0
Wednesday 6 Apr 2016 22:11

یمن، سعودی جارحیت کے ایک سال بعد

یمن، سعودی جارحیت کے ایک سال بعد
تحریر: محمد خواجوئی

25 مارچ 2015ء وہ دن ہے جب سعودی عرب نے یمن کے خلاف فوجی جارحیت کا آغاز کیا۔ اب جبکہ اس جارحیت کو ایک سال گزر چکا ہے، یمن کی صورتحال کیا ہے؟ کیا سعودی عرب یمن کے خلاف اپنی جنگ کے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے؟ اس جنگ کے اثرات کیا تھے ؟ اور سب سے زیادہ اہم سوال یہ کہ جنگ کے خاتمے اور یمن میں امن و امان کی بحالی کی کس حد تک امید لگائی جاسکتی ہے۔؟ ملک عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کی موت کے بعد ان کے بھائی سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سعودی عرب کے نئے فرمانروا کے طور پر سامنے آئے۔ اس تبدیلی کے بعد سعودی حکومت میں بھی بعض نئے چہرے متعارف کروائے گئے اور سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں بھی چند بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ سعودی عرب جو میانہ روی، کنزرویٹوازم اور قدم بقدم حرکت میں مشہور تھا، اچانک اس کے رویے میں تبدیلی دیکھی گئی اور اس نے جارحانہ اور البتہ جلد بازی پر مبنی پالیسیاں اپنانا شروع کر دیں۔

اس نئی خارجہ پالیسی کا مقصد خطے میں خاص طور پر ایران کے مقابلے میں سعودی عرب کی مسلسل ناکامیوں کو روکنا تھا۔ اس دوران یمن کے خلاف سعودی جارحیت خطے میں سعودی عرب کی پہلی بڑی جنگ اور سعودی حکومت کی نئی جارحانہ اور مہم جوئی پر مبنی خارجہ پالیسی کے پہلے عملی اقدام کے طور پر رونما ہوئی۔ یمن میں سعودی پٹھو حکمران عبد ربہ منصور ہادی کی سرنگونی اور انصاراللہ یمن کی طاقت میں اضافے نے سعودی حکومت کو خوف زدہ کر دیا اور آل سعود رژیم نے احساس کیا کہ اگر وہ جلد از جلد یمن پر فوجی حملہ نہیں کرتی تو یہ ملک اس کے تسلط سے ہمیشہ کیلئے باہر نکل جائے گا اور ایسا ملک جسے سعودی عرب اپنے گھر کا پچھواڑہ تصور کرتا تھا، ایران کی حامی قوتوں کے ہاتھ چلا جائے گا۔ سعودی حکومت نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ ایران عرب دنیا کو نگلنے کی کوشش کر رہا ہے، دیگر عرب ممالک کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش شروع کر دی اور یمن کے خلاف جنگ کیلئے ایک وسیع اتحاد بنانے کا ارادہ کر لیا۔

اگرچہ ان کوششوں کے نتیجے میں خطے کے بعض ممالک پر مشتمل سعودی عرب کی سربراہی میں ایک فوجی اتحاد تشکیل پا گیا، لیکن اکثر ممالک نے عملی میدان میں سعودی عرب کا ساتھ نہیں دیا۔ مصر ان اہم عرب ممالک میں سے ایک تھا، جنہوں نے یمن کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی ہمراہی نہیں کی۔ سعودی حکام نے یمن کے خلاف جنگ کا نام "فیصلہ کن طوفان" رکھا۔ گویا وہ اس نام سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ سعودی عرب چند دنوں میں یا زیادہ سے زیادہ چند ہفتوں میں اپنے مطلوبہ سیاسی اہداف حاصل کر لے گا اور انصاراللہ یمن کو کچل ڈالے گا اور مستعفی صدر منصور ہادی کو یمن کے دارالحکومت صنعا میں دوبارہ اقتدار میں واپس لے آئے گا۔ لیکن اب تک سعودی جارحیت کو شروع ہوئے ایک سال گزر چکا ہے اور فیصلہ کن طوفان کے اثرات دکھائی نہیں دے رہے۔ انصاراللہ یمن اور یمن آرمی انتہائی محدود فوجی وسائل کے ساتھ سعودی جارحیت کا مقابلہ کر رہی ہے جبکہ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ سعودی عرب خطے میں جدید ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار تصور کیا جاتا ہے۔

امریکہ اور مغربی طاقتوں کی حمایت حاصل ہونے اور جدید ترین اسلحہ سے لیس ہونے کے باوجود سعودی عرب کی یمن میں ناکامی نے فوجی میدان میں اس کی کارکردگی کو مشکوک بنا دیا ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سعودی عرب یمن کے خلاف بے نتیجہ ہوائی حملوں کو جاری رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، جس کا واضح ثبوت یمن سے متعلق سعودی موقف میں پسپائی کا مشاہدہ ہے۔ تقریباً تین ہفتے قبل سعودی حکومت کا حامی تصور کئے جانے والے اخبار "الحیات" نے خبر دی ہے کہ سعودی حکام نے سعودی عرب میں انصاراللہ یمن کے نمائندوں سے ایک خفیہ میٹنگ منعقد کی ہے۔ یہ خبر شائع ہونے کے چند دن بعد انصاراللہ یمن کے ترجمان نے اعلان کیا کہ ان کا سعودی عرب سے جنگ بندی سے متعلق معاہدہ ہوگیا ہے۔ محمد عبدالسلام نے کہا کہ طرفین کے درمیان بعض مسائل پر اتفاق رائے ہوا ہے، جنہیں بنیاد بنا کر باہمی مفاہمت اور اعتماد بڑھانے کیلئے مزید اقدامات انجام دیے جاسکتے ہیں اور یمن کے خلاف جاری جنگ کا مکمل خاتمہ عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی حکام سے انجام پانے والے مذاکرات میں دونوں طرف قیدیوں اور گمشدہ افراد کی لسٹ کا تبادلہ ہوا اور ایک ایسی مشترکہ کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کا کام ان کے بارے میں معلومات کی جمع آوری ہے۔

المیادین چینل نے بھی باخبر ذرائع کے بقول اعلان کیا ہے کہ سعودی حکام اور انصاراللہ یمن کے درمیان مذاکرات محض انسانی بنیادوں پر انجام پانے والے اقدامات تک محدود نہ تھے اور اس بات چیت کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور سیاسی عمل کو دوبارہ شروع کرنا تھا۔ اسی طرح کچھ دن قبل سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے عرب فوجی اتحاد کے ترجمان احمد العسیری نے کہا ہے کہ یمن میں سعودی عرب کی فوجی کارروائی اپنے آخری مراحل میں ہے۔ حالیہ خبریں اور تبدیلیاں بذات خود سعودی حکمرانوں کی جانب سے یمن کے حقائق کو تسلیم کئے جانے کا ٹھوس ثبوت ہیں۔ سعودی حکومت نے ہرگز انصاراللہ کے وجود کو تسلیم نہیں کیا، جس کے نتیجے میں اس نے اس انقلابی گروہ کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی کا اظہار بھی نہیں کیا۔ سعودی حکام ہمیشہ اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ وہ صرف اور صرف یمن کے مستعفی صدر منصور ہادی سے بات چیت پر تیار ہیں۔ لہذا حال ہی میں سعودی حکام اور انصاراللہ یمن کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کا انعقاد درحقیقت سعودی عرب کی جانب سے اپنے گذشتہ موقف سے پسپائی ہے۔

دوسری طرف سعودی عرب کو یمن کے خلاف ہوائی حملوں کے دوران سویلین افراد کو نشانہ بنانے کے باعث عالمی اداروں اور دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے اور دباو کا شکار ہوچکا ہے۔ اقوام متحدہ کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران یمن پر سعودی فوجی جارحیت کے دوران 6000 سے زائد سویلین جاں بحق ہوچکے ہیں۔ حال ہی میں یورپ کی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد منظور کی، جس میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ یمن میں سعودی عرب کی جانب سے جنگی جرائم کے ارتکاب اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے پیش نظر اس ملک کو اسلحہ بیچنے پر پابندی عائد کریں۔ اسی طرح انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی لندن اور واشنگٹن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے پیش نظر سعودی عرب کو اسلحہ بیچنا بند کر دیں۔

سعودی عرب کو یمن کے خلاف جنگ کا بھاری تاوان ادا کرنا پڑ رہا ہے اور گذشتہ ایک سال کے دوران اس کا شدید اقتصادی اور فوجی نقصان ہوا ہے۔ سعودی حکام نے یمن کے خلاف جنگ میں اب تک 300 فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے۔ جبکہ ڈیلی انڈیپنڈنٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ یمن کے خلاف جنگ کے دوران سعودی عرب کے ہلاک شدہ فوجیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے، جو سعودی عرب نے اعلان کی ہے۔ اس اخبار کے مطابق اب تک سعودی عرب کے 3500 فوجی ہلاک، 6500 زخمی اور 430 فوجی لاپتہ ہوچکے ہیں۔ ایسی صورتحال میں یمن میں اقوام متحدہ کے نمائندے اسماعیل ولد الشیخ نے جنگ بندی کی خاطر ریاض اور صنعاء کے دوروں کے نئے سلسلے کا آغاز کر دیا ہے۔ ان دوروں کا مقصد دونوں ممالک کو جنگ بندی پر آمادہ کرنا اور امن مذاکرات شروع کروانا ہے۔ اس سے پہلے جنیوا میں سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات کے دو دور منعقد ہوچکے ہیں، لیکن ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

اسماعیل ولد الشیخ نے اعلان کیا ہے کہ 10 اپریل سے سعودی عرب اور یمن میں جنگ بندی کا آغاز ہو جائے گا اور 18 اپریل کو کویت میں سعودی حکومت اور انصاراللہ یمن کے درمیان مذاکرات شروع ہوجائیں گے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یمن کے خلاف سعودی جارحیت کو ایک سال گزر جانے کے بعد یمن کی سیاسی صورتحال نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ جو چیز اس وقت واضح ہے وہ یہ کہ طرفین شدت پسندی کے خاتمے پر راضی نظر آتے ہیں۔ اب یہ دیکھنا پڑے گا کہ آئندہ شروع ہونے والے مذاکرات کس سمت میں جاتے ہیں۔ موجودہ قرائن و شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ایک اہم ایشو عبوری حکومت کا قیام ہوگا۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ فریقین عبوری حکومت کے قیام کی ضرورت پر اتفاق رائے رکھتے ہیں۔ یہ امر بذات خود انصاراللہ یمن کی کامیابی محسوب ہوتی ہے، جس کے ذریعے یمن کا اقتدار منصور ہادی سے قومی حکومت کو منتقلی کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 531993
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے