0
Monday 6 Jun 2016 17:51

انقلابِ اسلامی، امام خمینیؒ کے الٰہی انسان ہونے کی دلیل ہے

انقلابِ اسلامی، امام خمینیؒ کے الٰہی انسان ہونے کی دلیل ہے
تحریر: سید راشد احد

امام خمینیؒ حقیقتاً خدا کی ایک عظیم نشانی ہیں اور آپ کا برپا کیا ہوا انقلابِ اسلامی تاریخِ عالم کا وہ عظیم الشان کارنامہ ہے جو گذشتہ ۳۷ سالوں سے اپنی روز افزوں تاثیر گذاری کے سبب دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈالے ہوئے ہے۔ امام خمینیؒ کی قیادت میں ۱۹۷۹ء کے ماہ فروری میں جب اسلامی انقلاب کامیاب ہوا تو امام کی عمر اس وقت تقریباً ۷۸ سال تھی۔ واضح رہے کہ عیسوی کلینڈر کی رو سے آپ کی تاریخِ ولادتِ با سعادت ۲۴ ستمبر ۱۹۰۲ء ہے۔ ایسی عمر میں کہ جب انسان کے جسمانی قویٰ بری طرح کمزور پڑ جاتے ہیں، امام خمینیؒ کا ایک ایسے انقلاب کو کامیابی سے ہمکنار کرنا جس میں طاقت کے عدم توازن اور کامیابی کے مادی معیارات کو یکسر خاطر میں نہ لایا گیا ہو، بانی انقلاب کے ایک الٰہی رہنما ہونے کی واضح دلیل ہے۔ یہ انقلاب چونکہ مشرق وسطٰی کے ایک اہم ترین ملک میں رونما ہوا تھا، جو قدرتی وسائل کا عظیم مخزن ہے، لہٰذ دنیا پر حاکم سرمایہ دارانہ نظام کے علمبرداروں کا اس انقلاب کے حوالے سے غیر معمولی اضطراب و تشویش میں مبتلاء ہو جانا ہر کسی کے لئے قابلِ فہم ہے۔

دنیا پر مسلط یہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام درحقیقت مغرب کی سامراجی قوتوں کے ہاتھ میں دنیا کے کمزور اقوام کے استحصال کا وہ موثر وسیلہ ہے جسے عالمی صہیونیت کے اشتراک سے وضع کیا گیا ہے۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے سامراجی و صہیونی منفعت برداروں نے امام خمینیؓ اور ان کے برپا کردہ انقلابِ اسلامی کو ناکام بنا دینے کے لئے کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا۔ مغرب اور اس کے اتحادیوں نے اس انقلاب کے خلاف تمام تر نفسیاتی، تشہیراتی حتٰی کہ فوجی حربوں کے استعمال میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، لیکن اسکے باوجود یہ انقلاب اپنے خبیث دشمنوں کے پیدا کردہ تمام موانع اور ان کے مسلط کردہ تمام جنگوں کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے پوری شجاعت کے ساتھ آگے بڑھتا رہا اور آج اس انقلاب نے ظلم کے خلاف مزاحمت و مقاومت کی اپنی الٰہی روش و پالیسی کے سبب اس قدر توانائی اور حرارت حاصل کر لی ہے کہ اسکے دشمن بشمول شیطانِ بزرگ امریکہ ہر محاذ پر پسپائی اختیار کرتے ہوئے اسکے سامنے سرنگونی اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

ایک ۷۸ سالہ بزرگ کی قیادت میں کہ جس کی جسمانی قوتیں ضعف سے دوچار ہوں، اس غیر معمولی انقلاب کا کامیاب ہونا اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ بانی انقلاب کی روحی و معنوی قوت و توانائی اپنے عروج اور نقطۂ کمال کو پہنچی ہوئی تھی، جو مافوقِ طبیعت اور غیبی دنیا سے امامِ راحل کے مضبوط و مستحکم ارتباط کی محکم دلیل ہے۔ اس کا اعتراف امام اور انقلابِ اسلامی کے سب سے بڑے ذشمن امریکہ کے اس وقت کے صدر جمی کارٹر کو بھی کرنا پڑا۔ جب ابتدائے انقلاب میں امریکہ نے اپنے سفارت خانہ نما جاسوس خانے کے اسٹاف کو کہ جنہیں امام خمینیؒ کے عاشق انقلابی جوانوں نے ان کو اپنے ملک کے خلاف جاسوسی سرگرمیاں انجام دینے کے جرم میں یرغمال بنا لیا تھا تو امریکہ نے اپنے اسٹاف کی بازیابی کے لئے "The Eagle Claw" نامی ایک انتہائی خفیہ فوجی آپریشن انجام دیا، لیکن ہوا یہ کہ امریکہ کے جہاز جب ایران کی سرحدوں میں مخفیانہ طور پر داخل ہوئے تو ایران کے صحرائے طبس میں ریت کے طوفان کی لپیٹ میں آگئے اور پھر اس طوفان نے امریکی جہازوں اور فوجیوں پر وہ تباہی مسلط کی کہ جس کی ہیبت و دہشت کو یاد کرکے آج بھی پنٹاگون کے حکام اپنی نیند کھو بیٹھتے ہیں۔

اپنی اس ذلت آمیز ناکامی کی خبر سن کر جمی کارٹر نے کہا تھا کہ ’’لگتا ہے خدا بھی خمینی کے ساتھ ہے۔‘‘ یہ بیان گویا کارٹر کی جانب سے اعتراف تھا کہ امام کو تائیدِ غیبی حاصل ہے، اس لئے کہ صحرائے طبس میں ایران کی طرف سے کوئی ایسے ظاہری عوامل موجود نہیں تھے جو امریکہ کی اس مجرمانہ فوجی کارروائی کو ناکام بنانے میں مددگار ثابت ہوتے۔ امریکہ کے اس جارحانہ اقدام کی رسوا کن شکست امام اور انقلابِ اسلامی کے حق میں خالصتاً تائید الٰہی اور لطفِ خداوندی کے محقق ہونے کی روشن دلیل ہے۔ امام خمینیؒ نے تحریکِ انقلابِ اسلامی کے تمام تر مراحل میں خدا پر کامل توکل اور یقین کو انقلاب کی کامیابی کا واحد ذریعہ قرار دیا اور انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی اسی اصلِ حقیقت کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کراتے رہے، آپ نے لوگوں کو باور کرایا کہ امریکہ کی مادی اور فوجی قوت الٰہی راہ و روش کے پیروکاروں کے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتی ہے۔ چنانچہ امامؒ کی اسی تعلیم کا اثر تھا کہ ایران کی عوام امریکہ کی دھمکیوں اور منہ زوریوں کو ذرہ برابر بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے اور ہمیشہ اس کی سامراجی روش اور پالیسی کے خلاف مزاحمت پر کمر بستہ رہنے کی دلیرانہ مثال قائم کی۔

امام خمینی ؒ انقلاب کی کامیابی کے بعد تقریباً ۱۰ سال مزید زندہ رہے، اس دوران اسلام و انقلاب دشمن سامراجی قوتوں اور ان کے اتحادیوں نے انقلابِ اسلامی کو ناکام بنانے کے لئے طرح طرح کے گھناؤنے اور غیر انسانی ہتھکنڈے استعمال کئے۔ ایک طرف داخلی ریشہ دوانیوں کے ذریعہ انقلاب کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تو دوسری جانب صدام حسین جیسے وحشی ڈکٹیٹر کو آلہ کار بناکر ایران کے خلاف ایک طویل بھیانک جنگ مسلط کی۔ ان تمام ہوشربا اور روح فرسا سازشوں اور جارحیتوں کا مقابلہ امامؒ نے اپنی الٰہی حکمتِ عملی کے ذریعہ کامیابی کے ساتھ کیا۔ مصائب کے مقابلے میں امامؒ کے غیر متزلزل عزم و ارادے نے ایرانی عوام کی روح کو اس طرح گرمائے رکھا کہ وہ امام ؒ کی پیروی اور اتباع میں ہر جاں گسل مرحلے کو عبور کرنے کے لئے آمادہ رہے اور سنگین سے سنگین تر مصائب سے روبرو ہونے کے باوجود وہ انقلاب کے اہداف کے حصول میں کسی قسم کی کمزوری دکھانے یا عقب نشینی اور پسپائی اختیار کرنے کے لئے ہرگز ہرگز تیار نہیں ہوئے۔ ایرانی عوام ولایت مداری کا حق ادا کرتے ہوئے اور اپنے الٰہی رہبر کی صادقانہ پیروی کا ثبوت دیتے ہوئے آتش و خون کے ہر دریا میں چھلانگ لگا دینے پر ہر وقت آمادہ رہی۔

امام خمینی ؒ کی قیادت میں ایرانی عوام کی فداکاریوں اور جانثاریوں کے سبب ہی انقلاب کے انتہائی مشکل مراحل میں تائیدِ ایزدی و رحمتِ خداوندی اس قوم کے شاملِ حال رہی، جس کی بناء پر انقلاب دشمن قوتوں کا انقلاب کو جڑ سے ختم کر دینے کا خواب بری طرح چکنا چور ہوکر رہ گیا۔ امام خمینی ؒ نے نہ صرف یہ کہ انقلاب کو درپیش خطرات سے انقلاب کی حفاظت کی بلکہ اپنے بعد انقلاب کو اس کے اصل خط یعنی اسلامِ حقیقی یا اسلامِ نابِ محمدیؐ پر باقی رکھنے اور اس کو انسانیت کی عمومی فلاح کے لئے روز افزوں ثمربار اور ثمرآور رہنے کا انتظام بھی کرگئے۔ واضح رہے کہ ایران کا انقلابِ اسلامی جب کامیاب ہواِ تو امام خمینیؒ کی حیثیت ایک "octogenarian" یعنی ۸۰ سالہ ضعیف کی تھی اور جو نحیف الجسم تھے، لیکن یقیناً آپ ؒ کی روح کی غیر معمولی توانائی اور تابندگی تھی کہ جس کی بناء پر انقلاب سے نبرد آزما دشمنوں کو ناکام بنانے کی امامؒ نے کامیاب منصوبہ بندی کی، انقلاب کی بنیادوں کو مضبوط کیا، حکومتِ اسلامی کی تشکیل کی اور اس کے آئین اور اصولوں کو مشخص کیا اور اپنے انقلابی رفقاء کو ایسی بصیرت عطاء کی کہ وہ آئندہ انقلاب کو اس کے حقیقی خط پر گامزن رکھنے میں اور زمانے کے نئے تقاضوں اور چیلنجز کی صورت میں حکومتِ اسلامی کو کماحقہ تاثیر گذار رکھنے نیز انقلابِ اسلامی کو ایران کی سرحدوں سے ماوراء وسعت دینے میں قرآن و سنت سے صحیح استفادہ کرتے ہوئے انقلاب کے تسلسل و دوام کی ضمانت کو یقینی بناسکیں، تاکہ یہ انقلاب کامیابی کے ساتھ سفر کرتا ہوا امامِ زمانہ ؑ بقیۃ اللہ کے جہانی انقلاب سے متصل ہو جائے۔

امامؒ کا اپنی پیرانہ سالی کے باوجود انقلابِ اسلامی برپا کرنا، انقلاب کی حفاظت و بقاء و تسلسل و وسعت کے لئے پاسدارانِ انقلابِ اسلامی، بسیج اور حزب اللہ جیسی فورسز کو تشکیل دینا، مظلوم فلسطینی قوم کی حمایت و سرزمینِ فلسطین و بیت المقدس کی آزادی و صہیونی ریاست اسرائیل کی نابودی اور دنیا کی تمام مظلوم و مستضعف اقوام کی حمایت میں ظالم قوتوں کے خلاف قیام کو انقلاب اسلامی کی اسٹراٹیجک ترجیحات میں شامل کرنا نیز ارتشِ اسلامی ایران اور مذکورہ بالا اسلامی فورسز کو تعلیم و تربیت کے الٰہی برنامے کے رہنما اصول کی آگہی بخشنا کہ جن سے استفادہ کرتے ہوئے وہ اپنے جذبہ شہادت کو روز افزوں ترقی دے سکیں اور ساتھ ہی اپنی فنی، حربی، علمی، سائنسی اور معنوی صلاحیتوں کو ہر آن رشد و کمال کی اعلٰی منازل سے ہمکنار کرتے ہوئے مادی لحاظ سے اپنے سے کئی گنا بڑی ظالم و غاصب قوتوں کے جارحانہ حملوں کو بہ آسانی ناکام بنا سکیں۔ امام خمینیؒ تحریکِ کربلا سے ماخوذ ستم گروں اور ان کے مظالم کے خلاف مزاحمت کا وہ فلسفہ سامنے لے کر آئے، جو مظلوم اقوام کے حق میں نسخہ کیمیا ثابت ہوا اور آج اسی فلسفہ مزاحمت کی بدولت شام، عراق، لبنان، یمن اور بحرین کے مستضعف اقوام اور ان علاقوں میں موجود تحریکِ مقاومت نے امریکہ، اسرائیل اور وہابی و تکفیری دہشتگردوں کو شکست و پسپائی کے زخم چاٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔

امام خمینیؒ کے تیار کردہ الٰہی لشکروں نے انقلابِ اسلامی اور مقاومتِ اسلامی کے خلاف مسلط کی گئی نفسیاتی، تشہیراتی، ثقافتی اور فوجی جنگوں میں اپنے سفاک حریف ہائے مقابل اور ان کے پست فطرت اتحادیوں و وحشی دہشت گرد آلۂ کاروں کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کرکے ولایتِ فقیہ، امامِ زمانہؐ، اسلامی آرزؤں سے سرشار مسلم عوام، دنیا کے محرومین و مستضعفین، انبیاء علیہم السلام، اولیائے الٰہی، رسولِ خاتمؑ، آپؑ کے اہلِ بیتِ اطہارؐ اور خدا وندِ متعال کی خوشنودی اور مدح و ستائش کے نقطۂ ارتکاز میں اپنے آپ کو تبدیل کر لیا ہے۔ امام خمینیؒ کے یہ سارے محیر العقول کارنامے آپؒ کے غیبی دنیا اور ملائے اعلیٰ سے مضبوط اور گہرے ارتباط کے نتیجے میں وقوع پزیر ہوئے جو کہ امام خمینیؒ کے الٰہی رہبر ہونے کی واضح دلیل ہے۔

امام خمینی ؒ کا ایک اور قابلِ ذکر کار نامہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں جاری مختلف ناموں سے جاری تحریکوں اور تنظیموں کی حق و حقیقت سے قربت کو ناپنے کا آپؒ نے ایک واضح پیمانہ عطا کیا اور وہ یہ ہے کہ جو اسلامی تحریکیں اور تنظیمیں صیہیونی ریاست اور ان کی پشت پناہ مغربی سامراجی قوتوں سے جس شدت کے ساتھ بر سرِ جنگ ہیں وہ اتنی ہی زیادہ راہِ خدا میں اخلاص و للٰہیت کی حامل ہیں ساتھ ہی عالمی سامراج اور صہیونی ریاست اور خطے میں ان دونوں کی اتحادی عرب رجعت پسند شاہی حکومتوں سے یہ تحریکیں اور تنظیمیں جس قدر نالاں ہے وہ اتنا ہی زیادہ اسلامِِ حقیقی سے وفادار ہیں۔
امام خمینیؒ کا ایک عظیم کارنامہ یہ بھی ہے کہ آپ کی اسلامی فکر نے امتِ مسلمہ میں convergence یعنی تقرب اور ہمگرائی کا زمینہ فراہم کیا اس طرح کہ انہوں نے عملاً یہ ثابت کر دکھایا کہ اسلام کو معاشرے میں حاکمیت دلانے میں اور اسلام کے عالمی و علاقائی دشمنوں کی ریشہ دوانیوں اور مکاریوں کا مقابلہ کرنے میں ان ہی اسلامی تحریکوں کو کامیابی مل سکتی ہے جو اہلِ بیتِ اطہارِ رسول ؐ کے دینِ اسلام میں حقیقی مقام کی معرفت رکھتے ہوں اور اہلِ بیتِ رسول ؐ کی محبت کے نام پر کجرویوں اور انحرافات کو ایجاد کرنے اور انجام دینے سے مکمل طور سے گریزاں ہوں قطعِ نظر اس سے کہ یہ اسلامی تحریکیں اپنے آپ کو شیعہ عنوان سے یا سنی عنوان سے دنیا کے سامنے متعارف کراتی ہوں۔ اس نکتے کی تشریح رہبرِ معظم آیت اللہ خامنہ ای کے بیان کی روشنی میں اس طرح بخوبی کی جا سکتی ہے کہ تشیعِ انگلیسی اور تسننِ امریکائی دونوں ہی اسلامِِ حقیقی کی پیشرفت میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

یہ امام کی دی ہوئی بصیر ت ہی تھی جس کی بناء پر ایران کی انقلابی قوم نے اپنے آپ کو امام کی رحلت کے بعد حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی انتہائی شائستہ رہبریت کے سپرد کردیا۔ ایرانی قوم کا امامؒ کے جانشین کا صحیح تحقق امام راحل سے اس قوم کی مضبوط قلبی وابستگی اور غیر منفک دینی ارتباط کا حقیقی آئینہ دار ہے۔ اسلام میں رہبریت کی مرکزی اہمیت ہے۔ رسولِ ؐخدا کی رحلت کے بعد اگر امتِ مسلمہ اس حوالے سے مجرمانہ غفلت کا شکار نہ ہوتی تو یہ امت اپنی طویل تاریخ کے بیشتر حصے میں سفاک صفت ملوکیتوں اور جدید سامراجی قوتوں کی اقتصادی، معاشرتی، ثقافتی اور علمی و فکری محکومیت و غلامی کی ہرگز اسیر نہیں ہوتی۔ ایرانی قوم پر قربان جائیے کہ اس نے امام خمینی ؒ کے جانشین کے انتخاب میں جس کمال ہوشیاری کا ثبوت دیا ہے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔

امام خمینی ؒ کے بعد سامراجی طاقتوں، صیہیونیوں اور آلِ سعود اور اس کے ہم مشرب دیگر عرب شاہی خاندانوں نے انقلاب اور مقاومت دشمنی کے جن نت نئے پیچیدہ ترین ہتھکنذوں کا استعمال کیا ان کا مقابلہ آسان نہ تھا۔ یہ رہبرِ معظم کی ہی نورانی شخصیت تھی کہ جس نے دشمن کی پیچیدہ ترین اور گو نہ گوں سازشوں کو کامیابی کے ساتھ شکستِ فاش سے دوچار کر دیا۔ القدس فورس کے نام سے ایک کثیرالجہت فوجی صلاحیتوں کی حامل فوررس کی تشکیل رہبرِ انقلابِ اسلامی کی الٰہی حکمتِ عملی ہی کی مرہونِ منت ہے تاکہ ایران کی سرحدوں سے ماوراء انقلابِ اسلامی کے وسیع تر معنوی، سیاسی، فوجی اور دیگر اسٹراٹیجک اہداف کے حصول کے لیے نیز انقلابِ اسلامی اور اسلامِ حقیقی کے دشمنوں کی تسلط پسندانہ اقدامات کو بخوبی ناکام بنایا جا سکے۔ القدس فورس فلسطین اور القدس کی آزادی کو بطور ایک الٰہی فریضہ اپنی ترجیحات میں سرِ فہرست رکھے ہوئے ہے اور اس سے ایک لمحہ کے لیے بھی غافل نہیں ہے۔ رہبرِ معظم نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کے نیٹ ورک میں ایک اور عظیم الشان اضافہ سائبر ڈیفنس کا کیا جس کا ایران کے کمپیوٹر و انٹرنیٹ سسٹم میں دشمن کے نفوذ و تصرف کو روکنا اور ناممکن بنانا ہے۔ رہبرِ معظم کی یہ تمام حکیمانہ تدبیریں تیر بہ ہدف ثابت ہو رہی ہیں۔

القدس فورس کی کامیاب منصوبہ بندی کے سبب ہی عراق، شام اور لبنان میں تکفیری دہشتگردوں کو مسلسل شرمناک ہزیمت سے دوچار ہو نا پڑ رہا ہے اور دنیا جلد ہی انشاء اللہ ان خون آشام درندوں کی مکمل نابودی کا مشاہدہ بھی کریگی۔ رہبرِ معظم کی حکمتِ عملی کے سبب آج یمن آلِ سعود اور اسکے اتحادی دیگر عرب شاہی خاندانوں کے لیے ایک وسیع قبرستان میں تیزی سے تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے اور جہاں انصاراللہ نامی تحریک کہ جو مثلِ حزب اللہِ لبنان ہے نے انقلابی عوامی کمیٹیوں اور اپنے ملک سے وفادار یمنی فوج کے ساتھ مل کر سامراج اور اس کے نوکر سعودی عرب اور دیگر عرب شاہی حکومتوں کی طویل وحشیانہ جارحیتوں کے جواب میں ان کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان حرموت اور تباہی مسلط کر رہی ہے۔ دشمن کی انقلابِ اسلامی اور مقاومتِ اسلامی بلکہ پوری تہذیبِ انسانی کے خلاف جو سب سے جدید ترین اور بھیانک سازش سامنے آئی وہ شام و عراق اور دنیا کے دیگر حصوں میں تکفیری و وہابی دہشتگردوں کی صورت میں سامنے آئی، اس کے شعلوں سے کوئی بھی علاقہ محفوظ نہ ہوتا، اگر ایران کی اسلامی حکومت خطے میں موجود اپنے مزاحمتی اتحادیوں سے مل کر ان کے قلع قمع کے لئے موثر اقدامات نہ اٹھاتی۔ آج رہبرِ معظم کی الٰہی حکمتِ عملی کا دنیاکو مر ہونِ منت ہونا چا ہیے جس کی بدولت اب تکفیری دہشتگرد اپنی نابودی کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ رہبرِ معظم کی الٰہی بصیرت کا عنوان کئی ضخیم کتابوں کا متقاضی ہے۔ یہاں ہم صرف رہبرِ معظم کے ایک تازہ ترین بیان کو نقل کریں گے جو امام خمینی ؒ کی فکر انقلابی کا حقیقی پر تو ہے۔

پانچویں مجلسِ خبرگان کے سربراہ اور اراکین نے حال ہی میں رہبرِ معظم آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی۔ آپ نے اس ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ مجلسِ خبرگان کا راستہ انقلاب کا راستہ اور اس کے مقاصد انقلاب کے مقاصد ہونے چاہیئے۔ رہبرِ معظم نے اسلام کی حاکمیت، آزادی و خود مختاری، سماجی انصاف کے قیام، عوام کی رفاہ و آسائش، مغرب میں پائی جانے والی تباہ کن اخلاقی، اقتصادی، سماجی اور سیاسی برائیوں کا مقابلہ کرنے اور سامراجی محاذ کے تسلط کے مقابلے میں استقامت کو ایرانی عوام کے اسلامی انقلاب کے اہم ترین مقاصد میں قرار دیا۔ رہبرِ انقلابِ اسلامی نے تسلط پسندی کو سامراج کی سرشت اور طینت قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ سامراجی محاذ کی فطرت میں ہے کہ وہ اپنے تسلط کا دائرہ قوموں پر وسیع کرتا رہے لہٰذا جو بھی قوم اور ملک اس کا مقابلہ نہیں کرے گا وہ سامراجی محاذ کے جال میں پھنس جائے گا۔ رہبرِ معظم آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا کہ اس میں شک نہیں کہ اسلام ظلم اور سامراج کا قلع قمع کرنے والا دین ہے البتہ وہی اسلام عالمی سامراجی طاقتوں کے مقابلے میں ڈٹ سکتا ہے اور تسلط پسند محاذ کو نابود کر سکتا ہے جو ایک حکومتی نظام کی شکل میں رائج اور قائم ہو اور جس کے پاس فوجی، سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور صحافتی وسائل و ذرائع ہوں۔ رہبرِ انقلابِ اسلامی نے فرمایا کہ نظام کی بقاء و پیش رفت اور انقلاب کے اہداف کی تکمیل کا واحد راستہ ملک کا حقیقی اقتدار اور جہادِ کبیر یعنی دشمن کی پیروی نہ کرنا ہے۔ خداوندِ متعال سے دعا ہے کہ وہ جہان کے مستضعفین اور محرومین پر رہبر کا سایہ تا دیر قائم رکھے تاکہ آپ خدا کے لطف کے سائے میں انقلابِ اسلامی کا پر چم بہ نفسِ نفیس امامِ زمانہ ؑ کے سپرد کریں۔

الٰہی آمین
خبر کا کوڈ : 543711
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب