0
Friday 7 Oct 2016 01:04

حلب، نیو ورلڈ آرڈر کا نکتہ آغاز

حلب، نیو ورلڈ آرڈر کا نکتہ آغاز
تحریر: ڈاکٹر علی رضا

شام میں جاری خانہ جنگی اور سکیورٹی بحران فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ حلب کی فتح شام میں گذشتہ 5 برس سے جاری خانہ جنگی کے اختتام اور مشرق وسطٰی میں امن و امان کی واپسی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن یہ وہ چیز نہیں جو سعودی عرب، ترکی اور ان کے مغربی اتحادیوں پر مشتمل اتحاد چاہتا ہو۔ شام بحران کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کیلئے بین الاقوامی کوششیں روز بروز کم ہوتی جا رہی ہیں۔ شام بحران کے حل میں درپیش ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس بحران پر اثرانداز ہونے والے ممالک میں سے بعض ایسے ہیں، جن کے نزدیک شام میں جنگ بندی اور امن و امان کا قیام پہلی ترجیح نہیں۔ بے وجہ نہیں کہ برطانوی وزیراعظم تھریسا مے واضح طور پر شام میں جاری سیاسی عمل کے خاتمے کا اعلان کرتی نظر آتی ہیں اور امریکہ شام میں وسیع جنگ بندی کے قیام پر مبنی معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد اس کی خلاف ورزی کرتا نظر آتا ہے۔ صرف گذشتہ ایک سال کے دوران 7 ہزار دہشت گرد مختلف یورپی ممالک سے مشرق وسطٰی منتقل ہوئے ہیں۔ خطے کا انفرااسٹرکچر اور آثار قدیمہ تقریباً مکمل طور پر نابودی کا شکار ہوچکے ہیں۔ لیکن ایسا نظر آتا ہے کہ مغربی طاقتیں اس حد تک تباہی و بربادی پر راضی نہیں۔

حلب نیو ورلڈ آرڈر کے زیرو آور پر قرار پا چکا ہے۔ حلب میں اسلامی مزاحمتی بلاک کی کامیابی خطے کے مستقبل کو ایک اہم تاریخی موڑ پر لا کھڑا کرے گی۔ یہ ایک ایسی حقیقت جس کے بارے میں سب سے زیادہ شام کے دشمن باخبر ہیں۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ حلب اس قدر اہم ہے؟ سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ حلب شام کا دوسرا بڑا شہر ہے اور اسے شام کے اقتصادی دارالحکومت جیسی حیثیت حاصل ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ حلب ترکی جانے والے اہم راستوں پر واقع ہے، جس کے باعث اس شہر کی اہمیت دوچندان ہوگئی ہے۔ اگر حلب دہشت گرد عناصر سے پاک ہو جاتا ہے اور اس شہر میں شام آرمی کا مضبوط فوجی اڈہ قائم ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب ترکی کی جانب سے شام میں ہر قسم کی مداخلت کا خاتمہ ہوگا۔ لہذا ترکی کیلئے اس شہر کا مستقبل انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

اگر ہم شام میں سرگرم مختلف قوتوں کو تقسیم کرنا چاہئیں تو انہیں 4 اہم گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1)۔ داعش اور القاعدہ (امریکہ کی نظر میں برے دہشت گرد)،
2)۔ فری سیرین آرمی اور القاعدہ اور داعش سے علیحدہ ہونے والے دیگر دہشت گرد گروہ (امریکہ کی نظر میں اچھے دہشت گرد)،
3)۔ کرد،
4)۔ شام آرمی اور اسلامی مزاحمتی گروہ۔ اگر حلب مکمل طور پر دہشت گرد عناصر سے پاک ہو جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں حلب سے ایسے دہشت گرد گروہوں کا بھی صفایا ہو جائے گا جو امریکہ کی نظر میں اچھے دہشت گرد جانے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی آرڈر اور توازن کی نگاہ میں ایسی صورتحال درحقیقت خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کی برتری اور کریمیا کے روس سے الحاق کے بعد مغربی طاقتوں کی دوسری شکست جانی جاتی ہے۔ لہذا آج ہم شام میں سرگرم دہشت گرد عناصر اور ان کے علاقائی اور بین الاقوامی حامیوں کی جانب سے ایڑی چوٹی کا زور لگائے جانے کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

بعض خبری ذرائع ایسی رپورٹس شائع کر رہے ہیں، جن میں نیٹو کی جانب سے 800 جنگی طیاروں کے ذریعے شام آرمی اور اس کے اتحادیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر ہوائی حملے انجام دینے کی ممکنہ منصوبہ بندی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ ہوائی حملے 14 ممالک مل کر انجام دیں گے اور اس کے تمام تر فوجی اخراجات سعودی عرب برداشت کرے گا۔ دوسری طرف روس نے شام میں اپنا جدید ترین میزائل ڈیفنس سسٹم نصب کرنے کی تائید کر دی ہے اور دو جنگی کشتیاں بھی شام کی جانب روانہ کر دی ہیں۔ لہذا آج کل بعض تجزیہ کار شام میں بڑے پیمانے پر ایک نئی جنگ کے آغاز کا امکان ظاہر کر رہے ہیں، جو تیسری جنگ عظیم بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ شام آرمی کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی کا نتیجہ امریکہ اور روس کے درمیان جنگ کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ اس وقت شام کے خلاف فوجی کارروائی پر امریکہ کے اندر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ دوسری طرف یورپی ممالک بھی شام میں روس کے خلاف جنگ کا آغاز نہیں چاہتے، اگرچہ ظاہری طور پر بہت شور مچا رہے ہیں۔ اس کی بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ یوکرائن کے مسئلے میں روس سے نہیں ٹکرائے، اگرچہ یوکرائن کا مسئلہ یورپی ممالک کیلئے زیادہ اہمیت کا حامل تھا۔ بہرحال، خطہ اس وقت نیو ورلڈ آرڈر کے زیرو آور پر قرار پا چکا ہے۔

شام آرمی کو صرف ایک سال اور چاہئے، تاکہ وہ ملک کو مکمل طور پر دہشت گرد عناصر سے پاک کرسکے اور اس طرح شام کی تقسیم کی سازش ناکام بنا سکے۔ امریکہ اور مغربی طاقتوں کی سازش یہ تھی کہ شام میں ایسا طولانی سکیورٹی بحران شروع کیا جائے، جس کے باعث شام، ایران، روس اور ان کی اتحادی قوتوں کی اقتصادی اور فوجی طاقت کمزور کر دی جائے۔ یمن میں بھی سعودی عرب کی سربراہی میں اتحاد کی جانب سے ایک سال سے زیادہ عرصہ تک ہوائی حملوں کے باوجود اسلامی مزاحمتی قوتیں پہلے سے زیادہ طاقتور ہوئی ہیں، جس کا واضح ثبوت حال ہی میں ان کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی جنگی کشتی کی نابودی ہے۔ اسی طرح عراق میں الحشد الشعبی (عوامی رضاکار فورس) ملک میں داعش کے آخری ٹھکانے یعنی موصل کو فتح کرنے کے قریب ہے۔ ایسے حالات میں امریکہ اور خطے میں اس کے اتحادی ممالک کا رویہ روز بروز نامعقول تر ہوتا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر ان دنوں امریکی میڈیا اور سفارتکار بارہا اور بڑے پیمانے پر روس اور شام کے خلاف دھمکی آمیز بیانات دے رہے ہیں۔

امریکہ دھمکی دے رہا ہے کہ خلیج عرب ریاستیں شام میں سرگرم دہشت گرد عناصر کو زمین سے ہوا میں مار کرنے والے میزائلوں سے لیس کر دیں گے۔ اسی طرح امریکہ روس کو بھی دھمکیاں دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ روس کے مختلف شہر بھی دہشت گردانہ حملوں سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ امریکہ واضح طور پر اس امر کا اظہار کر رہا ہے کہ یہ فیصلہ کہ شام میں سرگرم دہشت گرد عناصر کو اسلحہ فراہم کیا جائے یا نہیں اور یہ کہ وہ کون سا اسلحہ استعمال کریں، ریاض، دوحہ یا ابوظہبی میں نہیں بلکہ واشنگٹن میں ہوتا ہے۔ اسی طرح امریکہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ خطے میں اس کے اتحادی ممالک اس کے زیر نظر شام میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کو اسلحہ فراہم کرتے ہیں اور اگر روس نے امریکہ اور اس کے رسمی اتحادیوں (ترکی اور خلیج عرب ریاستیں) یا ٹیکنیکل اتحادیوں (داعش اور القاعدہ) کے خلاف طاقت کا توازن تبدیل کرنے کی کوشش کی تو امریکہ بھی خلیجی ریاستوں کو شام میں سرگرم دہشت گردوں کو اسلحہ فراہم کرنے کا اشارہ کر دے گا۔

اسی طرح امریکہ رسمی طور پر ماسکو کو خبردار کرچکا ہے کہ اگر اس نے شام میں اچھے دہشت گردوں کو ختم کرنے کی کوشش کی تو امریکہ برے دہشت گردوں کو اپنے سیاسی اہداف کیلئے استعمال کرے گا۔ امریکہ کی جانب سے روس کو یہ دھمکی دینا کہ اس کے شہر دہشت گردانہ حملوں سے محفوظ نہیں رہیں گے، بہت دلچسپ ہے۔ امریکہ ایک بار افغانستان میں شدت پسند اسلامی گروہوں سمیت کئی دہشت گرد گروہ تیار کرچکا ہے، جس کے بارے میں ہیلری کلنٹن بہت واضح طور پر اعتراف بھی کرچکی ہیں۔ امریکی حکام نے افغانستان میں سابق سوویت یونین کا مقابلہ کرنے کیلئے مجاہدین کو زمین سے ہوا میں مار کرنے والے میزائل فراہم کئے تھے۔ صحیح ہے کہ اس جنگ میں سابق سوویت یونین کو شکست ہوئی، لیکن امریکہ افغانستان میں شدت پسند اسلامی گروہوں سے بھی خوش نہ تھا اور اب تک ان کی طرف سے نقصانات برداشت کر رہا ہے۔ انہیں گروہوں کی تشکیل اور انہیں مضبوط بنانے کا نتیجہ نائین الیون حادثات کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اب امریکہ وہی غلطی دہرا رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 573441
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب