0
Tuesday 4 Oct 2016 21:20

امریکہ نے شام میں جنگ بندی کیوں توڑی؟

امریکہ نے شام میں جنگ بندی کیوں توڑی؟
تحریر: فینین کننگھم (Finian Cunningham)

اس بات پر کئی معقول دلائل موجود ہیں کہ ایک ہفتہ قبل دیرالزور کے قریب موجود شامی فوجی اڈے پر امریکی سربراہی میں انجام پانے والا ہوائی حملہ جان بوجھ کر انجام دیا گیا, جس کا مقصد قتل عام کے علاوہ جنگ بندی کے عمل کو سبوتاژ کرنا تھا۔ اس کی ایک قابل قبول دلیل یہ ہے کہ پینٹاگون اور سی آئی اے اچھی طرح اس امر سے آگاہ تھے کہ انہیں اس جنگ بندی کے خاتمے کیلئے جو امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ سرگے لاوروف کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ تھا، ایسے ہی کسی اقدام کی ضرورت تھی۔ اس نازک سی جنگ بندی کے خاتمے کی ضرورت ایسے پیش آئی کہ ان کی نظر میں یہ جنگ بندی اس بات کا واضح ثبوت جانا جا رہا تھا کہ امریکہ رسمی طور پر اور منظم انداز میں شام میں جاری دہشت گردانہ پراکسی وار کا حصہ ہے۔ مزید برآں، یہ جنگ بندی خود امریکی حکومت کے اندر موجود ایسے عناصر کو بھی عیاں کر رہی تھی, جو شام میں جاری خانہ جنگی کے تسلسل کا باعث ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ امریکی وزیر دفاع اور پینٹاگون کے سربراہ ایشٹن کارٹر (Ashton Carter) نے اوباما کے سینiئر سفارتکار جان کیری کو روک رکھا تھا, جبکہ جان کیری ایک ہفتہ قبل یعنی 9 ستمبر کو ہی اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے شام میں جنگ بندی کا معاہدہ طے کرنا چاہتے تھے۔

سرگئی لاوروف اور میڈیا رپورٹرز کئی گھنٹے تک امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا انتظار کرتے رہے، تاکہ وہ آئیں اور جنگ بندی کے معاہدے پر سائن کئے جائیں۔ امریکی وزیر خارجہ کی تاخیر کی بنیادی وجہ ان کی ایشٹن کارٹر اور واشنگٹن میں موجود دیگر فوجی سربراہان سے بذریعہ ٹیلی فونک گفتگو کا طولانی ہو جانا تھا۔ امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر حتٰی امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی جنیوا کی جانب سفارتی پرواز سے ایک روز قبل تک روس اور امریکہ کے درمیان شام میں جنگ بندی کے ممکنہ معاہدے کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ پینٹاگون اور سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی 2011ء میں شام میں خانہ جنگی کے آغاز سے ہی خفیہ طور پر شام کے حکومت مخالف گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے اور ان میں سرگرم دہشت گرد عناصر کی ٹریننگ میں ملوث رہے ہیں۔ واشنگٹن رسمی طور پر تو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ صرف شام کی "اعتدال پسند اپوزیشن" کی حمایت کرتا ہے، لیکن خود مغربی میڈیا پر شائع ہونے والی رپورٹس ایسی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی فوج اور شام میں سرگرم دہشت گردوں میں منحوس رابطہ استوار ہے۔ مثال کے طور پر ایسی رپورٹس جن میں کہا گیا ہے کہ امریکی اسلحہ "اتفاقی طور پر" دہشت گرد گروہوں کے ہاتھ لگ گیا ہے۔

حال ہی میں شام میں جنگ بندی توڑنے سے امریکہ اور اس کے دیگر عرب اور نیٹو اتحادیوں کا اصلی چہرہ کھل کر سامنے آگیا ہے اور ان کی جانب سے شام کے حکومت مخالف "اعتدال پسند گروہوں" کی حمایت اور النصرہ فرنٹ اور داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کی حمایت نہ کرنے کے دعوے جھوٹے ثابت ہوگئے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما اور ان کی سفارتی ٹیم جس میں ان کے وزیر خارجہ اور خارجہ امور میں ان کے خاص نمائندے جان کیری بھی شامل ہیں، شام میں جاری امریکہ کی حقیقی ڈرٹی وار کی وسعت اور شام میں سرگرم دہشت گردوں سے امریکی جاسوسی اداروں کے باقاعدہ اور منظم تعلقات سے بے خبر ہیں۔ شاید صدر براک اوباما کی ٹیم میں شامل افراد اس قدر سادہ لوح اور رشوت خور ہیں کہ امریکی جاسوسی اداروں کی جانب سے شام میں سرگرم دہشت گردوں کو دو قسموں "اعتدال پسند" اور "شدت پسند" میں تقسیم کرنے پر مبنی پروپیگنڈے پر یقین کرچکے ہیں۔ لہذا جب امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے 9 ستمبر کے دن جنیوا میں اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کے ہمراہ شام میں جنگ بندی کا اعلان کیا تو ان کی جانب سے شام میں امریکہ کے حمایت یافتہ اعتدال پسند حکومت مخالف عناصر کو دہشت گرد عناصر سے علیحدہ کرنے پر مبنی دعوت سے ایسا تاثر قائم ہوا کہ گویا یہ تقسیم بندی حقیقت میں بھی موجود ہے۔ اگر ایسا نہیں تو ایسی درخواست منظر عام پر لانے کا کیا جواز پیش کیا جاسکتا ہے۔؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ پینٹاگون اور سی آئی اے کی نظر میں ایسا کچھ بھی نہیں۔ پینٹاگون میں موجود پشت پردہ عسکریت پسند عناصر زمینی حقائق سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ ان زمینی حقائق کے مطابق شام میں سرگرم تمام حکومت مخالف گروہ ایک دہشت گردانہ محاذ کو تشکیل دیتے ہیں، اگرچہ ہر گروہ علیحدہ نام سے سرگرم عمل ہے اور ان کے نظریات اور اہداف میں بھی ایک حد تک اختلاف پایا جاتا ہے۔ جنگ کی سرپرستی کرنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ واشنگٹن اور اس کے نیٹو اور عرب اتحادی شام میں سرگرم اس دہشت گرد محاذ کے بھرپور حامی اور مددگار ہیں۔ جو شخص بھی 1980ء کی دہائی میں سی آئی اے کی جانب سے افغانستان میں القاعدہ کی بنیاد ڈالے جانے سے باخبر ہے، وہ آج شام میں سرگرم دہشت گردوں سے سی آئی اے کے باقاعدہ اور رسمی تعلق پر ذرہ بھر تعجب نہیں کرے گا۔ اس تناظر میں امریکی فوج اور وزیر دفاع ایشٹن کارٹر کی جانب سے امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی جانب سے شام میں جنگ بندی کے معاہدے کی مخالفت کی وجہ واضح ہو جاتی ہے۔ پینٹاگون اور سی آئی اے اس حقیقت سے باخبر ہیں کہ شام میں سرگرم دہشت گردوں سے رسمی اور باقاعدہ تعلق کے باعث شام میں جنگ بندی نہ صرف عملی طور پر ممکن نہیں بلکہ ایک ناکام جنگ بندی اس باقاعدہ اور رسمی تعلق کو مزید عیاں کر دے گی، جس کے باعث رائے عامہ شام میں جاری خانہ جنگی میں امریکی مداخلت سے آگاہ ہو جائے گی۔

پینٹاگون اور سی آئی اے جس امر سے پریشان اور خوفزدہ تھے وہی انجام پایا۔ جان کیری اور سرگئی لاوروف کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کچھ دن تک ہی باقی رہی اور اس کے بعد جو کچھ انجام پایا اس کا انکار کرنا ممکن نہیں۔ شام حکومت کے مخالفین میں سے اعتدال پسند عناصر کو شدت پسند عناصر سے علیحدہ کرنے کا عمل انجام نہ پایا۔ شام میں سرگرم تمام دہشت گرد گروہوں نے جنگ بندی کی مخالفت کرتے ہوئے حلب کے شمال اور دیگر علاقوں میں جنگ جاری رکھی۔ امریکی اور مغربی ذرائع ابلاغ نے یہ واویلا شروع کر دیا کہ شام کی حکومت اور اس کا اتحادی ملک روس مشرقی حلب تک انسانی امداد پہنچانے میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ لیکن یہ نعرہ بازی اور پروپیگنڈہ بے سود ثابت ہوا اور اس حقیقت پر پردہ نہ ڈال سکا کہ شام میں سرگرم تمام حکومت مخالف گروہوں نے جنگ بندی کی مخالفت کی ہے اور اسی وجہ سے انسانی امداد پر مشتمل قافلے حلب میں داخل نہ ہوسکے۔ مغربی میڈیا کی جانب سے ایک اور انجام پانے والا پروپیگنڈہ یہ تھا کہ ترکی نے انسانی امداد پر مشتمل قافلوں کا اپنی سرحد سے حلب روانہ ہونے کیلئے شام حکومت کے ساتھ مناسب ہماہنگی نہیں کی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ماضی میں دہشت گرد عناصر کی جانب سے شام میں داخل ہونے کیلئے ترکی کی سرحد استعمال کئے جانے کے پیش نظر دمشق اس امر سے خوفزدہ تھا کہ کہیں انسانی امداد کے بہانے اسلحہ اور فوجی سازوسامان شام میں داخل نہ ہو جائے۔

یوں یہ کمزور جنگ بندی شام میں سرگرم دہشت گردوں اور امریکہ میں موجود تعلق اور گٹھ جوڑ کے بارے میں عالمی رائے عامہ کے آگاہ ہو جانے کا باعث بن گئی اور اس طرح امریکہ کی جانب سے شام میں سرگرم اعتدال پسند گروہوں کی حمایت اور دہشت گرد گروہوں کی مخالفت پر مبنی جھوٹ عیاں ہوگیا اور دنیا والے سمجھ گئے کہ امریکہ فریبکاری کا مرتکب ہوا ہے۔ شام میں قائم ہونے والی جنگ بندی ختم ہونے کے نتیجے میں امریکہ کی بین الاقوامی حیثیت کو درپیش خطرات کے پیش نظر اس میں کوئی شک نہیں کہ پینٹاگون نے یہ جنگ بندی جان بوجھ کر توڑی ہے۔ 17 ستمبر کے دن امریکی سربراہی میں برطانوی اور آسٹریلوی جنگی طیاروں نے شام کے مشرق میں واقع شہر دیرالزور کے قریب ایک شامی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 60 شامی فوجی ہلاک اور 100 زخمی ہوگئے۔ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا اس وقت سے اب تک یہی موقف دہرا رہے ہیں کہ یہ ہوائی حملہ غلطی سے انجام پایا اور محض ایک حادثہ تھا۔ اسی طرح امریکی سربراہی میں فوجی اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس حملے کے بارے میں تحقیق کر رہے ہیں۔ لیکن ماضی کی روشنی میں جیسا کہ گذشتہ سال افغانستان کے شہر قندوز میں ایک اسپتال پر امریکی جنگی طیاروں نے بمباری کر کے 30 افراد کو ہلاک کر ڈالا، ہم یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ صحیح طور پر تحقیق انجام نہیں پائے گی۔

امریکی اور مغربی میڈیا ہمیشہ کی طرح حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اس میڈیا پر شائع ہونے والی رپورٹس میں دیرالزور میں انجام پانے والے قتل عام کا ذکر تک نہیں، جبکہ دوسری طرف اسی دن نیویارک میں ہونے والا بم دھماکہ جس کی کوئی اہمیت بھی نہ تھی اور اس میں کوئی جانی نقصان بھی نہیں ہوا بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ اگر بعض مغربی ذرائع ابلاغ میں دیرالزور میں انجام پانے والے ہوائی حملے کا ذکر بھی ہوا ہے تو اسے محض اتفاق اور غلطی کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔ اس طرح شام میں جاری جنگ بندی توڑ دی گئی، تاکہ ڈرٹی وار میں آلودہ امریکی ہاتھوں پر پڑنے والی روشنی کو ختم کیا جا سکے اور لاکھوں بیگناہ انسانوں کے قتل عام میں امریکہ کے ملوث ہونے پر پردہ باقی رہ جائے۔
خبر کا کوڈ : 572807
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب