0
Thursday 6 Oct 2016 20:48

کراچی میں پکڑے گئے اسلحہ کی مقدار سے ریاستی ادارے پریشان، اسلحہ کی برآمدگی کسی بڑی عسکری پیش قدمی کو روکنے سے کم نہیں

کراچی میں پکڑے گئے اسلحہ کی مقدار سے ریاستی ادارے پریشان، اسلحہ کی برآمدگی کسی بڑی عسکری پیش قدمی کو روکنے سے کم نہیں
رپورٹ: میثم عابدی

متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو کے قریب واقع گھر سے ملنے والے اسلحے میں وہ ہتھیار بھی شامل ہیں، جو جنگ کے دوران استعمال ہوتے ہیں۔ جہاز اور ہیلی کاپٹرز گرانے والی دو چار نہیں 14 اینٹی ایئرکرافٹ گنز برآمد ہوئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس گن سے 3200 میٹر یعنی فضا میں تین کلو میٹر سے زائد تک جہاز ہیلی کاپٹر مار گرایا جاسکتا ہے۔ اِسی طرح آر پی جی سیون راکٹ، 900 میٹر یعنی لگ بھگ ایک کلو میٹر دور تک بکتربند گاڑی، ٹینک اور بنکر تباہ کرسکتا ہے۔ نو آر پی جی سیون لانچر اور چوراسی راکٹ کی برآمدگی بھی کسی بڑی عسکری پیش قدمی کو روکنے سے کم نہیں ہے۔ درجنوں کی تعداد میں پکڑی جانیوالی سب مشین گنیں، جی تھری، سیون ایم ایم، چائنیز رائفلیں، اسنائپر، شاٹ گن اور رپیٹر سے ہونے والی تباہی بھی بے حساب ہے۔ اڑھائی ہزار اوان بم اور تین سو دستی بم الگ ہیں۔ ایک دستی بم کا حملہ جائے وقوع پر پانچ میٹر کے دائرے میں موجود افراد کو ہلاک اور زخمی کرسکتا ہے۔ اوان بم بھی بڑے پیمانے پر جان کا دشمن ہے۔ ساڑھے چار لاکھ گولیوں سے کتنی اموات ہوسکتی ہیں، اس کا اندازہ آپ خود لگا لیں، دہشت گردوں نے اپنی حفاظت کیلئے ایک سو چالیس بلٹ پروف جیکٹس بھی چھپا رکھی تھیں۔ دو سو سے زائد اینٹی ایئر کرافٹ گنز، سینکڑوں راکٹ لانچر، دستی بموں کی بڑی تعداد، کلاشنکوف، نائن ایم ایم پستول اور لاتعداد گولیاں برآمد کی گئیں۔

عزیز آباد سے برآمد ہونے والا اسلحہ پاک فوج کے سینٹرل آرڈیننس ڈپو منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسلحہ ڈی آئی جی ویسٹ کے آفس سے پولیس کے 2 ٹرکوں اور 5 موبائلوں کے ذریعے منتقل کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق سندھ پولیس کے پاس صرف چھوٹے ہتھیاروں کے فارنزک کی سہولت ہے، جی تھری، اینٹی ایئرکرافٹ گن اور ایل ایم جی کی فارنزک نہیں کرسکتی، اس لئے ہتھیاروں کی فارنزک پاک فوج سے کرائی جائے گی۔ ڈی آئی جی ویسٹ ذوالفقار لاڑک کے مطابق برآمد شدہ اسلحہ اور گولہ بارود کی ڈمپنگ کے لئے جگہ فراہم کرنے کے لئے پاک فوج سے اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمد شدہ اسلحہ ساؤتھ افریقہ سیٹ اپ کا تھا۔ اسلحہ اور گولہ بارود بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی مدد سے خریدا گیا ہے۔ ڈی آئی جی ویسٹ کے مطابق اسلحہ کے ساتھ برآمد ہونے والی بلٹ پروف جیکٹس بھارتی ساختہ ہیں، جو بی ایس ایف کے زیر استعمال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برآمد ہونیوالے اسلحہ عارضی طور پر پاک فوج کے حوالے کر رہے ہیں۔ پولیس کے پاس اتنا زیادہ خطرناک اسلحہ رکھنے کیلئے محفوظ مال خانہ موجود نہیں ہے۔ عدالت کے طلب کرنے پر پاک فوج سے اسلحہ واپس بھی لاسکتے ہیں۔

عزیز آباد سے برآمد ہونے والا اسلحہ اور گولہ بارود کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں، تحقیقاتی حکام کے مطابق پانی کا ٹینک خصوصی طور پر اسی لئے ڈیزائن کرکے بنایا گیا تھا۔ حکام کے مطابق اسلحہ زیر زمین چھپایا گیا تھا اور ہوا کی ترسیل کیلئے پڑوسیوں کے گھروں میں وینٹی لیشن پائپ بھی موجود تھے۔ حکام کے مطابق جس مکان سے اسلحہ برآمد ہوا ہے، وہ نعیم اللہ نامی شخص کے نام پر ہے، پچھلے 2 سال سے بجلی کا بل ادا نہیں کیا گیا، گھر کے ایک گرد آلود کمرے میں کیلنڈر بھی لگا ہوا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مکان میں جنوری 2015ء سے قبل کسی خاندان کی رہائش تھی۔ دوسری جانب اسلحہ کی برآمدگی کا مقدمہ عزیز آباد تھانے میں سرکار کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے، پولیس حکام کے مطابق مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف دہشت گردی اور ایکسپلوزو ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے اور مقدمے کی تفتیش میں آگے جاکر اس میں ریاست سے بغاوت کی دفعہ بھی شامل کی جائے گی۔
خبر کا کوڈ : 573367
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش