0
Thursday 16 Jun 2016 21:31

سیدہ خدیجتہ الکبری(سلام اللہ علیہا) ۔ خواتین عالم کے لیے لازوال مثال

سیدہ خدیجتہ الکبری(سلام اللہ علیہا) ۔ خواتین عالم کے لیے لازوال مثال
تحریر: سید اظہار مہدی بخاری

خاتم الانبیاء رحمت اللعالمین سید عالم نور مجسم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی تریسٹھ سالہ حیات مبارکہ اگرچہ اپنوں اور اغیار کی طرف سے کئی مصیبتیں، مشکلات، پریشانیاں، مصائب، رکاوٹیں اور سنگینیاں دیکھیں اور برداشت کیں لیکن ان میں غالب اکثریت پر حزن و ملال اور دکھ و اضطراب نہیں فرمایا بلکہ ہنسی خوشی اور اسلام کی ترویج و وسعت کا ہدف سامنے رکھتے ہوئے قبول فرماتے رہے۔ لیکن پیغمبر اسلام ؐ کی زندگی میں دو پریشانیاں ایسی آئیں جو آپ ؐ کو ناقابل تلافی صدمے سے دوچار کرگئیں اور ان مصیبتوں کے اثرات تادم آخر موجود رہے۔ ایک مصیبت اپنے حقیقی بیٹوں جنابِ قاسم اور جناب ابراہیم کی جدائی اور دوسری مصیبت ایک ہی سال میں اپنے سرپرست و مربی چچا حضرت ابوطالب ؑ اور اپنی رفیقہ حیات اور مشکل ترین اوقات کی ساتھی حضرت خدیجتہ الکبری ؑ کی وفات ہے۔ اگر ان دونوں مصیبتوں کو تقابل و تجزیہ کیا جائے تو ان میں سے ایک کی اہمیت و حیثیت کا اندازہ خود سرور کائنات کی سنت مبارکہ اور آپؐ کے عمل مبارک سے ہوتا ہے۔ وہ ایسے کہ اپنے بیٹوں کی جدائی پر آپ نے غم و حزن ضرور کیا لیکن اسے اپنی ذات کی حد تک رکھا۔ لیکن اپنے پیارے چچا حضرت ابو طالب ؑ اور اپنی پیاری رفیقہ حیات حضرت خدیجتہ الکبری کی وفات کو نہ صرف اپنی ذات کی حد تک منایا بلکہ اس پورے سال کو ’’عام الحزن ‘‘ یعنی غم کا سال قرار دے کر جہاں اپنے دور میں موجود اصحاب کرام و اہل بیت عظام کو ان پاک ہستیوں کا غم منانے کا حکم دیا وہاں رہتی دنیا تک آنے والے ہر انسان اور ہر مسلمان کو ان دو ہستیوں کی اہمیت و حیثیت کا علم ہوگیا اور پتہ چل گیا کہ آقا علیہ السلام کے نزدیک ان دو ہستیوں کی قدر و منزلت روز روشن کی طرح آشکار و واضح ہے۔ ایک اولوالعزم پیغمبر اور تمام مرسلین کے سردار کا یہ عمل یعنی عام الحزن قرار دیا محض جذباتی یا رشتہ داری کی بنیاد پر ہرگز نہیں بلکہ دنیا پر واضح کرنا تھا کہ اسلام میں ان دو ہستیوں کی قدر و منزلت اوربانی اسلام کے نزدیک ان کا مقام و مرتبہ کس قدر بلند ہے۔

تاریخی حقائق اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ حضور اکرم ؐ کو سیدہ خدیجۃ ؑ سے کس قدر محبت اور الفت تھی اس کا ثبوت ایک تو یہ ہے کہ جب تک سیدہ خدیجۃ اس دنیا میں موجود رہیں حضور کریم ؐ نے دوسری زوجہ لانے کا سوچا تک نہیں۔ دوسرا ثبوت یہ کہ سرکار دو عالم ؑ نے اگر اپنی دوسری ازواج کے سامنے کسی زوجہ کی تعریف فرمائی یا اس سے جدائی پر ملول ہوئے تو وہ سرف اور صرف سیدہ خدیجۃ کی ذات مبارکہ ہے۔ احادیث کی کتب میں مرقوم ہے کہ آپ ؐ اس قدر تعریف فرماتے یا بی بی کو اس قدر یاد کرتے یا بی بی کے ساتھ بیتے ہوئے لمحات کا تذکرہ کرتے کہ دوسرے ازواج ان سے حسد کرتیں اور اس اظہار بھی کرتیں۔ لیکن سرور کائنات ؐ نے رہتے دم تک سید ہ خدیجۃ کے احسانات و فضائل کا تذکرہ جاری رکھا۔ یہ بات بھی مسلم ہے کہ اللہ تعالی نے بغیر کسی مبہم اشارے کنائے کے براہ راست سیدہ خدیجۃ کی جنت کی نہ صرف بشارت دی بلکہ جنت میں ان کے مقام کا بھی ذکر اپنے پیارے محبوب ؐ سے فرمادیا۔ بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہؓ سے منقول ہے کہ ’’ ایک دفعہ حضرت جبرائیل علیہ السلام پاک پیغمبر ؐ کے پاس آئے اور کہنے لگے یارسول اللہ یہ خدیجۃ آپ ؐ کے پاس ایک برتن لے کر آرہی ہیں جس میں کھانا یا پینے کی چیز ہے۔ جب وہ آپ ؐ کے پاس آجائیں تو انہیں پروردگار عالم اور میری طرف سے سلام کہیے اور انہیں جنت میں ایسے گھر کی خوشخبری دیجئے جو ایک خولدار موتی کا بنا ہوگا اس میں کوئی رنج ہوگا اور نہ شورو غل۔‘‘ اس حدیث کے بعد ہم آسانی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اللہ تعالی کے ہاں بی بی پاک کا مقام و مرتبہ کتنا بلند ہے۔

سیدہ خدیجۃ کے بارے میں یہ تاریخی حقیقت بالکل سچ اور برحق ہے کہ آپ مالی حوالے سے عرب میں اس قدر مضبوط و مستحکم تھیں کہ زمانہ اسلام سے قبل ہی آپ کو اہل عرب ’’ملیکتہ العرب ‘‘ یعنی عرب کا ملکہ اور مالکہ کے لقب سے یاد کرتے تھے۔ ایسی شہزادی کے لیے اہل عرب کے امیر ترین لوگوں ‘ بادشاہوں اور شہزادوں کے رشتے ان کے والد محترم حضرت خویلدؓ بن اسد کے پاس آئے لیکن خاندانی شرافت اور عزت نے کسی بادشاہ کو اس لائق نہ سمجھا بلکہ ایک یتیم اور بظاہر غریب ہاشمی جوان محمد بن عبداللہ پر نظر ٹھہری اور پھر آگے نہ بڑھی۔ سرکار دو عالمؐ اکثر اوقات سیدہ سے فرمایا کرتے تھے کہ خدیجۃ آپ نے مجھ سے شادی کرکے مجھ پراور اسلام پر احسان کیا ہے اگر اسلام کے آغاز میں چچا ابو طالب ؑ کی سرپرستی و حفاظت اور آپ دولت و رفاقت نہ ہوتی تو شجر اسلام کی آبیاری ممکن نہ ہوتی۔ عرب کی ملکہ نے کائنات کے سردار پر اپنی دولت وارفتگی سے لٹائی اور آپ ؑ فرمایا کرتی تھیں کہ کاش میرے پاس اور دولت ہوتی تو میں اسلام اور بانی اسلام پر لٹاتی رہتی تاکہ اسلام زیادہ سے زیادہ پھیلے۔

سیدہ خدیجۃ اپنے دور کی ماہر اقتصادیات اور کاروبار کے اتار چڑھاؤ کے تمام رموز سے آگاہ تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ جس انسان کو کاروبار میں شریک کرتی تھیں اس کے ساتھ سفر نہ کرنے کے باوجود بھی اس کی ایمانداری اور بددیانتی کا بخوبی اندازہ لگا لیتی تھیں۔ یہ بات اس امر میں مزید صداقت پیدا کرتی ہے کہ حضرت خولید بن اسد یعنی اپنے والد گرامی قدر کی موجودگی کے باوجود کاروبار کے تمام معاملات خود دیکھتی تھیں۔ عرب میں موجود تمام کاروباری مراکز کے تجار اور صاحبان ثروت سیدہ خدیجۃ کو جانتے تھے اور ان کی معاشی و اقتصادی صلاحیتوں سے آگاہ اور ان کے معترف تھے۔ یہی وجہ کہ اہل ثروت کی ہمیشہ خواہش رہی کہ خدیجۃ کی دولت پر شادی کے ذریعے قبضہ کیا جائے۔ لیکن جب سیدہ نے حضور اکرم ؐ کو اپنا شریک حیات چن لیا تو اہل عرب اور حاسدین اس گھرانے کے خلاف ہو گئے یہاں تک کہ حضور ؐ کا اس شدت سے اقتصادی بائیکاٹ کیا کہ حضرت ابو طالب ؑ اور ان کا گھرانہ یعنی سرور کائنات اور سیدہ خدیجۃ بھی کئی ماہ تک شعب ابی طالب میں محصور رہے۔ اور اس محصوری کے دوران اپنے چچا اور اپنی رفیقہ حیات کی قربانی اور ساتھ دینے کو حضور اکرم ؐ اکثر اوقات یاد فرماتے تھے۔

یہ حقیقت بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ نزول وحی کے سب سے پہلے مرحلے سے لے کر اپنے آخری سانس تک سیدہ خدیجۃ الکبری ؑ نے رسالت و نبوت کی نہ صرف دل و جان سے تصدیق کی بلکہ اس کے نشر و اشاعت اور توسیع کے لیے ہر مرحلے پر ہمہ قسم ساتھ دیا۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے جب نماز کا حکم ہوا تو قبلہ اول یعنی بیت المقدس کی طرف منہ کرکے حضور اکرم ؐ اپنے گھر میں ہی نماز پڑھاتے تھے جبکہ میں (علی ؑ ) اور سیدہ خدیجۃ پہلے مقتدی ہوا کرتے تھے۔ یہاں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام اور خدیجۃ کا ساتھ اور رفاقت کسی قدر گہری اور قدیم ہے۔ عالم اسلام کا المیہ یہی رہا ہے کہ انہوں نے اپنے ہی پیغمبر اسلام ؐ کی احادیث و فرامین کا مطالعہ ترک کردیا ہے اگر مطالعہ کیا ہے تو تجزیہ نہیں کیا اگر تجزیہ کیا ہے تو عمل نہیں کیا۔ پیغمبر اسلام ؐ نے جن ہستیوں کے ساتھ خود والہانہ محبت و الفت و قربت کا اظہار فرمایا ہے اور ان کے ساتھ محبت و قربت و الفت رکھنے کو عین اسلام قرار دیا ہے انہی ہستیوں کے ساتھ اہل اسلام نے معاندانہ و جانبدارانہ سلوک کیا ہے۔ اور ان ہستیوں کو اہل اسلام کے ہاتھوں مظلومیت اٹھانا پڑی ہے انہی مظلومین میں سے ایک مظلومہ سیدہ خدیجۃ ؑ ہیں جن کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی طویل ترین رفاقت رہی ہے اور وہ اسلام کے شجر کی آبیاری کرتی رہی ہیں اور ان کے بارے میں حضور اکرم ﷺ نے بہت شدت کے ساتھ فرامین جاری کئے ہیں لیکن بعد کے ادوار میں ہونے والے واقعات اور بعد میں آنے والی شخصیات کے بارے میں تو اہل اسلام آگاہ بھی ہیں اور تذکرہ بھی کرتے ہیں لیکن جس خاتون نے زمانے کو خاتون جنت کی شکل میں تحفہ دیا اور اسلام و بانی اسلام کا تحفظ جان و مال لٹا کر کیا اس کے بارے میں آگاہی بھی کم نظر آتی ہے اور ان کے سیرت و اسوہ کے بارے میں معلومات نہیں دی جاتیں اور ان کے اسوہ کو اپنانے کی زحمت بھی نہیں کی جاتی۔

سیدہ خدیجۃ الکبری ؑ ہر دور کی عورت کے لیے رہنماء اور مثال اور نمونہ ہیں۔ گھر کے اندر رہنے والی خاتون ہو یا گھر سے باہر امور انجام دینے والی خاتون ہو ہر کسی کو بی بی ؑ کی سیرت سے رہنمائی ملے گی۔ مالداری میں شرافت کی حفاظت کرنی ہو یا غربت میں خدمت دین و خدمت شوہر کرنا ہو ہر مرحلہ پر سیدہ کی سیرت عورتوں کے لیے نمونہ ہے۔ آسائش اور فراوانی کے زمانے میں شوہر کی اطاعت کیسے کی جاتی اور عسرت و تنگی کے زمانے میں شوہر کا ساتھ کیسے دیا جاتا ہے یہ سب سیدہ ؑ کی زندگی کا عمل ہمارے دور کی ہر عورت کو سکھاتا ہے۔ امیری کے زمانے میں دین پر عمل اور عبادت خدا کیسے بجا لانی ہے اور غربت کے زمانے میں بھی خدا سے مایوس نہ ہوکر اس کا سجدہ کیسے بجا لانا ہے یہ سب سیرت خدیجۃ ؑ میں موجود ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ام المومنین کی شخصیت سے آگاہی حاصل کریں۔ ان کی سیرت سے شناسائی حاصل کریں۔ ان کے اسوہ زندگی کا مطالعہ کریں۔ پھر اس مطالعہ کو اپنے عمل میں ڈھالیں اور عمل کے ذریعہ ثابت کریں کہ ہم اس ہستی سے اظہار عقیدت کرتے ہیں جو ہمارے جان و مال و اولاد سے عزیز تر ہستی یعنی حضور اکرم ﷺ کو سب سے زیادہ پیاری اور عزیز تھی۔
خبر کا کوڈ : 546441
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب