0
Sunday 11 Sep 2016 15:02

بلوچستان، پاک ایران تعلقات کا فروغ ناگزیر(1)

بلوچستان، پاک ایران تعلقات کا فروغ ناگزیر(1)
تحریر: عمران خان

بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے تین اہم علیحدگی پسند تنظیموں کے سربراہوں براہمداغ بگٹی، حربیار مری اور کریمہ بلوچ کے خلاف ملک دشمنی اور غداری کے الزامات کے تحت پانچ مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ براہمداغ بگٹی، حربیار مری اور کریمہ کے خلاف عام شہریوں کی درخواست پر بغاوت کے مقدمات دائر کیے گئے۔ ان مقدمات کا تعلق انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے بلوچستان کے بارے میں بیان پر ان رہنماؤں کے ردعمل سے ہے۔ خود ساختہ جلا وطن بلوچ رہنما براہمداغ بگٹی نے فیس بک پر جاری کیے گئے پیغام میں بلوچوں کے لیے آواز اٹھانے پر انڈین عوام اور حکومت کا شکریہ ادا کیا تھا, جس کا تذکرہ نریندر مودی نے انڈیا کے یوم آزادی کے موقعے پر اپنے خطاب میں بھی کیا تھا۔ ان سب مقدمات میں بھی براہمداغ بگٹی، حربیار مری اور کریمہ بلوچ کو فریق بنایا گیا ہے۔ براہمداغ بگٹی پر مسلح علیحدگی پسند تنظیم بلوچ رپبلکن آرمی، اور حربیار مری پر بلوچ لبریشن آرمی کی سربراہی کا الزام ہے جبکہ کریمہ بلوچ، بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن یعنی بی ایس او آزاد کی چیئرپرسن ہیں۔ براہمداغ نے سوئٹزرلینڈ، حربیار مری نے برطانیہ، جبکہ کریمہ بلوچ نے کینیڈا میں سیاسی پناہ لے رکھی ہے۔

بلوچستان سے متعلق مودی کے بیان کے خلاف بلوچستان بھر میں شدید عوامی ردعمل سامنے آیا تھا اور صوبے کے مختلف شہروں میں شدید احتجاج کے علاوہ پاک افغان سرحد کے قریب بھارتی ترنگے اور مودی کے پتلے جلائے گئے تھے۔ بھارت کے خلاف ان مظاہروں کا ردعمل گرچہ بھارت کی جانب سے ہی متوقع تھا، مگر اگلے ہی روز چمن بارڈر پر افغان شہریوں نے آکر نہ صرف پاکستان کے خلاف شدید نعرے بازی کی بلکہ سبز ہلالی پرچم اور بانی پاکستان کی تصاویر کی شان میں گستاخی کی۔ بعض رپورٹس کے مطابق یہ احتجاجی ریلی افغان شہریوں کے بجائے سرکاری ملازمین پر مشتمل تھی جو کہ سول کپڑوں میں ملبوس تھے۔ ان اہلکاروں نے پاکستان کے خلاف شدید غم و غصہ اور نفرت کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے جوانوں پر پتھراؤ بھی کیا۔ اس شدید جھڑپ کے نتیجے میں چمن پہ پاک افغان سرحد جسے باب دوستی کہاجاتا ہے، پاکستان کی جانب سے غیر معینہ مدت کیلئے بند کی گئی، جو کہ چودہ دن تک بند رہنے کے بعد بالآخر یکم ستمبر کوکھولی گئی۔ باب دوستی کو کھلے چند روز ہی ہوئے تھے کہ افغان حکومت نے وسطی ایشیائی ریاستوں تک پاکستان کی رسائی روک دی۔

افغان حکومت نے اعلان کیا کہ پاکستان نے جوچند دن باب دوستی کو بند رکھا، اس عرصے میں افغان تاجروں کو ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ اس کے علاوہ اگر پاکستان واہگہ کے ذریعے بھارت کو افغانستان تک تجارتی رسائی نہیں دیگا تو افغانستان بھی پاکستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی نہیں دے۔ بظاہر افغانستان کی جانب سے دباؤ ڈالنے کا ایک ذریعہ سمجھا جارہا ہے مگر اس اقدام سے پاکستان کے وسطی ایشیائی ریاستوں سے طے پانے والے وہ تمام طویل المدت منصوبے شکوک و شبہات کا شکار ہوچکے ہیں،جن کی گزرگاہ افغانستان ہے۔ جن میں ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، انڈیا گیس پائپ لائن منصوبہ،کرغزستان سے بجلی کے حصول کا کاسا منصوبہ اور ان ریاستوں سے ہونے والے دیگر تجارتی معاہدے شامل ہیں۔

کچھ عرصہ قبل برہان وانی کی شہادت سے نئے ولولے و جذبے کے ساتھ اٹھنے والی تحریک آزادی کشمیر کو بھارت تمام تر طاقت کے استعمال کے باوجود اسے دبانے میں ناکام ہوا تو کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق ایک مرتبہ پھر پاکستان پر دراندازی و مداخلت عائد کیا اوراسی دوران کوئٹہ سول ہسپتال میں دہشت گردی کا مذموم ترین سانحہ پیش آیا۔ جس میں وکلا، صحافی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سمیت کل اسی سے زائد شہری نشانہ بنے۔ دہشت گردی کی یہ پہلی ایسی کارروائی تھی کہ جس کی ذمہ داری داعش، طالبان (احرار) سمیت تین گروہوں نے قبول کی، تینوں گروہوں کے افغانستان میں محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔ بھارتی میڈیا اور بعض بھارتی تجزیہ کاروں نے تحریک آزادی کشمیر کے نئے فیز کا ردعمل قرار دیا۔ یہاں تک کہ ایک بھارتی ٹی وی پروگرام میں سانحہ کوئٹہ پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہا گیا کہ’’ اگر کشمیر کو ڈسٹرب کیا جائے گا تو بلوچستان تو ڈسٹرب ہوگا ہی‘‘ پالیسی سازوں کی ایسی حکمت پر ماسوائے ماتم کے اور کیا کیا جاسکتا ہے کہ جہاد کے نام پر جن گروہوں کو اس سوچ کیساتھ طاقتور کیا گیا کہ بوقت ضرورت انہیں آزادی کشمیر کیلئے استعمال کیا جائے گا، وہی تحریک آزادی کشمیر کے ردعمل میں پاکستان کو ہی نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔

پاکستان کے ایک سیاسی و مذہبی رہنما نے اس صورتحال کو یوں بیان کیا کہ ’’ریاستی اداروں نے وسائل خرچ کرکے ان گروہوں کو طاقتور کیا، جن کا نظریاتی مرکز دشمن ملک یعنی بھارت میں ہے، آج ان گروہوں کو بھارت نے خرید لیا ہے اور انہی کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ گزشتہ روز روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے کالم میں سلیم صافی نے پاک افغان تعلقات کے حوالے سے تربور یعنی فرسٹ کزن، یا چچا زاد بھائی کی اصطلاح پیش کی۔ سلیم صافی کے مطابق پاک افغان تعلقات نہ ہی برادرانہ ہیں اور نہ ہی دشمنانہ۔ بلکہ ان کی مثال کزن کے رشتے سے دی جا سکتی ہے، جو دشمن کیلئے ایک، مگر آپس میں اختلافات کا شکار ہیں۔ البتہ سلیم صافی نے اپنے کالم میں افغان انڈیا تعلقات کی وضاحت پیش نہیں کی کہ دونوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت برادرانہ ہے یا پدرانہ کیونکہ جن افغانوں کے نان نفطے کے ناپ تول اور لین دین پاکستان کی سرزمین سے ہوتا رہا، وہی بھارتی ترنگا جلانے کے ردعمل میں پاکستانی سبز ہلالی پرچم کی توہین کررہے ہیں۔ واہگہ کے ذریعے بھارتی رسائی کے حصول کیلئے وسطی ایشیائی ریاستوں تک پاکستانی رسائی بند کررہے ہیں۔ اپنی سرزمین پر ’’را‘‘ کے بھاری بھرکم دفاتر برداشت کئے ہوئے ہیں۔ ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں کے قاتلوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر چکے ہیں۔ یہاں تک کہ اس افغان سرزمین پر آج پاکستانی غیر محفوظ اور بھارتی محفوظ ہیں، جس کے باشندے پورے آزادی کے ساتھ وطن عزیز میں مہمان نوازی سے لطف اندوز ہورہے ہیں اور بدلے میں اپنے میزبانوں کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔

طورخم پھر چمن بارڈر اس سے قبل افغان فورسز کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیاں اور ڈیورنڈ لائن پر ہونے والی غیر معمولی جھڑپوں سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بھارت صرف افغان سرزمین کو ہی پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کررہا بلکہ اسلامی جمہوریہ افغانستان کے تمام تر وسائل پاکستان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی پہ عمل پیرا ہے۔ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی جس کی ذمہ داری ایسی دہشتگرد لیڈر شپ قبول کرے کہ جس کا ٹھکانہ افغانستان میں ہو، اس کے متعلق تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے، مگر جب افغان صدر پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کررہا ہو۔ افغان فورسز سرحد پر چیرہ دستیوں میں مصروف ہوں۔ افغان سرکاری اہلکار سول کپڑوں میں چمن بارڈر پر سبز ہلالی پرچم کی توہین کریں۔ افغان وزارت داخلہ پاکستانیوں کو ملک چھوڑنے کے نوٹیفکیشن جاری کرے، صدارتی آرڈیننس کے ذریعے افغان راہداری کے دروازے پاکستانی گاڑیوں پر بند کئے جائیں، تو پھر یہ تسلیم کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیئے کہ افغانستان بطور ملک پاکستان کے خلاف استعمال ہورہا ہے،جو کہ قابل مذمت اور خطے کے امن کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔

مستقبل قریب میں پاک افغان سرحد پر امن و امان کی کیا صورت حال ہوگی اس کا اندازہ افغان آرمی چیف کے ممکنہ دورہ بھارت کے ایجنڈے سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ خامہ پریس کی رپورٹ کے مطابق افغان آرمی چیف چند روز میں بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اس دورے کے دوران مہلک ہتھیاروں کی ایک لمبی فہرست بھارت کے حوالے کریں گے، جن میں MI-25 گن شپ ہیلی کاپٹر اور دیگر اقسام کے ہیلی کاپٹروں کا مطالبہ بھی شامل ہوگا۔ بھارت اور افغانستان کے درمیان فوجی تعاون کو مزید بڑھانے کے سلسلے میں ہی افغان آرمی چیف جنرل قدم شاہ شحیم کو بھارت بھیجا جا رہا ہے۔ افغانستان کی نیشنل ڈیفنس اینڈ سکیورٹی فورسز کو مہلک ہتھیاروں سے لیس کرنے کے لئے دونوں ممالک کے درمیان گفت و شنید پہلے سے جاری تھی۔ امریکہ نے بھی افغانستان میں بھارت کی مداخلت اور اثر ورسوخ کو خوش آمدید کہا ہے۔ افغانستان میں سینئر ترین امریکی جرنیل جان نکلسن نے افغان آرمی چیف کے دورہ بھارت کے تناظر میں کہا ہے کہ بھارت کو افغان افواج کے لئے مزید اسلحہ فراہم کرکے اس تعاون کو مزید بڑھانا چاہیے۔پاکستان کی جانب سے دونوں ملکوں کو انتباہ کیا گیا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے منافی اقدامات سے گریز کیا جائے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے اس صورتحال کے پیش نظر ایک حالیہ بیان میں خبردار کیا کہ افغانستان کو چاہیے کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے بھارت کو باز رکھے۔ واضح رہے کہ طالبان کے اقتدار کا خاتمہ ہونے کے بعد بھارت اب تک تقریبا دو ارب ڈالر (تقریبا دو کھرب پاکستانی روپے) افغانستان کی ترقی اور استحکام کی آڑ میں فراہم کر چکا ہے، جس کا اصل مقصد پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنا اور خطے میں عدم استحکام کو فروغ دینا ہے۔ دوسری جانب بلوچستان کے تناظر میں افغانستان، بھارت اور امریکہ ایک صفحہ پر جبکہ چین، ایران اور پاکستان دوسری جانب دیکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کیلئے یہ بات انتہائی حوصلہ افزا ہے کہ ایران اور چین کشمیر اور بلوچستان کے معاملے پر بلامشروط اس کی حمایت کررہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں کشمیر ایشو پر ایرانی قیادت کے بیانات اور بلوچستان میں ’’را‘‘ کی کارستانیوں کے معاملے پر چین کا اظہار برہمی پاکستان کی تنہائی دور کرنے کا باعث بنے ہیں۔ گرچہ مخصوص ذہنیت کی مالک مقتدر قوتوں نے ایران کو دور کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی مگر بلوچستان میں پاکستان اور ایران کو ’’موساد ، را‘‘ جیسے مشترکہ خطرے نے ایک دوسرے کے قریب ہونے میں مدد دی، تاہم اداروں پہ اثرانداز ایک مخصوص ذہنیت اس فطری تعلق کو بھی کارآمد بنانے پہ رضامند نہیں، جس کے نتیجے میں بلوچستان کے مسائل میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔  (جاری ہے)
خبر کا کوڈ : 566718
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب