0
Wednesday 15 Jun 2016 15:15

روزے اور بے تحاشا کھانا

روزے اور بے تحاشا کھانا
تحریر: ثاقب اکبر

مسلسل ایسی خبریں آرہی ہیں کہ بے ہنگم، بے تحاشا اور بے ہودہ کھانے سے ”روزہ دار“ شدید بیماریوں کا شکار ہو کر ہسپتالوں میں پہنچ رہے ہیں۔ ایسے روزہ داروں کی ہسپتالوں میں تعداد اب تک کئی ہزار ہو چکی ہے۔ کئی ٹی وی چینلوں پر اپیل کی جارہی ہے کہ روزہ دار چٹ پٹے اور مصالحہ دار کھانے ضرور کھائیں لیکن ” ہاتھ ذرا ہولا رکھیں“۔ ایسے کتنے ہی روزہ دار ہیں جن کا وزن رمضان شریف میں چند سحریوں اور افطاریوں کی ”برکت“ سے ہی کلو کے حساب سے بڑھ گیا ہے۔ ہمیں جس طرح کی سحریوں اور افطاریوں کی چاٹ لگی ہے وہ رزق حلال سے کیسے پوری ہو سکتی ہے؟ وہ افراد جو عام حالات میں روزانہ ”ون ڈش“ دو یا تین وقت کے لیے گھروں میں تیار کرتے ہیں اور اسی پر صبر و شکر کیے رہتے ہیں ،ان میں سے بہت سے افراد روزے کی افطاری کے لیے ”ٹین ڈش“ اہتمام ضروری سمجھتے ہیں اور اگر حلال روزی پر ہی اکتفا ضروری سمجھیں تو ”ادھار“ پر گزارہ کرتے ہیں۔ کیا رمضان شریف اور روزے ان کے لیے تنگ دستی اور مشکلات کا تحفہ چھوڑ جاتے ہیں؟

کئی احادیث میں روزے کا ایک مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہمیں مسکینوں اور فقیروں کی بھوک اور پیاس کااحساس ہو تاکہ ہم معاشی ناہمواریوں کے خلاف جہاد کا حصہ بن سکیں۔ روزہ فقیر و تنگ دست اور امرائے مسلمین کو ہم آہنگ کردیتا ہے۔ ایک احساس جگاتا ہے کہ بھوکے اور پیاسے لوگوں پر کیا گزرتی ہے لیکن بسیار خوری اور بے تحاشا کھانے سے تو انسان کی روح ہی مر جاتی ہے۔ بھوک اور پیاس کے خوف سے سحری کے وقت زیادہ سے زیادہ کھانا اورافطاری کا بے پناہ اہتمام کرکے اسے پوری ہمت اور کوشش سے کھانا بلکہ ٹھونسا انسانی جذبوں کے لیے کہاں گنجائش چھوڑتا ہے ۔ ہمارے ہاں ہسپتال کی طرف تو وہی رجوع کرتا ہے جس کی حالت بہت ہی خراب ہو جائے۔ چورن، پھکی، سیون اپ ،ہاجمولا اورکارمینا جیسے ٹوٹکوں سے بسیار خوری کے عذاب کا مداوا شروع ہوتا ہے اور پھر کئی مرحلوں سے گزر کر ہسپتال پہنچنے کا مرحلہ آتا ہے۔ جب روزے دار کی یہ کیفیت ہے تو حکمرانوں، تاجروں اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں پر کیا اعتراض۔
ع دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی

جیسے عوام ویسے حکمران۔ جیسی روح ویسے فرشتے۔ حکمرانوں کو کوسنا تو فیشن بن چکا ہے اور وہ بھی ”مستقل مزاج“ ہیں، عادی ہو چکے ہیں۔ اصل سوال تو یہ ہے کہ کیا عوام واقعی روزے دار ہیں۔ قرآن حکیم کے مطابق روزہ تو ”تقوی“ پیدا کرنے کے لیے فرض کیا گیا ہے۔ تقوی کا معنیٰ ہے، بچنا، پرہیز کرنا، اسی لیے متقی کو پرہیز گار کہتے ہیں۔ روزہ کچھ عرصے کے لیے حلال چیزوں سے بھی پرہیز کرنا سکھاتا ہے۔ انسان اپنے نفس پر قابو پانا سیکھتا ہے۔ انسانی روح جو اپنی اصل میں الٰہی ہے، وہ قوی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ خود بھوک پیاس سے پاک ہے۔ وہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے ۔ اس نے اپنے بندوں کو اپنے جیسا بنانے کے لیے یہ عبادت فرض کی ہے۔ اگر روزہ یہ تاثیر پیدا نہ کر سکے تو پھر گویا وہ اپنا مقصد حاصل نہیں کر پایا۔ ضروری ہے کہ انسان پرہیز گاری کے راستے پر سفر کے لیے روزہ رکھے۔ ورنہ نماز جو روزے سے بھی افضل عبادت ہے اسے اختیار کرنے والے بعض لوگوں پر اظہار افسوس کیا گیا ہے:
فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ O
خرابی ہے ان نمازیوں کے لیے ی جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔

جب اپنی نماز سے غافل نمازیوں کے لیے خرابی ہے تو کیا اپنے روزے سے غافل روزہ داروں کے لیے خرابی نہیں ہے؟ کیوں نہیں”تقوی“ کے اعلیٰ مقصد سے غافل روزہ داروں کے لیے بھی خرابی ہے۔ خرابی کے بعض پہلو تو ہمیں نظر بھی آتے ہیں:
٭ ہسپتالوں تک ہزاروں روزہ داروں کا بے ہنگم کھانے کی وجہ سے پہنچ جانا، خرابی ہے۔
٭ کھانے پینے کی چیزوں کا بے تحاشا مہنگا ہو جانا، خرابی ہی ہے۔
٭ حکمرانوں کا اپنے عوام سے بے نیاز اور بے خبر ہونا، خرابی ہی ہے۔
٭ رمضان شریف میں غریبوں کا غریب تر اور امیروں کا امیر تر ہو جانا خرابی ہی ہے۔
٭ افطاریوں اور سحریوں کی ”عیاشی“ کے لیے مقروض ہو جانا، خرابی ہی ہے۔
٭ روزہ بھی رکھنا اور اللہ کی قربت ورضا سے بھی محروم رہنا، خرابی ہی ہے بلکہ سب سے بڑی خرابی ہے۔

احکام شریعت کی فقہی ضرورت کو پورا کردینا اور فقہی شکل و صورت کو درست طور پر اختیار کرنا اور حکم شریعت کے مقاصد سے غافل رہنا امت اسلامیہ کا آج کا بہت بڑا المیہ ہے۔ ہم یہ تو جانتے ہیں کہ کیا کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے لیکن اس پر نظر نہیں رکھتے کہ کیا کرنے سے روزہ بے روح ہو جاتا ہے۔ ماہ رمضان ہے۔ نمازیں بڑھ گئی ہیں، تلاوت قرآن میں اضافہ ہو گیا ہے، روزے رکھے جارہے ہیں۔ اخبارات اور ٹیلی ویژن علماءکرام کی باتیں چھاپ رہے ہیں اور سنوا رہے ہیں لیکن روحِ دینی کمزور ہورہی ہے۔ یہ عمومی اوراجتماعی حالت ہے اگرچہ ایسے اللہ والے بھی ہیں جن کے سینے میں پچھڑے ہوئے لوگوں کا درد زیادہ جاگ پڑا ہے۔ روزوں نے جن کی روح اور بھی لطیف کردی ہے۔ جن کی راتیں یاد الٰہی میں گزرتی ہیں۔ خشیت الٰہی سے جن کی آنکھوں سے موتی برستے ہیں۔ آئیے ایسے لوگوں کو تلاش کریں۔ ان کی قربت اختیار کریں۔ ان کی آنکھوں سے دنیا کو دیکھیں اور ان کے سلیقے سے اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کریں۔
وَ الَّذِینَ جَاھَدُوا فِینَا لَنَھدِیَنَّھُمسُبُلَنَا
جو لوگ ہمیں پانے کی کوشش کرتے ہیں انھیں ہم اپنے راستوں کی راہنمائی کرتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 546010
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش