0
Tuesday 12 Jul 2016 20:10

بین الاقوامی نظام میں انسانی حقوق سے بے توجہی

بین الاقوامی نظام میں انسانی حقوق سے بے توجہی
تحریر: سعید اردکانی

دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر 26 جون 1945ء کو اقوام متحدہ کی تشکیل اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی تدوین کے بعد بین الاقوامی نظام میں انسانی حقوق کا موضوع اور اس پر توجہ دینے کی ضرورت خاص اہمیت اختیار کر گیا۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکلز 1، 13، 55، 56، 62 اور 68 میں انسانی حقوق کی وضاحت کی گئی ہے۔ چارٹر نے انسانی حقوق کے موضوع کو بین الاقوامی سطح پر پیش کر دیا اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر انسانی حقوق کے فروغ کیلئے تعاون کو لازمی قرار دے دیا۔ اسی طرح انسانی حقوق سے متعلق کئی بین الاقوامی اداروں کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ تین برس بعد 10 دسمبر 1948ء کو انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ جاری کیا گیا جو اقوام متحدہ کے 56 رکن ممالک میں سے 48 ممالک کے ووٹ سے قرارداد نمبر 217 A کی صورت میں منظور کیا گیا۔ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ سے 18 سال بعد 16 دسمبر 1966ء کو اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدہ اور سیاسی و شہری حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدہ بھی متفقہ طور پر منعقد کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے چارٹر، انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے اور مذکورہ بالا دو بین الاقوامی معاہدوں کی تشکیل اور اجراء کا مقصد اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکلز 1 اور 2 کو عملی جامہ پہنانا تھا۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 1 میں کہا گیا ہے: "تمام انسان آزاد پیدا ہوئے ہیں اور مقام اور حقوق کے اعتبار سے آپس میں برابر ہیں۔ تمام انسان عقل اور ضمیر کے حامل ہیں اور انہیں چاہئے کہ وہ ایکدوسرے سے برادرانہ انداز میں پیش آئیں"۔ اسی طرح آرٹیکل 2 میں بیان کیا گیا ہے: "ہر انسان بغیر کسی امتیاز خاص طور پر نسل، رنگ، صنف، مذہب، سیاسی عقیدے یا دیگر عقائد، قومیت، سماجی مقام، دولت یا عہدے پر مبنی امتیاز کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ میں ذکر شدہ تمام حقوق اور ہر قسم کی آزادی سے برخوردار ہو گا۔" لیکن یہ تمام بین الاقوامی معاہدے اور قوانین اور عالمی ادارے انسانی حقوق کے تحفظ اور مطلوبہ اہداف کے حصول میں ناکامی کا شکار ہو گئے اور انسانوں کو ان کے مناسب حقوق نہ دلوا سکے۔

بین الاقوامی نظام میں انسانی حقوق سے متعلق اداروں کی ناکامی کی وجوہات:
انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی نظام میں موجود قانونی طریقہ کار اور راستوں کی ناکامی کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
1۔ مذکورہ بالا انسانی حقوق سے متعلق دستاویزات کی تیاری میں دوسری عالمی جنگ کی فاتح قوتوں (امریکہ، سوویت یونین، برطانیہ اور فرانس) مرکزی کردار کی حامل تھیں جس کے باعث انہوں نے مذکورہ بالا قوانین اور اصول کی مرضی سے وضاحت اور تشریح کی۔ خود ان ممالک میں انسانی حقوق سے متعلق شدید مشکلات موجود تھیں۔ مثال کے طور امریکہ میں نسلی امتیازات اپنے عروج پر تھے۔ فرانس اور برطانیہ نے بڑی تعداد میں افریقی اور ایشیائی ممالک کو اپنی کالونی بنا رکھا تھا وغیرہ۔
2۔ انسانی حقوق سے متعلق دستاویزات کی انفورسمنٹ کیلئے مناسب گارنٹی کا موجود نہ ہونا۔ اگرچہ اقوام متحدہ نے بڑی تعداد میں انسانی حقوق کے ادارے اور کمیشنز تشکیل دیے ہیں لیکن چونکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک اور حکومتوں کے خلاف موثر عدالتی کاروائی انجام دینے کیلئے کوئی مناسب گارنٹی فراہم نہیں کی گئی لہذا یہ ادارے اور کمیشنز غیرموثر ثابت ہوئے ہیں۔

3۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کے پاس اجراء کے اختیارات کا نہ ہونا: انسانی حقوق سے متعلق قوانین کے لاگو نہ ہونے کی بنیادی ترین وجہ انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی اداروں کے پاس کافی حد تک اختیارات کا نہ ہونا اور ان کا عالمی طاقتوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن جانا ہے۔ اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ ایک واضح ترین مثال ایران کیلئے انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے احمد شہید کی رپورٹ ہے۔ ان کی یہ رپورٹ مکمل طور پر امریکہ، اسرائیل اور امریکہ کے اتحادی مغربی و عربی ممالک کے مفادات کے حق میں ہے۔ اسی طرح انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمیشنر کی جانب سے سعودی عرب، امریکہ، مغربی ممالک وغیرہ کے بارے میں رپورٹس موجود ہیں جن میں انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے لیکن اس پر کسی قسم کی عدالتی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔

عالمی نظام میں انسانی حقوق کو درپیش چیلنجز:
عالمی نظام میں انسانی حقوق کو بنیادی چیلنجز اور رکاوٹیں درپیش ہیں۔ ان چیلنجز کا منشا بین الاقوامی معاشرے میں فوجی، سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی تبدیلیوں کا رونما ہونا ہے۔ اقوام متحدہ کی تشکیل سے ہی عالمی سطح پر انتشار کا آغاز ہو گیا اور بین الاقوامی سطح پر دو بلاکس کمیونزم اور لبرلزم ابھر کر سامنے آئے جن میں سرد جنگ شروع ہو گئی۔ بین الاقوامی نظام میں انتشار کے باعث انسانی حقوق سے متعلق قوانین اور اصول شدید رکاوٹوں کا شکار ہو گئے۔ لہذا عالمی سطح پر سیاسی انتشار کی تاریخ کا آغاز اقوام متحدہ اور اس سے وابستہ انسانی حقوق کے اداروں کی تشکیل سے ہی ہو چکا تھا۔ اس سیاسی انتشار کا نتیجہ فوجی اور اقتصادی تناو کی صورت میں نکلا۔ اس مدت میں انسانی زندگی شدید خطروں سے روبرو ہو گئی اور سرد جنگ میں مصروف قوتیں ہر قسم کا ہتھکنڈہ استعمال کرتی تھیں۔ یہ امر بین الاقوامی نظام کے مقابلے میں ایک ایسا عظیم چیلنج ثابت ہوا جس پر آج تک غلبہ نہیں پایا جا سکا اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر گز اس مسئلے کو حل نہیں کیا جا سکے گا۔ انسانی حقوق سے متعلق قوانین اور اصول کو عملی میدان میں لاگو ہونے کیلئے درج ذیل چیلنجز کا سامنا ہے:

1۔ انسانی حقوق سے متعلق قوانین کو لاگو کرنے میں بڑی عالمی طاقتوں کا سیاسی اور انتخابی نقطہ نظر،
2۔ اکثر ممالک جیسے سعودی عرب، بحرین، امریکہ وغیرہ میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں،
3۔ مقبوضہ فلسطین کی سرزمین پر نسل پرست اور غاصب صہیونی رژیم، اسرائیل کا قیام اور ہر قسم کے انسانیت کے خلاف مجرمانہ اقدامات کا ارتکاب،
4۔ امریکہ اور مغربی دنیا میں اسلام فوبیا اور اسلام دشمنی پر مبنی اقدامات،
5۔ مغربی ایشیا اور افریقہ میں داعش، القاعدہ اور طالبان جیسے دہشت گرد تکفیری گروہوں کی پیدائش جو اسلام کے نام پر انسانیت کے خلاف شدیدترین جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں،
6۔ اکثر ممالک میں مذہبی، نسلی اور لسانی اقلیتوں کے حقوق کی پامالی،
7۔ امریکہ اور مغربی طاقتوں کی جانب سے طاقت کا بے جا استعمال اور براہ راست جنگوں اور پراکسی وارز کا آغاز (فوجی اور سیکورٹی یکہ تازی)۔

امریکہ اور انسانی حقوق:
بین الاقوامی نظام میں انسانی حقوق کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ایک امریکہ کی انسانی حقوق سے متعلق دوغلی اور انتخابی پالیسیاں ہیں جبکہ امریکہ کے اتحادی عربی اور مغربی ممالک بھی اس بارے میں امریکہ کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ 1941ء میں جب امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ نے چار نکاتی انسانی آزادی کا اعلامیہ جاری کیا تو عالمی رائے عامہ نے امریکہ کو بین الاقوامی نظام میں آزادی اور جمہوریت کا گہوارہ قرار دے دیا۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی تدوین میں امریکہ کی جانب سے مرکزی کردار ادا کئے جانے اور اس کے بعد انسانی حقوق سے متعلق عالمی اعلامیے اور دو معاہدوں کے انعقاد کے بعد اس تاثر میں مزید بہتری آئی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے ان دستاویزات اور بعد میں منعقد ہونے والے بچوں کے حقوق، خواتین کے حقوق، ٹارچر، نسلی امتیازات وغیرہ سے متعلق کنونشنز کے بارے اس کا موقف کھل کر سامنے آنا شروع ہوا تو دنیا والے اس حقیقت تک پہنچ گئے کہ امریکہ انسانی حقوق پر اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔

امریکہ نے ان میں سے اکثر دستاویزات پر یا تو دستخط نہیں کئے اور یا پھر مشروط انداز میں انہیں ماننے پر تیار ہوا ہے۔ دوسری طرف امریکہ میں انسانی حقوق کی خراب صورتحال اور پائے جانے والے شدید نسلی تعصبات اور امتیازی رویوں نے امریکہ کے چہرے سے انسانی حقوق کا نقاب ہٹا دیا ہے۔ امریکہ میں سیاہ فام شہری سفید فام شہریوں کی مانند فلاح و بہبود اور سہولیات سے برخوردار نہیں۔ امریکہ میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کی ایک اور مثال زہریلے مادے سے سزائے موت دینا ہے۔ سیاہ فام شہری کلیٹن لاکٹ کی زہریلے مادے کے ذریعے سزائے موت امریکہ میں انسانی حقوق سے بے اعتنائی کی ایک واضح مثال ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں اب تک 1400 افراد کو سزائے موت دی گئی ہے جن میں سے 34 فیصد سیاہ فام امریکی شہری تھے جبکہ امریکہ کی کل آبادی کا صرف 13 فیصد حصہ سیاہ فام شہریوں پر مشتمل ہے۔ جن افراد کو سزائے موت دی گئی ان میں سے 4 فیصد افراد ذہنی مریض تھے۔ نومبر 2014ء میں جمہوریت اور شرکت کے انسٹی ٹیوٹ (Institute of Democracy and Participation) کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں امریکی حکومت کی جانب سے انجام پانے والے انسانی حقوق کے خلاف جرائم یوں بیان کئے گئے ہیں:

1۔ امریکی سیکورٹی اداروں جیسے سی آئی اے کی جانب سے عام شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت اور ان کی جاسوسی،
2۔ ایف بی آئی کی جانب سے نسلی تعصب پر مبنی اقدامات اور انسانی حقوق کے خلاف جرائم جیسے سفید فام پلیس افسران کی جانب سے جان بوجھ کر سیاہ فام شہریوں کو قتل کئے جانا،
3۔ قیدیوں کو ٹارچر کئے جانا جیسے گوآنٹانامو بے اور ابوغریب جیل میں قیدیوں کو شدیدترین ٹارچر کیا گیا،
4۔ امریکی فوج میں خواتین کے حقوق کی پامالی اور خواتین فوجیوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات پیش آنا،
5۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے قوانین سے بے اعتنائی اور ڈرون طیاروں سے عام شہریوں کی ہلاکت کے واقعات،
6۔ امریکی عدالتوں خاص طور پر جیوریز کی جانب سے نسلی تعصب کی بنیاد پر امتیازی رویہ اختیار کئے جانا۔ وغیرہ۔

Reporters without borders نامی تنظیم کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ کے مطابق میڈیا کی آزادی کے لحاظ سے امریکہ کا مرتبہ 2014ء میں 13 پوائنٹ نیچے آ کر 46 ویں مقام پر قرار پایا ہے۔ امریکہ کی جانب سے انجام پانے والا ایک بنیادی مجرمانہ اقدام جس کی بین الاقوامی سطح پر پکڑ بھی ہو سکتی ہے، دیگر خودمختار ریاستوں کے خلاف براہ راست جنگ یا دہشت گرد عناصر کے ذریعے پراکسی وار کی صورت میں فوجی طاقت کا استعمال ہے۔ اس میدان میں امریکہ ایک لمبی تاریخ کا حامل ملک ہے۔ امریکہ جاپان، ویت نام، عراق، شام، افغانستان، ایران، پاکستان اور دیگر ممالک میں براہ راست جنگ یا پراکسی وار کے ذریعے کروڑوں بیگناہ افراد کے قتل کا ذمہ دار ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 کی شق 4، جو انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی دستاویزات کی بنیاد فراہم کرتی ہے، میں کہا گیا ہے کہ کسی ملک کو دوسرے ملک کی ملکی سالمیت کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرنے یا استعمال کرنے کی دھمکی دینے کا حق حاصل نہیں۔ امریکہ اب تک ان قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دنیا کے کئی ممالک پر حملہ ور ہو چکا ہے اور بہت سے ممالک کو فوجی حملے کی دھمکی دیتا آیا ہے۔

دوسری طرف امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی نسل پرست غاصب صہیونی رژیم کی غیر مشروط حمایت، جس نے 1947ء میں اپنی تشکیل سے اب تک مقبوضہ فلسطین میں بے شمار غیرانسانی اقدامات اور مظالم انجام دیے ہیں، بذات خود انسانی حقوق کے خلاف امریکہ کا ایک مجرمانہ اقدام محسوب ہوتا ہے۔ دہشت گرد گروہوں کو اپنے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے استعمال کرنا اور انہیں مالی و فوجی امداد مہیا کرنا امریکہ کے بین الاقوامی جرائم کا ایک اور نمونہ ہے۔ داعش، النصرہ فرنٹ، طالبان، القاعدہ وغیرہ جیسے دہشت گرد گروہ امریکہ اور اس کے مغربی و عربی اتحادی ممالک کی جانب سے تشکیل دیے گئے ہیں۔ یہ دہشت گرد گروہ اس وقت عراق، شام، افغانستان و دیگر ممالک میں بدترین مجرمانہ اقدامات انجام دینے میں مصروف ہیں۔

اسلامی انسانی حقوق:
بین الاقوامی نظام میں موجود انسانی حقوق کے قوانین کا بنیادی مسئلہ ان کا لبرل ازم اور ہیومن ازم کے اصولوں پر استوار ہونا ہے۔ لہذا ان قوانین میں انسان کا روحانی پہلو یکسر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے یہ قوانین درحقیقت مغربی اور امریکی نقطہ نظر اور فلسفے کی بنیاد پر تشکیل دیے گئے ہیں۔ لہذا مسلم ممالک میں اسلامی نقطہ نظر اور فلسفہ اسلامی کی بنیاد پر انسانی حقوق کو پیش کرنے کی ضرورت تھی۔ اس کمی کو پورا کرنے کیلئے اب تک کئی کاوشیں انجام پا چکی ہیں جیسے 1980ء میں کویت کے ایک اجلاس میں انسانی حقوق سے متعلق سفارشات پیش کی گئیں یا 1981ء میں یورپین اسلامک کونسل کی جانب سے لندن میں انسانی حقوق کا اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اسی طرح 1990ء میں اسلامک کانفرنس تنظیم نے قاہرہ میں منعقد ہونے والے اجلاس میں انسانی حقوق سے متعلق ایک اعلامیہ جاری کیا۔ لیکن بین الاقوامی نظام پر انسانی حقوق سے متعلق امریکی اور مغربی ڈھانچہ مسلط ہونے کی بنا پر اسلامی ممالک کے یہ اعلامیے زیادہ موثر ثابت نہ ہو سکے۔ اس عدم تاثیر کی درج ذیل وجوہات ہیں:

1۔ بعض اسلامی ممالک میں اسلامی انسانی حقوق سے متعلق امور میں شدت پسندی اور بے توجہی کا پایا جانا،
2۔ امریکی – مغربی لبرل نظام اور اسلامی نظام میں حقیقی تضاد پایا جانا،
3۔ اسلامی ممالک میں قوانین سے متعلق مکمل ہم آہنگی اور مطابقت کا نہ ہونا،
4۔ اسلامک کانفرنس تنظیم اور دیگر اسلامی تنظیموں کا مطلوبہ حد تک فعال اور سرگرم نہ ہونا، اور 5۔ اسلامی ممالک کو درپیش سیاسی و سیکورٹی چیلنجز جن کا منشا مغربی طاقتوں کی بے جا مداخلت ہے۔ ان سیکورٹی چیلنجز نے انسانی حقوق خاص طور پر اسلامی انسانی حقوق کو شدید نقصانات پہنچائے ہیں۔

نتیجہ گیری:
اسلامی نظام اور استعماری نظام میں ٹکراو کا ایک بنیادی عنصر انسانی حقوق پر مبنی ہے۔ اسلامی نظام میں ایسے انسانی حقوق پر تاکید کی جاتی ہے جن میں انسان کے روحانی پہلو کو بھی مدنظر قرار دیا جاتا ہے۔ جبکہ مغربی نظام میں پائے جانے والے انسانی حقوق انسان کو صرف مادی اور ہیومنیسٹک نظر سے دیکھتے ہیں۔ چونکہ موجودہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین اور دستاویزات مغربی نقطہ نظر اور فلسفے کی بنیاد پر بنائے گئے ہیں لہذا ان میں انسان کے روحانی پہلو پر بالکل توجہ نہیں دی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ایک ایسا ملک جو خود سب سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہوا ہے، دنیا میں انسانی حقوق کے علمبردار کے طور پر سامنے آ گیا ہے۔ لہذا اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ اسلامی انسانی حقوق کی تدوین عمل میں لائی جائے اور انہیں بین الاقوامی سطح پر متعارف کروایا جائے۔ اس سلسلے میں تمام اسلامی ممالک پر یہ اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مل کر اس عظیم مقصد کی تکمیل کیلئے کوشاں ہو جائیں۔
خبر کا کوڈ : 544585
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب