0
Monday 2 May 2016 16:00

یمن کی تحریک مزاحمت فتح کے قریب(1)

یمن کی تحریک مزاحمت فتح کے قریب(1)
تحریر: زاہد عباس

رسالت مآب حضرت محمد مصطفٰی کے عشاق کی سرزمین پچھلے ایک سال سے سعودی، یہودیوں اور امریکیوں کے ظلم وستم کا نشانہ بنی ہوئی ہے، غارتگر کلسٹر بموں سے اس سرزمین عشق کے باسیوں کے جسموں کے چیتھڑے اڑا رہے ہیں۔ عالمی استعمار اور اسکے مقامی و علاقائی طفیلیوں کو یہ گوارا ہی نہیں کہ کوئی اپنی مرضی اور منشا کے مطابق آزادی رائے کے اظہار کی جرات کرتے ہوئے اپنے لئے پسندیدہ حکمرانوں کا انتخاب کرسکے۔ وہ اس بات پر بضد ہیں کہ وہ مناطق جہاں انکے مفادات وابستہ ہیں، وہاں اپنے کٹھ پتلی حکمرانوں کو اقتدار پر بٹھائے رکھے، تاکہ انکے مخصوص مفادات محفوظ رہیں۔ یمن کے باسیوں کی بس یہی خطا تھی کہ انہوں نے عالمی استعمار کے موجودہ نظام سے بغاوت کرتے ہوئے اللہ اکبر، اللہ اکبر، الموت لا مریکہ، الموت لا سرائیل کا نعرہ بلند کیا۔

یمن پر سعودی عرب کی زیر قیادت استعمار کے غلام 26 ممالک کے نام نہاد اتحاد نے مارچ 2015ء سے حملے شروع کر رکھے ہیں،13 ماہ کا عرصہ گزرنے کے بعد ان حملوں میں 9 ہزار سے زائد یمنی بچے، عورتیں، بوڑھے اور جوان شہید ہوچکے ہیں جبکہ 10 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ ان جان لیوا فضائی حملوں کے نتیجے میں ہونیوالی بمباری کا نشانہ بننے والی تنصیبات میں مساجد، سکول، یونیورسٹیز، کالجز، مدارس، واٹر سپلائی، ہسپتال، تھانے، مارکیٹیں، گودام، سڑکیں اور رہائشی عمارتیں شامل ہیں۔ الغرض سعودی جنایت کاری نے بے شک پورے یمن کا انفراسٹرکچر تو تباہ کرکے رکھ دیا ہے، لیکن یمن کے عظیم جذبہ حریت کو شکست دینے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔ ان حملوں میں یمن کی تقریباً 28 لاکھ کے قریب آبادی، گھروں سے محروم ہوچکی ہے، جو امدادی کیمپوں، سڑک کنارے خیموں اور کھلے میدانوں میں موجود ہے۔

ایک سال گزرنے کے بعد سعودی عرب، امریکہ اور اسرائیل کی پشت پناہی کے باوجود یمنی مزاحمت کو شکست تو نہ دے سکا، البتہ خود اپنے بھاری بھر کم اتحاد کے بوجھ سے یمن کی سرزمین پر اپنی خواہشات کی قبر کے کنارے جا پہنچا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی اشارے پر پورے خطے میں اسلامی بیداری کی لہر کو سبوتاژ کرنے اور شام، لبنان، عراق، بحرین اور لیبیا میں عربوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے خائن سعودی حکمرانوں کا اپنا حکومتی اسٹرکچر دگرگوں ہوچکا ہے۔ دنیا کی سب زیادہ امیر ریاست پہلی مرتبہ 99 بلین ڈالر کے بجٹ خسارے کا شکار ہوچکی ہے۔ ماہرین کے اندازوں کے مطابق ایسی صورتحال کے ذمہ دار سعودی خائن حکمران ہیں، جن کی ناعاقبت اندیشی اور کٹھور پن کی وجہ سے جہاں آج امت مسلمہ عدم اسحتکام کا شکار ہوچکی ہے، وہیں اس خاندانی بادشاہت کا چل چلاؤ بہت قریب کی بات محسوس ہوتی ہے۔

یمن کی یک طرفہ جنگ کے باوجود جو ریاست اہل یمن کے ارادوں اور استقامت کو کمزور نہ کرسکی، یمن جنگ کو چند دنوں میں ختم کرنے کے دعوے کرنیوالی ریاست کو ایک سال گزرنے کے بعد ہی اپنی کم مائیگی کا احساس ستانے لگا ہے، زمینی حقائق ان دعووں کے بالکل برعکس نکلے، جن کا اظہار یمن میں وارد ہونے سے پہلے کیا گیا تھا۔ سعودیوں کا یہ متکبرانہ دعویٰ تھا کہ وہ یمن کی جنگ چند روز میں جیت لیں گے، لیکن یمن کے حریت پسنددوں نے انہیں یہ موقع فراہم کرنے سے انکار کر دیا، پورے ایک سال میں اپنی تمام تر قوت صرف کرنے اور تمام تر ظلم آزمانے کے باوجود سعودی عرب یمن کے غیور عوام کو ناکامی سے دوچار نہیں کرسکا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جنگ کی طوالت عذاب جان بن گئی، جنگ کے دباؤ اور شکست کے احساس سے سانس نکلنا دشوار ہوگیا تو فوراً بھا گ کر یو این او کے قدموں میں جا پہنچے اور یمن میں جنگ بندی کی التجائیں شروع کر دیں۔

چنانچہ یو این او نے فریقین کے مذاکرات شروع کرانے کا بیڑا اٹھایا اور بات چیت کے بالکل ابتدائی حصے کے اختتام کے بعد 11 اپریل 2016ء کو عارضی جنگ بندی کا اعلان کر دیا، اس مختصر عارضی جنگ بندی معاہدے کے بعد مذاکرات کے دوسرے مرحلے کیلئے کویت میں 21 اپریل سے اکٹھا ہونے کا ٹائم ٹیبل دیدیا۔ البتہ ان ایام میں یہ جائزہ لینا ضروری سمجھا گیا کہ سعودی اتحاد بمباری بند کر دیگا جبکہ محصور شہریوں تک اقوام متحدہ کی امداد پہنچانے کیلئے راستے بھی کھول دیئے جائیں گے، اس معاہدے کے ناظرین میں وہ ریاست بھی شامل تھی، جو خود یمن پر جارحیت کرنیوالے اتحاد کی سربراہ بھی ہے۔ لیکن یمن کے حقیقی بیٹوں اور اس دھرتی پر امن کے خواہشمندوں نے اس کڑی شرط کو بھی اپنے وطن کے باسیوں کے مفادات کی خاطر قبول کرلیا۔

چہ جائیکہ سعودی عرب نے 11 اپریل کی جنگ بندی کو قبول کر لیا، لیکن پوری بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے روزمزہ کی بنیاد پر جارحانہ و سفاکانہ فضائی کارروائیاں جاری رکھیں، جس میں نہتے عوام پر بمباری جاری رکھنا روا رکھا گیا۔ حوثی مجاہدین نے اگرچہ سعودی عرب کی اس مکروہ روش پر باقاعدہ احتجاج کیا، جس میں جنگ بندی معاہدے کی کھلم کھلم خلاف ورزی کی جا رہی تھی، لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوسکا، سعودی عرب کی یہ روش اس بات کا واضح اعلان تھا کہ اسے بین الاقوامی برادری کی ثالثی میں کئے گئے معاہدوں اور وعدوں کی کوئی پاسداری نہیں۔ سعودی عرب کی اس بدعہدی پر حوثی مجاہدین اور علی عبداللہ صالح کے گروپ کے رہنماؤں نے اکیس اپریل دو ہزار سولہ کو کویت کی میزبانی میں شروع ہونے والے مذاکرات کا بائیکاٹ کر دیا، مذاکرات کے بقیہ تمام شرکاء کویت پہنچ چکے تھے، لیکن حوثی مجاہدین کا وفد وقت مقررہ پرنہ پہنچا۔

بعدازاں یو این او کے نمائندوں کے روابط کرنے پر کہ یمن کے حقیقی نمائندہ ہونے کی بنا پر بحران کے حل کرنے کا اصل فورم یہی ہے، اپنے تمام تحفظات پر اسی فورم پر بات کرنے کی ضرورت ہے، لہذا اس موقع سے استفادہ کرتے ہوئے مذاکرات کا یہ موقع ضائع نہ کیا جائے اور اس امن عمل کو ناکام بنانے کی سازشوں کا جواب دینے کا یہی ایک مناسب طریقہ ہے کہ اس فورم پر اکٹھے ہو کر مسائل کا حل تلاش کریں۔ حوثیوں نے یو این او وفد کی یقین دہانی کے بعد مذاکرات کا بائیکاٹ ختم کر دیا اور حوثی وفد اگلے روز ہی کویت پہنچ گیا۔ کویت میں اقوام متحدہ کی زیرنگرانی اٹھارہ اپریل کو یمن بحران کے حل کیلئے شروع ہونیوالے مذاکرات بغیر کسی معقول پیش رفت کے تیئیس اپریل بروز اتوار کو ختم ہوگئے، مذاکرات میں حوثی تحریک کے رہنما، علی عبداللہ صالح کا گروپ، سعودی نمائندے، منصور ہادی کے اہلکار اور مقامی قبائل و دیگر گروپس شامل تھے۔

مذاکرات میں شامل یو این او اہلکار نے بتایا کہ یمنی گروپ مختلف النوع مسائل کے باعث کسی نکتے پر متفق نہ ہوسکے، جبکہ فریقین کے لئے 11 اپریل کے عارضی معاہدے کو برقرار رکھنے کی شدید ضرورت کا احساس بھی پایا جاتا ہے۔ یمن بحران کے حل کیلئے یو این او کے نمائندہ خصوصی اسماعیل اولد احمد الشیخ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا عمل مشکل ضرور تھا، لیکن مذاکرات کاروں کے درمیان مسائل کے خاتمے کیلئے کمٹمنٹ کا موجود ہونا ایک خوش آئند بات ہے، فریقین بحران کے خاتمے کیلئے پرعزم اور انکے درمیان ایسے مشترکہ نکات موجود ہیں، جن پر معاہدے کی بنیاد کھڑی کی جاسکتی ہے، انکا کہنا تھا کہ مشکل موضوعات کو حل کرنے کا پختہ عزم رکھتے ہیں، اسی لئے ہم چاہتے ہیں کہ بحران کا حل جامع اور مکمل شکل میں سامنے آئے۔

شفقنا انسٹی ٹیوٹ فار مڈل ایسٹ کی ڈاٹریکٹر کیتھرین شکڈم سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کویت میں امن مذاکرات شروع ہونے کے باوجود سعودی عرب کے یمن پر فضائی حملے کیوں جاری ہیں تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یمن میں سعودی عرب کے نئے فضائی حملے درحقیقت اس غم و غصے کا اظہار ہیں، جس کا تعلق حوثیوں کی تحریک مزاحمت کی طرف سے امن مذاکرات میں شرکت کو اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل کمیونٹی کی حمایت حاصل ہونا ہے، جہاں وہ بہت آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے ہیں اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ امن مذاکرات کا عمل اس طرح کے نتائج سامنے نہیں لا پا رہا، جس پر وہ ملکر کام کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں سعودیوں کی موجودہ روش نامناسب ہے، پھر وہ اس بات پر غصے میں بھی ہیں کہ وہ شام میں جنگ ہار رہے ہیں اور یمن میں بھی۔ لیکن اس کے مقابل یمن میں حوثیوں کی مزاحمت تحریک بہت تیزی سے دوبارہ ابھر کر سامنے آئی ہے اور انکے دب جانے کی تمام پیشگوئیاں غلط ثابت ہوئی ہیں۔

فرزندان حریت کے سامنے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ تم 26 ملکی اتحاد کے ساتھ ملکر ایک قوم سے جنگ لڑ رہے ہو۔ جزیرۃ العرب کی غریب ترین اور غیور ترین قوم ہیں کہ تاریخ کا بہت بڑا عسکری و فوجی اتحاد جن کا عزم توڑنے میں کامیابی حاصل نہیں کرسکا، انکی غیر معمولی مزاحمت کی طاقت نہ صرف ثابت ہوچکی ہے بلکہ اپنی سرزمین کی حفاظت کرتے ہوئے سعودی عرب سے جنگ جیتنے کی پوزیشن میں آچکے ہیں۔ حوثیوں کی تحریک مزاحمت نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اپنی آپریشنل قوت کا اظہار سعودی عرب کی سرحدوں کے اندر تک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مزاحمت کی طرف سے اس صلاحیت کا اظہار فقط سعودی عرب کو یہ باور کرانا ہے کہ ضرورت پڑنے پر مزاحمت ایسے کسی بھی آپریشن سے گریز نہیں کریگی۔ مزاحمت حقیقت میں ایک زبردست اور مضبوط حملہ آور قوت بنکر سامنے آئی ہے اور انہوں نے سعودی اتحاد کو یہ باور کرا دیا ہے کہ وہ یمن کے شہروں پر بمباری اور آبادیوں کے محاصروں کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرینگے۔

یہی وجوہات ہیں کہ اب سعودی امن مذاکرات کے ذریعے یمن کی دلدل سے نکلنے کی تگ و دو میں ہیں۔ لیکن وہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ یمن سے نکلنے سے قبل حکومت اپنے کٹھ پتلی حکمرانوں کے ہاتھوں میں دے جائیں، اس مقصد کے حصول کیلئے وہ چاہتے ہیں کہ مذاکرات کو ناکام بنائیں اور اس کی ذمہ داری حوثیوں کے سر منڈھ دیں۔ انہیں معلوم ہے کہ وہ سیاسی گراؤنڈ کھو رہے ہیں، اسلئے وہ اپنے مظالم کے جواب میں حوثیوں کو اپنے خلاف جوابی کارروائی کیلئے مجبور کر رہے ہیں، تاکہ وہ دنیا کے سامنے یہ جواز گھڑ سکیں کہ وہ ایسے لوگوں سے مذاکرات نہیں کرسکتے، جو ابھی تک جنگ چاہتے ہیں۔

میرے خیال میں سعودی اس بیانیے کو استوار کرنے پر کام کر رہے ہیں، بے شک اس بیانئے کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی، کیونکہ اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ یمن کے جنگی منظر نامے میں صرف سعودی اتحاد کے پاس موجود جنگی طیارے ہی نہتے شہریوں پر ایک سال سے بمباری کر رہے ہیں اور یمنی شہری صرف ان بموں کا شکار ہونے والوں میں شمار کئے جاتے ہیں، جن کے جسم، بچے، خواتین، بوڑھے، جوان، گھر، مارکیٹیں، ہسپتال، پانی کے ذرائع نشانہ ہیں۔ سعودی عرب کے اندر مختلف طبقات میں اس بحران پر تقسیم اب بہت گہری ہوچکی ہے کہ سعودی عرب یمن میں کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن زمینی حققیقت یہ ہے کہ یمن کے شہری اپنی دھرتی کی عظمت و حفاظت کیلئے مزاحمت پر آمادہ ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا سعودی عرب کی بمباری کا مقصد یمن میں القاعدہ کو طاقتور بنانا اور ابھارنا ہے، جیسے المکلا میں ایک دن میں تیل کے دو ملین باکس پہنچائے گئے ہیں۔ کیتھرین نے کہا کہ میرا خیال نہیں کہ وہ کسی کی مدد کر رہے ہیں، میرے نزدیک وہ سب القاعدہ ہیں۔ اگر تین ماہ پہلے فروری میں جائیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کس شخصیت کو یمن کا نائب صدر اور وزیراعظم بنایا گیا؟ جنرل علی محسن الاحمر، جو بذات خود الاصلاح پارٹی کا لیڈر ہے، اخوان المسلمین کی چھتری کے نیچے کون کام کر رہا ہے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اخوان المسلمین اور الاصلاح پارٹی کے اندر موجود القاعدہ کے روابط کار کون ہیں۔ اگر رہنما نہیں جانتے تو یہ سوال خود سے کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسا کیوں ہے کہ وہ لوگ واپس سیاسی عہدوں پر سامنے آ رہے ہیں۔ اس بات کا واضح مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب اپنی پالیسی کو ایکبار پھر یمن میں دہرانے کی طرف گامزن ہے کہ جس میں اخوان المسلمین، القاعدہ اور شدت پسند عناصر کو اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے استعمال کیا جائیگا۔

وہ ہر ایک حربہ استعمال کریں گے، کیونکہ ایک سال کی بمباری اور یمن کے لوگوں کو خریدنا بھی بیکار ثابت ہوا، پس وہ اپنے پسنددیدہ ہتھیار کی طرف پلٹنے کی کوششیں کر رہے ہیں، جیسے شدت پسند طبقے کو ابھارنا اور انہیں یمن کے وہابی علاقے جیسے المکلا، حجہ اور عدن کی طرف بھیجنا، کیوں؟ کیونکہ یہ علاقے ابھی تک سعودیوں، امریکیوں اور عرب امارات کے کنٹرول میں ہے، اسی لئے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ وہاں القاعدہ روز بروز زور پکڑ رہی ہے۔ پس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سنجیدگی کیساتھ یمن کے نقشے کو سامنے رکھیں اور دیکھیں کہ وہ کون سے علاقے ہیں، جہاں القاعدہ زور پکڑ رہی ہے، کیا وہ علاقے حوثیوں کے قبضے میں ہیں یا وہاں سعودی عرب و اسکے اتحادی کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں، پس یہ حقیقت واضح ہو جائیگی کہ سعودی ہی القاعدہ ہیں، خطے میں سعودی عرب ہی القاعدہ کو اپنی پراکسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے، نہ فقط یمن میں بلکہ جہاں کہیں بھی انہیں حکومتوں کو گرانا مقصود ہو، وہ اپنی ان پراکسیز سے کام لیتے ہیں، لیکن یمنی انکی اسٹریٹجی سے آگاہ ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 536436
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے