0
Tuesday 6 Sep 2016 10:22

یوم دفاع پاکستان

یوم دفاع پاکستان
تحریر: سردار تنویر حیدر بلوچ

1965ء کی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی اس جنگ میں ثابت ہوا کہ جنگیں ریاستی عوام اور فوج متحد ہو کر ہی لڑتی اور جیت سکتی ہیں۔ پاکستانی قوم کی اپنے ملک سے محبت، مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت اور جانثاری کے جرأت مندانہ جذبے نے ملکر ناممکن کو ممکن بنا کر دکھایا۔ 6 ستمبر 1965ء کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کبھی نہ بھولنے والا قابلِ فخر دن ہے، جب کئی گنا بڑے ملک نے افرادی تعداد میں کئی گنا زیادہ لشکر اور دفاعی وسائل کے ساتھ اپنے چھوٹے سے پڑوسی ملک پر کسی اعلان کے بغیر رات کے اندھیرے میں فوجی حملہ کر دیا۔ اس چھوٹے مگر غیور اور متحد ملک نے اپنے دشمن کے جنگی حملہ کا اس پامردی اور جانثاری سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اسے شرمندگی اٹھانا پڑی۔ جارحیت کرنے والا وہ بڑا ملک ہندوستان اور غیور و متحد چھوٹا ملک پاکستان ہے۔ پاکستان پر 1965ء میں ہندوستان کی طرف سے جنگ کا تھوپا جانا پاکستانی قوم کے ریاستی نصب العین، دو قومی نظریہ، قومی اتحاد اور حب الوطنی کو بہت بڑا چیلنج تھا، جسے جری قوم نے کمال وقار اور بے مثال جذبہ حریت سے قبول کیا اور لازوال قربانیوں کی مثال پیش کرکے زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیا۔ دوران جنگ ہر پاکستانی کو ایک ہی فکر تھی کہ اُسے دشمن کا سامنا کرنا اور کامیابی پانا ہے۔ جنگ کے دوران نہ توجوانوں کی نظریں دشمن کی نفری اور عسکریت طاقت پر تھیں اور نہ پاکستانی عوام کا دشمن کو شکست دینے کے سوا کوئی اور مقصد تھا۔

تمام پاکستانی میدان جنگ میں کود پڑے تھے۔ اساتذہ، طلبہ، شاعر، ادیب، فنکار، گلوکار ، ڈاکٹرز، سول ڈیفنس کے رضا کار، مزدور، کسان اور ذرائع ابلاغ سب کی ایک ہی دھن اور آواز تھی کہ اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا۔ ستمبر 1965ء کی جنگ کا ہمہ پہلو جائز لینے سے ایک حقیقی اور گہری خوشی محسوس ہوتی ہے کہ وسائل نہ ہونے کے باوجود اتنے بڑے اور ہر لحاظ سے مضبوط ہندوستان کے مقابلے میں چھوٹے سے پاکستان میں وہ کون سا عنصر اور جذبہ تھا، جس نے پوری قوم کو ایک سیسہ پلائی ہوئی ناقابل عبور دیوار میں بدل دیا تھا۔ مثلاً ہندوستان اور پاکستان کی مشترکہ سرحد رن آف کچھ پر طے شدہ قضیہ کو ہندوستان نے بلا جواز زندہ کیا، فوجی تصادم کے نتیجہ میں ہزیمت اٹھائی تو یہ اعلان کر دیا کہ آئندہ ہندوستان پاکستان کے ساتھ جنگ کے لئے اپنی پسند کا محاذ منتخب کرے گا۔ اس کے باوجود پاکستان نے ہندوستان سے ملحقہ سرحدوں پر کوئی جارحانہ اقدام نہ کئے تھے۔ صرف اپنی مسلح افواج کو معمول سے زیادہ الرٹ کر رکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ چھ ستمبر کی صبح جب ہندوستان نے حملہ کیا تو آناً فاناً ساری قوم، فوجی جوان اور افسر سارے سرکاری ملازمین جاگ کر اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف ہوگئے۔ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے ایمان افروز اور جذبۂ مرد مجاہد سے لبریز قوم سے خطاب کی وجہ سے ملک اللہ اکبر، پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اُٹھا۔ ایوب خان کے اس جملے پاکستانیو! اٹھو لا الہ الا اللہ کا ورد کرتے ہوئے آگے بڑھو اور دشمن کو بتا دو کہ اس نے کس قوم کو للکارا، ان کے اس خطاب نے قوم کے اندر گویا بجلیاں بھر دی تھیں۔

پاکستان آرمی نے ہر محاذ پر دشمن کی جارحیت اور پیش قدمی کو حب الوطنی کے جذبے اور پیشہ وارانہ مہارتوں سے روکا ہی نہیں، انہیں پسپا ہونے پر بھی مجبور کر دیا تھا۔ ہندوستانی فوج کے کمانڈر انچیف نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ وہ لاہور کے جم خانہ میں شام کو شراب کی محفل سجائیں گے۔ ہماری مسلح افواج نے جواب میں کمانڈر انچیف کے منہ پر وہ طمانچے جڑے کہ وہ مرتے دم تک منہ چھپاتا پھرا۔ لاہور کے سیکٹر کو میجر عزیز بھٹی جیسے سپوتوں نے سنبھالا، جان دے دی مگر وطن کی زمین پر دشمن کا ناپاک قدم قبول نہ کیا۔ قوموں کی داستان عروج و زوال سے مزین ہے، چاہے یہ قومی تشخص کی بنیاد مذہب پر ہو یا جغرافیائی حدود پر۔ پاکستان خوش قسمتی سے وہ خطہ ہے کہ جو دونوں دولتوں سے مالا مال ہے۔ خیر تذکرہ اس وقت عروج و زوال کا ہے، تو ہر قوم کی تاریخ میں وقت کچھ ایسی گھڑیاں ضرور لاتا ہے، جب ذاتی مفاد، جان و مال ملکی و اجتماعی مفادات کے آگے ہیچ ہو جاتے ہیں۔ ان آزمائش کی گھڑیوں میں جب قومیں اپنے فرض سے آنکھیں چراتی ہیں۔ کڑیل جوان میدان جنگ کی بجائے گھر میں چھپنے کو ترجیح دیں، تو ایسی قوموں کے مقدر میں آنے والا لمحات کا سورج خوشی و مسرت نہیں بلکہ اپنوں کی لاشوں کے ساتھ ساتھ غلامی کی نہ ٹوٹنے والی زنجیر لے کر آتا ہے اور پھر بسا اوقات اُس طوق کو اتارنے میں صدیاں بھی کم پڑ جاتی ہیں۔

ایسی ہی ایک گھڑی 6 ستمبر 1965ء کو پاکستان کی تاریخ میں بھی آئی تھی۔ لیکن سلام ہے اس قوم پر، جس نے اپنے فرائض سے آنکھیں نہیں چرائیں۔ ان نوجوانوں کو جن کے لئے ملکی سلامتی ان کی اپنی جان و مال سے کہیں زیادہ عزیز تھی۔ سلام ہے، ان شہیدوں کو جنہوں نے اپنے جسموں پر بم باندھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹ کر شہادت کا رتبہ پایا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ صریح موت ہے، لیکن ڈر کا ان کے عمل سے شائبہ تک نہ تھا۔ ان ماؤں کو جنہوں نے ملکی سلامتی کو اپنے بیٹوں سے زیادہ جانا۔۔۔ ان بیویوں کو جنہوں نے سہاگوں کی لاشوں پر نوحہ نہ کیا، بلکہ فخر سے سر اٹھا کر کہا کہ میرا شوہر شہید ہے۔ 6 ستمبر کو پاکستان کے یوم دفاع کے موقع پر وہ جرأت اور بہادری کی تاریخ رقم ہوئی، جو رہتی دنیا تک درخشاں رہے گی۔ تمام شہیدوں، غازیوں دلیروں اور بہادروں کو سلام پیش کرتے ہوئے اور اس دن کی تجدید کرتے ہوئے یہ مصمم ارادہ کرتے ہیں کہ اپنے ملک میں لسانی، صوبائی اور دیگر تمام تعصبات کو آخری حد تک ختم کرنے کی کوشش کریں گے، اس ملک کی بقاء ہی ہماری بقاء ہے۔ پاکستان کسی قطعہء زمین کا نام نہیں ہے۔ یہ ہمارے افکار، ہمارے جذبوں، ہمارے تشخص کی آبیاری کا منبع ہے۔ پاکستان ہمارے جسم اور ہماری روح کی جائے پناہ ہے۔ پاکستان کروڑوں انسانوں کی آنکھوں کا تارا اور امیدوں کا محور ہے۔

قوموں کی زندگیوں میں ایسی آزمائشیں بھی آتی ہیں، جہاں امیدیں دم توڑتی نظر آتی ہیں، لیکن امانت، صداقت، سچائی اور قربانی منفی تصورات کی راہ میں حائل رہتے ہیں۔ بطور قوم ہمیں یقین ہے کہ ہم میں اب بھی ایسے لوگ ان صفات کے ساتھ موجود ہیں۔ جب تک ایسے لوگ موجود ہیں، ہمارے پیارے وطن پر آنچ نہیں آئے گی۔ ہمیں نوجوانوں میں جذبہء حب الوطنی کو جگانے کی ضرورت ہے۔ گھروں، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ایسے اسباق سیکھائے جانے کی ضرورت ہے، جن میں اپنی بقا کو اپنے وطن کی بقا سے منسلک کیا گیا ہو۔ یہ تو واضح ہے کہ اس دن کو پاکستان کی تاریخ میں ایک روشن اور ولولہ انگیز دن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، اس روز ہماری بہادر مسلح افواج نے قوم کے شانہ بشانہ جارح دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا کر یہ پیغام دیا تھا کہ وہ اپنی آزادی کی حفاظت کرنا جانتی ہیں، یقیناً ہماری افواج کے افسروں اور جوانوں کی قربانیوں نے ہماری آزادی کو دوام بخشا ہے، جس پر پوری قوم انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ دنیا کے تیزی سے بدلتے حالات، اندرونی و بیرونی سازشیں اور سب سے بڑھ کر دہشت گردی، ایسے چیلنجز ہم سے اپنی صفوں میں اتحاد، ایمان اور یقین کو قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کا تقاضا کرتے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب بھی دراصل اسی عزم کا تسلسل ہے، جس میں سیاسی قیادت کی یکسوئی، عوام کے عزم، افواج پاکستان اور سکیورٹی کے دوسرے اداروں کی بے مثال قربانیوں اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی بدولت دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے۔

کوئی بھی قوم اپنے دفاع سے غافل نہیں رہ سکتی۔ دفاع جتنا مضبوط ہو، قوم بھی اتنی ہی شاندار اور مضبوط ہوتی ہے۔ 6 ستمبر 1965ء کی جنگ پاکستانی قوم کیلئے ایک وقار اور لازوال استقلال کا استعارہ ہے۔ 1965ء کی جنگ میں پاک فوج نے ملک کی سرحدوں کا دفاع باوقار انداز میں موثر بناتے ہوئے دنیا کو یہ باور کرا دیا کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں۔ جنگ ستمبر میں بھی قوم کے بہادر سپوتوں نے جان کے نذرانے پیش کئے اور آج جب قوم کو دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا سامنا ہے تو بھی افواج پاکستان کے جانباز جان کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ 6 ستمبر کا دن وطن عزیز کے دفاع کیلئے عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ قوموں کی زندگی میں کچھ دن انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، جن کے باعث ان کا تشخص ایک غیور اور جرات مند قوم کا ہوتا ہے۔ آج کے دن وطن عزیز کے ہر فرد کو عہد کرنا ہے کہ وہ وطن عزیز کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کو زندگی کی سب سے پہلی اور بڑی ترجیح بنا کر اس شعور کو اگلی نسلوں تک پہنچائے گا۔ یہ جنگ ستمبر کا دیا ہوا جذبہ ہے کہ آج وطن عزیز میں امن و امان کی صورتحال حوصلہ افزاء طور پر بہتر ہو رہی ہے، جسے برقرار رکھنے کے لئے ہمیں سیاسی و ذاتی مفادات سے بالا تر سوچ اپنانے کی ضرورت ہے۔ آج کے تاریخی موقع پر مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی بھارتی بربریت کی بھی مذمت کرتے ہوئے، کشمیر کے حوالہ سے ہمارا موقف واضح ہے، اس مسئلہ کا حل صرف اور صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ہوگا، جبر و استبداد سے کشمیری عوام کی آواز کو دبایا جا سکتا ہے، نہ ہی انہیں حق خودارادیت سے محروم کیا جا سکتا ہے، جنگ سمتمبر بھی کشمیر کی آزادی کے سلسلے کی ایک کڑی تھی اور آج بھی پاکستانی قوم کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری ہوئے ہے۔
خبر کا کوڈ : 565500
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب