0
Friday 10 Jun 2016 20:38

بانکی مون اور بلیک لسٹ میں سعودی عرب کا نام

بانکی مون اور بلیک لسٹ میں سعودی عرب کا نام
تحریر: سعید رضا

جیسا کہ خبروں میں بیان کیا گیا ہے، اقوام متحدہ نے گذشتہ ہفتے بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ شائع کی۔ اس رپورٹ میں سعودی عرب کا نام بھی لیا گیا اور اسے یمن کے خلاف جارحیت کے دوران جاں بحق ہونے والے 60 فیصد بچوں کی ہلاکت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ لیکن یہ رپورٹ منظرعام پر آنے کے صرف چند دن بعد ہی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ایک انتہائی غیرمتوقع اور تعجب آور اقدام انجام دیتے ہوئے سعودی عرب کا نام بلیک لسٹ سے نکال دیا اور اعلان کیا کہ بہت جلد ریاض کی شراکت سے یمن کے خلاف جنگ کے بارے میں تحقیقات انجام دی جائیں گی۔ بان کی مون کا یہ اقدام سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی طرف سے شدید دباو کا نتیجہ ہے لیکن دوسری طرف انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے اور عالمی میڈیا ان کے اس فیصلے پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ بعض ایسی رپورٹس اور خبریں بھی شائع ہوئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بان کی مون کا یہ اقدام سعودی عرب کی جانب سے اقوام متحدہ کو مالی امداد منقطع کرنے کی دھمکی کے نتیجے میں انجام پایا ہے۔ بانکی مون کے حالیہ بیانات بھی اس خبر کی تصدیق کرتے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں اپنے ایک بیان میں اس فیصلے کو انتہائی "مشکل" اور "دردناک" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے یہ کام اقوام متحدہ کے بجٹ کو محفوظ بنانے کیلئے کیا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بانکی مون کا یہ مایوس کن اقدام جو اقوام متحدہ کے فلسفہ وجودی سے ہی متضاد ہے کس تلخ حقیقت پر استوار ہے؟

اس سوال کا جواب دینے کیلئے بین الاقوامی قانون کی نوعیت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شہری قانون اور بین الاقوامی قانون میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے اصل مخاطبین ممالک اور حکومتیں ہوتی ہیں جبکہ شہری قانون عام افراد کیلئے وضع کیا جاتا ہے۔ ہر ملک میں پائے جانے والے قوانین کی بنیاد "اختیارات کی علیحدگی" (Separation of Powers) پر استوار ہوتی ہے جس کی رو سے تین قوتوں یعنی قانون ساز، ایگزیکٹو اور عدلیہ کے فرائض علیحدہ کئے جاتے ہیں اور یہ تینوں قوتیں آپس میں تعاون اور ھمکاری سے مکمل آزادی اور خودمختاری سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں۔ لیکن بین الاقوامی قانون میں ایسی "اختیارات کی علیحدگی" نہیں پائی جاتی۔ یعنی قانونی طور پر ایک ایسی برتر حکومت موجود نہیں جس کا حصہ دنیا کی موجودہ حکومتیں قرار پا سکیں۔ ایسی برتر حکومت کے وجود یا عدالت کی حاکمیت کو مفروض قرار دیا جا سکتا ہے اور ایسی صورت میں خطا کا ارتکاب کرنے والے ممالک کو آسانی سے سزا دی جا سکتی ہے۔

لیکن بین الاقوامی قانون کی موجودہ صورتحال اور بین الحکومتی میدان اس سے یکسر مختلف ہے۔ ریاستیں – ممالک (States Countries) عالمی برادری کے اصلی ترین اجزا اور بین الاقوامی قانون کے اہم ترین مخاطبین میں شمار ہوتے ہیں۔ اس حقیقت سے دو اہم اصول استنتاج کئے جا سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ بین الاقوامی سطح پر قانونی طور پر حکومتوں کی طاقت سے برتر کوئی طاقت قابل تصور نہیں۔ دوسرا یہ کہ دنیا کی تمام حکومتیں قانونی لحاظ سے آپس میں برابر ہیں اور ایک سطح پر قرار پائی ہیں۔ لہذا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی ووٹنگ کے نظام کی بنیاد تمام ممالک کی قانونی مساوات پر استوار ہے اور دنیا کے تمام ممالک، چاہے وہ طاقتور ہوں یا کمزور، صرف ایک ووٹ کے حامل ہیں اور تمام ووٹ قانونی لحاظ سے ایک حیثیت کے حامل ہیں۔ اگرچہ عمل کے میدان میں طاقتور ممالک مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے کمزور ممالک پر اثرانداز ہوتے ہیں اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق ووٹ دینے پر مجبور کرتے رہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کوئی یہ کہے کہ حکومتوں کی طاقت سے برتر طاقت بھی موجود ہے اور وہ سلامتی کونسل یا نیٹو اتحاد کو مثال کے طور پر بیان کرے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قانونی طور پر ایسی تنظیمیں یا کونسلیں ایک برتر حکومت نہیں بلکہ مختلف حکومتوں کا مجموعہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے چارٹر میں بھی اس امر کی وضاحت بیان کی گئی ہے کہ یہ تنظیم ایک برتر حکومت نہیں۔

لہذا بین الاقوامی قانون کا حقیقی مخاطب، حکومت ہے اور دنیا کی کسی حکومت کو قانونی لحاظ سے دوسری حکومت پر برتری حاصل نہیں۔ ایسی صورتحال میں اگر ایک ملک بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو جائے تو اس کی خلاف ورزی کے بارے میں ضروری قانونی کاروائی کرنے کا حق کسے حاصل ہے؟ شاید یہ عجیب محسوس ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ قانونی لحاظ سے کسی کو اس کے خلاف کاروائی کا حق حاصل نہیں۔ کیونکہ جیسا کہ بیان کیا گیا ہے تمام ممالک اور حکومتیں قانونی لحاظ سے ایک سطح پر ہیں اور آپس میں برابر ہیں۔ ہو سکتا ہے اسی وجہ سے بین الاقوامی قانون کی نوعیت سے متعلق تحقیق کے دوران ہابز اور پوفیندراف جیسے لکھاری بین الاقوامی قانون کی قانونی نوعیت کا انکار کرتے نظر آتے ہیں اور 19 ویں صدی کے برطانوی لکھاری جان آسٹن بین الاقوامی قانون کو قانونی پہلو سے عاری قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ ہر قانونی اصول کی لازمی خصوصیت اس کے اجرا کی گارنٹی کی فراہمی ہے اور اجرا کی گارنٹی کا لازمہ ایک برتر طاقت کا موجود ہونا ہے۔ ایسی طاقت کی غیرموجودگی میں نہ تو کوئی قانونی اصول باقی رہ سکتا ہے اور نہ ہی اس کے اجرا کی ضمانت فراہم کی جا سکتی ہے۔

قانونی لحاظ سے تمام ممالک کے آپس میں برابری اور ایک برتر طاقت کہ نہ ہونے کے پیش نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بین الاقوامی قوانین (جیسے طاقت کے استعمال کی ممانعت، نسل کشی کی ممانعت، جنگ کے دوران سویلین، بچوں اور خواتین کے حقوق کی پاسداری وغیرہ) کے اجرا کی ضمانت فراہم کرنے کیلئے کون سا باصلاحیت ادارہ موجود ہے؟ اسی قانونی نقص کے باعث بعض محققین کی نظر میں بین الاقوامی قوانین صرف اخلاقی دستورات کا ایک مجموعہ ہے جن کی پابندی حکومتوں پر لازمی نہیں۔ یہ نقطہ نظر ہو سکتا ہے ناگوار ہو لیکن موجودہ حقائق اور بین الاقوامی قوانین کی نوعیت سے سب سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ شاید یہ جان کر ہمیں دکھ محسوس ہو کہ بین الاقوامی قانون کے اجرا کی پہلی ضمانت باہمی دفاع، جوابی کاروائی اور انتقام ہے۔ یعنی اگر کوئی ملک کسی دوسرے ملک کے خلاف فوجی جارحیت انجام دیتا ہے تو جارحیت کا شکار ملک اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے اور جارح ملک کے خلاف جوابی کاروائی کر سکتا ہے۔ یعنی جارحیت کا شکار ملک جارح ملک کے غیرقانونی اقدام کے مقابلے میں قانونی اقدام کرنے کا حق رکھتا ہے۔ چونکہ حقیقت میں تمام ممالک یکسان دفاعی صلاحیتوں کے حامل نہیں لہذا کمزور ممالک ہمیشہ فوجی اعتبار سے طاقتور ممالک کے مقابلے میں مغلوبیت کا شکار رہتے ہیں۔ پس تعجب نہ کریں کہ بین الاقوامی قانون کے اجرا کی پہلی ضمانت جنگل کا قانون ہے۔ بین الاقوامی قانون کے اجرا کی دوسری ضمانت بین الاقوامی اداروں کی جانب سے مشترکہ کاروائی ہے۔ لیکن جب ہم بعض بین الاقوامی تنظیموں جیسے اقوام متحدہ یا نیٹو کا عالمی طاقتوں کے ہاتھوں کھلونا بن جانے کا مشاہدہ کرتے ہیں تو خود کو اس بارے میں کسی مزید وضاحت کی ضرورت سے بے نیاز محسوس کرتے ہیں۔

بین الاقوامی قوانین کے اجرا کی اہم ترین ضمانت، ممالک اور عالمی تنظیموں کے باہمی مفادات ہیں۔ یہ وہی عنصر ہے جس نے اقوام متحدہ کی کارکردگی کو بھی متاثر کر رکھا ہے۔ اس بارے میں مزید وضاحت یہ کہ ایک ملک دوسرے ملک کے حقوق کا احترام اس لئے کرتا ہے کہ اگر وہ ایسا نہ کرے تو دوسرا ملک بھی اس کے حقوق کا احترام نہیں کرے گا اور اس کے خلاف ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے اپنے ظلم کا نشانہ بنائے گا۔ لہذا ہر ملک باہمی مفادات کے تحفظ کی خاطر بین الاقوامی قوانین (جیسے دوطرفہ معاہدوں کی پابندی، دیگر ممالک کی خودمختاری کا احترام، دوسرے ممالک کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز اور پرامن طریقہ کار کا استعمال وغیرہ) کا احترام کرتے ہوئے ان کی پابندی کرے گا۔ مثال کے طور پر ممالک ایکدوسرے سے انجام پانے والے دوطرفہ معاہدوں کی پابندی کریں گے کیونکہ ان کا فائدہ اسی میں ہے اور وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اگر وہ معاہدے کی خلاف ورزی کریں گے تو دوسرے ممالک بھی ایسا کر سکتے ہیں لہذا کوئی بھی معاہدہ معتبر نہیں رہے گا اور کسی کو کسی پر اعتماد باقی نہیں بچے گا۔ باہمی مفادات کے تحفظ کو بین الاقوامی قوانین کے اجرا کی ضمانت کے طور پر استعمال کرنے کے کافی اچھے نتائج حاصل ہوئے ہیں اور ممالک اپنے جائز مفادات کے تحفظ کیلئے بین الاقوامی قوانین کی پابندی کی کوشش کرتے ہیں۔

وہ امر جو بین الاقوامی قانون اور تنظیموں کے طریقہ کار میں بدعت قرار دیا جا رہا ہے یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹیر جنرل بانکی مون نے اس ادارے کے مالی مفادات کے تحفظ کی خاطر یمن میں سعودی رژیم کی جانب سے انجام پانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے چشم پوشی اختیار کر لی ہے۔ اقوام متحدہ جو تشکیل ہی اسی مقصد کیلئے دی گئی تھی کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کو روکے اور دنیا میں امن و امان کے قیام کو یقینی بنائے اور ظلم و ستم کا خاتمہ کرے اب اپنے مالی مفادات کی خاطر سعودی اتحاد کے جنگی جرائم اور بچوں کے قتل عام سے چشم پوشی اختیار کر رہی ہے۔ اگرچہ اقوام متحدہ کی تاریخ ایسے اقدامات سے بھری پڑی ہے جن کا قانونی جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا لیکن اب تک اقوام متحدہ کے کسی سیکرٹری جنرل نے بانکی مون کی طرح اس ادارے کی عزت کو خاک میں نہیں ملایا تھا۔ اگر ہم تاریخ پر نگاہ دوڑائیں تو اقوام متحدہ کے ایسے سیکرٹری جنرل بھی گزرے ہیں جنہوں نے عراق پر امریکہ کے فوجی حملے کو قانونی جواز فراہم کرنے سے انکار کر دیا اور انہیں اس کی قیمت اپنا عہدہ چھوڑنے کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔ اقوام متحدہ کی تاریخ کو سامنے رکھ کر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بانکی مون اقوام متحدہ کا کمزور ترین سیکرٹری جنرل ہے۔ ایسا سیکرٹری جنرل جو مالی امداد منقطع ہونے کے خوف سے سعودی رژیم کی جانب سے یمن میں بچوں کے قتل عام پر آنکھیں بند کرنے کو تیار ہے۔ بانکی مون کے اس اقدام نے بین الاقوامی قوانین کے اجرا کو مشکوک بنا ڈالا ہے۔
خبر کا کوڈ : 544740
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے