0
Tuesday 16 Aug 2016 17:30

دہشتگردی کے خاتمے کا عزمِ مصم

دہشتگردی کے خاتمے کا عزمِ مصم
تحریر: سید توقیر زیدی

نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق اجلاس میں 20 نکاتی پلان کے تمام نکات پر بلاتفریق عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اِس اجلاس میں قومی سلامتی کے متعلق وزیراعظم کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ نے سکیورٹی صورتِ حال اور دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں پر بریفنگ دی، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاق، صوبوں کو نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لئے تمام وسائل فراہم کرے گا۔ قوانین کی خامی ہر سطح پر دور کی جائے گی، اجلاس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان انٹیلی جنس میکانزم مزید مضبوط بنانے کے لئے اقدامات کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں سول و عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خلاف مل کر اقدامات کرنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ہمارا عزم غیر متزلزل ہے۔ دہشت گردوں کے مکروہ عزائم کو ناکام بنائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے سے روشن ہونے والی امکانات کی وسیع دْنیا ہمارے دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہی۔ اْن کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمارا متحد ہونا ضروری ہے، پاکستان کے انٹیلی جنس ادارے دن رات محنت کرکے دہشت گردی کو ناکام بنانے میں مصروف ہیں، کوئٹہ کے واقعہ نے پوری قوم کو سوگوار کیا ہے، ہم دہشت گردی کے خلاف پوری قوت سے آگے بڑھیں گے، دہشت گرد آئین، عدلیہ، عوام ہمارے طرزِ زندگی اور قومی سلامتی کے دشمن ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف حکومت اور اس کے اداروں کا عزم اپنی جگہ مضبوط اور غیر متزلزل ہے۔ یہ ادارے محنت کرکے دہشت گردی کو ناکام بنانے کے لئے کوشاں بھی ہیں اور اس میں شک نہیں کہ انہیں اِس میں کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں، لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہْ مسلّمہ ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ کرنے میں ہمیں کلّی کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور تمام تر کوششوں کے باوجود دہشت گردی پر پوری طرح قابو نہیں پایا جا سکا اور وہ کہیں نہ کہیں بڑی واردات کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ دہشت گردوں کی کامیابیوں کا تجزیہ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ پشاور کے آرمی پبلک سکول جیسے بڑے اندوہناک واقعات ہو جاتے ہیں، چار سدہ میں یونیورسٹی کے اندر دہشت گردی ہو جاتی ہے، اب کوئٹہ کا واقعہ بھی دِل دہلا دینے والا ہے، جس میں ممتاز قانون دان اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، شہید ہونے والوں اور زخمیوں کے ہزاروں خاندان ہیں، جہاں صفِ ماتم بچھی ہے اور پورا مْلک سوگوار ہے۔ حکومت کے مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے اعلٰی دماغ سوچ بچار بھی کر رہے ہیں۔ یہ بھی سوچا جا رہا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ دہشت گرد تمام تر حفاظتی انتظامات کو ناکام اور بے اثر بنا کر اپنے منصوبے میں کامیاب کیوں ہو جاتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں جو تقریریں ہوئیں، ان میں بھی انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی کا تذکرہ کیا گیا، جس کے جواب میں کئی سیاست دانوں نے طعن و تشنیع اور الزام تراشی کا انداز اختیار کر لیا اور کئی سیاست دانوں کو غدار تک کہہ دیا گیا، اِس طرح کے سرٹیفکیٹ ہمارے ہاں ہمیشہ سے ہی فراخ دلی سے بانٹے جا رہے ہیں، دیکھنے کی ضرورت یہ ہے کہ جس نے جو بات کہی ہے، اْس میں کتنا وزن ہے؟ کیا کوئی قابلِ غور بات بھی ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کیوں نہ غیر جذباتی ہو کر اس کا جائزہ لے لیا جائے۔ کیا کسی کو غدار کہنے سے اِس بات کو جھٹلایا جا سکتا ہے کہ ہمارے مْلک میں دہشت گرد کارروائیاں کرتے ہیں اور تمام تر حفاظتی اقدامات کے باوجود یہ سب کر گزرتے ہیں۔ اب اگر ایسی بات کا تذکرہ کرتے ہوئے کوئی جوشیلا مقرر سخت بات کہہ دیتا ہے تو اسی انداز میں جوابی طور پر ناروا بات کہہ دینے سے تو مسئلہ حل نہیں ہوگا، ٹھنڈے دِل سے ہر بات کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ آخر خامی یا خامیاں کہاں ہیں، جنہیں دور کرنا ہے اور خلا کہاں کہاں ہیں، جن کو پْر کرنا ہے۔

یہ بات تو ماننے والی ہے کہ دہشت گردی سے کوئٹہ کی سرزمین لہولہان ہوئی ہے۔ یہ واردات اچانک نہیں ہوگئی، اس کی کہیں نہ کہیں پلاننگ ہوئی ہے، جن لوگوں نے یہ سب کچھ کیا، وہ یہیں کہیں موجود ہیں، پھر انہوں نے خودکش حملہ آور کو تیار کیا، جس نے واردات کی، دہشت گردوں نے تیار کرنے والوں کو مانیٹر بھی کیا ہوگا۔ اب اس واقعہ کے تمام پہلوؤں پر غور کرنے کی ضرورت ہے، کسی فرد، افراد یا اداروں کو مطعون کرکے کسی درست نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔ ادارے بھی بہرحال اپنی صلاحیتوں اور ممکنات کے اندر رہ کر ہی کام کر رہے ہیں، انہوں نے بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا ہے، اْن کی کمین گاہیں ختم کی ہیں، اْن کے بہت سے منصوبے ناکام بنائے ہیں، لیکن اگر اِس ضمن میں سو فیصد کامیابی نہیں ہوئی تو اِس کا یہ مطلب نہیں کہ باقی ہر قسم کی کامیابیوں، کامرانیوں اور قابلِ تعریف قربانیوں کو نظر انداز کر دیا جائے۔ کسی ایک واردات کی بنیاد پر ایسی باتیں کہنا کسی طور روا نہیں، جن سے کسی ادارے کی توہین مقصود ہو۔البتہ یہ سوال کرنا بھی کوئی گناہِ کبیرہ نہیں کہ ہم آخر دہشت گردی کے اس عفریت سے چھٹکارا کب پائیں گے۔

وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں جو فیصلے کئے گئے ہیں، اْن کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تمام 20 نکات پر پوری طرح عمل کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ درست ہے، تاہم اِس بات کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ اب تک اس پر پوری طرح عمل کیوں نہیں ہوسکا اور وہ کیا موانع تھے، جو اس کی راہ میں حائل تھے، جس جذبے کے ساتھ یہ پلان شروع کیا گیا تھا، کیا وقت کے ساتھ ساتھ وہ جذبہ سرد پڑ گیا یا کوئی اور بھی وجوہ تھیں، جن کے باعث ان پر عمل نہیں ہوسکا اور کیا اس کی راہ میں حائل رکاوٹیں اب دور کر دی گئی ہیں اور کیا نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی صورت میں امید کی جا سکتی ہے کہ اب دہشت گردی کا کوئی واقعہ نہیں ہوگا۔؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بہت ہی حوصلہ افزا صورت ہوگی۔

وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں دہشت گردی پر جو پالیسی بیان دیا ہے، وہ بھی اْن کے عزم و استقامت پر دلالت کرتا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ دہشت گردی کو ہر حالت میں ختم کیا جائے گا، تاہم اِس کے لئے ضروری ہے کہ تمام کوتاہیاں دور کی جائیں، جن کی وجہ سے دہشت گرد اپنی پلاننگ میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ہر دو چار ماہ بعد کسی نہ کسی شہر میں کوئی نہ کوئی بڑی واردات کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس موقع پر پوری قوم اور سیاسی و عسکری قیادت کا اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔ انٹیلی جنس معلومات کو بھی مربوط بنانا ہوگا اور ان میں کوئی کوتاہی ہے تو اسے دور کرنا ہوگا۔ اِسی طرح تمام اداروں کی کارروائیوں کے درمیان بھی ایسا ربط رکھنا ہوگا کہ آئندہ سے دہشت گرد اپنے مذموم عزائم میں ہرگز کامیاب نہ ہوسکیں۔
خبر کا کوڈ : 560968
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے