0
Tuesday 12 Apr 2016 13:47

مغرب نے دہشتگردی کو کیسے جنم دیا؟

مغرب نے دہشتگردی کو کیسے جنم دیا؟
تحریر: آندرے ویلچک (Andre Vltchek)
(معروف مغربی فلاسفر، فلم ساز، صحافی اور لکھاری)

دہشت گردی کی بہت سی شکلیں اور چہرے ہیں، لیکن ان میں سے سب سے زیادہ خوفناک صورت بے رحم دہشت گردی ہے۔ ہم سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس بات پر یقین کر لیں کہ دہشت گرد درحقیقت ایسے نفسیاتی مریض ہیں جو بم، مشین گنوں اور خودکش جیکٹس کے ساتھ ادھر سے ادھر چکر کاٹتے رہتے ہیں۔ ہم سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہم اپنے ذہن میں دہشت گردوں سے متعلق ایسا تصور قائم کر لیں۔ ان میں سے اکثریت داڑھی والوں کی ہے۔ وہ سب غیر مغربی دکھائی دیتے ہیں۔ مختصر یہ کہ وہ خواتین کو مارتے پیٹتے ہیں اور یونانی اور رومی مجسموں کو مسمار کرتے ہیں۔ درحقیقت سرد جنگ کے دوران بعض "سفید پوست" دہشت گرد بھی موجود تھے۔ اٹلی اور یورپ کے بعض دیگر حصوں میں انقلابی گروہوں سے تعلق رکھنے والے بائیں بازو کے افراد۔ لیکن آج ہمیں اس حقیقت کا علم ہوا ہے کہ ان کی دہشت گردانہ سرگرمیاں سلطنت کا نتیجہ تھیں اور ان کے پیچھے یورپ کے کئی دائیں بازو کے ممالک اور انٹیلی جنس اداروں کا ہاتھ تھا۔ آپ کو یقیناً یاد ہوگا کہ نیٹو کے رکن ممالک نے کئی ٹرینوں کو سرنگوں کے اندر دھماکے سے اڑا دیا یا پورے کے پورے ریلوے اسٹیشنز کو ہوائی حملوں کا نشانہ بنا ڈالا اور یہ کام "ہونا ضروری تھا" تاکہ بائیں بازو والوں کو بدنام کیا جاسکے۔

لیکن دہشت گرد اس وقت مغرب میں مقبول ہوئے جب سابق سوویت یونین اور کمیونیسٹ بلاک ہزاروں اقتصادی، فوجی اور پروپیگنڈہ ہتھکنڈوں کے ذریعے ٹوٹا اور اب مغربی دنیا ایسے دشمن کی تلاش میں تھی، جس سے جنگ کرے اور افریقہ، ایشیا، مشرق وسطٰی اور لاطینی امریکہ میں اپنے جابرانہ اور بھیانک اقدامات کی توجیہہ پیش کرسکے۔ مغرب ایک "طاقتور" نئے دشمن کی تلاش میں تھا، تاکہ اس طرح اپنے عظیم فوجی اور انٹیلی جنس بجٹ کا جواز فراہم کرسکے۔ کولمبیا کے جنگلوں یا شمالی آئرلینڈ یا کوسٹاریکا میں چند صد بے وقوف دہشت گرد مغرب کے مطلوبہ اہداف کو تحقق بخشنے کیلئے کافی نہ تھے۔ وہ ایک ایسے دشمن کی تلاش میں جسے سابق سوویت یونین کی طرح واقعاً ایک عظیم اور "شیطانی خطرہ" بنا کر پیش کیا جاسکے۔ وہ ایک دم ایسے خطرے کے کس قدر مشتاق ہوچکے تھے۔ البتہ جو صرف ایک خطرے کی حد تک ہو، نہ ایسی قوت جس کے اہداف جغرافیائی سرحدوں سے بالاتر اور مغرب کی برابری کرنے پر استوار ہوں۔

یوں مغرب نے دہشت گردی کا ناطہ "اسلام" جیسے دین سے جوڑنے کی کوشش کی جو 1.5 ارب پیروکاروں کا حامل ہونے کے ناطے دنیا کی سب سے بڑی تہذیب و تمدن گمان کیا جاتا ہے۔ اسلام اس قدر عظیم اور طاقتور ہے کہ اس کے نام سے ایک مغربی دیہاتی علاقے میں رہنے والے اوسط درجے کے خاندانوں کو ڈرایا دھمکایا جاسکے۔ لیکن اس مقصد کے حصول کیلئے کافی محنت کی ضرورت تھی، کیونکہ اسلام اپنی ذات میں انصاف طلب اور امن پسند مذہب ہے۔ لہذا مغربی استعماری طاقتوں نے اسلام کو اپنے مطلوبہ دشمن میں تبدیل کرنے کی غرض سے پہلے سے موجود بے شمار مسلمان گروہوں اور تنظیموں کو شدت پسندی اور انحراف کی طرف سوق دینا شروع کر دیا۔ اس کے بعد اگلے مرحلے ایسے نئے گروہ اور تنظیمیں تشکیل دینے کا منصوبہ بنایا گیا، جنہیں ٹریننگ، اسلحہ اور پیسہ دے کر شدت پسندانہ اور غیر انسانی سرگرمیوں پر اکسایا جاسکے اور اس طرح مغربی عوام کو اسلام کے نام سے خوفزدہ کیا جاسکے۔

البتہ "دہشت گردی" خاص طور پر "اسلامی دہشت گردی" کو مغربی آمریت، نظریات اور برتری کی بقاء کیلئے ضروری قرار دینے کی ایک اور اہم وجہ اخلاقی اور ثقافتی اعتبار سے مغرب کی مکمل برتری کا تاثر قائم کرنا ہے۔ گذشتہ کئی صدیوں سے مغربی دنیا ایک پاگل اور خونی دیو کے طور پر عمل کرتی آئی ہے۔ مغربی میڈیا کی جانب سے دنیا بھر میں مغرب کی مقدس تصویر پیش کئے جانے کے باوجود سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ مغربی استعماری طاقتیں دنیا کے ہر گوشے میں ظلم و ستم، قتل اور لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ دنیا کی جانب سے اس حقیقت کو درک کرنے میں کہ مغرب ایک شر اور زہریلی بیماری کے علاوہ کچھ نہیں فقط چند عشروں کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ لہذا مغربی سیاست دانوں نے اس حقیقت کو آشکار ہونے سے روکنے کیلئے ہر ممکن طریقہ اختیار کرنے کا عزم کر لیا۔

اس طرح مغربی مفکرین، تھنک ٹینکس اور پروپیگنڈہ مشینری ایک نئے اور روشن فارمولا لے کر میدان میں اتر آئے: "آئیں ایسا گروہ تشکیل دیں، جو ہم سے بھی زیادہ بدتر نظر آئے اور ہم سے بھی زیادہ وحشیانہ انداز میں عمل کرے۔ ایسی صورت میں ہم یہ پروپیگنڈہ کرسکتے ہیں، درحقیقت ہماری ثقافت ہی دنیا کی منطقی ترین اور دوسروں کو سب سے زیادہ تحمل کرنے والی ثقافت ہے۔ اس کے بعد اگلا ہتھکنڈہ استعمال کرتے ہوئے اپنے ہی پیدا کردہ گروہ کے ذریعے جنگ کی آگ بھڑکائیں اور آزادی اور جمہوریت کے نام پر اس سے مقابلے کا ڈرامہ رچائیں۔" یوں "دہشت گردوں" کی نئی نسل پیدا کی گئی۔ یہ نسل اب تک باقی اور زندہ و سلامت ہے اور اپنی تعداد میں اضافہ بھی کر رہی ہے۔ اب تک مغربی دہشت گردی کے بارے میں زیادہ گفتگو اور بحث نہیں کی گئی۔ اگرچہ اس دہشت گردی کی شدت پسند ترین اور وحشی ترین شکل بری طرح دنیا کو نابود کرنے میں مصروف ہے اور اس وقت تک دنیا بھر میں سینکڑوں ملین انسانوں کی جان لے چکی ہے۔

حتی طالبان، داعش اور القاعدہ جیسے مغربی لیجنر اور گلیڈیئٹر بھی وحشیانہ پن کی اس حد تک نہیں پہنچ سکے، جہاں مغربی دہشت گردی پہنچی ہوئی تھی۔ البتہ ان گروہوں کی تمام تر کوشش یہی ہے کہ اپنے ماضی کے ہمتاوں سے برابری کرسکین، لیکن ان جیسا وحشیانہ پن اور حیوانیت ان کے بس کی بات نہیں۔ "مغربی ثقافت" نے نسل کشی کی ایک محدود مدت میں 1 کروڑ انسانوں کی جان لے لی۔ لیکن حقیقی دہشت گردی کیا ہے اور داعش اور اس سے مشابہہ دیگر دہشت گرد گروہ کس طرح اس کے راستے پر چل سکتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ داعش دوسروں کی گردنیں اڑاتے ہیں۔ یہ بہت برا کام ہے، لیکن اس میدان میں داعش کا استاد کون ہے۔؟ کئی صدیوں سے یورپی سلطنتیں دنیا بھر کے تمام ممالک میں انسانوں کی قتل و غارت میں مصروف تھیں اور انہیں ٹارچر اور ظلم و ستم کا نشانہ بناتی رہتی تھیں۔ وہ مغربی طاقتیں جو خود براہ راست ایسے اقدامات انجام نہیں دیتی تھیں، اپنے استعماری نمائندوں سے مدد حاصل کرتے تھے اور انہیں مختلف ممالک میں بھیج کر نسل کشی جیسے اقدامات میں شریک کرتے تھے۔

کنگ لیوپولڈ ٹو اور اس سے وابستہ گینگز نے وسطی افریقہ کے مغرب اور مرکز جو آج کل کانگو کے نام سے جانا جاتا ہے، میں 1 کروڑ انسانوں کا قتل عام کیا۔ وہ جس طرح حیوانوں کا شکار کیا کرتا تھا، اسی طرح انسانوں کا شکار بھی کیا کرتا تھا اور انہیں اپنے کھیتوں میں کام کرنے پر مجبور کرتا تھا۔ اگر اسے کسی فرد کے بارے میں ہلکا سا شک بھی ہو جاتا تھا کہ وہ اب حکومتی خزانے کیلئے مفید ثابت نہیں ہوسکتا تو اس کے ہاتھ کاٹنے سے گریز نہیں کرتا تھا۔ وہ پورے کے پورے گاوں کو جھونپڑیوں سمیت جلا کر راکھ کر ڈالتا تھا۔ ایک کروڑ انسان اس کے ظلم و ستم کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اتنی تعداد میں انسان حتی "قرون وسطٰی" کے دور میں بھی قتل نہیں ہوئے تھے، لیکن بیسویں صدی میں خود کو جمہوری اور پارلیمانی سلطنتی کہلوانے والی حکومت نے یہ کام کر دکھایا۔ اس عظیم قتل عام کا موازنہ کیسے داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں جاری دہشت گردی سے کیا جا سکتا ہے؟ آئیں بعض اعداد و ارقام پر نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ کیا ایسا موازنہ کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

1995ء کے بعد ایک بار پھر افریقہ میں مغربی استعماری طاقتوں کے نمائندوں روانڈا اور یوگنڈا نے ریاستی دہشت گردی کے دوران عوامی جمہوریہ کانگو کے ایک کروڑ شہریوں کا قتل عام کر ڈالا۔ جرمن حکام نے افریقہ کے جنوب مغربی حصے جو آج کل نمیبیا کے نام سے جانا جاتا ہے، میں متعدد ہولوکاسٹ کا اجراء کرتے ہوئے وسیع نسل کشی اور قتل عام کا بازار گرم کیا۔ اس قتل عام میں "ہرہرو" قبیلہ مکمل طور پر نابود ہوگیا یا کم از کم اس کے 90 فیصد باشندے موت کی گھاٹ اتار دیئے گئے۔ ابتدا میں اس قبیلے کے افراد کو اپنے گھروں سے نکال کر صحرا میں لے جایا گیا۔ اس کے بعد ان میں سے زندہ بچ جانے والوں کو جرمن نازی ان کا پیچھا کرکے انہیں قتل کر دیتے۔ اسی طرح جرمن قوم اور سفید فام انسانوں کی برتری کو ثابت کرنے کیلئے انسانوں پر کئی میڈیکل تجربات کئے جاتے تھے۔ وہ بے گناہ عام انسان تھے اور ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ سفید فام نہیں تھے اور ایسی سرزمین میں زندگی بسر کر رہے تھے، جس پر یورپی ممالک نے فوجی جارحیت کے ذریعے قبضہ کر رکھا تھا۔ طالبان اور حتی داعش اس سطح کی بربریت اور وحشیانہ پن سے قریب بھی نہیں ہوئے۔

آج بھی نمیبیا کی حکومت ان بے شمار بیگناہ انسانوں کے سروں کی واپسی کا مطالبہ کرتی نظر آتی ہے، جو ایک زمانے میں مغربی فوجی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ ان سروں کو بیگناہ انسانوں کے دھڑوں سے جدا کرکے میڈیکل تجربات کیلئے فرائبرگ یونیورسٹی اور برلن کے کئی اسپتالوں کو بھیجا گیا تھا۔ آپ تصور کریں کہ اگر داعش ہزاروں یورپی شہریوں کا سر تن سے جدا کرکے عرب نسل کی برتری ثابت کرنے کی خاطر ان پر میڈیکل تجربات انجام دیتا تو کیا ہوتا؟ کیا ایسے اقدام کا تصور بھی کیا جاسکتا ہے؟ لیکن مغربی عوام ماضی میں انجام پانے والے ان اقدامات سے بالکل لاعلم ہیں۔ یورپ اور شمالی امریکہ کے لوگ ترجیح دیتے ہیں کہ وہ ماضی اور حال کے بارے میں کچھ نہ جانیں۔ وہ صرف اتنا جانتے ہیں کہ دنیا پر ان کی برتری اور تسلط کی وجہ ان کا آزاد، ذہین اور محنتی ہونا ہے۔ وہ اس حقیقت سے غافل ہیں آج دنیا پر ان کی برتری اور تسلط کی حقیقی وجہ گذشتہ کئی صدیوں تک مغربی طاقتوں کی جانب سے دنیا بھر میں لوٹ مار اور قتل و غارت کا بازار گرم کرکے دنیا والوں پر رعب اور وحشت طاری کرنا اور انہیں اپنے اطاعت پر مجبور کرنا ہے۔

مغرب کے کھیل انتہائی پیچیدہ اور ماہرانہ ہیں۔ ان کے یہ کھیل مشکوک اور عدمیت پر مبنی ہیں۔ اس قدر تباہ کن اور بے رحمانہ ہیں کہ حتی ذہین ترین تجزیہ نگار اکثر اپنے مشاہدات اور فیصلوں پر شک کا شکار ہو جاتے ہیں۔ "کیا حقیقت میں ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں؟" اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ "جی ہاں" رونما ہوئے ہیں۔ کئی عشروں تک انجام پائے ہیں اور انجام پا رہے ہیں۔ تاریخی اعتبار سے "دہشت گردی" مغرب کا مقامی ہتھیار تصور کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر برطانیہ کے وزیراعظم لائیڈ جارج نے سویلین افراد کو ہوائی حملوں کا نشانہ بنانے کو ممنوع قرار دینے والے معاہدے پر دستخط سے انکار کر دیا۔ انہوں نے اپنے اس فیصلے کی دلیل یہ بیان کی کہ: "ہم اپنے لئے ان نیگروز (سیاہ فام) کو ہوائی حملوں کا نشانہ بنانے کا حق محفوظ جانتے ہیں۔" اسی طرح ونسٹن چرچل کردوں اور عربوں جیسی "پست" نسلوں کے مکمل خاتمے کا شدید حامی جانا جاتا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ جب ایک ایسا ملک جو اس یورپی جتھے میں شمار نہیں ہوتا، جیسے روس، دہشت گرد عناصر کے خلاف ایک حقیقی جنگ کا آغاز کرتا ہے تو تمام مغربی دنیا وحشت زدہ ہو جاتی ہے۔ کیونکہ روس ان کی گیم خراب کر رہا ہے۔ روس انتہائی خوبصورتی سے بنایا گیا نو استعماری توازن بگاڑ رہا ہے۔ مختصر یہ کہ ہمیں ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ استعمار اور سامراجیت مہلک ترین دہشت گردی کی دو شکلیں ہیں اور یہ دونوں بدستور مغرب کے وہ حقیقی ہتھکنڈے ہیں، جن کے ذریعے اس نے پوری دنیا پر اپنا تسلط قائم کر رکھا ہے۔
خبر کا کوڈ : 532969
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب