0
Wednesday 4 May 2016 16:54

یمن کی تحریک مزاحمت کامیابی کے قریب(2)

یمن کی تحریک مزاحمت کامیابی کے قریب(2)
تحریر: زاہد عباس

مذاکراتی عمل شروع ہونے سے قبل ایک امریکی مصنف کیون بیرٹ نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یمن بحران پر مذاکرتی عمل شروع ہوچکا ہے، لیکن میں ان مذاکرات سے بہت زیادہ پرامید نہیں ہوں، کیونکہ ابھی تک ایسی کوئی صورت سامنے نہیں آئی کہ سعودی عرب یمن پر جارحیت کی اپنی شرمناک غلطی تسلیم کرنے کیلئے نظر آتا ہو۔ یمن کیخلاف جنگ شروع کرنے سے قبل سعودی عرب نے امریکیوں کو بتایا کہ یہ جنگ زیادہ سے زیادہ چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی اور اسی وجہ سے امریکیوں نے سعودی عرب کا ساتھ دینے کا فیصلہ بھی کیا، لیکن نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ اب دونوں ویتنام جیسی ایک اور دلدل کے مقابل کھڑے ہیں۔ مذاکرات پر آمادگی کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ سعودی عرب ایک سالہ جنگ میں ایک بڑے معاشی نقصان کو کم کرنے اور اپنی ظاہری ساکھ کو بچانے کیلئے حوثیوں سے چند ایک معاہدے کرنا چاہتا ہو، جس سے اس پر بڑھتا ہوا سیاسی و معاشی بوجھ کم ہوسکے اور اسے سکھ کا سانس ملے، اسے یمن میں بکھرے ہوئے اپنے انفراسٹرکچر کو اکٹھا کرنے کا موقع مل سکے، لیکن یہ صورتحال انتہائی افراتفری کی نشاندہی کرتی ہے، جس کا کوئی عارضی حل نظر نہیں آتا۔

سعودی عرب، القاعدہ اور اپنے سلفی اتحادیوں سے ملکر یمن کی ایک لمبی اور گہری دلدل میں اترنے والا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ سعودی عرب نے بحران سے کافی حد تک فائدہ بھی اٹھایا ہے، جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ انہوں نے خطے میں فرقہ واریت کا ایسا دھویں والا بم پھوڑا ہے، جس نے یمن میں انکے مظالم کی حقیقت کو کیموفلاج کر دیا ہے، وہ مظالم جو یہ اپنے عرب بھائیوں سے روا رکھے ہوئے ہیں۔ وہ واشنگٹن اور اپنے یورپی استعماری ساتھیوں سے ملکر ایک کٹھ پتلی ریاست کا کردار ادا کرتے ہوئے علاقے کے باسیوں کو زمین میں دفن کر رہے ہیں، وہ یمن میں پیدا کردہ بحران کے ذریعے خطے کے دیگر ممالک جیسے شام اور عراق میں بھی اپنے جرائم کو کیمو فلاج کئے ہوئے ہے۔ چہ جائیکہ پوری دنیا میں موجود انسانی حقوق کے ادارے سعودی کے مظالم کی پرزور انداز میں مذمت کر رہے ہیں، لیکن سعودی اپنے مظالم کا سلسلہ جاری رکھیں گے، کیونکہ انہوں نے حال ہی میں اسرائیلی کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات استوار کئے ہیں یا سامنے لائے ہیں اور ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ وہ جلد ہی اسرائیل میں اپنا سفارتخانہ کھولنے والے ہیں۔ وہ حال ہی میں مصر سے دو جزیرے واپس لے چکے ہیں، جس کے بارے میں غالب امکان ہے کہ انہیں اسرائیل کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب کی طرف سے ایسے ممالک سے تعلقات کی استواری جس کی بنیاد سازش اور مکر پر مبنی ہو اور جعلی فوجی اتحادوں کی تشکیل اصل میں خطے کے اندر ایک بڑی فرقہ وارانہ smock screen پھیلانا ہے، تاکہ اپنے مظالم کی حقیقت کو چھپایا جاسکے، جس میں وہ کسی حد تک کامیاب ہوا بھی ہے، لیکن یہ ایک جزوقتی کامیابی ہے۔ اسی لئے وہ دنیا میں موجودہ ہر چیز سے اپنے حق میں استفادہ کرنے کے چکر میں ہیں، چاہے اس کیلئے اسے اسرائیلیوں کے تلوے ہی کیوں نہ چاٹنا پڑیں اور یہ کام وہ آجکل بڑی سہولت کے ساتھ سرانجام دے رہا ہے۔ سعودی کسی بڑے تزویراتی اہداف کے حصول کیلئے لڑائی نہیں لڑ رہے بلکہ وہ صرف ایک مصنوعی فرقہ وارانہ بحران پیدا کرکے خود کو اس موج کا سوار بنانا چاہتے ہیں، تاکہ سنی مسلمانوں کے بلاشرکت غیرے قائد کے ٹائٹل پر قبضہ جمائے رکھیں، تاکہ اس قوم کو راستہ بھٹکانے میں کسی تامل پیدا نہ ہوسکے اور اس بات کو آجکل سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات میں گرمجوشی آنے سے بظاہر دیکھا جاسکتا ہے۔ وہ خود اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں، تاکہ مسلمانوں کے درمیان تقسیم کے امریکی و صہیونی ایجنڈے کی تکمیل میں اپنا رول پلے کرسکیں۔

وار میگزین آن لائن کے ایڈیٹر مائیکل جووی کہتے ہیں کہ سعودی آمریت اس وقت انتہائی مایوسی میں گھری ہوئی ہے، پچھلے سال انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت کو 99 بلین ڈالر بجٹ خسارے کا سامنا ہے، دنیا کی سب سے زیادہ تیل پیدا کرنیوالی ریاست دو وجوہات کی بنا پر اس سطح تک جا پہنچی ہے۔ پہلی وجہ، امریکہ سعودی حکمرانوں پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ تیل کی پیداوار بڑھائیں جو کہ تیل کی عالمی منڈی میں قیمت کم کرتی چلی جا رہی ہے، اسکی وجہ یہ ہے کہ روس کو ویسے ہی دیوالیہ کرنا چاہتا ہے جیسے افغانستان جنگ کے دوران کیا تھا۔ دوسری وجہ، سعودی عرب شام، یمن اور دیگر ممالک میں اپنی پراکسیز پر بے دریغ دولت لٹا رہا ہے۔ سعودیوں کی خواہش ہے کہ اخراجات کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے دائرے سے کسی بھی طریقے سے باہر نکل آئے، اسی لئے وہ تیل کی پیداوار کم کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے، لیکن امریکہ اسے ایسا کرنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں۔

مذاکرات تمام گروپوں کیلئے جنگ یمن کے گڑھے سے باہر نکلنے کا واحد اور آسان حل ہے، انہیں علم ہے کہ وہ ایسے حالات کے پیش نظر جنگ نہیں جیت سکتے، سعودی عرب جنگ یمن سے باہر نکلنے کیلئے ایسے معاہدے کی کوشش کریگا، جس سے اسکی ساکھ بچ جائے۔ اسی لئے انہوں نے نمایاں طور پر اپنی توپوں کا رخ القاعدہ کی طرف کر لیا ہے، یعنی وہی القاعدہ جزیرۃ العرب جسے سعودی عرب اب تک اپنی پراکسی کے طور پر استعمال کر رہا تھا، لیکن اب اس کیخلاف کارروائی شروع کر دی ہے، چند دن قبل المکلاہ میں القاعدہ کے ٹھکانوں پر بمباری اس نئی حکمت عملی کا اظہار ہے۔ المکلاہ کی کارروائی بنیادی طور پر اس الزام اور تنقید کی شدت کو کم کرنے کیلئے کی گئی، جس میں عالمی برادری یمن میں القاعدہ کی کارروائیوں کو سعودی عرب کی پراکسیز کے طورپر دیکھ رہی ہے۔ بہرحال اس کارروائی سے سعودی عرب پر بیرونی دنیا کا دباؤ کم ہوگا کہ جس میں انہوں نے بمباری کے ذریعے القاعدہ کو مذاکراتی عمل سے دور رکھا ہوا ہے۔

چند دنوں میں یمن کی جنگ جیتنے کا دعویٰ ایک سال کی لڑائی کے باوجود سچ ثابت نہ ہوسکا، اسی زمینی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے عالمی برادری یمن بحران کو حل کرنے کیلئے آگے بڑھی ہے، جب آپ کے پاس زمینی فوج موجود نہیں تو پھر آپ کو اس مناسب موقع کا انتظار کرنا ہوگا، جب تک دوسری فوج کسی بندگلی میں نہ پہنچ جائے۔ آجکل سعودی عرب کو ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے، اقوام متحدہ اپنی طاقت استعمال نہیں کرسکتی، کیونکہ اسے اس وقت کا انتظار کرنا ہوگا جب تک وہ بند گلی نہ آجائے، تب دونوں فریق ایک حتمی معاہدے کی طرف بڑھ جائیں گے، یمن کی موجودہ صورتحال کی یہی سب سے بڑی حقیقت ہے۔

یمن کے بحران پر نظر رکھنے والے ایک اور تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ میرے نزدیک پہلی بات تو یہ ہے کہ سعودی یمن جنگ پر ایک بڑی رقم خرچ کرچکے ہیں، یا کم از کم سینکڑوں ملین ڈالر روزانہ اس جنگ میں خرچ ہو رہے ہیں اور یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ اتنے بھاری جنگی اخراجات کے دباؤ کی وجہ سے سعودی عرب سخت مشکلات کا شکار ہوچکا ہے، یہ مشکل سعودی عرب کے بجٹ خسارے سے بھی نظر آتی ہے، جو اسے یمن جنگ کی وجہ سے تاریخ میں پہلی بار دیکھنا پڑا ہے، یہ ایک بڑی وجہ ہے۔ دوسری بڑی وجہ یمن میں سیاسی عدم استحکام کے باعث القاعدہ کا مضبوط ہونا اور آئے روز اس مضبوطی میں اضافہ کرنا ہے۔ یمن کی موجودہ صورتحال سعودی عرب کیلئے کسی بھی طور حوصلہ افزا اور امید افزا نہیں، القاعدہ دن بدن اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار بڑھا رہی ہے اور ایسا بالکل بھی محسوس نہیں ہوتا کہ امریکہ، سعودی عرب اور عرب امارات اس صورتحال کا مستقبل میں کوئی تدارک کرسکنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔

درحقیقت سعودی عرب نے القاعدہ کو شروع میں حوثی مجاہدین کیخلاف اپنی پراکسی کے طور پر استعمال کیا، فرقہ واریت کی بنیاد پر یمن میں اپنی مرضی کی گراؤنڈز بنائیں۔ امریکی و برطانوی اسلحے اور سعودی ڈالروں کے بوتے پر القاعدہ کو مضبوط کیا۔ البتہ بعد میں جب انسانی حقوق کی تنظیموں، دانشورورں، تجزیہ نگاروں پر یہ واضح ہوا کہ یمن میں سعودی عرب درحقیقت حوثیوں کیخلاف کارروائیوں کے بہانے القاعدہ کو دوبارہ فعال، مضبوط اور منظم کر رہا ہے۔ اس کشف حقیقت کے بعد عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں کے دباؤ پر جہاں القاعدہ کیخلاف کارروائی کیلئے دباؤ آیا، وہیں انہوں نے القاعدہ کے ایک نئے خطرے کے تدارک کیلئے حوثیوں سے مذاکرات کی راہ اپنائی۔

سعودی عرب نے اپنی سابقہ پالیسی کیمطابق القاعدہ اور انتہا پسند تکفیری طبقات جیسی اپنی پراکسیز سے استفادہ کیا، لیکن ایک سال تک سرتوڑ کوششوں اور بے دریغ سرمایہ گزاری کے بعد منزل تک پہنچنا ناممکن ہوگیا۔ دوسرا، اس جنگ نے سعودی عرب کی اقتصادی طور پر کمر توڑ کر رکھ دی۔ ان خطرات کے پیش نظر یہ تجویز کیا گیا کہ اس جنگ سے ’’باعزت‘‘ انخلا کی کوئی صورت نکالی جائے، لیکن ’’باعزت‘‘ واپسی سے کہیں بڑا خطرہ یہ تھا کہ اپنی ان پراکسیز سے کسی طرح جان چھڑائی جائے، جن کے منہ کو انسانی خون کے علاوہ اسلحہ اور ڈالروں کے انبار لگ چکے ہیں۔ چنانچہ اب وہ مرحلہ آن پہنچا کہ یمن میں القاعدہ کے احیا کے بعد ایکبار پھر امریکہ و سعودی عرب نے اس نام نہاد خطرے کے تدارک کیلئے خود ہی اس کا علاج بھی شروع کر دیا ہے۔ وہ القاعدہ کیخلاف کارروائی کرکے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنا چاہتا ہے کہ وہ یمن میں درحقیقت انتہا پسندی اور دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ دوسری طرف اس نے افغان وار میں روس کیخلاف انتہا پسند فیکٹر کو استعمال کرکے چھوڑ دیا تھا، اس طرح یمن میں بھی اپنی پالیسی کو دہرایا اور حوثیوں کیخلاف استعمال کرنے کے بعد القاعدہ جزیرۃ العرب کا کوڑا اب ٹھکانے لگانے کی پریکٹس شروع کر دی گئی ہے۔

اگر مشاہدہ کیا جائے تو نظر آتا ہے کہ سعودی عرب یمن میں ایک طرف یمن سے ’’باعزت انخلا‘‘ کیلئے حوثیوں کو دباؤ ڈال کر جنگ بندی کرنا چاہتا ہے، یعنی جنگ بندی کے ذریعے مکمل شکست کی ذلت سے بھی بچ جائے اور دوسری طرف یمن کی تحریک مزاحمت کو جھکا بھی لے، لیکن اب سعودی عرب کیلئے دونوں آپشنز کو بیک وقت حاصل کرنا ممکن نہیں رہا۔ سعودی عرب یمن سے باعزت اور محفوظ واپس نہیں آسکے گا یا پھر اسے یہ بات قطعی طور پر بھول جانی چاہیئے کہ وہ یمن کے حوثیوں کی تحریک مزاحمت کو دبا دے گا، کیونکہ تیرہ ماہ سے دنیا کی عظیم عسکری طاقتوں کے مدمقابل میدان میں موجود مزاحمت معمولی نہیں ہوسکتی، وہ اس ظالم اتحاد کی سوچوں سے کہیں بڑی اور پر استقامت تحریک ہے، جسے تمام طاقتیں اپنے تمام تر جنگی وسائل کی مدد سے میدان سے نکل جانے پر مجبور نہ کرسکیں۔

سعودی عرب گیارہ اپریل سے ابتک چار ہزار بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرچکا ہے، یہ صورتحال اس دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے، جو وہ حوثیوں پر ڈالنا چاہتا ہے، تاکہ وہ اس کی شرائط پر جنگ بندی کو قبول کرلیں اور یوں اسے باعزت واپسی کا راستہ مل سکے۔ لیکن حوثی مجاہدین نے یکم مئی کو صنعا کے شمال مغرب میں واقع صوبے عمران میں ایک اہم فوجی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے، جو خالصتاً ایک دفاعی حکمت عملی کا مظہر ہے۔ چہ جائیکہ اس کارروائی کے ردعمل میں سعودی حمایت یافتہ یمنی ہادی گروپ نے مذاکرات معطل کر دیئے، جو دو روز بعد دوبارہ شروع ہوچکے ہیں۔ لیکن ایک بات طے ہوچکی ہے کہ سعودی عرب اپنے ترکش کے سارے تیر آزمانے کے باوجود اب تحریک مزاحمت یمن کی استقامت کے سامنے زیادہ دیر تک کھڑا ہونے کی صلاحیت سے مفقود ہوچکا ہے، اب انتظار اس بات کا ہے کہ کب یمن سے اسکی ’’باعزت‘‘ واپسی کا نظارہ ہوسکے گا۔
مصنف : زاہد عباس ملک
خبر کا کوڈ : 536837
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب