0
Monday 6 Jun 2016 06:46

امام خمینی (رہ) آفاقی رہنما

امام خمینی (رہ) آفاقی رہنما
تحریر: جاوید عباس رضوی

جب ہم دنیا کے کامیاب انسانوں کی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کی کامیابی کے پیچھے اور چاہے جو بھی اسباب ہوں لیکن ان کا پختہ یقین، جہد مسلسل، نیک نیتی اور خلوص دل کے ساتھ اعلٰی مقصد ضرور رہا ہے۔ آج تک روئے زمین پر جتنے بھی انقلابات بقائے انسانیت کو مدنظر رکھ کر رونما ہوئے ہیں، ان سب کی بنیادیں بھی انہیں باتوں پر قائم تھیں اور ان میں روح پھونکنے والے بھی یہی سنہرے اصول تھے۔ ان اعلٰی انسانی اور سنہری اصولوں کو عمل میں ڈھالنے والا یقین کا مجسمہ، ارادوں کا ہمالیہ، جہاد کا اسلامی نمونہ، عمل کا پیکر، انقلاب کا پیغامبر، دریائے آگہی کا شناور، عوام کے دلوں کا رہبر، تاج شکن اور بیسویں صدی کا مردِ آہن، سرزمین ایران سے اُٹھا اور تاریخ عالم میں انقلاب کا ایک نیا اور سنہری باب اپنی فکر و فراست اور عزم و حوصلے کے قلم سے لکھ گیا۔ انقلاب تغیر و تبدیلی فطرت کا اصول ہے، گردش لیل و نہار، تبدیلی گرم و سرد اور بہار و خزان وغیرہ سب فطری انقلابات ہیں، جو قدرت کے ذریعے آتے رہتے ہیں، روئے زمین پر ساری دلکشی انقلاب سے قائم ہے، اگر جمود ہو جائے اور ٹھہراو آ جائے تو سب دلکشی ختم ہو جائے اور انسان اکتا جائے۔

لیکن انسانوں کے ذریعے آنے والے انقلاب کی نوعیت اس سے بالکل مختلف ہوتی ہے، ان انقلابات میں مشکل ترین وہ انقلاب ہے، جو ظالم و جابر تخت شاہی کے خلاف آتا ہے، جو تخت رعونت کو منہدم کرتا ہے، جو اقتدار کو اپنے تیز دھارے میں بہا دیتا ہے، جو ایک شہریار کو بے دیار کر دیتا ہے، جو مسند شاہی کو تیز آندھی میں اڑا دیتا ہے اور جو رنگ شہنشاہی کو روند کر غریب، مجبور، مایوس، محروم، معذور، مزدور، بےگھر، بے زر، بے بس، بے کس، مفلس، نادار، لاچار اور جملہ مستضعفین کو ان کا جائزہ حق دلواتا ہے۔ ایسے انقلاب کے پیروں کی آہنی زنجیر ہے، جور و جفا کے لئے دار و رسن ہے اور کبر و نخوت کے لئے سر پہ لٹکی ہوئی تلوار ہے اور ایسا ہی انقلاب تاریخ ساز ہوتا ہے۔ لیکن ایسے انقلاب لانے میں جس فولادی عزم و ہمت اور قوت ایمانی و ارادے کی ضرورت ہوتی ہے، وہ بھی عطیہ پروردگار ہوتا ہے۔

قدرت نے امام خمینی (رہ) کو ان تمام اعلٰی صفات اور اوصاف سے آراستہ کیا تھا، جو ایک تاریخ ساز انقلاب کے رہنما میں ہونے چاہئیں۔ تاریخ کا یہ انوکھا انقلاب ہے، جو بانی انقلاب کی آواز پر سرزمین ایران پر آیا، جبکہ بانی انقلاب سرزمین انقلاب سے سینکڑوں میل دور قید و بند کی زندگی گزار رہا تھا، جسکی آواز میں یہ اثر تھا بلکہ اعجازی قوت تھی کہ وہ ایران کی سرحدوں میں ہزاروں میل دور سے آ کر داخل ہو رہی تھی اور ذہنوں کو جھنجھوڑ کر انقلابی بنا رہی تھی۔ دلوں میں نہ صرف حرارت پیدا کر رہی تھی بلکہ شعلے بھڑکا رہی تھی اور قوم کو ہر قربانی کے لئے تیار کر دیا تھا۔ وہ انقلابی آواز جب شاہی جاہ و حشم سے ٹکرائی تو اسے خاک میں ملا دیا، تاج شاہی کا جو جھوٹا شاہی بھرم تھا، اسے ختم کر دیا۔ بغض و نفاق، ظلم و ستم، حق تلفی، بے دینی، ایمان فروشی، گمراہی اور جور و جفا کا خاتمہ کر دیا، تسبیح فتح پا گئی اور رنگ شاہی پائے فقیہ پر جھک گیا۔

اس انقلاب کے لئے امام خمینی (رہ) نے اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔ وہ آزادی انسان کے طلبگار تھے، خود بیدار تھے اور قوم کو بھی بیدار کر دیا اور انہوں نے پورے عالم اسلام کو بیدار کر دیا، تاریخ کا وہ سورما، ایران کا وہ شجاع و شیر دل اور انقلاب کے اس بانی کی آہٹ سے قصر باطل میں زلزلہ آگیا تھا، دربار شاہی درہم برہم ہوگیا تھا، جس نے خود آگہی کو شعور بخشا، جس نے غیرت کی روح پھونکی، ملت کو سربلندی کا راز بتایا، کبر و نخوت کا تختہ پلٹا، قصر شاہی میں ایسا شگاف ڈالا کہ ظلم کانپ اٹھا، حقیقت یہ ہے کہ رعب سے جس کے ہر اک دشمن کا چہرہ زرد تھا، شاہِ مرداں کا نمائندہ تھا، ایسا مرد تھا اس جواں ہمت، مجسمہ فکر و فراست، پیکر ہدایت، انقلاب کی علامت، سرزمین ایران کی ضرورت و قسمت اور انقلاب کی عظیم ترین طاقت پر ہر انقلاب انگیز کے لاکھوں سلام، اس مرد آہن پر کائنات کے ہر آہنی عزم کا سلام اور تاریخ کے تمام آہنی عزم والوں کے سلام ہی سلام، اسلام نے توحید کے بعد جس بات پر سب سے زیادہ زور دیا ہے، وہ اتحاد بین المسلمین ہے۔

اتحاد ہمارے زمانے کی اشد ضرورت اور پوری تاریخ بشریت میں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف اس وقت تفرقہ اور اختلاف دشمن کا سب سے اہم اور سب سے زیادہ موثر حربہ اور اسلحہ رہا ہے، جب سے مغرب نے مسلمانوں کے اختلافات سے فائدہ اُٹھا کر مسلمانوں پر اپنا قبضہ مضبوط کر لیا ہے، تب سے اسلامی مفکرین کی طرف سے مغرب جیسے طاقت اور مکار دشمن سے نجات پانے اور اس پر غلبہ حاصل کرنے کا واحد ذریعہ اتحاد امت کو قرار دیا ہے۔ دشمنان اسلام کی ان شرارتوں کی اصل وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک طرف سے دیکھا کہ امت مسلمہ بیداری ہو رہی ہے، دوسری طرف سے ان کو معلوم ہے کہ مسلمانوں کے پاس ترقی کرنے اور دنیا کی سب سے بڑی طاقت بننے کی پوری صلاحیت اور وسائل موجود ہیں، کیونکہ پوری دنیا کے وسط میں 57 ممالک پر مشتمل عظیم علاقہ عالم اسلام کے قبضے میں ہے، آج دنیا امت مسلمہ کے اُٹھتے ہوئے قدموں کو دیکھ رہی ہے۔

انسان نے اپنی علمی پیشرفت کی وجہ سے اخلاق، روحانیت اور روح دین کو فراموش کر دیا ہے، بشریت کی علم و دانش میں ترقی اور کائنات کے حقائق پر انسان کی نگاہ نو امت مسلمہ کی حرکت کے لئے بہترین زمین فراہم کرسکتی ہے، اسلامی تعلیمات و معارف آج امت مسلمہ کے اختیار میں ہیں، پہلا نکتہ دنیائے اسلام کی بیداری ہے، آج سے سو سال قبل دنیائے اسلام کے مصلح افراد دنیائے اسلام کے مغرب و مشرق کے مختلف ممالک میں غریبانہ ماحول و فضا میں جو باتیں کرتے تھے، وہ آج لوگوں کی زبانوں پر شعار کی صورت میں موجود ہیں، یعنی اسلام کی طرف واپسی، احیاء قرآن، امت واحدہ کا تصور اور دنیائے اسلام کی عزت و قدرت۔

آپ ایک ایک اسلامی ملک پر نگاہ کیجیے، خصوصاً نوجوانوں، تعلیم یافتہ افراد اور روشن فکروں کے درمیان یہ شعار زندہ ہیں، البتہ اسلامی جمہوری ایران میں اسلام کی کامیابی اور بالادستی اس سلسلے میں ایک بہت بڑی مثال ہے ایرانی عوام نے اپنی ایثار و فداکاری، استقامت اور عزتِ اسلامی کے پرچم کو اپنے ہاتھ میں لینے کے ذریعے سے تمام مسلمان اقوام میں ایک نئی روح پھونک دی ہے اور انہیں ان کے مستقبل سے امیدوار بنا دیا ہے۔ آپ اس امید کے نتائج کو دنیائے اسلام کے گوشے گوشے میں ملاحظہ کرسکتے ہیں اور یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ مشرق و سطٰی خصوصاً مسئلہ فلسطین اور اس خطے کے دیگر مسائل مثلاً عراق و لبنان کے مسائل میں امریکہ کی استکباری قوت اپنے تمام تر مادی وسائل کے ساتھ میدان میں آئے اور شکست کھا گئے، یہ ایک زندہ حقیقت ہے۔

فروعات میں ممکن ہے کہ ایک ہی مذہب کے افراد ایک نظر کے قائل نہ ہوں تو اس میں کوئی بُرائی نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود بہت سے مشترکات وجود رکھتے ہیں۔ لہذا علماء کو چاہیے کہ اپنی مشترکات کو اپنے اتحاد کا مرکز قرار دیں، علماء اسلام کو چاہیے کہ وہ دشمن کی چالوں سے ہوشیار رہیں۔ ہر مذہب کے خاص خاص افراد بیٹھیں اور علمی ماحول میں مذہبی بحثیں کریں، دلوں کو ایک دوسرے کی نسبت کدورت والا نہ بنائیں اور مختلف اسلامی فرقوں، مسلمان اقوام اور ایک ہی قوم کے اسلامی گروہوں اور جماعتوں کو ایک دوسرے کا دشمن نہ بنائیں۔ دنیائے اسلام کو چاہیے کہ وہ اپنی کھوئی ہوئی عزت و سربلندی، استقلال و خود مختاری اور علمی پیشرفت کے حصول اور معنوی قدرت کو پانے کے لئے کوشیش کرے، یعنی دین سے تمسک کرے، خدا پر توکل اور نصرت الٰہی پر یقین کے لئے کوشیش کرے، جیسے حضرت آیت اللہ امام خمینی (رہ) نے عملی میدان میں کرکے دکھایا اور تمام عالم اسلام یعنی تمام دنیائے اسلام کے لئے اپنے عزم و حوصلے کے قلم سے لکھ دیا کہ تمام دنیا کی مسلمان حکومتوں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے نزدیک آنا چاہیے اور ایک دوسرے کی مدد کرنا چاہیے، اسلئے اسلام کسی ملت یا کسی مذہب کے خلاف نہیں ہے بلکہ ظلم اور استکبار و استبداد کے خلاف ہے۔

آج دنیا کے مسلمانوں کی بقاء کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ آپس میں وحدت و اتحاد ہے۔ اسی لئے ہمارے رہبر معظم اِنقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ امام خامنہ ای دام ظلہ العالی فرماتے ہیں کہ ہم وحدت اور اتحاد کو امت مسلمہ کے لئے ایک ضروری امر سمجھتے ہیں۔ ہم نے قرآن کو یا تو مُردوں کے لئے پڑھا یا تو پھر اس سے استخارے نکالے ہیں، اگر اس قرآن کی آیات پر عمل کیا ہوتا تو آج کوئی مسلمان دوسرے مسلمان سے نفرت کرتا ہوا دکھائی نہ دیتا۔ آج امام خمینی (رہ) کے خلف صالح رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای دام ظلہ العالی بھی امت مسلمہ کو وحدت کی طرف بلا رہے ہیں یہ ایک ٹیکنیک نہیں بلکہ اسی قرآنی حکمت اور دینی بنیاد کے تحت وحدت کی طرف دعوت ہے، اس وقت وحدت کو کھولنے کی ضرورت ہے، یہ علماء کی ذمہ داری ہے۔ اسلئے رہبر معظم نے علماء کا یہ وظیفہ اور فریضہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ تمام دنیائے اسلام اور علماء اسلام سب مل کر قرآن اور اہلبیت (ع) کی تعلیمات کی روشنی میں امت مسلمہ کے لئے ایک عملی منشور مہیا کریں۔
خبر کا کوڈ : 543551
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے