0
Thursday 16 Jun 2016 21:06

حضرت خدیجہ کے مثالی کردار کی عصری معنویت

حضرت خدیجہ کے مثالی کردار کی عصری معنویت
تحریر: فدا حسین بالہامی

ہر چند کہ دنیا میں کسی بھی عورت کو پیغمبری عطا نہیں ہوئی ہے لیکن چند ایک خواتین پیغمبرانہ زندگی گزار کر اس دنیا سے رخصت ضرور ہوئیں۔ منصبِ رسالت پر فائز نہ ہونے کے باوجود بھی کارِ رسالت کی انجام دہی میں یہ بر گزیدہ خواتین پیغمبرانِ اولوالعزم سے شراکت رکھتی ہیں۔ ان ہی چنندہ خواتین میںہمسرِ مصطفی جناب خدیجہ ؓکا نام گرامی سرِ فہرست ہے۔ پیغمبر اسلام کی ہمسری میں آپ نے جومقام و مرتبہ پایا اس پر بجاطور پر نسوانیت تاقیام قیامت پر ناز کر سکتی ہے۔ بلا شبہ آپ کی اعلیٰ شخصیت، انسانیت کیلئے باعثِ افتخار ہے۔ آپ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ نے سب سے پہلے پیغمبر ختم مرتبت کی رسالت پر ایمان لایا اور اپنی پوری زندگی کو اسلام کے سانچے میں یوں ڈالا کہ اسلام کا چلتا پھرتا مجسم قرار پائی۔آپ کی زندگی میں سیرتِ طیبہ کا پرتو صاف دکھائی پڑھتا ہے۔ اسی لئے کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح آپ کے عظیم شوہر کی زندگی عالم انسانیت کے لئے نمونہ عمل ہے اسی طرح حضرت خدیجہ کا کردار بھی قابل ِتقلید ہے۔آپ کی پاکدامنی، ایثار و قربانی، انسان شناسی، غمگساری ،شرافت و جاہت ہر دور میں نسوانیت کیلئے بالتخصیص باعثِ ہدایت ہے۔عصرِ حاضر میں نام نہاد ماڈرن عورت جن الجھنوں سے جوجھ رہی ہے۔ ان سے راہِ نجات اس عظیم خاتون کی سیرت کی روشنی میں دیکھی جاسکتی ہے۔ یہاں پر یہ بات خارخ از موضوع نہ ہوگی کہ فکر و سوچ کا عملی زندگی پر کافی عمل دخل ہوا کرتا ہے سقراط تو یہاں تک کہہ گیا ہے کہ” غورو فکر کے بغیر زندگی جینے کے لائق نہیںہے“۔اور اپنی ظاہری دنیا کو جاذبِ نظر بنانے کے لئے لازمی ہے کہ انسان نے اپنے اندرون میں ایک حسین و جمیل فکری دنیا بسا ئی ہو۔حکیم الامت کا کہنا صد فی صد مبنی بر حقیقت ہے کہ
جہانِ تازہ کی ہے افکارِ تازہ سے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا
اسے یہ بات طے ہوئی کہ آیڈیولوجی ہی معاشرتی سرگرمیوں کی بنیاد ہوتی ہے یہ تو ممکن نہیں ہے کہ ام المو¿منین حضرت خدیجہؓ دوبارہ اس دنیا میں وارد تشریف آور ہو اور پھر سے اپنی سیرت و کردار کا عملی نمونہ پیش کر کے غرب زدگی کی شکار آج کی عورت کو اس کی زبوں حالی کا احساس دلا دے اوربنفس ِ نفیس اس بیچاری کا ہاتھ تھام کردریائے معصیت میں غرق ہونے سے بچا لے البتہ مسئلے کا منطقی اور حقیقی حل یہ ہے کہ اس دور کی خواتین مغرب کے تصور ِ نسوانیت کے بجائے حضرت خدیجہ الکبری کے تاریخ ساز کردار کو اپنا آیڈیل مانیں اور اس سے اپنے اندرون میں ایک فکری انقلاب برپا کرنے کے لئے تگ ودو کریں۔ تو پھر یقینا اس کی کایا پلٹنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

نسوانیت برائے مادیت:۔
جس دور میں ہم زندگی بسر کر رہے ہیں اس میں صنفِ نازک کو مادی مفادات کے حصول کاایک پر کشش ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ماڈلنگ ((MODLINGسے لیکر ایڈواٹائزنگ ((advertising تک ایڈواٹائزنگ (advertising )سے لیکر ایکٹنگ(acting) تک جتنے بھی روپ اس عورت کے عالمی میڈیا منظر ِ عام پر لارہا ہے ، ان سے مادی فکر اورسرمایہ دارانہ نظام کو تو خوب فروغ مل رہا ہے لیکن بیچاری صنف نازک کی زبوں حالی جو ں کی توں ہے۔ جو لوگ اس صنفِ ناک کو اس طرح کی سر گرمیوں میں مصروف دیکھنا چاہتے ہیں انہیں صرف اور صرف اپنے مادی مفادادت پیش نظرہیں۔یہ بات اور ہے کہ وہ ( empowermnet women)کے بنیر(banner)تلے اس گھناونے کھیل کوکھیلنے میں محو ہیں کس قدر تکلیف دہ امرہے کہ وہ عورت جو انسان ساز تھی بالفاظِ دیگر معدنِ انسانیت تھی اس کا بلند ترین مدعا و مقصد یہی قرار پائے کہ وہ کسی بھی قیمت پر سرمایہ میں اضافے کا ادنی ٰ ساوسیلہ قرار پائے،چاہے اس کے لئے اسے اپنی عزت و عفت کا سودا بھی کرنا پڑے۔ اپنی مادرانہ فطرت کو اپنی ہی کوکھ میں زندہ دفنانا پڑے۔ اپنے ضمیر کا قتل کرنا پڑے یا پھر اخلاق و مذہب کی تمام ترحدوں کو پھلانگنا پڑے۔ جدید ترین اصطلاح میں کیرئیر (CARRIER) کے نام پر کچھ اس طرح کی پستیوں سے ہوکر اس جدید عورت کو گزرنا پڑرہا ہے کہ جس سے اس کا حقیقی وقار خطرے میں پڑھ گیا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ جتنا یہ پستیوں میں اترتی جارہی ہے اتنا ہی دنیا کی نظروں میں شہرت کے مراحل طے کرتی جارہی ہے۔ یعنی معاشی مفادات کے حصول کی دوڑ میں انسان نے عزت و شرافت کے اصل معیارات کو صد فی صد تبدیل کردیا ہے بالفاظ دیگر ذلت کی پستیوں کو ہی عزت و شہرت کا بام عروج کہا جاتا ہے۔ یہ سب سرمایہ دارای اور شہوت پرستی کے اوچھے کرتب ہیں جنہیں عورت کے نرم و نازک وجود پر آزما یا جارہاہے۔ عالمی سطح پر جو رویہّ ایک عورت کے تئیں اس وقت پایا جاتا ہے اس کے اثرات مسلم معاشروں میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہاں بھی رونقِ خانہ ہونے کے بجائے زینتِ بازار بننے کا شوق پروان چڑھ رہا ہے۔ نوکری(Job) کا جنوں ہے کہ جو سر چڑھ کر بول رہا ہے جس کے نشے میں گھریلو زمہ داریاں بے قیمت دکھائی دیتی ہیں۔ مغرب کی دیکھا دیکھی سے بھی مشرقی عورت کے تصورِ حیات اورطرزِ زندگی میں واضح تبدیلی آئی ہے۔ تعلیم و تربیت کا مقصد حصولِ معاش کے سوا کچھ بھی نہیں رہا اور اس سلسلے میں مردو زن کے مابین کوئی امتیاز نہیں ہے۔ مردوں کے ساتھ ساتھ اب خواتین بھی فکرِ معاش اور طلبِ روزگار کی دوڑ میں شامل ہیں۔

مذکورہ صورتِ حال کے تناظرمیں حضرت خدیجہؓ کا زندگی نامہ سبق آموز ہے بالخصوص ان خواتین کیلئے جنہوں نے دولت کمانے کے گورکھ دھندے میں اپنی ذات و شناخت کو دا و¿پر لگا رکھا ہے۔ نیز اصلی ھدف ِزندگی سے منحرف ہو کر اپنے لئے ایک پست ترین مقصد متعین کیا ہے۔ مورخینِ اسلام اس بات پر متفق ہیں کہ حضرتِ خدیجہ ؓ ایک متوّل گھرانے میں پیدا ہوئیں۔اپنی خداداد ذہانت و فطانت کے سبب آپ نے اپنے خاندانی کاروبار کو وسعت دی۔ اور مکہ کے امیر ترین افراد میں آپ کا شمار ہونے لگا۔ لیکن دولت کی فراوانی آپ کے اعلیٰ سیرت و کردار پر اثر انداز نہ ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ اسلام کی اس عظیم خاتون نے بڑے بڑے رئیس زادوں کی خواستگاری کو ٹھکرا دیا۔ اور ایک عظیم مشن کی کامیابی کے لئے اپنی پوری دولت وقف کردی۔ حق کی خاطر جناب خدیجہ کا اپنا سرمایہ قربان کردینا آج بھی ایک خاتون کو زندگی کا ایک اہم سبق یاد دلا رہا ہے کہ اعلیٰ ترین مقاصد کو روند کر سرمایہ کی جمع آوری صنفِ نازک کے شایان شان نہیں ہے۔ چند سکوں کی خاطر اپنا سب کچھ دا وپر لگا دینا ایک ایسا فعلِ قبیح ہے جس سے نسوانیت کا بھیڑا غرق ہوسکتا ہے۔نیز دنیا طلبی کی لت آخر کار انسان کا باطنی حلیہ بگاڑ کے رکھ دیتا ہے۔ برعکس اس کے خدا جوئی سے ایک فرد کے پیکر میں ایک لازوال معنوی جوہر پیدا ہوتا ہے جس کا حضرت خدیجہ ایک واضع مظہر قرار پائیں۔

شریک حیات کا انتخاب:۔
ام المومنین ؓکا راہِ حق میں اپنا سب کچھ لٹا دینا اس بات کی طرف ہمیں متوجہ کراتا ہے کہ زر پرستی کے بجائے حق جوئی ہی مقصدِ زندگی ہے۔ اور حق جوئی کی اس کھٹن اور شہادت طلب راہ میں کون سے ہمسفر کا انتخاب کرنا چاہئے؟ ہمسفر کے انتخاب کیلئے جن معیارات کو ایک مسلم خاتون پیش نظر رکھے وہ کیا ہیں؟اس طرح کے تمام سوالات کا جواب ہمیں مل سکتا ہے بشرطیکہ اس مثالی کردار کا سنجیدگی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے۔ حضرت خدیجہ کی عفت و پاکدامنی ،بے پناہ ذہنی صلاحیت و صلابت اور صاحبِ ثروت ہونے کے سبب قریش کے بہت سے روسا اور شرفاءنے اپنی خواستگاری ظاہر کی۔ مگر حضرت خدیجہ ؓکی انسان شناس نگاہیں کسی خاص الخاص ہستی کی تلاش میں تھیں۔ جب پیغمبرِ رحمت کی امانت و صداقت کا شہرہ آپ تک بھی پہنچا تو انہوں (حضرت خدیجہ) نے آپکو تجارتی قافلے کی سرپرستی سونپی جسے آپ نے قبول فرما کر شام کا تجارتی سفر کیا۔ حضرت خدیجہ نے جب اپنے غلام میسرہ سے آنحضور کے معمولات ِ زندگی ، خلق ِ عظیم اور امانت و صداقت کے مشاہدات سنے تو وہ کردارِ محمدی پر فریفتہ ہوگئیں اور بلاتامل اپنے چچازاد ورقہ بن نوفل کے سامنے اس عظیم اور متبرّک انسان کے ساتھ رشتہ ازدواج میں بندھنے کی خواہش ظاہر کی۔ حضرت خدیجہ کی اس خواہش کو بھی حضورنے شرفِ قبولیت بخشا۔ لیکن مالی لحاظ سے غریبی اور سماجی اعتبار سے یتیمی کی زندگی گزارنے والے ایک شخص کے ساتھ رشتہ ازدواج استوار کرنے پر قریش کی تمام رئیس زادیاں حضرت خدیجہ سے برہم ہوئیں یہاں تک کہ نوبت سماجی بائیکاٹ تک جا پہنچی۔ انہوں نے حضرت خدیجہ ؓکی دعوتِ ولیمہ کو ہی نہ صرف رد کیا بلکہ حضرت زہرا سلام اللٰہ علیھاکے تولد کے وقت بھی قریش کی ان عورتوں نے حضرت خدیجہؓ کی عیادت سے ہاتھ کھینچا۔ حضرت خدیجہ کی سیرت کے اس پہلو سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اول تو آپ نے شریکِ حیات انتخاب کرتے وقت آج کل بلکہ ہر زمانے کے عمومی معیارات یعنی دولت و ثروت اور دنیاوی جاہ و حشمت وغیرہ کوخاطر میں نہیں لایا۔ بلکہ کردار کی پاکیزگی کو ہی اپنا معیارِ انتخاب قرار دیا۔ ثانیا ًاس انتخاب کے بعد جس سماجی فشار کا انہیں سامنا ہوا اس کا آپ نے مستحکم ارادے کے ساتھ مقابلہ کیا اور اپنے اصول سے سرمو بھی تجاوز نہ کیا۔ عکس العمل اس کے عصرِ حاضر میں اکثر و بیشتر خواتین شریکِ حیات منتخب کرتے وقت صرف اور صرف مال و دولت کو ہی بنیادی معیار قرار دے رہی ہیں۔ علاوہ ازیں سماجی رسوم اور سوچ و اپروچ کو مدنظر رکھ کر فضول خرچی اور رسومِ بد کو فروغ دینے میں عورتیں پیش پیش ہوا کرتی ہیں۔ غیر اسلامی رسوم کو پروان چڑھانے میں خواتین کا رول ایک طاقت ور عامل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی بھی کام کی انجام دہی کے وقت خواتین ضرور اس بات کو پیش نظر رکھتی ہیں کہ اس سلسلے میں سماج کیا کہتا ہے اور کسی بھی غیر اخلاقی رسم کو اگر مرد حضرات ترک کرنے کا ارادہ بھی کریں تو خواتین اپنی روایتی دلیل کے ساتھ اس نیک عمل میں حائل ہوجاتی ہیں کہ اگر ہم فلاں رسم کو ترک کریں گے'' تو لوگ کیا کہیں گے'' ہمارے معاشرے میں اس دیکھا دیکھی کے سبب بہت سی بیماریاں پنپ رہی ہیں جسے یہ زوال آمادہ ہے۔ اگر ہماری خواتین بھی حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے انہی ہی دو پہلوں کی پیروی کریں تو ہمارے بہت سے معاشرتی مسائل اپنے آپ ہی حل ہوں گے۔جن کا نچوڑ دو نکتوں میں یوں بھی پیش کیا جاسکتا ہے۔

اول: حضرت خدیجہ کی طرح انہیں بھی مادیت پر معنوی کردار کوہی ترجیح دینا ہو گا۔
دوم :اس عظیم خاتون کی پیروی سے ان (خواتین ) میں معاشرتی فشار کے سامنے ثابت قدم رہنے کی قوتِ برداشت پیداہو۔

مرد و زن کے مابین صنفی جنگ:
عالمی سطح پر انسانی معاشرے کو جن مسائل نے آگھیرا ہے ان میں مردو زن کے مابین صنفی جنگ بھی ایک حساس مسئلہ ہے۔ جس نے انسانی سماج کو ایک غیر ضروری چپقلش میں مبتلا کررکھا ہے۔اس چپقلش کے مضرت رساں اثرات کو توضیحاً بیان کیا جائے تو مضمون در مضمون والا معاملہ در پیش ہوگا لہذا کنایتاً چند ایک نکتوں پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ صنفی اعتبار سے مردو ںکو عورتوں پر تفوق حاصل ہے۔ لیکن اس صنفی فوقیت کا غلط استعمال کرکے طول تاریخ میں صنف نازک پر مردوں نے گوناگوں مظالم ڈھائے ہیں۔ ہر خطہ زمین اور ہرگذشتہ تہذیب کے ساتھ داستانہائے ظلم وابسطہ ہیں کہ جن سے کتابوں کی کتابیں بھریں پڑیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب آزادی ¿نسواں کی تحریک بڑی شدومد کے ساتھ سرزمین یورپ سے اٹھی۔ تو ایک عورت کیلئے اس کا بنیادی منشور'' پیکار با مرد''ہی قرار پایا۔ اس قسم کی تحریکوںسے حقیقی معنوں میں آزادی ¿نسواں کاپر کشش ہدف حاصل ہوا کہ نہیں ؟یہ ایک الگ بحث ہے البتہ ان تحریکوں کے نتیجہ میں صنفی منافرت نے ضرور سر اٹھایا جس کے واضع اثرات کامشاہدہ انسانی معاشرے میں بآسانی کیاجاسکتاہے۔ آزادی ¿نسواں کی تحاریک کے پیچھے یہ فکر کارفرما تھی کہ جب تک ہوا کی بیٹی اس کے ازلی حریف یعنی آدم کے بیٹوں سے کسی بھی شعبہ ¿ زندگی میں معمولی سی معمولی بھی احتیاج رکھتی ہے، اسے ایک آزاد مخلوق قرار دینا سراسرخوش فہمی ہے۔گویاصنف نازک کی بقا ءاور ارتقاءکی راہ میں مردوں کی چودھراہٹ کو واحد سدِ راہ قرار دیا گیا یہی وجہ ہے کہ آج کی ماڈرن اوربزعم خودآزادی نسواں کی علمبردار خواتین مردوں کے شانہ بشانہ نہیں بلکہ ان کے مدِمقابل کی حیثیت سے مسافتِ حیات طے کرنا چاہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس صنفی دوڑ نے فریقین کے مابین ایک وسیع خلیج پیدا کی ہے جسے قریب دکھائی دینے والے زن و مرد حقیقتاً ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔

مغربی تہذیب کی ایک جھلک:
مرد بیزاری کا اس سے بڑی مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ آج ڈنمارک اور اس طرح کے بہت سے شہروں میں خواتین کی ایک کثیر تعداد مردوں کی قربت سے زیادہ کتوں کی قربت کو بہتر سمجھتی ہے اور اس سلسلے میں یہ دلیل پیش کی جاتی ہے کہ کتے مردوں کی بہ نسبت وفادار ہوتے ہیں۔ (بحوالہ کتاب۔ (western civilization through muslim eyes... by syed mujtaba mosvi lari) ایک اورمسلم اسکالر اپنے یورپ کے سفر کی روداد بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں''کہ یورپ میں ریل سفر کے دوران ایک فرنگی جوڑے کے ساتھ وقتی طور میری آشنائی ہوئی اتفاقا ًوہ دونوں میرے ہی کمپاٹمنٹ میں محوِ سفر تھے تھوڑے عرصے کے بعد عورت نے اپنی غذا سے بھرے ہو ئے ا یک ڈبے کو کھولا اور بلاتامل کھانا کھانے میں مشغول ہوئی۔ دوسری جانب مرد بھی اپنے ساتھ رکھے ہوئے غذا کے ڈبے میں غذا تناول کرنے میں لگ گیا۔ آپس میں غذا مل بیٹھ کر کھانا اور ایک دوسرے کے ساتھ غذا بانٹنا دور کی بات تھی اس دوران ان دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ چنانچہ بے مروتی کا رویہ دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے فوراً ان سے آپسی رشتے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ دونوں میاں بیوی ہیں۔ چنانچہ عورت کی غذا قدرے بہتر تھی لہٰذا میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ دونوں اگر میاں بیوی ہیں تو غذا میں یہ تفاوت کیسی؟ تو عورت نے کہا کہ ان دونوںکی طرزِ زندگی (Life Style) میں یہ فرق دراصل ان کی الگ الگ آمدن پر منحصر ہے۔ اس نے مزید کہا کہ چنانچہ میرے شوہر کی آمدنی مجھ سے بہت کم ہے اسی لئے اس کو نسبتاً کم درجے کی غذا پر ہی گزر بسر کرنا پڑے گا۔

مشرقی ثقافت کے جلوے:
یہ ہے عورت کا مغربی ہیولااس سلسلے میں خواتین کو زندگی کے مختلف شعبوں علی الخصوص معاشی شعبہ میں ایک مخصوص فکری پس ِ منظر کے ساتھ خود کفیل بنانے کی جووکالت عالمی پیمانے پر کی جارہی ہے اس کے خفیف اثرات مشرقی معاشرے کے مختلف شعبہ جات میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ والدین کا اپنی بیٹیوں کو محض اس لئے مروجہ تعلیم سے آراستہ کرنا کہ وہ برسر روزگار ہوں اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اب انکی تعلیم کا مقصد بھی روزگار ہی قرار پایا ہے۔ اور اس روزگار کی حصولیابی کے پیچھے یہی سوچ کار فرما ہے کہ خواتین کسی بھی شعبہ میں مردوں کے محتاج نہ رہیں حتیٰ کہ ایک زوجہ اپنے شوہر کی بھی اس سلسلے میں دست نگرنہ رہے۔ضمناً عرض کرتا چلوںکہ خواتین کی خودکفالت سے اگر اسکی حرمت اور عصمت و عفت پر حرف نہ آئے تو اس میں کوئی عیب نہیں ہے۔ کیونکہ یہ اسلام ہی ہے جس نے سب سے پہلے عورت کو وراثت کا حق دے کر اسے معاشی اعتبار سے خودانحصاری سے نوازا۔WOMEN EMPOWERMENT کا جو دلفریب نعرہ مشرق و مغرب کی فضاءمیں یکساںصوتی آہنگ کے ساتھ آج کل سنائی دیتا ہے۔اس کا اگر ھدف صرف اور صرف یہ ہوتا کہ عورت کو تمام شعبہ ہائے زندگی میں مستحکم کرنا ہے تو اس پر حرف گیری کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی ۔کیونکہ بحیثیت انسان اسے بھی حق ہے کہ وہ ہر اعتبار سے مستحکم و مضبوط ہو۔مگر اس نعرہ و تحریک کے پس ِ پردہ حقائق کو پیش نظر رکھ یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ نعرہ ادھورا ہے اور اس کو مکمل کرنا ہو تونعرہ کچھ یوں بنتا ہے کہ مرد کی بالا دستی کو ختم کرنے کے لئے عورت کو بااختیار بنانا(woman empowerment to eliminatin supermacy of man)۔اس نعرے کا مدعا و مقصد محض مرد و زن کو آپس میں دست و گریباں کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔اس بات کی دلیل موجودہ ثقافتی اداروں کی کارکردگی سے عیاں ہے۔موجودہ عالمی ثقافتی منظر نامے میں دو بڑے اور موثر ترین ثقافتی ادارے یعنی ہالی وڈ(holly wood)اور بالی وڈ(bolly wood)

مشترکہ اورمطلوبہ ہدف---- افتراق نہیں اشتراک ہے:۔
انسان کی خلقت اور بقا کا نظام جو قدرت نے مقرر کر رکھا ہے اس کے مطابق مرد و زن ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ حلیف ہے اور ہرگز ہر گز ان کے ایک دوسرے پر انحصار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے قرآن ِ مجید نے اس کی صراہت سورہ بقرہ کی آیت میں یوں کی ہے ''ھن لباس لکم وانتم لباس لھن''وہ(عورتیں تمہارے لئے لباس ہیں اور تم(مرد) ان کے لئے لباس ہو'' اس آیت کریمہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر دو صنف(مردو زن) مکمل طور ہم آہنگ ہیںنیز ان کا ایک دوسرے پر انحصار یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ ہے ان کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہونا چاہئے معاشی اور صنفی بنیاد پرانہیں الگ الگ کرنا کلی طور پر ا نسانی فطرت کے بر خلاف ہے جبکہ قرآن نے انہیں ایک دوسرے کا لباس قرار دے کر دراصل اولاد آدم کو یہ بتایا ہے کہ ان میں معنوی قرب نہایت ہی ضروری ہے۔کیونکہ لباس کی تین نمایا ں خا صیتیں ہوتی ہیں ۱۔ قربت ۲۔، حفاظت ۳۔زینت۔ قرآن نے یہ جو لباس کا استعارہ استعمال کیا ہے اس کا اولین مقصد یہی ہو سکتا ہے کہ شوہر اور بیوی میں ایسی قربت ہو جیسے لباس اور بدن کی ہوتی ہے۔یہ دونوں ایک دوسرے کی عزت و ناموس کی حفا ظت کا اہتمام کریں جسطرح لباس انسان کو سرد ی اور گرمی سے بچاتا ہے اسی طرح شوہر اور بیوی بھی زندگی کے سرد وگرم اور بدلتے ماحول میں ایک دوسرے کے کام آئیں اور آپسی زینت کا باعث ہوں ان میں دوئی کا شائبہ تک نہ ہو ں بلکہ دو جسم ایک جان کی مانند ہوں۔المختصرمندرجہ ذیل اشعار کا مصداق ہوں
من تو شدم تو من شدی من جان شدم تو تن شدی
تا کس نہ گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری
ترجمہ: ''میں تمہارے شخصیت میں سما جاووں اور تمہارا وجود میرے وجود میں زم ہو میری مثال جان کی سی ہو اور تمہاری جسم کی، یوں کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ میں کوئی اور ہوں اور تم کوئی اور ہوں''۔

لیکن خود انحصاری کا جو لیکھا جوکھا آج عالمی سطح پر ابھرکر سامنے آرہا ہے اور جس نے دنیا کے ہر خطے کو کسی نہ کسی لحاظ اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اس کا اصل ہدف یہ ہے کہ زندگی کی گاڑی کو چلانے والے جو دو پہیے (مرداور عورت)جو اب تک ایک ہی سمت کی جانب رواں دواں تھے )وہ ایک دوسرے کی مخالف سمت میں حرکت کریں۔ ان کے مابین اشتراک ختم ہوجائے اور افتراق سراٹھائے اور صنفی بنیادوں پریہ افتراق آدمیت کے تاروپود بکھیرنے کے لئے کافی ہے کیونکہ اس کا راست منفی اثر عائلی زندگی پر پڑتا ہے۔ اور عائلی نظام کی کمزوری معاشرے کی اساس کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ المختصرموجودہ دور کی یہ صورتِ حال عالمِ انسانیت کے سامنے ایک بڑے خطرے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور کائنات کی اس عظیم خاتون نے پیشگی ہی ایک ایسا نسخہ چھوڑا ہے جس پر عمل پیرا ہوکر اس جدید دور میں بھی مذکورہ خطرے کو ٹالا جاسکتا ہے۔ آپ نے حضورِ پاک کی شخصیت کو جانا اور اپنے آپ کو ان کے ساتھ اپنے تمام مال و متاع کے ساتھ متمّسک کیا۔ اور پھر جب اپنے شوہر ِنامدار کے الٰہی مشن سے شناسا ہوئیں۔ تو اپنے آبائی پیشہ یعنی کاروبار کو تج دیا اور اس مشن کی آبیاری کیلئے اپنی ذات اور ثروت کو وقف کردیا۔ حضرت خدیجہ نے پیغمبراسلام کے مشن پر اپنا سب کچھ قربان کرکے رہتی دنیا تک نسوانیت کے نام یہ پیغام چھوڑا کہ مردوزن حیاتِ انسانی کے دو ایسے پہلو ہے جن میں ہم آہنگی اور ہم خیالی ہو تو انسانیت کی ایک مکمل تصویر بنتی ہے۔ ایک خاتون اپنا الگ راگ الاپ کر گوہر مقصود کو نہیں حاصل کرسکتی ہے۔ مرد بھی عورت کو صرفِ نظر کرکے کسی بھی صورت میں زندگی کی جنگ جیت نہیں سکتا ہے۔ لہذا بحیثیت حریف نہیں بلکہ بحیثیت حلیف ایک مشترکہ مشن کو اپنی مشترکہ مساعی سے پایہ تکمیل تک پہچائیں ۔ یہ امرلازمی نہیں ہے کہ عورت اپنی دنیا آپ تعمیر کرکے ہی عظیم بن سکتی ہے بلکہ وہ اپنے ہمسر کی شریک ِ کار ہوکر بھی اپنی عظمت کو دوبالا کرسکتی ہے اور یوں بغیر کسی صنفی چپقلش کے اپنے مقاصد کی حصولیابی میں کامیاب بھی ہوگی۔
مکالماتِ افلاطون نہ لکھ سکی ہے لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ فلاطون

حضرت خدیجہ نے اپنے شوہر کے ساتھ حد درجہ معاونت سے ثابت کیا کہ اپنے وجود کو کسی عظیم انسان پر نچھاور کرنا فنا کی علامت نہیں بلکہ بقا کی ضمانت ہے یہی وجہ ہے کہ کائنات کے سب سے مقدس انسان کے ساتھ آپ کا ذکر کہیں نہ کہیں ضرور ہوتا ہے اور پیغمبر لولاکنے بنفس ِنفیس آپ کے ذکرِ خیر کی بنیاد ڈالی حضرتِ خدیجہ الکبری کی وفا شعاری ایثار و قربانی، فرمانبرداری، خلوص نیت، شجاعت، عصمت ، عفت، حسن عمل، انتظامی صلاحیت و صلابت، ذہنی استعداد، قلبی پاکیزگی، کی انتہا یہ ہے کہ جب تک اس دنیا میں بحیثیت شریکِ حیات ،پیغمبراکرم کو حضرت خدیجہ کا ساتھ شاملِ حال رہا۔ انہوں نے کسی اور خاتون سے شادی کی نہ کسی کنیز کی ضرورت کو محسوس کیا۔ حضرت خدیجہ کی ذاتِ والا صفات ہی تھی کہ جب کفار قریش آنحضرت کے درپہ آزار تھے تو آپ اپنے شوہرِ نامدار کی راحت کا اہتمام کیا کرتی تھیں۔ جب ہر فرد آپ کا مخالف تھا تو آپ نے ہی پیغمبر رحمت کی ڈھارس بندھائی۔ اور حضرت ابو طالب کی طرح آپکی پشت پناہ بنی رہی۔معمولاً تو یہی ہوتا آیا ہے کہ جب بھی کبھی کوئی شخص عظیم مقصد کی خاطر خطروں کو مول لے۔ سماجی سطح پر مخالفت و مخاصمت پر آمادہ ہوجائے۔ اپنی جان تک کو قربان کرنے کا ارادہ کرے تو اس صورت میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کی زوجہ ہی ہوا کرتی ہے۔ وہ اس کے ارادوں میں ضعف پیدا کرنے کاعامل بن جاتی ہے۔ لیکن حضرت خدیجہ کا وطیرہ صد فی صد جداگانہ تھا۔ آپ نے دنیاوی عیش و آرام اور مادی منافع کو تج کرخندہ پیشانی کے ساتھ تمام مصائف و آلام کو جھیلا اور کبھی بھولے سے بھی حرف اف تک زبان پر نہ لایا۔ بعثت کے ابتدائی ایام کی سختیوں کا تصور بھی آج ہمارے ذہنوں میں آجائے تو ہمارے رونگھٹے کھڑے ہوں گے۔ جب کہ اس خاتون نے ہرلمحہ قیامت کبریٰ کے مناظر دیکھے شعبِ ابی طالب میں نازوں سے پلی اس ملیکتہ العرب نے ڈھائی سالہ طویل عرصے پر محیط جاں گسل اذیتیں برداشت کیں۔ وہی خدیجہ جس کے دسترخواں پر ایک ساتھ کئی نعمتیں ہوا کرتی تھیں اب کئی روز تک بھوک اور پیاس سے جھوجھتی رہتیں۔ عرب کی اس شہزادی نے شہنشاہ دوسرا کی قناعت پسندی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا ڈالا۔ مستند تاریخ میں کنایتاً بھی یہ بات کہیں درج نہیں ہے کہ حضرت خدیجہ شادی سے قبل کی پر کیف اور عشرت بھری زندگی پر ناز اں تھیں (جیسا کہ عورتوں کا عمومی رویہ ہوا کرتا ہے) اور شادی کے بعد عسرت و تنگدستی اور مصائب و آلام پر کسی قسم کے شکوے کا اظہار کیاہے۔ عکس العمل اسکے موجودہ دور کی خواتین آرام طلبی، خوش پوشی، حرص و طمع میں مردوں کو بھی پیچھے چھوڑرہی ہیں۔ ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی میں ان کے روزمرہ کے مختلف تقاضوں میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ اکثر و بیشتر اپنی ازدواجی زندگی کے ایام کو کوستی رہتی ہیں۔ آج بھی ایسی نفسیاتی مریض خواتین کیلئے حضرت خدیجہ کی حیات ایک شفاخانہ سے کچھ کم نہیں ہے۔

حضرت خدیجہ نے ایک جانب اگر حضور اکرم کی زوجیت کے فرائض بطریق احسن نبھائے تو نحضور نے بھی نگاہ اپنی اس عظیم زوجہ کی عظمت بیان کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا رسول اکرم کی نگاہ میں اسے بڑھکر حضرت خدیجہ کی قدرومنزلت کا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے۔ کہ حضور اپنی ایک جواں سال، خوبصورت اور ذہین زوجہ یعنی حضرت عائشہ کے سامنے اپنی سن رسیدہ اور فوت شدہ زوجہ یعنی حضرت خدیجہ کا ذکر خیر اس قدر کثرت سے کیا کرتے تھے کہ حضرت عائشہ ؓ بھی رشک کرنے لگی۔ فرماتی ہیں کہ کوئی بھی ایسا دن نہیں گزرا کہ جب حضرت خدیجہ کا تذکرہ کیئے بغیر ہی پیغمبر اکرم نے اپنا گھر چھوڑا ہو۔ الغرض پیغمبرِ اکرم اور جناب خدیجہ کا مشترکہ لائحہ عمل ہی ہے جس نے اسلامی نقطہ نگاہ سے مرد و زن کے مابین آپسی رویہ کا اظہار کیا اور ایک مکمل ہم آہنگی، آپسی اعتماد کے ساتھ یکساں ہدف زندگی کو پانے میں کامیاب ہوئے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر دو عظیم شخصیات کے نہ صرف انفرادی سیرت و کردار کی روشنی میں اپنی زندگی کے رہنماءاصول وضع کئے جائیں بلکہ حق کی ترویج و اشاعت کی خاطر ان کی مشترکہ جدوجہد بھی ہمارے لئے ہدایت کا سر چشمہ ہے۔ ان دو عظیم ہستیوں کا زندگی نامہ آج بھی صنفی جنگ جدل میں پڑے انسان کو یہ سبق یاد دلا رہا ہے کہ مرد اور عورت کے مابین تعلقات کے توازن پر ہی سفینہ انسانیت کا توازن موقوف ہے۔
خبر کا کوڈ : 546428
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے