0
Thursday 6 Oct 2016 20:46

عسکری تنظیموں کیخلاف بتدریج کارروائی کا آغاز، ڈیلی ڈان کے انکشافات

عسکری تنظیموں کیخلاف بتدریج کارروائی کا آغاز، ڈیلی ڈان کے انکشافات
رپورٹ: ٹی اچ بلوچ

موجودہ حکومت کی طرف سے انتہائی محتاط، لیکن واضح طریقے سے عسکری قیادت کو یہ پیغام ابلاغ کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر تیزی سے پاکستان تنہا ہو رہا ہے، جبکہ ریاستوں کی جانب سے کئی اہم معاملات پر کارروائیوں کے لئے اتفاق رائے کا بھی تقاضا کیا جا رہا ہے، یہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔ جنرل راحیل شریف کی جانب سے شروع کی گئی ضرب عضب اور دہشت گردی کیخلاف جاری بھرپور کارروائی سے محسوس کیا جا رہا ہے کہ فوج بھی اس نکتہ نظر سے متفق ہے۔ اس کا بڑا سبب کشمیر میں بیداری کی عوامی لہر ہے، جس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ گذشتہ دہائیوں سے جاری عسکری تنظیموں کے ذریعے بھارت کیخلاف کارروائیوں کی سرپرستی سے پاکستان اور کشمیر کاز کا نقصان زیادہ ہوا ہے اور فائدہ نہ ہونے کے برابر۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر 3 اکتوبر کو آل پارٹیز کانفرنس کے موقع پر ہونے والی ایک خفیہ ملاقات میں دو اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔ پہلا یہ کہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ کے ہمراہ چاروں صوبوں کا دورہ کریں گے اور صوبائی اپیکس کمیٹیوں اور آئی ایس آئی کے سیکٹرز کمانڈرز کو ایک پیغام دیں گے۔ وہ پیغام یہ ہوگا کہ فوج کے زیر انتظام کام کرنے والی خفیہ ایجنسیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کالعدم شدت پسند گروہوں اور ان گروپس کے خلاف کارروائیوں میں مداخلت نہیں کریں گی، جنہیں اب تک سویلین ایکشن کی پہنچ سے دور سمجھا جاتا تھا۔ ڈی جی آئی ایس آئی رضوان اختر کے دورہ لاہور سے اس عمل کا آغاز ہوچکا ہے۔

دوسرا یہ کہ وزیراعظم نواز شریف نے ہدایات دیں کہ پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات کو کسی نتیجے پر پہنچانے کے لئے نئے اقدامات کئے جائیں جبکہ ممبئی حملہ کیس سے متعلق مقدمات راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں دوبارہ سے شروع کی جائیں۔ یہ فیصلے وزیراعلٰی پنجاب شہباز شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے درمیان ہونے والی زبردست بحث کے بعد کئے گئے۔ ان شخصیات کے درمیان ہونے والی گفتگو منظر عام پہ آچکی ہے، تاہم ان تمام افراد نے آن ریکارڈ بات کرنے سے انکار کیا اور بظاہر انہوں نے جو باتیں کیں، ان کی تصدیق متعقلہ افراد کی جانب سے بھی نہیں کی گئی۔ اسی طرح پیر کو ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے وزیراعظم ہاؤس میں سول و عسکری حکام کو خصوصی پریزینٹیشن دی۔ اس اجلاس کی سربراہی وزیراعظم نواز شریف کر رہے تھے جبکہ کابینہ اور صوبائی حکام بھی اس میں موجود تھے اور عسکری نمائندوں کی سربراہی ڈی جی آئی ایس آئی رضوان اختر کر رہے تھے۔ سیکرٹری خارجہ نے پاکستان کی جانب سے حالیہ سفارتی کوششوں کے نتائج کا خلاصہ پیش کیا اور بتایا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کا سامنا ہے اور حکومت پاکستان کے موقف پر دنیا کے بڑے ملکوں نے بے اعتنائی کا اظہار کیا۔ امریکہ کے حوالے سے سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ باہمی تعلقات خراب ہوئے ہیں اور اس کے مزید زوال پذیر ہونے کا امکان ہے، کیونکہ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرے۔ بھارت کے حوالے سے اعزاز چوہدری نے کہا کہ پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات اور جیش محمد کے خلاف موثر کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد سیکرٹری خارجہ نے شرکاء کو بتایا کہ چین نے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، تاہم ترجیحات میں تبدیلی کا اشارہ بھی دیا۔ انہوں نے بتایا کہ خاص طور پر جب چینی حکام نے جیش محمد کے رہنما مسعود اظہر پر اقوام متحدہ کی پابندی کے خلاف تکنیکی اعتراض برقرار رکھنے پر آمادگی ظاہر کی تو ساتھ ہی انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ بار بار ایسا کرنے کی منطق کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکرٹری خارجہ کی بریفنگ کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی اور دیگر سول عہدے داروں کے درمیان حیرت انگیز اور غیر معمولی تبادلہ خیال شروع ہوا۔ سیکرٹری خارجہ کی بریفنگ کے ردعمل میں ڈی جی آئی ایس آئی رضوان اختر نے استفسار کیا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا ہونے سے بچانے کے لئے کیا اقدامات کئے جاسکتے ہیں؟ اس پر اعزاز چوہدری نے جواب دیا کہ عالمی برادری کا سب سے اہم مطالبہ یہ ہے کہ جیش محمد، مسعود اظہر، حافظ سعید، لشکر طیبہ اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ڈی جی آئی ایس آئی نے جواب دیا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ جسے ضروری سمجھتی ہے، گرفتار کرے، تاہم یہ واضح نہیں کہ انہوں نے یہ بات مذکورہ افراد اور تنظیموں کے حوالے سے کہی یا پھر عمومی طور پر کالعدم تنظیموں کے ارکان کے حوالے سے کہی۔ اس موقع پر وزیراعلٰی پنجاب کی جانب سے غیر متوقع طور پر مداخلت کی گئی اور انہوں نے رضوان اختر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی سول حکام ان گروپس کے خلاف کارروائی کرتے ہیں، سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ انہیں رہا کرانے کے لئے پس پردہ کوششیں شروع کر دیتی ہے۔ شہباز شریف کا یہ موقف سن کر شرکاء ششدر رہ گئے، تاہم کشیدگی کو کم کرنے کے لئے خود وزیراعظم نواز شریف نے رضوان اختر کو مخاطب کیا اور کہا کہ ماضی میں جو کچھ ہوتا رہا وہ ریاستی پالیسیاں تھیں اور ڈی جی آئی ایس آئی کو موجودہ صورتحال کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا رہا۔

اس اہم اجلاس کے متعدد عینی شاہدین کا یہ ماننا ہے کہ سیکرٹری خارجہ کی پریزینٹیشن اور وزیراعلٰی شہباز شریف کی مداخلت وزیراعظم نواز شریف کا تیار کردہ منصوبہ تھا، تاکہ فوج کو کارروائی کے لئے تیار کیا جاسکے اور اس کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی کو بین الصوبائی دوروں پر بھیجنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی اور سول حکام کے درمیان بحث ہونے کے باوجود معاملہ تلخ کلامی تک نہیں پہنچا۔ قبل ازیں اجلاس میں ڈی جی آئی ایس آئی نے بتایا کہ فوج کی پالیسی ہے کہ وہ شدت پسند گروہوں کے درمیان فرق نہیں کرتی اور فوج اس پالیسی کو رائج رکھنے کے لئے پرعزم ہے۔ تاہم آئی ایس آئی چیف نے مختلف شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کے وقت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا اور کہا ان کارروائیوں سے ایسا تاثر نہیں جانا چاہیے کہ یہ بھارت کے دباؤ پر کی جا رہی ہیں یا ہم نے کشمیریوں سے اظہار لاتعلقی کر دیا ہے۔ رضوان اختر نے وزیراعظم کی ہدایت پر چاروں صوبوں کا دورہ کرنے کی بھی بخوشی حامی بھرلی، جہاں وہ آئی ایس آئی سیکٹر کمانڈرز کو تازہ احکامات جاری کریں گے اور صوبائی اپیکس کمیٹیوں سے بھی ملاقات کریں گے، تاکہ ان مخصوص اقدامات کا خاکہ تیار کیا جاسکے جو مختلف صوبوں میں اٹھائے جانا ضروری ہیں۔ متعدد حکومتی عہدے داروں کے مطابق اجلاس میں سول اور عکسری حکام کے درمیان بحث وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے کھیلا گیا بڑا جُوا تھا، جو انہوں نے مزید بین الاقوامی دباؤ کو روکنے کے لئے کھیلا۔ اس کے علاوہ شرکاء نے بتایا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے علیحدہ ملاقاتوں میں وزیراعظم نواز شریف زیادہ پر جوش نظر آئے اور انہوں نے موقف اختیار کیا کہ اگر پالیسی میں موجودہ حالات کے مطابق تبدیلی نہ کی تو پاکستان کو حقیقی تنہائی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ تاہم حکومتی عہدے دار اس بات پر منقسم ہیں کہ آیا نواز شریف کا کھیلا گیا جُوا کامیاب ہوگا یا نہیں۔

ایک عہدے دار نے ڈی جی آئی ایس آئی کے عزم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی ساری زندگی یہ سننے کی دعا کرتے رہے ہیں، اب دیکھنا ہے کہ واقعی ایسا ہوتا بھی ہے یا نہیں۔ ایک اور سرکاری عہدے دار نے کہا کہ اقدامات کئے جا رہے ہیں یا نہیں یہ دیکھنے کے لئے نومبر تک انتظار کرنا ہوگا، کیونکہ نومبر تک کئی معاملات طے ہوجائیں گے۔ حکومت کی طرف سے مذکورہ رپورٹ کی تردید کی گئی ہے، لیکن آئی ایس پی آر نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے، فوج دیوبندی اور اہل حدیث عسکری تنظیموں کو بتدریج ختم کرنے کی پالیسی کا آغاز کرچکی ہے، لیکن یہ تاثر زائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ دنیا کو یہ محسوس نہ ہو کہ یہ کام بھارت اور امریکہ کے دباو پر کیا جا رہا ہے، لیکن پاکستان کی چین اور روس کیساتھ قربت اس اقدام میں بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ جنرل ضیاءالحق کے دور سے ریاست کے خفیہ اداروں کی جانب سے اعلانیہ طور پر دیوبندی اور اہل حدیث گروپوں کو مسلح کرکے کشمیر اور افغانستان کے جہاد کے نام پر پاکستانی معاشرے، میڈیا اور خود افغان اور کشمیری سرزمین پر جس طرح مسلط رکھا گیا، آج ہمیں اس کے منفی اثرات کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا، اس پالیسی کو سرے سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ حالات بدل چکے ہیں، آج جنرل راحیل شریف اٹک میں مشترکہ مشقوں کے دوران خطاب کرتے ہوئے اسی روسی فوج کی تعریف کر رہے تھے، جن کے خلاف افغانستان سے چیچنیا تک جہاد کے نام پر روس کو توڑنے کی امریکی کوششوں میں مملکت خداداد کی سلامتی کو داو پر لگا کر، پوری دنیا سے آنے والے جنگجووں کو پلیٹ فارم فراہم کئے گئے، دوسری طرف وہی جنگجو ہماری فوج کیخلاف انڈیا اور امریکہ کے ایما پر برسر جنگ ہیں۔
خبر کا کوڈ : 573358
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب