0
Thursday 27 Oct 2016 00:30

یمن کا مقدمہ کس عدالت میں چلے گا؟

یمن کا مقدمہ کس عدالت میں چلے گا؟
تحریر: عرفان علی

سعودی بادشاہت کی مسلط کردہ جنگ، دہشت گردی اور اس کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں شہید ہونے والے اور اس سے کہیں زیادہ زخمیوں کی وجہ سے ایک جانب سرزمین مقدس اویس قرنی ؓ یمن کی مظلومیت پر انسانیت نوحہ کناں ہے تو دوسری جانب یمن کے غیرت مند عرب مسلمانوں کی ولولہ انگیز کامیاب مقاومت پر عقل ہے محو تماشا لب بام ابھی! 26 اکتوبر 2016ء کو تازہ ترین واقعات یہ ہیں کہ صوبہ صنعا کے ضلع نحم کے مختلف علاقوں میں 16 مرتبہ سعودی طیاروں نے بمباری کرکے گھروں کو تباہ کر دیا۔ صوبہ مارب کے ضلع ثروہ میں وحشی سعودی افواج کی 2 مرتبہ بمباری میں گھر بھی تباہ ہوئے تو فصلیں بھی جل گئیں۔ یہ حملے جنگ زدہ یمن کے مظلوم عوام کو قحط میں مبتلا کر رہے ہیں۔ صوبہ جوف کے غیل اور ال مصلوب اضلاع کے علاقوں میں بھی بمباری کی گئی ہے۔ 26 اکتوبر کو علی الصبح دارالحکومت صنعا میں بمباری کا سلسلہ شروع کیا گیا، جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ اس کے نتیجے میں کئی گھروں اور دیگر نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچا۔ بمباری سعودی طیاروں نے ساؤنڈ بیریئر بھی کھول رکھے تھے۔ صوبہ صعدہ، حدیدہ، ذمر، شبویٰ، ایب اور تعز میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ یاد رہے کہ موجودہ سعودی حملے تین روزہ سیز فائر کے فوری بعد 23 اکتوبر کو شروع ہوئے تھے اور شدت کے ساتھ آج تک جاری رہے۔

یہ تازہ ترین نقصانات ہیں، لیکن غالباً 11 اکتوبر کو اس ناچیز نے سحر اردو ٹی وی چینل کے ٹاک شو ’’انداز جہاں‘‘ یمن کی اس وقت تک کی صورتحال پر اپنی جو رائے پیش کی تھی ، یہاں آپ کی معلومات میں اضافے کے لئے وہ بھی پیش خدمت ہے، کیونکہ یہ نکات یہاں پہلے بیان نہیں ہوئے۔ یہ تو معلوم ہوچکا تھا کہ سعودی عرب نے یمن کی انقلابی کاؤنسل کے تحت بننے والی عبوری حکومت کے ایک وزیر کے مرحوم والد علی ال روی شان کے تشیع جنازہ کے تعزیتی اجتماع پر بھی بمباری کی تھی، لیکن ان بموں کی تفصیلات شاید بیان نہیں کی گئی تھی۔ سعودی عرب نے 500 پونڈ وزنی امریکی ایم کے 82 گائیڈڈ بم کے چار مرتبہ حملے کئے کئے تھے۔ اس بم کا کوڈ 96214 تھا، جس کا مطلب یہ بم امریکی اسلحہ ساز کمپنی رے تھیون کے تیار کردہ تھے۔ یمن جنگ کے دوران امریکہ سعودی عرب کو 20 بلین ڈالر مالیت کا اسلحہ دے چکا ہے۔ صرف اوبامہ کی صدارت کے دوران امریکہ نے 115 بلین ڈالر مالیت اسلحے کی فروخت کی پیشکش کر رکھی ہے، جس میں ابھی بہت سا اسلحہ دیا جانا باقی ہے۔ یاد رہے کہ ان سعودی حملوں میں 140 سے زائد یمنی شہید اور 520 زخمی ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ میں صرف ایک زید رعد ال حسین ہائی کمشنر برائے حقوق انسانی ہیں، جو تھوڑا بہت یمن کے مظلوم عوام کے حق میں کبھی کبھار بیان دے دیتے ہیں، ورنہ بان کی مون، اسماعیل اولد شیخ سمیت سبھی امریکی سعودی آلہ کار بنے دکھائی دیتے ہیں۔ نمائندہ اقوام متحدہ برائے یمن اسماعیل اولد شیخ تو زبانی جمع خرچ کے اتنے ماہر ہیں کہ ہر مرتبہ تجاویز لے کر ادھر ادھر دورے کرتے رہتے ہیں، لیکن سعودی عرب اور اس کے لے پالکوں کو پرامن حل کے لئے عملی اقدامات پر مجبور نہیں کرسکے۔ زید رعد حسین نے تعزیتی اجتماع پر گائیڈڈ بم حملے پر زیرو احتساب کی بات کی اور کہا کہ جنگی جرائم کے مقدمے کے لئے پیشگی تحقیقات کروائیں۔ یاد رہے کہ 19 مہینوں سے جاری اس جنگ کے آغاز سے شادی کے اجتماعات، بازاروں، اسپتالوں، اسکولوں، دفاتر اور اب تعزیتی اجتماعات کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ حرکت انصار اللہ کی اپیل پر اس سانحے کے بعد غم و غصے کے آتش فشاں کے عنوان سے سعودی جارحیت کے خلاف مظاہرے کئے تھے۔ اب جب دور روز قبل اسماعیل اولد شیخ یمن آئے تھے تو ان کی آمد پر اقوام متحدہ کے خلاف مظاہروں سے ان کا استقبال کیا گیا۔ مظاہرین کا نعرہ تھا کہ اقوام متحدہ بھی سعودی جنگ میں شریک کار ہے۔ جب 11 اکتوبر کو رائے دی تب صعدہ اور جیزان پر سعودی طیاروں نے 39 اور ثعبان میں 23 حملے کئے تھے۔

ٹاک شو ’’انداز جہاں‘‘ میں جب اپنا نکتہ نظر بیان کیا، اس دن یعنی 11 اکتوبر کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریہ میں امریکی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ بھی اس جنگ میں سعودی عرب کے ساتھ خفیہ ساز باز ختم کرے۔ امریکہ جیسے ملک میں رائے عامہ یمن جنگ میں امریکی کردار سے نالاں دکھائی دیتی ہے اور اس کے فیصلہ ساز ایوانوں اور مفکرین میں یمن جنگ سے سعودی عرب کو باز رکھنے کی تاکید کی جا رہی ہے، لیکن صد افسوس کہ مسلمان ممالک میں بعض عاقبت نااندیش عالم اسلام کو نقصان سے دور چار کرنے والی سعودی پالیسیوں، جنگوں اور دہشت گردی کے خلاف خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ امریکی تھنک ٹینک بروکنگس انسٹی ٹیوشن میں 21 اپریل 2016ء کو امریکی سعودی شراکت داری کی از سرنو تشخیص کے لئے امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر مرفی کو مدعو کیا گیا اور وہیں بروس رائیڈل نے بھی اپنی رائے بیان کی۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ وہاں امریکی حکومت کو یمن پر مسلط سعودی جنگ میں co-belligerent شریک جنگ ملک کا ساتھی قرار دیا گیا۔ بروس رائیڈل نے کہا کہ اگر آج امریکہ و برطانیہ سعودی عرب سے کہیں کہ یمن جنگ کو ختم کرنا ہوگا تو کل یہ جنگ ختم ہوجائے گی۔ یاد رہے کہ سعودی عرب برطانیہ کے فراہم کردہ کلسٹر بم بھی یمن کے خلاف استعمال کرچکا ہے۔ تازہ ترین رائے سابق صدر ریگن کے معاون خصوصی ڈاؤگ بینڈؤو کی آئی ہے، جنہوں نے اپنے مقالے میں امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یمن پر جاری سعودی جنگ سے باہر نکل آئے۔ وہ آج کل Cato انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر فیلو ہیں۔

یمن کی مظلومیت اپنی جگہ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس مظلوم ملت کی بے مثال و لازوال مقاومت نے اہل عالم کو اپنی طرف متوجہ کرکے داد و تحسین دینے پر بھی متوجہ کیا ہے۔ یمن کی فوج کے ترجمان شرف نے اعلان کیا ہے کہ اب یمن کے عام عوام کو فوجی تربیت دی جائے گی، تاکہ وہ سعودی جنگ کے خلاف مادر وطن یمن کا دفاع کریں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سعودی عرب کی سرحدی پٹی پر 20 کلومیٹر کے اندر تک یمن کی فوج پہنچ چکی ہے۔ نجران کے ایک علاقے میں ایک فوجی چھاؤنی بھی یمن کی فوج کے کنٹرول میں ہے اور یمن کی مقاومتی فوج کے جوابی حملوں میں متعدد سعودی طیارے، ٹینک و دیگر اسلحہ تباہ ہوا پے۔ جیزان میں سعودی فوجی چھاؤنی التبہ الحمرا بھی جوابی میزائلوں کی زد پر ہے۔ مآرب میں سروہ اور عبدالرب شدادی نامی علاقوں میں بھی مقاومت نے حملہ آوروں کے دانت کھٹے کئے ہیں، وہاں وادی نوح پر بھی انکا کنٹرول ہے تو تعز میں بھی ان کی استقامت جوں کی توں ہے۔ حدیدہ پر آج بھی ان کا کنٹرول ہے، یعنی سمندری راستے کے ذریعے بین الاقوامی تجارت کی سب سے بڑی گذرگاہ پر واقع حدیدہ کی بندر گاہ ان کے کنٹرول میں ہے، یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں کہ صنعا سے حدیدہ تک حرکت انصار اللہ اور ان کے اتحادی 19 مہینوں سے مقاومت کے ساتھ سربلند ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ انقلاب یمن کی فعال جماعت حرکت انصار اللہ کے سربراہ عبدالملک ال حوثی نے عاشورا اور دیگر اجتماعات سے خظاب میں سعودی عرب کو اس دور کا یزید قرار دیا۔ ان کا تجزیہ و تحلیل یہ ہے کہ امریکہ و سعودی عرب ناکامی کی فرسٹریشن نکال رہے ہیں۔ ان کی رائے ہے کہ سعودی عرب کو امریکہ نے گرین لائٹ کا سگنل دیا ہے کہ جو چاہے کرو، ورنہ درحقیقت یمن میں قتل عام کی پہلی ذمے داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔ عالم اسلام کی انقلابی مقاومتی تحریکوں میں لبنان کی حزب اللہ اور ایران کی پاسداران انقلاب اسلامی نے کھل کر حرکت انصار اللہ کی حمایت میں بیانات دیے ہیں۔ عراق میں مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لئے قائم کئے گئے عوامی لشکر حشد الشعبی کے کمانڈر ابو مہدی المہندس نے کہا ہے کہ یمن کے عزادار شہریوں پر حملے کرکے آل سعودنے خود اپنے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کو ایک خط لکھ کر بتایا کہ ایران کی ہلال احمر یمن میں انسانی امداد پہنچانے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سعودی اتحادی افواج اور جس نے بھی ان کی حمایت کی ہے، ان سب پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جائے۔

کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ دنیا کا ضمیر جاگے گا یا نہیں اور یمن کے مظلوموں سے انصاف ان کے توسط سے ہوگا یا نہیں، لیکن اس کائنات میں عدالت و آزادی کے واحد اور احد خدائے قادر مطلق کی عدالت ایسی ہے کہ ہر مظلوم کی ایف آئی آر بغیر کسی رکاوٹ کے نہ صرف درج ہوتی ہے بلکہ مظلوموں کی آہ و بکا عرش عالم کو ہلا دیتی ہے اور ایسے مظلوم جو جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کی روحانی اولاد بھی ہوں، ان کی فریاد پر منجی عالم بشریت یقیناً خاموش نہیں ہونگے کہ وہ تو ایک عام مظلوم کے لئے بھی وہی تڑپ رکھتے ہیں، چہ جائیکہ مومن و صالح مقاومتی افراد کی مظلومیت۔ امام عدالت کے ناحیہ مقدسہ سے کیا حکم صادر ہوا ہے، یہ تو اہل سلوک ہی بتلا سکتے ہیں، لیکن مجھے صرف اتنا معلوم ہے کہ سرزمین سلمان فارسیؓ سے انقلاب اسلامی کا کامیاب ہونا، پھر سرزمین بوذرؓ لبنان سے حزب اللہ کا ابھرنا، پھر سرزمین صعصعہ بن صوحان بحرین میں اسلام ناب محمدی کی تحریک کا ظہور، سرزمین اویس قرنیؓ میں حرکت انصار اللہ کا قیام، حرم آل رسول اللہ ﷺ کے دفاع میں سرزمین سیدہ زینب سلام اللہ علیہا شام و سرزمین، شش آئمہ معصومین ؑ عراق میں امام زادگان عشق یعنی نبویون، حیدریون، فاطمیون، زینبیون اور حشد الشعبی و سرزمین قدس کی آزادی کے لئے قدس فورس کا جذبہ عشق و وفا، صدق و صفا، عملی کردار یہ سب ایک ہی سلسلے کی وہ کڑیاں ہیں، جنہیں ملا کر دیکھیں تو منظر نامہ بہت واضح ہے۔ اگر حسن نصر اللہ نے یمن کو آج کے دور کی کربلا کہا ہے تو ہمیں یہ معلوم ہے کہ آج یمن پر کھانا پانی بند کرنے والوں کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ آج یزیدیت موصل تا جیزان آخری ہچکیاں لے رہی ہے تو یہ اسی مقاومت اسلامی کا کردار ہے، جس کے آرکیٹیکٹ سید روح اللہ تھے اور اب ان کے جانشین سید علی ہیں۔ ان کامیابیوں کے بعد آج یہ بات کہنے میں کوئی شرم محسوس نہیں ہونی چاہیے کہ ما ھر چہ داریم از وجود بابرکت و باعظمت ولایت فقیہ داریم۔
خبر کا کوڈ : 578700
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش