0
Friday 25 Nov 2016 09:05
جنرل راحیل شریف ہمیشہ فرنٹ سے قیادت کی

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اعزاز میں الوداعی تقریب، وزیراعظم کا خراج تحسین

آئندہ بھی جنرل راحیل سے مشورے کرتا رہوں گا
آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اعزاز میں الوداعی تقریب، وزیراعظم کا خراج تحسین
رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

وزیراعظم ہاوس اسلام آباد میں وزیراعظم نواز شریف نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اعزاز میں الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مادر وطن کی حفاظت کیلئے ان کی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ انھوں نے محنت اور لگن سے خود کو بہترین سپہ سالار ثابت کیا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جنرل راحیل شریف کا خاندان ملکی دفاعی خدمات کے لیے جانا جاتا ہے، انہوں نے فوج میں خدمات کے دوران پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا، بطور آرمی چیف ملک کے لیے شاندار خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریب کا مقصد جنرل راحیل شریف کی شاندار خدمات کوخراج تحسین پیش کرنا ہے، جنرل راحیل شریف میں بھر پور قائدانہ صلاحیتیں ہیں،مسلح افواج کے آپریشن ضرب عضب کی پوری دنیا معترف ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جنرل راحیل شریف کو قابلیت کی بنیاد پر آرمی چیف مقرر کیا گیا، ان کی انتھک کوششوں اور عزم کو خواج تحسین پیش کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے جنرل راحیل شریف کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے خطاب کا اختتام کیا، جس کے ساتھ ہی تالیوں کی گونج میں جنرل راحیل شریف کھڑے ہوگئے۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے وزیراعظم نوازشریف کا شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی حمایت اور تائید کا دلی طورپر شکر گزار ہوں۔ اس سے قبل آرمی چیف جنرل راحیل شریف جب وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے الوداعی عشائیے میں شرکت کیلئے وزیر اعظم ہائوس پہنچتے تو وزیر اعظم نے ان کا خیرمقدم کیا۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے وزیر اعظم نواز شریف کے علاوہ وہاں موجود وزیر دفاع خواجہ آصف، سرتاج عزیز، وزیر مملکت راناتنویر، معاون خصوصی طارق فاطمی سے بھی مصافحہ کیا اور ان کی خیریت دریافت کی۔ تقریب میں لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات، لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم احمد، لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے، لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ، پاک فضائیہ کے سربراہ ایئرچیف مارشل سہیل امان اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر بھی موجود تھے۔ وزیراعظم اور آرمی چیف کی خوشگوار ماحول میں گفتگو ہوئی، وزیراعظم نواز شریف نے مسلح افواج کے تینوں سربراہان کے ساتھ گروپ فوٹو بنوایا۔ وزیراعظم نواز شریف سے جنرل راحیل شریف کی ون آن ون ملاقات بھی ہوئی، تقریب میں وفاقی کابینہ کےارکان، ارکان پارلیمنٹ، اعلیٰ سول و عسکری حکام بھی شریک تھے۔

وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اعزاز میں الوادعی عشائیے میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی تعریفیں کیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں اور جنرل راحیل ملکر کئی سیکورٹی چیلنجز سے کامیاب گزرے، تین سال جنرل راحیل کے اسٹرٹیجک مشوروں پر اعتماد کیا، آئندہ بھی مشورے کرتا رہوں گا، ان کی قیادت میں فوج نے نہ صرف بیرونی خطرات بلکہ دہشت گردی کی لعنت کا مقابلہ کیا۔ جبکہ سبکدوش آرمی چیف نے وزیراعظم نواز شریف سے اظہار تشکر کرتے ہوئے آپ کے محبت بھرے الفاظ اور حمایت پر شکر گزار ہوں کے الفاظ ادا کئے۔ جمعرات کی شب وزیر اعظم ہائوس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اعزاز میں دئیے گئے الوداعی عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے شاندار الفاظ میں جنرل راحیل شریف کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا، وزیراعظم کے خطاب پر ہال تالیوں سے گونج اُٹھا۔ عشائیے میں سروسز چیفس، ڈی جی آئی ایس آئی، وفاقی وزرأ نے بھی شرکت کی۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ میں اور جنرل راحیل شریف سیکورٹی معاملات پر ایک رہے، میں نے تین سال جنرل راحیل کے اسٹرٹیجک مشوروں پر اعتماد کیا، آئندہ بھی جنرل راحیل سے مشورے کرتا رہوں گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج کا پا کستان 2013ء کے پاکستان سے زیادہ مضبوط اور محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل راحیل شریف کی قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج نے نہ صرف بیرونی خطرات کا مقابلہ کیا بلکہ دہشت گردی کی لعنت کا بھی مقابلہ کیا، ہم نے کا میابی سے ریاست کی رٹ قائم کی ہے اور ایک ایک انچ پر مکمل کنٹرول اور خود مختاری بحال کی، پاکستان کی مسلح افواج بلا شبہ یہ دعویٰ کر سکتی ہیں کہ ضرب عضب آپریشن پر کسی بھی خامی سے پاک عملدر آمد کیا گیا، جسے دنیا بھر میں دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ایک جامع، توانا اور کامیاب آپریشن تصور کیا جاتا ہے، اس نے پوری دنیا کو دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ہمارے عزم سے آ گاہ کیا، کیونکہ ہم نے وہ کامیابیاں حاصل کیں جو زیادہ وسائل رکھنے والے ملک طویل عر صہ میں بھی حاصل نہ کر سکے، مجھے یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ جنرل راحیل شریف ہمیشہ فرنٹ سے قیادت کی۔ قبل ازیں وزیر اعظم نے کہا کہ آج ہم جنرل راحیل شریف کی مسلح افواج اور ملک کیلئے مثالی، غیر معمولی اور بے لوث خدمات کو سراہنے اور انکا شکریہ ادا کرنے کیلئے جمع ہوئے ہیں۔ جنرل راحیل شریف کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو بہادری اور شجاعت میں اپنی مثال آپ ہے، وہ قوم کی خدمت کی روایت رکھتے ہیں اور انہوں نے اپنے فرائض کی ادائیگی میں جان کا نذرانہ دینے کی روایت قائم کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ نشان حیدر میجر عزیز بھٹی شہید اور میجر شبیر شریف شہید ان کے خاندان کیلئے ایک منفرد اعزاز ہے، جنرل راحیل شریف نے بھی 45 ویں لانگ کورس کیلئے پاکستان ملٹری اکیڈمی جوائن کرنے سے لے کر پورے کیریئر میں اپنی سرزمین سے غیر مشروط کمٹ منٹ اور بے لوث جذبے کا مظاہرہ کیا، ایک ذہین اور نوجوان کیڈٹ افسر سے لے کر چیف آف آرمی اسٹاف تک ان کا سفر پیشہ وارانہ کامیابیوں اور منفرد اعزازات سے مزین ہے۔ انہوں نے کہا کہ بطور کمانڈنٹ پاکستان ملٹری اکیڈمی اور جی او سی الیونتھ انفنٹری ڈویژن جنرل راحیل شریف اپنے فرائض بہترین طریقے سے انجام دئیے۔ ان کی خدمات بطور کور کمانڈر گوجرانوالہ اور انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلو ایشن نے، انہیں بطور آرمی چیف فرائض کی انجام دہی میں مدد دی۔ تین سال قابل اسی مہینے میں جنرل راحیل شریف کو ان کی غیر معمولی فوجی صلاحیتوں، قائدانہ صلاحیت اور دیانتداری کے باعث اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا، بطور آرمی چیف انہوں نے ہمارے ملک کی سروس میں واضح فرق قائم کیا، بلاشبہ انہوں نے اپنے آ پ کو موجودہ نسل کے بہترین فوجی رہنمائوں میں سے ایک ثابت کیا۔ وزیراعظم کا خطاب ختم ہوا تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ آرمی چیف نے شا ندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرنے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں آپ کی سپورٹ اور تائید پر آپ کا دلی طور پر شکر گزار ہوں۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف وزیر اعظم ہاوس سے رخصت ہوتے ہوئے، جب گاڑی میں بیٹھے تو وزیر اعظم نواز شریف کو سیلوٹ کیا، جس کے جواب میں نواز شریف نے بھی آرمی چیف کو الوداعی سیلوٹ کیا۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی جانب سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اعزاز میں پر تکلف عشائیہ دیا گیا، جس میں سیاسی و عسکری قیادت اور نئے سپہ سالارکے لئے زیر غور آنے والے چاروں فوجی جرنیلوں نے بھی شرکت کی۔ وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے ٹوئٹر پر عشائیے میں وزیر اعظم سے ہاتھ ملاتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل زبیر حیات محمود اور لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے کی تصاویر شیئر کیں، جس پر سوشل میڈیا میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی۔ تجزیہ نگاروں نے نکتہ اٹھاتے ہوئے سوال کیا ہے کہ آرمی چیف کے لئے جن ناموں پر غور کیا جارہا ہے، وہ چاروں جرنیل تقریب میں موجود تھے، لیکن مریم نواز کا صرف جنرل زبیر حیات اور جنرل رمدے کی وزیر اعظم سے ہاتھ ملاتے ہوئے تصاویر شیئر کرنے سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے فیصلہ ہو گیا ہے کہ فوج کا نیا سربراہ کون سے 2 ناموں میں سے ایک ہو گا۔؟ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاک فوج کے حوصلے بلند ہیں، آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے مقررہ مدت کے ختم ہونے پر مدت ملازمت میں توسیع نہ لے کر ایک اچھی روایت قائم کی ہے، اس سے پاک فوج کا مورال مزید بلند ہوا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ساری دنیا ہماری افواج کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کا اعتراف کرتی ہے، نئے آرمی چیف کو جنرل راحیل کے ایجنڈے کو لے کر آگے چلنا ہوگا اور اس میں مزید ایڈنگ بھی کرنی ہوگی۔ وزیر دفاع نے کہا کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی وزیراعظم کی ذاتی صوابدید ہے، آرمی کی طرف سے نام بتائے جاتے ہیں، اس معاملے پر وزیراعظم چیف سے مشاورت بھی کرتے ہیں جو انتہائی قیمتی مانی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 20 سال میں کوئی جنرل اپنی مقررہ مدت پوری کر کے عزت سے رخصت نہیں ہوا، جنرل مشرف خود کو خود ہی ایکسٹینشن دیتا رہا اور بڑی مشکل سے ان سے وردی اتروائی گئی، جنرل کیانی کو پچھلی حکومت نے ایکسٹینشن دے دی، جنرل راحیل کا اپنی مدت پوری کر کے عزت سے رخصت ہونا ایک مائل سٹون ہے، وہ ایک تابندہ روایت کو قائم کر کے جارہے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے ملک میں صحت مندانہ روایات جنم لے رہیں، آرمی چیف کے ایکسٹینشن لینے سے نہ صرف فوج بلکہ حکومت بھی کمپرومائز ہوتی ہے۔ ترجمان وزیر اعظم مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پارلیمنٹ میں نہیں آتے، وزیر اعظم ہاوس کیا جاتے، آرمی چیف کو دی جانے والی الوداعی تقریب سیاسی نہیں تھی، اگر عمران خان کو بلا بھی لیتے تو کوئی حرج نہیں تھا۔
خبر کا کوڈ : 586400
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب