0
Thursday 28 Jul 2016 15:42

اسرائیل سے ساز باز، انور سادات سے انور عشقی تک

اسرائیل سے ساز باز، انور سادات سے انور عشقی تک
تحریر: مہدی شکیبائی

اسرائیل کے خلاف تین چار جنگوں میں شکست کے بعد عرب حکمران فوجی میدان میں احساس کمتری کا شکار ہوگئے اور ان کی اسٹریٹجی "اسرائیل کی نابودی" سے "اسرائیل سے ساز باز" کی جانب تبدیل ہونے لگی۔ اسٹریٹجی کی اس تبدیلی میں مصر کے صدر انور سادات نے لیڈر کا کردار ادا کیا۔ انور سادات نے 15 اکتوبر 1970ء کو جمال عبدالناصر کے بعد مصر کا اقتدار سنبھالا۔ انور سادات نے 1973ء میں اسرائیل سے زور آزمائی کی، جس میں انہیں کوئی خاطرخواہ کامیابی نصیب نہ ہوئی، لہذا انہوں نے سابق صدر جمال عبدالناصر کی پالیسی کو ترک کرتے ہوئے اسرائیل سے دوستی اور ساز باز کی پالیسی اپنائی۔ 1978ء میں صدر انور سادات نے مقبوضہ فلسطین کا دورہ کیا اور اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم سے امن مذاکرات کی بنیاد ڈالی۔ انور سادات کے اس اقدام کے بعد اسرائیل نے خطے کے ممالک سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا جبکہ مغربی ممالک نے بھی صدر انور سادات کی حکومت کی حمایت کرنا شروع کر دی، لیکن دوسری طرف مصری عوام کے دل میں انور سادات سے شدید نفرت پیدا ہونا شروع ہوگئی۔ صدر انور سادات نے عوام کے جذبات کو کوئی اہمیت نہ دی، جس کا نتیجہ مصری فوج کے انقلابی افسر خالد اسلامبولی کے ہاتھوں انور سادات کے قتل کی صورت میں ظاہر ہوا۔

اس انقلابی اقدام کے بعد عرب حکمران اپنی عوام کے اسرائیل مخالف جذبات سے آگاہ ہوئے اور انہوں نے اسرائیل سے ساز باز کی سرگرمیاں خفیہ رکھنا شروع کر دیں۔ مصر اور اسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے انعقاد کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات سرد صلح کے مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکے۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ مصری عوام نے ہرگز کیمپ ڈیوڈ معاہدے کو قبول نہ کیا اور اب بھی مصری قوم اسرائیل سے سفارتی تعلقات کو قبول کرنے پر راضی نہیں۔ تاریخ میں انور سادات کے بارے میں یہ جملے ریکارڈ ہوچکے ہیں: وہ ایک عرب ملک کے پہلے حکمران تھے، جس نے اسرائیل سے امن معاہدے پر دستخط کئے اور بغیر کسی شرط کے اسرائیل کو قبول کرتے ہوئے اس سے سفارتی تعلقات قائم کئے۔ انہیں اسرائیل سے ساز باز کرنے پر انعام کے طور پر 1978ء میں نوبل فاونڈیشن کی جانب سے امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اگرچہ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ مغربی ممالک اور اسرائیل کی رائے عامہ میں اسرائیل کی ایک بڑی کامیابی قرار پایا ہے اور انور سادات ایک امن پسند انسان کے طور پر متعارف کروائے گئے ہیں، لیکن اکثر مسلمان عرب ممالک کی عوام اس معاہدے کی شدید مخالف ہے۔ 1981ء میں صدر انور سادات نے بڑے پیمانے پر اسرائیل سے ساز باز کے مخالفین کی پکڑ دھکڑ اور ان کے خلاف طاقت کے استعمال کا سلسلہ شروع کیا، تاکہ اس طرح ملک پر اپنا کنٹرول بڑھا سکے، لیکن مصر سے باہر انجام پانے والی گرفتاریاں بین الاقوامی برادری کی تنقید اور مذمت سے روبرو ہوئیں۔

نتیجتاً گرفتاریوں کے اس سلسلے کے آغاز کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں یعنی 6 اکتوبر 1981ء کو انور سادات کو قتل کر دیا گیا۔ 6 اکتوبر کی کامیابی کی مناسبت سے قاہرہ میں آرمی کی پریڈ کا انعقاد کیا جا رہا تھا، جس میں انور سادات بھی شریک تھے۔ تقریب کے دوران کیپٹن خالد اسلامبولی کی سربراہی میں چند انقلابی سپاہیوں نے انور سادات پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوگئی۔ بعد میں اعلان کیا گیا کہ اس دن صدر کی حفاظت پر مامور اصلی ذمہ دار اشخاص حج کیلئے سعودی عرب گئے ہوئے تھے۔ مصر کا گروپ اسلامک جہاد اسرائیل اور مصر میں منعقد ہونے والے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے شدید مخالفین میں شمار کیا جاتا تھا۔ یہ گروہ انور سادات پر الزام لگاتا تھا کہ اس نے اپنی پالیسیوں کے باعث مصر کو اسرائیل کے مقابلے میں فرنٹ لائن سے منحرف کر دیا تھا۔ انور سادات کے قتل کے بعد امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے عید قربان کی مناسبت سے اپنے پیغام میں یوں فرمایا: "اس سال یہ عید مسلمانوں کیلئے اس خاطر بھی پربرکت ہے کہ اس کے قریب مصر کے فرعون کو فراعین کی سرزمین بھیج دیا گیا۔"

صدر جمال عبدالناصر اور اس کے بعد انور سادات کے زمانے میں مصر کی اسٹریٹجک اور جیوپولیٹیکل پوزیشن کسی پر پوشیدہ نہیں۔ بیسویں صدی کے اواسط میں مصر عرب دنیا کا لیڈر ملک تصور کیا جاتا تھا۔ ہمارے بزرگان کا کہنا ہے کہ اس وقت اگر مصر کھڑا ہوتا تھا تو پوری عرب دنیا اس کی پیروی میں کھڑی ہو جاتی تھی اور اگر مصر بیٹھتا تھا تو پوری عرب دنیا بیٹھ جاتی تھی۔ بیسویں صدی کی 50 اور 60 کی دہائیاں جن میں مصر کے صدر جمال عبدالناصر کی سربراہی میں مقبوضہ فلسطین کی آزادی کیلئے اسرائیل کے خلاف جنگیں انجام پائیں اور پوری عرب دنیا نے متحد ہو کر جمال عبدالناصر کی حمایت اور پشت پناہی کا مظاہرہ کیا، عرب دنیا پر مصر کی سربراہی کا سنہری دور تصور کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف جب مصر کے صدر انور سادات نے جنہیں مغربی طاقتوں کی مکمل مالی، سیاسی اور سفارتی حمایت حاصل تھی، امت مسلمہ کے حقیقی مطالبات سے چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے اسرائیل سے ساز باز کا راستہ اختیار کیا تو مصری قوم نے ان کی حمایت ترک کر دی اور انقلابی جوانوں نے اس جرم کی پاداش میں انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اسی طرح انور سادات کی پیشانی پر اسرائیل سے دوستی کا داغ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے باقی رہ گیا۔

آج ہم دیکھتے ہیں کہ سعودی فرمانروا ملک سلمان بن عبدالعزیز اسرائیل سے دوستی اور ساز باز کے راستے پر گامزن ہیں۔ کم از کم تل ابیب اور ریاض میں روز بروز بڑھتی ہوئی پروازوں سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ سعودی حکام اسرائیل سے قربت کی وجہ خطے میں ایران سے رقابت کو بیان کرتے ہوں۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے تعلقات عرب – اسرائیل ساز باز منصوبے کو حتمی نتیجے تک پہنچانے کی کوشش ہوں۔ آج سعودی حکام بھی وہی غلطی دہرا رہے ہیں، جو ماضی میں انور سادات نے انجام دی تھی، یعنی امت مسلمہ کے حقیقی مطالبات سے چشم پوشی۔ یہ وہ امر ہے جسے انور سادات نے نظرانداز کیا اور اس کی اہمیت کا غلط اندازہ لگایا اور مغرب کی مالی اور سیاسی حمایت اور مدد کی خاطر مقبوضہ فلسطین اور قبلہ اول مسلمین کی آزادی جیسے عظیم ہدف کو فراموش کر دیا۔ سعودی حکومت نے خطے اور عالمی سطح پر اسلامی مزاحمتی بلاک سے پے در پے شکست کے بعد اسرائیل کا رخ کیا ہے اور درحقیقت موت کے خوف سے بھاگ کر خود موت کے دامن میں پناہ حاصل کی ہے۔

شام، عراق، یمن اور لبنان میں شکست کے بعد سعودی عرب کے اعلٰی سطحی فوجی عہدیدار انور عشقی کا دورہ تل ابیب انسان کے ذہن میں اسی صورتحال کی یاد تازہ کر دیتا ہے، جو 1973ء میں اسرائیل سے جنگ میں شکست کے بعد مصر کے صدر انور سادات کی تھی اور انہوں نے اس صورتحال کے پیش نظر اسرائیل جا کر اسرائیلی حکام سے مذاکرات کا فیصلہ کیا تھا۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سعودی فرمانروا ملک سلمان بن عبدالعزیز اپنی سلطنت کی بقا کیلئے مسئلہ فلسطین کو قربان کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں اور "اسرائیل کی نابودی" پر مبنی پالیسی ترک کرکے "اسرائیل سے ساز باز" والی پالیسی پر عمل پیرا ہوچکے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا اقوام کی بیداری کے اس دور میں اسرائیل کی پناہ حاصل کرنا آل سعود رژیم کی سلطنت کی بقا کی ضمانت فراہم کرسکے گا؟ کیا سعودی عوام اور قوم کی جانب سے ملک سلمان اور ان کے بیٹے محمد بن سلمان کے ساتھ انور سادات والا رویہ اختیار نہیں کیا جائے گا؟

حقیقت تو یہ ہے کہ اس بات کی کوئی گارنٹی موجود نہیں بلکہ تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ عوام اور قومیں کبھی بھی غدار حکمرانوں کو معاف نہیں کرتیں۔ بیسویں صدی کے اواسط میں جمال عبدالناصر کی جانب سے عرب اقوام کے "دلوں" پر حکمرانی اور اکیسویں صدی میں ملک سلمان کی جانب سے عرب حکومتوں کی "جیب" پر حکمرانی میں زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے۔ ملک سلمان نہ تو چاہتے ہیں اور نہ ہی اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ عرب اقوام کے دلوں پر حکومت کریں۔ لہذا اس بات کا کوئی امکان موجود نہیں کہ سعودی عرب، عرب دنیا کی سربراہی سنبھال سکے اور تمام عرب ممالک اس کی پیروی کرنے لگیں۔ سعودی فرمانروا نے اسرائیل سے ساز باز کا راستہ اختیار کرکے عرب دنیا اور امت مسلمہ سے غداری کی ہے اور انہیں سخت دنوں کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ انہیں انور سادات یا شاہ ایران یا بن علی جیسے انجام کیلئے تیار رہنا چاہئے۔
خبر کا کوڈ : 556077
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے