کمپنی نے ناامیدی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، مسٹر امریکہ! نہایت افسوس کی بات ہے کہ جب تمہارا مخاطب آپکے اپنے بھائی ہوتے ہیں تو تمہارا لہجہ نہایت سخت ہوا کرتا ہے، مگر جب تمہارا خطاب صہیونیوں اور ایمپیرلیسٹوں کے بدترین دشمن، ایران سے ہوتا ہے تم تمہارا لہجہ دھیما سا پڑ جاتا ہے۔)

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے (امریکہ نے اپنے موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد تم سمجھ نہ سکے، ہم نے تیس سال تک ایران کے ساتھ جتنا سخت لہجہ استعمال کیا، جتنی دشمنی کی، اسکا صلہ ہمیں دنیا بھر میں اپنی اور اپنے بغل بچے اسرائیل کی بدنامی کے سوا کچھ بھی نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے، ہم سمیت تمام مخالفین نے ایران کے ساتھ لہجہ جتنا تیز استعمال کیا ہے، اسکا جواب اینٹ کے مقابلے میں پتھر سے بھی بڑھ کر سخت ملا ہے۔ اپنے ایمانی برادران آل سعود کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ میں جو سخت لہجہ استعمال کرتا ہوں اسکا تم بر ہرگز برا نہ مانو، ہماری نیت آپکے لئے بالکل صاف ہے۔ یہ تو صرف اس وجہ سے ہے کہ ہمیں تم پر پورا پورا اعتماد ہے کہ تم ہر لحاظ سے ہمارا خیال رکھوگے، ہمیں بدنامی سے بچائے رکھو گے، جبکہ ایران سے تو ہمیں خیر کی ایسی کوئی امید نہیں۔ وہ تو معمولی معمولی حرکتوں پر ہماری بے عزتی پر اتر آتا ہے۔ ہماری کشتیوں کو یرغمال بنا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے حوالے سے ہم نے اپنا پینترا تبدیل کیا ہے۔ ورنہ خلیج میں ہماری کشتیوں کی حرکت ہی ناممکن ہوجائے گی۔
خبر کا کوڈ : 528268
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب