0
Monday 4 Jul 2016 20:36

ایم ڈبلیو ایم کے تاریخی دھرنے کو 50 روز مکمل، شیخ حسن جعفری سمیت مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کی تائید و حمایت

ایم ڈبلیو ایم کے تاریخی دھرنے کو 50 روز مکمل، شیخ حسن جعفری سمیت مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کی تائید و حمایت
رپورٹ: میثم بلتی

ملک کے دیگر مقامات کی طرح بلتستان میں بھی مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا جاری ہے اور آج دھرنے کو پچاس روز مکمل ہوگئے ہیں۔ اپنے مطالبات کے حق میں جاری یہ دھرنا بلتستان کی تاریخ کا طویل ترین دھرنا ہے۔ گرمی کے علاوہ رمضان المبارک میں روزے کی حالت میں جاری یہ دھرنا یقیناً ایک مثالی دھرنا ہے۔ دھرنے میں سہ پہر سے شام تک احتجاجی جلسے کا انعقاد ہوتا ہے، جس سے ایم ڈبلیو ایم کے رہنماء و علمائے کرام خطاب کرتے ہیں۔ ان علماء کرام و رہنماوں میں شیخ محمد باقری، شیخ علی محمد عابدی، مولانا ذیشان، شیخ ذوالفقار، شیخ شبیر حسین رجائی، شیخ مبارک عارفی، شیخ کرامتی، شیخ احمد علی نوری، پروفیسر فدا حسین، پروفیسر فدا علی شگری، محمد علی و آغا علی رضوی شامل ہیں۔ کمیت اور کیفیت کے عنوان سے ملک کا منظم ترین دھرنا کہا جا سکتا ہے۔ جس میں روزانہ مختلف اوقات میں سینکڑوں افراد شرکت کرتے ہیں۔

یادگار شہداء اسکردو پر ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے جاری دھرنا کیمپ میں رات کے وقت روزانہ کی بنیادوں پر نامور نوجوان عالم دین شیخ محمد حسن جوہری کا درس اخلاق منفرد انداز میں ہوتا ہے، جس میں جوانوں کی کثیر تعداد شریک ہوتی ہے۔ شیخ حسن جوہری ہمیشہ بھرپور علمی گفتگو کرتے ہیں اور انہیں فن تقریر کا ملکہ حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ نئی نسل انہیں بہت پسند کرتے ہیں۔ تمام تر مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر حق و صداقت پر مبنی گفتگو کرنے کے سبب لوکل انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے نزدیک انہیں ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے اور صوبائی حکومت کے مظالم کے خلاف سخت آواز اٹھانے کی وجہ سے ان کو دھمکیوں کا سامنا بھی ہے۔ انکے بقول مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے جاری دھرنا خالص انسانی بنیادوں پر ہے اور انکی فریاد ہے کہ تمام شہریوں کو جینے کا حق دیا جائے، ملک بھر میں جاری مظالم ختم کئے جائیں، قومی ایکشن پلان کے سیاسی استعمال ختم کیا جائے، دہشتگردوں کی پشت پناہی سے باز رہے۔ شیخ حسن جوہری ملکی مسائل کے علاوہ علاقائی مسائل کو نہایت منفرد انداز میں اٹھاتے ہیں اور ذمہ داروں کے چہرے بے نقاب کرتے رہتے ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے جاری دھرنے سے اظہار یکجہتی کے لئے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماوں کے علاوہ سماجی شخصیات بھی پہنچ چکی ہیں۔ انجمن امامیہ بلتستان کے سربراہ علامہ شیخ محمد علی مظفری، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن بلتستان ڈویژن، انجمن تاجران اسکردو، وکلاء برادری، صحافی برادری اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والوں نے حمایت کا اظہار کر دیا ہے۔ دیامر چلاس سے تعلق رکھنے والی اتحاد بین المسلمین کے داعی شخصیت اور نامور نقاد عنایت اللہ شمالی نے بھی اسکردو دھرنے میں شرکت کرکے مطالبات کی تائید و حمایت کی ہے اور آغا علی رضوی سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم ڈبلیو ایم کے مطالبات مبنی بر حقیقت ہے اور انکے مطالبات کو تسلیم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ بلتستان کے نامور عالم دین حجت الاسلام شیخ محمد حسن جعفری نے اس دھرنے اور عید کے بعد ہونے والے لانگ مارچ کی بھرپور حمایت کر کے بلتستان کی سطح پر اس دھرنے کی وقعت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

انہوں نے جمعے کے خطبے میں نہ صرف اس دھرنے اور لانگ مارچ کی بھرپور حمایت کی بلکہ حکومت سے بھرپور انداز میں مطالبہ بھی کیا کہ انکے مطالبات تسلیم کیے جائیں۔ انکے علاوہ امامیہ جامع مسجد اسکردو میں جمعے کے خطبے میں شیعہ علماء کونسل اسکردو کے رہنماء حجت الاسلام آغا سید باقر الحسینی نے بھی اس دھرنے کی حمایت اور تائید و حمایت کی ہے۔ بلتستان کی نامور سماجی شخصیت حاجی باقر کرگلی جو کہ سماجی و فلاحی تنظیم ’’مرہم‘‘  کے بانی بھی ہیں، نے بھی اس دھرنے میں شرکت کرکے حمایت کا اظہار کیا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی مرکزی قیادت نے پہلے مرحلے میں 22 جولائی کو ملک بھر میں ہڑتال کی کال دی ہے، اس کے بعد اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ملک بھر کی طرح بلتستان میں بھی رابطہ مہم کا آغاز کیا گیا ہے اور لانگ مارچ کے سلسلے میں تیاری شروع ہوچکی ہے۔ بلتستان سے اسلام آباد کی طرف لانگ تاریخ کا پہلا لانگ مارچ ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 549985
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب