0
Friday 22 Jul 2016 10:16

پابندیاں برہان شہید کی آواز نہیں دبا سکتی ہیں

پابندیاں برہان شہید کی آواز نہیں دبا سکتی ہیں
رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج 50 سے زائد آزادی کے متوالوں کی شہادت اور 1500 سے زائد نہتے کشمیریوں کو زخمی کرنے کے باوجود حریت پسندوں کے بڑھتے ہوئے احتجاج سے بوکھلا گئی ہے۔ قابض بھارتی فوج کا مکروہ چہرہ دکھانے پر مقبوضہ کشمیر کے اخبارات کا گلہ گھونٹنا شروع کر دیا ہے۔ آزادی صحافت کو پامال کرتے ہوئے بڑے اخبارات کے دفاتر پر کریک ڈاؤن، پرنٹنگ پریس سیل، 20 سے زائد میڈیا کارکنان گرفتار اور اخبارات کی ہزاروں کاپیاں قبضے میں لے لی ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے بڑے اخبار کشمیر ٹائمز کے مطابق ریاستی پولیس کے اہلکاروں نے سری نگر کے نواحی علاقے میں اس کے دفتر پر ہلہ بولتے ہوئے پرنٹنگ پریس کے فورمین فیاض احمد کو دس ملازمین سمیت گرفتار کر لیا، پولیس اہلکاروں نے دھاتی پرنٹنگ پلیٹیں اور کشمیر ٹائمز کی 70 ہزار کے قریب کاپیاں بھی قبضہ میں لیں اور ساتھ ہی انہوں نے کشمیر ٹائمز کے پریس کو بند کروا دیا۔ اس دوران ریاستی پولیس کے اس غیر قانونی اقدام پر احتجاج کرنے پر پولیس اہلکاروں نے میڈیا کارکنوں کو شدید تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے موبائل فون اور نقدی وغیرہ بھی چھین لی۔

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے ایک اور معروف انگریزی اخبار ڈیلی رائزنگ کشمیر کے مطابق پولیس نے اس کی پرنٹنگ پریس پر بھی چھاپہ مارا اور اس کی مطبوعہ اور غیر مطبوعہ کاپیاں قبضہ میں لیتے ہوئے، فورمین سمیت اسکے تمام ملازمین کو یرغمال بنا لیا۔ اخبار کے مطابق پولیس نے تمام ملازمین کو فورمین محمد یوسف سمیت حراست میں لے لیا اور ان سے اخبار تقسیم کرنے کی جگہوں کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ ریاست میں انتظامیہ کی جانب سے پہلے ہی انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس کو معطل کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ دو اور معروف اخبارات دی گریٹر کشمیر اور کشمیر عظمٰی کے دفاتر پر بھی پولیس نے چھاپے مارتے ہوئے دفاتر اور پرنٹنگ پریس بند کر دیئے ہیں، جبکہ ہزراوں کی تعداد میں پرنٹ شدہ اخبارات پر قبضہ کرتے ہوئے اخباری کارکنوں کو ہراساں بھی کیا گیا ہے۔ ریاستی پولیس کے اس اقدام پر مقبوضہ وادی کے تمام صحافتی تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ریاستی پولیس کے ظالمانہ اقدام آزادی کی تحریک کو روکنے اور بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے سے نہیں روک سکتے۔ دوسری طرف سیفما کے سیکرٹری جنرل امتیاز عالم نے مقبوضہ کشمیر میں اخبارات پر کریک ڈاؤن کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ میڈیا پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ہٹائی جائیں، پولیس نے ملازمین کو بھی گرفتار کیا، جو کہ میڈیا کے حقوق سلب اور پامال کرنے کی عملی مثال ہے۔

سنسرشپ اور عملی طور پر کشمیر کی آواز کو دبانے اور انڈین حکومت کے ایما پر مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم و بربریت کو فیس بک کی جانب سے سینسر کرنے کی ان گنت کوششوں پر سماجی حلقوں کی طرف ویب سائٹ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مقبوضہ خطے میں بھارتی ٹیلی کمیونیکیشن، سیل فون اور انٹرنیٹ کمپنیوں نے بھی اپنی سروسز بند کر رکھی ہیں، جو مظلوم کشمیریوں کی آواز دبانے کی مذموم بھارتی کوشش ہے۔ دوسری جانب فیس بک نے مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد، تنظیموں یہاں تک کہ بھارت سے باہر کشمیریوں کے ہمدرد افراد اور تنظیموں کے فیس بک اکاؤنٹ معطل کر دیئے ہیں۔ ان اکاؤنٹس پر مقبوضہ کشمیر پر ہونے والے مظالم پر اظہارِ رائے، تصاویر اور بھارت سے علیحدگی کی تازہ لہر کی ویڈیوز موجود تھیں۔ اس ضمن میں حافظ سعید احمد اور پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی کا فیس بک اکاؤنٹ بھی معطل کر دیا گیا ہے، جس میں انہوں نے کشمیر میں برہان شہید کے متعلق اور کشمیریوں پر ظلم کے خلاف پوسٹ کی تھیں۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف پاکستان بھر میں جس دن یوم سیاہ منایا گیا، ساتھ ہی سوشل میڈیا پر بھی مقبوضہ وادی کی صورت حال زیر موضوع ہے، جس کے باعث بلیک ڈے ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج نہتے کشمیروں کے خون سے ہولی کھیلنے میں مصروف ہے، جس کے باعث وادی میں مسلسل کرفیو نافذ ہے جبکہ بھارتی فوج کے مظالم سے اب تک 48 کشمیری شہید جبکہ ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اقوام متحدہ سے کشمیریوں کے حق خوداریت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے باعث اب تک پاکستان میں بلیک ڈے ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ گردش کر رہا ہے۔ بھارت گذشتہ کئی دہائیوں سے کشمیریوں کے حقوق کی پامالی کر رہا ہے، جبکہ بھارتی فوجی کشمیری خواتین پر وحشیانہ تشدد میں بھی ملوث ہیں۔ فیس بک پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرنے والے افراد کے اکاؤنٹس ڈی ایکٹو کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر سے وابستہ متعدد مقامی اخبارات، اہم شخصیات اور #BurhanWaniShaheed کے ہیش ٹیگ کو بھی سینسر کر دیا گیا ہے۔ بھارتی ویب سائٹ آئی بی ٹائمز نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ کشمیر میں آزادی کی حامی ہما ڈار کا فیس بک اکاؤنٹ بھی ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔

کشمیر میں عوامی بیداری اور تحریک آزادی کے متعلق متعصب فیس بک حکام کا کہنا ہے کہ ہم دہشت گردی اور جرائم میں ملوث کسی تنظیم اور شخص کو فیس بک پر اکاؤنٹ بنانے کی اجازت نہیں دیتے، اس کے علاوہ ہم وہ متن اور معلومات بھی ڈیلیٹ کرتے ہیں، جو ایسے گروہوں اور مجرموں کی تائید اور حمایت میں لکھی جاتی ہیں۔ ٹویٹر انتظامیہ نے بھارتی دباؤ میں آکر حافظ سعید کا اکاؤنٹ بلاک کر دیا ہے، جب کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک نے بھی کشمیری حریت پسند برہان وانی کی ڈی پی لگانے والے ہزاروں فیس بک اکاؤنٹس اور پیجز بلاک کر دیئے۔ سوشل میڈیا صارفین نے فیس بک اور ٹویٹر کے اس متعصبانہ اقدام پر شدید احتجاج کیا ہے۔ جماعۃ الدعوۃ کے ترجمان احمد ندیم نے بتایا کہ حافظ محمد سعید ٹوئیٹر پر کافی عرصہ سے فعال تھے اور بھارتی جارحیت کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔ فیس بک نے مزید کہا کہ کبھی کبھی حکومتیں بھی ہم سے ایسے اکاؤنٹ اور معلومات بند کرنے کی درخواست کرتی ہیں، جن کے ذمے دار مقامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

موبائل فون کی سروس بند کر دینے کی وجہ سمجھنا آسان ہے، لیکن اس کے بعد کی تازہ صورت حال کو سمجھنے کے لئے جس بصیرت کی ضرورت ہے، وہ بھارتی وزیراعظم اور اُن کے رفقاء میں نہیں ہے۔ اب تک بھارتی حکام کو کشمیر میں سمارٹ موبائل فونز اور حالیہ فسادات کے درمیان تعلق کی سمجھ نہیں آرہی ہے۔ جبکہ اس دہائی کے اختتام پر توقع کی جا رہی ہے کہ 500 ملین بھارتی شہریوں کے پاس موبائل فون ہوں گے، جو ملک کی کل آبادی کی نصف تعداد ہے اور کشمیر میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال اس شرح سے کہیں زیادہ ہے۔ بھارت کے ایک معروف اخبار کے صفحۂ اول پر ایک خصوصی رپورٹ کشمیر کی صورت حال چھپی ہے، جس کو ریاست کے ایک اعلٰی پولیس افسر نے مرتب کیا تھا۔

ملک کی وزارت داخلہ میں پیش ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں عسکریت پسندی میں اضافے کی وجہ سمجھنے کے لئے سوشل میڈیا تک رسائی زیادہ بڑھانی چاہیے۔ 2010ء میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی آبادی میں صرف ایک چوتھائی کو سوشل میڈیا تک رسائی حاصل تھی، لیکن 2014ء میں آبادی کا ایک تہائی حصہ سوشل میڈیا استعمال کر رہا ہے اور پھر اس میں یک دم اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سکیورٹی اہلکاروں کے لئے کشمیر کی موجودہ صورت حال ایک بہت سنگین صورتِ حال اختیار کرسکتی ہے۔ رپورٹ لکھنے والے پولیس افسر کا کہنا ہے کہ 2015ء کے اختتام پر کشمیر میں 70 فی صد لوگوں کو سوشل میڈیا تک رسائی حاصل تھی اور برہان وانی کو کشمیر کی وادیوں میں اپنے پیغامات سننے والے کئی تیار ناظرین ملے تھے، اب وہی کشمیر کی تازہ بدامنی کی اہم وجہ ہیں۔ بہت سے دوسرے کشمیری حریت پسندوں کی طرح برہان وانی بھی ٹیکنالوجی کو اچھی طرح جانتے تھے۔

ان کے بارے میں شائع کئے جانے والے تقریباً ہر مضمون میں اس بات کا ذکر ضرور کیا جاتا تھا کہ وہ سوشل میڈیا کا استعمال اچھی طرح جانتے تھے۔ برہان وانی اپنی تصاویر پوسٹ کیا کرتے تھے، جن میں وہ اکثر کشمیر کی وادیوں کے سامنے ہتھیاروں سے لیس کھڑے دکھائی دیتے۔ کشمیر میں حریت پسندوں نے موبائل فون ٹیکنالوجی کے ساتھ یہ جان لیا ہے کہ فونز کے ذریعے تیار کی گئی ویڈیو فوٹیج بھی کتنی اہم ہوتی ہے۔ کشمیر میں ایک بات بدلی ہے اور وہ یہ ہے کہ اب لوگوں کو فوٹیج اور پیغامات بہت آسانی سے مل جاتے ہیں۔ شاید یہی بات اب بھارت کے لئے اچھی خبر نہیں ہے۔ دوسری بات بھی ہے کہ اس بار عسکریت پسندی، جنگ بازوں کی اپنی ہی زمین سے جنم پائی ہے اور ان میں سے سوشل میڈیا استعمال کرنے والے بیشتر لوگ مقامی ہیں۔ اس لئے سکیورٹی اہلکاروں کے لئے یہ عنصر بہت ہی سنگین صورتِ حال اختیار کرسکتا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عرب سپرنگ سے عرب دنیا میں آنے والی جمہوریت کی لہر کی طرح کشمیر تنازعے میں بھی سوشل میڈیا ایک اہم کردار ادا کرے گا۔

واضح رہے کہ شہید کشمیری کمانڈر برہان وانی کے سر پر بھارت نے دس لاکھ کا انعام رکھا تھا۔ 2010ء میں دسویں جماعت کے امتحانات دینے سے کچھ ماہ قبل وہ گھر سے جہاد کیلئے نکلا اور حزب المجاہدین میں شامل ہوا۔ 21 سالہ برہان کشمیر میں تحریک آزادی کو نئی جہت دینے والا سمجھا جاتا ہے، اسی لئے پولیس کو بھی انتہائی مطلوب تھا۔ پچھلے سال اپنے بڑے بھائی کی فوج کے ذریعے ہوئی شہادت کے بعد برہان کا کردار اچانک خطرناک رخ اختیار کر گیا اور اس نے سوشل میڈیا کا سہارا لیکر پہلی بار کشمیر کی تحریک آزادی کو نیا رخ دیا۔ اسکے ویڈیو سوشل میڈیا پر آنے لگے، جس میں وہ نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے کی ترغیب دیتا رہا۔ سوشل میڈیا کے ذریعے اسکی اپیل پر جنوبی کشمیر میں سینکڑوں نوجوان مجاہدین کی صفوں میں شامل ہوگئے اور اچانک تحریک آزادی تیزی اختیار کر گئی۔

برہان کے بڑے بھائی خالد مظفر کو کملہ جنگل میں فوج نے شہید کر دیا تھا۔ خالد مظفر پوسٹ گریجویٹ طالب علم تھا اور وہ برہان سے ملنے کیلئے اپنے دو دوستوں کے ہمراہ گیا تھا، جس دوران اسے شہید کیا گیا۔ اس وقت مظفر احمد وانی نے کہا تھا کہ اسکے بیٹے کو حراست کے دوران اس لئے شہید کیا گیا کیونکہ برہان اسکا بھائی ہے۔ برہان کی شہادت کی خبر سننے کے فوراً بعد ترال کے ہر ایک علاقے سے لوگ گاڑیوں میں آکر برہان کے گھر کی طرف مارچ کرنے لگے، جبکہ متعدد مقامات پر شدید پتھراؤ کے واقعات بھی رونما ہوئے۔ ترال، اونتی پورہ، پلوامہ، شوپیاں اور دیگر علاقوں سے بھی لوگ احتجاج میں شامل ہوئے تھے۔ بھارت ان ممالک میں سرِ فہرست ہے جو باقاعدگی سے فیس بک اکاؤنٹ، پروفائلز اور پوسٹس کو ہٹانے اور ڈیلیٹ کرنے کی درخواست کرتے رہتے ہیں۔ گذشتہ برس بھارت میں فیس بک اکاؤنٹس یا پوسٹس کو ہٹانے کی 15,155 درخواستیں دی گئیں، جو 2104ء کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ ہے۔ لیکن کشمیری عوام پرعزم ہیں اور پاکستانی قوم ان کے ساتھ ہے، بھارتی مظالم اور ہتھکنڈے آزادی کا سورج طلوع ہونے سے نہیں روک سکتے۔ اس میں کوئی شک نہیں کشمیری نوجوانوں نے جدوجہد آزادی کو زمانے کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر لیا ہے، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ آزادی کی تحریک اور دہشت گردی کو خلط ملط نہ ہونے دیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 554549
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب