0
Sunday 2 Oct 2016 22:34

شام میں امریکی کردار کی حقیقت

شام میں امریکی کردار کی حقیقت
تحریر: جیفری ڈی سیچز (Jeffrey D. Sachs)
(پروفیسر کلمبیا یونیورسٹی)

شام میں جاری خانہ جنگی دنیا کا سب سے زیادہ خطرناک اور تباہ کن بحران ہے۔ 2011ء کے شروع سے اب تک لاکھوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ 10 لاکھ کے قریب شامی شہری اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ دوسری طرف داعش کے دہشت گردانہ اقدامات کے نتیجے میں شام سے بڑی تعداد میں افراد یورپی ممالک کی طرف ہجرت اختیار کرچکے ہیں، جس کے باعث یورپ مہاجرین کے سیلاب سے روبرو ہوا ہے اور بڑے بحران کا شکار ہوچکا ہے۔ اسی طرح شام میں جاری خانہ جنگی کے باعث اب تک امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادی کئی بار انتہائی خطرناک حد تک روس کے مقابلے میں جنگ کے قریب پہنچ چکے تھے۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ صدر براک اوباما نے شام میں امریکی کردار کی حقیقت کو امریکی عوام اور دنیا بھر سے چھپا کر شام بحران سے درپیش خطرات میں شدید اضافہ کیا ہے۔ شام میں جاری خانہ جنگی اور بدامنی کے خاتمے کا واحد راستہ امریکہ کی جانب سے شام بحران میں اپنے مفسدانہ کردار کی صحیح اور شفاف رپورٹ پیش کرنے پر مبنی ہے۔ امریکہ 2011ء سے لے کر اب تک شام میں سرگرم کئی دہشت گرد گروہوں کی مالی اور فوجی مدد اور ان کیلئے دہشت گرد عناصر کی ٹریننگ کرتا آیا ہے۔ ایسے حقائق کو فاش کرکے اکثر ممالک کے گستاخانہ اقدامات کو روکا جا سکتا ہے۔

وسیع پیمانے پر ایک غلط تصور یہ پایا جاتا ہے کہ اوباما نے امریکہ کو جنگ میں جاری جنگ سے دور رکھا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی دائیں بازو کی جماعتیں ہمیشہ سے براک اوباما کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں کہ انہوں نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق ایشو پر صدر بشار الاسد کے خلاف انتہائی سخت اور فیصلہ کن موقف اختیار کیا، لیکن جب یہ دعویٰ کیا گیا کہ صدر بشار الاسد نے ریڈ لائن سے عبور کی ہے تو انہوں نے اپنے موقف میں پسپائی اختیار کر لی (یہ مسئلہ شام سے مربوط دیگر اکثر مسائل کی طرح اب تک مبہم اور متنازعہ باقی ہے)۔ فائنانشیل ٹائمز کے ایک انتہائی سینیئر تجزیہ کار جو ہمیشہ اس غلط نقطہ نظر پر تاکید کرتے ہیں کہ امریکہ شام کے مسئلے میں تماشائی کی حد تک باقی رہا ہے، نے حال ہی میں اپنے کالم میں لکھا ہے کہ صدر براک اوباما ہیلری کلنٹن کی جانب سے شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف سرگرم گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے کی پیشکش مسترد کرچکے ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود کبھی کبھار پردے ہٹتے رہتے ہیں اور زمینی حقائق عیاں ہوتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر جنوری میں نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں اعتراف کیا کہ 2013ء میں امریکی صدر نے ملکی جاسوسی ادارے "سی آئی اے" کے نام ایک خفیہ خط لکھا تھا، جس میں اسے شام میں سرگرم حکومت مخالف گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ امریکی معاشرے کو اندھیرے میں رکھا گیا ہے۔ اس وقت سعودی عرب اور سی آئی اے کے تعاون سے انجام پانے والی کارروائیوں کی وسعت کس حد تک ہے؟ امریکہ ہر سال شام میں کس قدر پیسہ خرچ کر رہا ہے؟ امریکہ، سعودی عرب، ترکی، قطر اور دیگر ممالک نے شام میں سرگرم دہشت گرد عناصر کو کس قسم کا اسلحہ فراہم کیا ہے؟ شام میں کن کن دہشت گرد گروہوں نے یہ اسلحہ دریافت کیا ہے؟ شام میں جاری جنگ میں امریکی فوجیوں، امریکی ایئرفورس اور دیگر امریکی اہلکاروں کا کردار کیا ہے؟ امریکی حکومت ان سوالات کا جواب دینے سے گریز کرتی ہے، جبکہ امریکی میڈیا بھی ان سوالات کا جواب جاننے کی کوئی کوشش نہیں کرتا۔

امریکی صدر براک اوباما اب تک دس بار لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں: "ایک امریکی فوجی بھی شام نہیں بھیجا گیا۔"، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکی عوام خود حکومت ہی کی جانب سے چند ماہ کے فاصلے سے ایک بار شائع ہونے والے مختصر اعلامیے سے باخبر ہوتے ہیں کہ امریکہ کی سپشل فورسز شام میں سرگرم عمل ہیں۔ پینٹاگون ہمیشہ اس بات پر تاکید کرتی نظر آتی ہے کہ ان فورسز کو فرنٹ لائن پر نہیں لگایا جائے گا۔ لیکن جب سے روس اور شام کی مسلح افواج نے شام کے شمال میں دہشت گرد عناصر کے ٹھکانوں کو بمباری اور گولہ باری کا نشانہ بنانا شروع کیا ہے، امریکی حکام نے کریملن کو مطلع کیا ہے کہ یہ حملے شام میں موجود امریکی فوجیوں کی جان کیلئے خطرہ محسوب ہوتے ہیں۔ امریکی حکومت نے کبھی بھی اپنی عوام کو شام میں موجود ان فوجیوں کی ذمہ داری اور ان پر ہونے والے اخراجات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ کبھی کبھار انٹیلی جنس معلومات کے لیک آوٹ ہونے، ریسرچ رپورٹس، دیگر ممالک کے حکام کے اظہار خیال اور امریکی حکام کے غیر متوقع اظہار خیال کے ذریعے ہمیں یقین ہے کہ امریکہ شام میں جاری جنگ میں بھرپور انداز میں شریک ہے اور حتٰی اپنے جاسوسی ادارے سی آئی اے کے ذریعے صدر بشار الاسد کی سرنگونی اور داعش کے خاتمے کیلئے منظم انداز میں سرگرم عمل ہے۔ صدر بشار الاسد کے مقابلے میں امریکہ کے اتحادی ممالک سعودی عرب، ترکی، قطر اور خطے کے بعض دیگر ممالک ہیں۔ امریکہ اب تک شام میں سرگرم دہشت گرد عناصر کی مالی اور فوجی مدد، ان کی ٹریننگ، ان کی لاجسٹک سپورٹ اور ہوائی حملوں پر اربوں ڈالر خرچ کرچکا ہے۔ امریکی اتحادی ممالک بھی اب تک اربوں ڈالر خرچ کرچکے ہیں۔ ان اخراجات کے بارے میں کوئی معتبر رپورٹ میسر نہیں۔

شام کی جنگ سے متعلق امریکی حکومت کے فیصلوں میں امریکی معاشرے کا کوئی کردار نہیں رہا۔ اسی طرح کانگریس کی جانب سے اجازت دیئے جانے یا بجٹ منظور کئے جانے کا بھی کوئی راستہ اختیار نہیں کیا گیا۔ اسی طرح امریکی حکومت نے اب تک شام میں سی آئی اے کے کردار کے بارے میں نہ تو کوئی وضاحت جاری کی ہے اور نہ ہی اس کی ایسی سرگرمیوں کا کوئی جواز پیش کیا ہے۔ امریکی حکومت نے اپنے ملکی اور عالمی قوانین کی رو سے شام میں اپنے اقدامات کے قانونی ہونے کے بارے میں بھی امریکی عوام کو کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔ امریکہ کے دفاعی اور صنعتی اداروں میں کام کرنے والے افراد اس خفیہ پن کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ 15 سال قبل امریکی کانگریس حکومت کو تمام ایسے گروہوں کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت دے چکی ہے، جو کسی نہ کسی طرح نائن الیون حادثات میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ کانگریس کا یہ فیصلہ امریکی صدر اور مسلح افواج کو ملنے والے بلینک چک کے مترادف ہے، جس کے ذریعے امریکی حکومت نے مشرق وسطٰی اور افریقہ میں خفیہ جنگوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ امریکہ اعلانیہ طور پر ان حقائق کی وضاحت نہیں کرتا، جو زمین پر انجام پا رہے ہیں؟ امریکی حکام کہتے ہیں: کیونکہ یہ اقدام ہمارے آپریشن کو خطرات سے روبرو کرتا ہے اور دشمن اس سے زیادہ طاقتور ہو جاتا ہے، لہذا عوام کو کسی بات کا علم نہیں ہونا چاہئے۔

لیکن میرا نقطہ نظر مختلف ہے: فوجی طاقت کا استعمال آخری آپشن ہونا چاہئے اور اس صورت میں بھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے، جبکہ عوامی نظارت بھی بہت ضروری ہے۔ اس نقطہ نظر کی رو سے شام میں امریکہ کی خفیہ جنگ خود امریکی قانون کے بھی مخالف ہے، (کیونکہ امریکی آئین کے تحت کسی بھی بیرونی گروہ یا ملک کے خلاف جنگ کا اعلان کرنا صرف اور صرف کانگریس کے اختیارات میں ہے) اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے بھی خلاف ہے۔ میری نظر میں شام میں امریکہ کی دوطرفہ جنگ ایک گستاخانہ اور بدگمانی پر مبنی جوئے کے علاوہ کچھ نہیں۔ جیسا کہ اوباما اور کلنٹن بعض اوقات اظہار کرتے ہیں کہ شام میں جاری جنگ شامی عوام کی حمایت کی خاطر ہے، ایسا بالکل نہیں بلکہ یہ ایک پراکسی وار ہے جو امریکہ نے ایران اور روس کے خلاف شروع کر رکھی ہے اور اتفاق سے اس پراکسی وار کا مرکز شام بن چکا ہے۔ اس جنگ کے خطرات اس سے کہیں زیادہ خطرناک اور شدید ہیں، جن کا تصور امریکہ کے کٹھ پتلی جنگجووں کے ذہن میں ہے۔ جس وقت امریکہ نے صدر بشار الاسد کے خلاف جنگ کا آغاز کیا، روس نے بھی صدر بشار الاسد حکومت کی حمایت میں اپنی فوجیں میدان میں اتار دیں۔ امریکی میڈیا کی نظر میں روس کا یہ اقدام ایک بے احترامی محسوب ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کریملن کیسے جرات کرتا ہے کہ صدر بشار الاسد کی حکومت گرانے کی امریکی کوششوں میں رکاوٹ کا باعث بنے؟ یہ ٹکراو مستقبل میں زیادہ شدید ہوسکتا ہے اور شاید بھولے سے ہی سہی، فوجی ٹکراو کی صورت میں ظاہر ہوسکتا ہے۔

یہ وہ مسائل ہیں جنہیں قانون کی رو سے بہت زیادہ باریک بینی سے جانچنے اور ان پر عوامی نظارت اور کنٹرول برقرار کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ امریکی عوام شام میں حکومت کی تبدیلی کی خاطر لڑی جانے والی امریکی سربراہی میں موجودہ جنگ سے بالکل راضی نہیں اور اگر ریفرنڈم کا انعقاد کیا جائے تو وہ اس کے خلاف ووٹ دیں گے۔ امریکی عوام داعش سے مقابلے کے ساتھ ساتھ امن اور سکیورٹی کے خواہاں ہیں۔ دوسری طرف امریکی عوام گذشتہ سالوں میں امریکی سربراہی میں افغانستان، عراق، لیبیا، شام، سنٹرل امریکہ، افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا میں حکومت کی تبدیلی کی خاطر لڑی جانے والی جنگوں کو مدنظر رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی عوام ہمیشگی جنگ کی بجائے امن چاہتے ہیں۔ براک اوباما کے پاس اگلے چند ماہ تک ہی صدارت کا عہدہ ہے اور وہ اسی محدود وقت میں اپنا مشکوک ماضی درست کرنے کا موقع رکھتے ہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ جتنا جلدی ممکن ہو امریکی عوام کو موجودہ حقائق سے آگاہ کریں۔
خبر کا کوڈ : 572208
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب