0
Monday 23 May 2016 13:24

بجٹ 2016ء، مختصر جائزہ

بجٹ 2016ء، مختصر جائزہ
رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

ٹیکس چور حکمرانوں کی کرپشن کہانیوں اور پانامہ لیکس جیسے سنگین اسکینڈل کے شور میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں موجودہ ٹیکس گزاروں پر کوئی نیا بوجھ نہ ڈالنے کا اعلان کیا گیا ہے، ڈھٹائی کے ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ٹیکس نہ دینے والوں پر زمین تنگ کر دیں گے۔ بظاہر یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ بجٹ میں عوام کو ممکنہ ریلیف کی فراہمی حکومتی منشور کا حصہ ہے، تنخواہوں اور پنشنوں میں اضافہ کے لئے سفارشات کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔ یہ وعدے اب عوام کو کوئی امید نہیں دلا سکتے، 2013ء میں مسلم لیگ نون کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی عوام کو یقین دلایا تھا کہ صرف دو سال سختی کے ہیں، اس کے بعد آسانیاں ہی آسانیاں ہوں گی۔ لیکن حکومت کا چوتھا سال شروع ہوچکا ہے، مگر موعودہ آسانیوں کا دور دور تک نشان نہیں، اشیائے صرف اور کھانے پینے کی چیزوں کی مہنگائی کنٹرول کئے بغیر ریلیف کیا معنی رکھتا ہے۔ گذشتہ سالوں کی کارکردگی بتاتی ہے کہ حکومت مہنگائی روکنے میں ناکام رہی ہے، بلکہ حکومت کے پاس مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے سرے سے کوئی میکانزم ہی نہیں ہے، پٹرولیم کی قیمتوں میں خاصی کمی ہوئی، مگر اس کے فوائد عام آدمی تک نہیں پہنچے، اشیائے صرف اور خورد و نوش کی قیمتوں میں بدستور اضافہ ہو رہا ہے۔

آئندہ مالی سال 2016-17 میں سیاسی عدم استحکام اور عالمی کساد بازاری کو ملکی معیشت کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا جا رہا ہے، آئندہ مالی سال 2016-17 میں ادائیگیوں کا توازن بدستور خراب رہے گا، تجارتی خسارے کی شرح 20 ارب 16 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے، ملکی برآمدات 23.771 ارب ڈالر جبکہ ملکی درآمدات 43.932 ارب ڈالر رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کئے گئے بجٹ اسٹریٹجی پیپر میں آئندہ مالی سال میں ملکی معیشت کو جن خطرات کا سامنا رہے گا، ان میں سب سے بڑا خطرہ سیاسی عدم استحکام، دوسرا عالمی کساد بازاری، تیسرا بجلی و گیس کی بدستور قلت، چوتھا امن و امان کی صورتحال جبکہ پانچواں معاشی اصلاحات کی مخالفت ہے۔ عالمی کساد بازاری کے سبب جہاں ملک کو سستا خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور دیگر اجناس سستے داموں مل رہی ہیں، وہاں ملکی برآمدات بھی بری طرح متاثر ہونے کے خدشات بتائے گئے ہیں، جبکہ عرب ممالک میں تیل کی آمدن میں کمی کے سبب سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھجوائی جانے والی ترسیلات پر بھی ان کے منفی اثرات کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بجلی کی پیداوار میں معمولی بہتری آئی ہے اور ملک کے کچھ حصوں میں موسم کی بہتر صورتحال کے پیش نظر ملک میں لوڈ شیڈنگ کم ہے ، تاہم جون میں یکدم بجلی کی کھپت بڑھنے کے سبب صنعتوں کو بجلی کی فراہمی میں بڑے تعطل کا خطرہ ہے، جس سے صنعتی پیداوار متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ سٹیٹ بینک نے آئندہ دو ماہ کے لئے نئی مانیٹری پالیسی جاری کی ہے، جس میں شرح سود میں 2.25 فیصد کم کی گئی ہے۔ اس اقدام کے بعد شرح سود میں کمی ریکارڈ کم ترین سطح 5.57 فیصد پر آگئی ہے۔ اگرچہ شرح سود میں کمی، بینکوں سے قرضہ لینے والوں کو ترغیب دینے کے لئے کی گئی ہے، لیکن ماضی کی طرح اس فیصلے سے عام آدمی اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین خسارے میں رہیں گے، جنہوں نے اپنی جمع پونجی بچت سکیموں میں لگا رکھی ہے اور جن کی گزر بسر کا دارومدار اس آمدنی پر ہے۔ اقتصادی ماہرین کو ایسے فیصلے کرتے وقت یہ پہلو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ سٹیٹ بینک کی نئی مانیٹری پالیسی سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری معاشی پالیسیوں کی اساس کمزور بنیادوں پر استوار ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا یا کسی وجہ سے ترسیلات کی رقوم میں کمی آئی تو معیشت ڈگمگانے لگے گی۔ لہٰذا ضرورت ہے کہ معاشیات کو ٹھوس بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب تیس کروڑ ڈالر ہوگئے ہیں، لیکن یہ کوئی بڑی رقم نہیں، اس سے صرف چار ماہ تک ادائیگیوں کا سلسلہ چل سکتا ہے، جبکہ سال بارہ ماہ کا ہوتا ہے۔

رمضان المبارک آرہا ہے، منافع خوروں نے ابھی سے دندان تیز کرنا شروع کر دیئے ہیں، مسلم لیگ نون کی حکومت کو اقتدار میں آئے تین سال ہوچکے ہیں، لیکن لوڈشیڈنگ جوں کی توں ہے، وعدے کئے جا رہے ہیں کہ 2018ء میں لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی، لیکن تین سال میں کچھ نہیں ہوسکا، تو اگلے دو سال میں کسی معجزے کی کیسے توقع کی جاسکتی ہے۔؟ عام آدمی کو ریلیف دینے کے لئے وفاق کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، تعلیم اور صحت عام آدمی کی بنیادی ضرورت ہیں، یہ دونوں شعبے صوبائی حکومتوں کی تحویل میں چلے گئے ہیں۔ عوام کو اگر معیاری تعلیم اور صحت کی سہولتیں، بھاری اخراجات کے بغیر حاصل ہونے لگیں، تو ان کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے، غریب آدمی بیمار ہو جائے تو اُس کے پاس علاج معالجے کے لئے اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ وہ پرائیویٹ کلینکوں کا رُخ کرسکے، اُسے مجبوراً سرکاری ہسپتالوں کا رُخ کرنا پڑتا ہے، جہاں اُسے وہ توجہ میسر نہیں آتی، جو اُس کا حق اور اس کے مرض کا تقاضا ہے۔

صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ ہسپتالوں کی حالت بہتر بنائیں، عام آدمی کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں اور دوائیں مفت فراہم کریں، تعلیم کے شعبے کی حالت بھی سخت ابتر ہے۔ سرکاری سکول نجی تعلیمی اداروں کا مقابلہ نہیں کرسکتے، مگر غریب آدمی نجی تعلیمی اداروں کا رُخ کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ سرکاری سکولوں کا عالم یہ ہے کہ عمارتیں خستہ، ضروری سہولتوں کا فقدان اور سردی گرمی سے بچائو کا کوئی انتظام نہیں، ان کا ماحول یکسر غیر تعلیمی ہے اس فضا میں درس و تدریس محض بیکار کا مشغلہ ہے۔ صوبائی حکومتیں اگر توجہ دیں تو سرکاری سکولوں کو بھی نجی تعلیمی اداروں کے معیار کے برابر لایا جاسکتا ہے۔ معیشت کو ٹھوس بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ زرعی وصنعتی شعبوں کی ترقی پر بھرپور توجہ دی جائے۔

حکومت شمسی توانائی سے چلنے والی مصنوعات بالخصوص ٹیوب ویلوں پر ڈیوٹی زیرو کر دے، کیونکہ سب سے زیادہ مسائل زرعی شعبے کو ہی درپیش ہیں، جس کی وجہ سے یہ ملکی آبادی کو خوراک و روزگار اور ملکی معیشت کے استحکام میں وہ کردار ادا کرنے سے معذور ہے، جو اسے کرنا چاہیے یا یوں کہیں کہ جو کردار یہ ادا کرسکتا ہے، لہذا حکومت کو چاہیے کہ وفاقی بجٹ میں زرعی شعبہ کی بہتری پر خاص توجہ مرکوز کرے۔ حکومت کو چاہیے کہ زرعی شعبہ کو ڈیزل، بجلی اور کھادوں پر خصوصی سبسڈی مہیا کی جائے۔ اگر حکومت کاشتکاروں کو معیاری بیج کی فراہمی یقینی بنائے تو زرعی پیداوار میں 30 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ پختہ کھالوں کی تعمیر کیلئے خاطرخواہ فنڈز مختص کرے، جس سے پانی دور دراز زرعی زمینوں تک باآسانی پہنچ سکے گا اور سیم و تھور کے مسائل بھی کم ہونگے۔ کسانوں کے پیداواری اخراجات کم کرنے کیلئے ٹھوس منصوبہ بندی کی جائے۔

حکومت کو چاہیے کہ وفاقی بجٹ میں زرعی تحقیق کیلئے وافر فنڈز مختص کرے، کیونکہ تحقیق کا فقدان بھی زرعی پیداوار کی راہ میں آڑے آرہا ہے اور ہم زرعی پیداوار کے حوالے سے خطے کے بہت سے ممالک سے کہیں پیچھے ہیں۔ ہائبرڈ ٹیکنالوجی نے زرعی پیداوار کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ چین اور بھارت میں چاول، کنولا اور کپاس کی کل پیداوار کا 80%ہائبرڈ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ہائبرڈ ٹیکنالوجی کے ذریعے کپاس کی پیداوار زیرو جبکہ مکئی اور چاول کی پیداوار بالترتیب چالیس فیصد اور چھ فیصد ہے۔ حکومت کو ہائبرڈ ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کیلئے خصوصی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ ملک کے ہر حصّے میں انڈسٹریل زون قائم کئے جائیں، جہاں صنعتوں کو تمام ضروری سہولیات میسر ہوں، صنعتکاروں کو ان صنعتی زونوں میں زمین ارزاں نرخوں پر مہیا کی جائے اور اِس امر کو یقینی بنایا جائے کہ اگر کسی وجہ سے یہ صنعت بند ہو جائے تو زمین واپس لے کر کسی صنعتکار کو ہی فروخت کی جائے نہ کہ کوئی پراپرٹی ڈیلر فائدہ اٹھالے۔ اگر حکومت عوام کو واقعی ہی کوئی ریلیف دینا چاہتی ہے تو ایسے اقدامات سے گریز کرے۔

صنعتی مصنوعات اور زرعی اجناس کی برآمدات میں اضافہ کرکے اتنا زرمبادلہ حاصل کرسکتے ہیں کہ معیشت منفی تبدیلیوں کا باآسانی مقابلہ کرسکے گی۔ میثاق معیشت ایک خوش آئند تصور ہے لیکن اس سے خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں کا تعاون صرف اسی صورت ہی حاصل کیا جاسکتا ہے کہ انہیں اختلافی امور (انتخابی اصلاحات، پاناما لیکس) بارے مطمئن کر دیا جائے۔ پاناما لیکس میں سامنے آنے والے 200 ناموں میں اعلٰی حکومتی شخصیات کے نام بھی شامل ہونے کے سبب حزب اختلاف کی جانب سے اب تک جو ردعمل سامنے آیا، وہ حکومتی توقعات سے بڑھ کر تھا اور خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال میں تقریباً تین ماہ بعد کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد ملک میں کسی بھی نئی سیاسی محاذ آرائی کے امکانات ہیں۔
خبر کا کوڈ : 537141
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب